شہید نمبر 801 —— اظہار احمد باچہ

0
  • 36
    Shares
غالباً آج سے دس بارہ سال پہلے کی بات ہے جب مشرف کے سامنے ایک طالب علم عدنان کاکا خیل نے ایک تاریخی تقریر کی تھی۔ جس میں ایک زور دار جملہ یہ بھی تھا کہ “صاحب آپ تو کٹ مرے، ہمیں سمجھ نا آیا آپکا اصل مسئلہ کیا تھا”۔
اب بیرسٹر ہارون بلور کا اصل مسئلہ کیا تھا؟؟ یہ بھی کم ہی لوگ جانتے ہیں۔
غالباً اسی کی دہائی کے اوائل کی بات ہے جب مرحوم عبدالولی خان کے بیانات میں تضاد نظر آنے لگا۔ ایک طرف “ایڈولف بھٹو” اور “راجہ داہر”(وہ القابات جو ولی خان نے بھٹو کو دئیے تھے)  کے مظالم کی داد رسی تھی جو ضیاء کے ہاتھوں انجام پائی تھی۔ دوسری جانب افغانستان کا مشتبہ جہاد تھا جس سے ایک ہیجانی کیفیت طاری تھی۔ جھوٹ اور فریب پر مبنی گلوریفیکیشنز تھی اور جہاد ایک افضل عبادت سمجھائی جا رہی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب ہر شخص ضیاء کی پالیسیوں پر سجدہ ریز تھا۔ بصیرت والی ایک آنکھ تھی جس نے کہا تھا کہ “یہ جنگ میں پشتونوں کی بکھری لاشوں پر کھیلتے دیکھ رہا ہوں” اور وہ آنکھ ولی خان کی تھی۔ اس وقت نیشنل عوامی پارٹی ہوا کرتی تھی اور ولی خان نے تقریباً عملی سیاست کو خیر باد کہہ دیا تھا۔ سن 86ء میں کچھ پرانے احباب کے مجبور کرنے پر نئی جماعت عوامی نیشنل پارٹی بنی جن میں سندھ اور کے پی کے مرکزی مقامات ٹھہرے جس کے مرکزی صدر ولی خان جبکہ مرکزی جنرل سیکریٹری رسول بخش پلیجو قرار پائے۔ یہ وہ وقت تھا جب پارٹی پالیسیوں پر تنقید ہوتی تھی لیکن ولی خان پاکستان کی بقاء کی جنگ کا ڈھنڈورا پیٹتے رہنے کی خاطر مجبوراً خاموش رہے۔ جنگ ختم ہوئی اور ساتھ میں ضیاء بھی ناپید ہوگئے۔ مگر اب فرار حاصل کرنے کی تمام راہیں بند ہو چکیں تھیں اور پھر پختونوں کی ان کے اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں قتل عام کی داستانیں شروع ہوگئیں۔
جیسے تیسے وقت آگے بڑھا اور سال 2001ء آیا اور پھر سال 2004ء بھی آیا۔ جب پہلی مرتبہ باقاعدہ آپریشن کا اعلان ہوا اور ایک بار پھر غیور اور معصوم عوام کے جذبات کے ساتھ کھیلتے ہوئے ملکی سالمیت کی دہائی دیتے ان سیاسی بھیڑیوں نے عوام کو خاموش رہنے کا کہا۔ یہ وہ وقت تھا جب طالبان نئے نئے آئے تھے۔ کوئی انکے لئے دفتر فراہم کر رہا تھا تو کوئی مرحبا مرحبا پکار رہا تھا۔ ہماری پاک فوج سے ہر شخص نے منہ پھیر لیا تھا۔ چاہے وہ سندھی بھٹو ہوں یا پنجابی شریف۔ اپنی دانست میں شاید ان کا رویہ مناسب ہو لیکن پختون عوام مجبور تھے۔ بات ملکی سالمیت کی تھی جس پر پختون عوام سمجھوتہ کرنے سےتب بھی قاصر تھے اور اب بھی ہیں پختون صحیح معنوں میں محب وطن قوم ہے۔ جذباتی طور پر من کی سچی قوم اپنے ملک اور دھرتی کے نام پر فدا ہو جانے والی قوم ملک کی خاطر خود کا نفع یا نقصان نہیں دیکھتی اور اسی جذبات کے ساتھ سیاسی کھلاڑی کھیلتے چلے آئے۔ یہاں تک کہ آج قبائلیوں کو کوسا جاتا کہ وہ کشمیر میں کیوں گھس گئے۔ بات 65ء کی قومی حمیت کی کی جائے یا 99ء میں کشمیر کے اونچے برفیلے پہاڑوں کی پر جب قومی سالمیت کے نام پر تین ہزار پختون کٹ مرے اور پھر بھی بھارت کی پیٹ پہ خنجر گھونپنے کے زمہ دار ٹھہرائے گئے۔
مختصراً ہر طرف خوف اور بے یقینی کا عالم تھا جب بشیر بلور شہید نے کھڑے ہو کر کہا کہ “طالبان کو پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھنے کے لیے میری لاش پر سے گزرنا ہوگا پھر اسکے بیٹے ہارون بلور اور اسکے بعد اسکے بیٹے دانیال بلور کی”۔
یہ وہ آواز تھی جس کے بعد آئے روز دہشت گرد طالبان کی کمر ٹوٹنے کی خبریں آتی رہیں اور عوام مطمئن ہو گئےکہ اب وطن عزیز کی سالمیت کو کوئی خطرہ نہیں۔ اب کوئی ہمارے وطن کو بُری آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ لیکن عوام ہمیشہ کی طرح معصوم جو یہ حقیقت سمجھ نہیں پاتے کہ پچانوے فیصد کبھی بھی سو فیصد نہیں ہوتا۔ دہشتگردی ختم تو ہوئی ہے لیکن پانچ فیصد تو اب بھی باقی ہے۔ دہشت گردوں کی کمر ٹوٹی تو ہے مگر ہاتھ تو ابھی بھی باقی ہیں اور وہ ریزرو پانچ فیصد ہمیشہ پشاور کے لئے ہوتا ہے اسکے چُنے ہوئے چند باقی ماندہ کے لئےہوتا ہے یہ جو باپ اور بیٹے بشیر اور ہارون بات کر رہیں ہیں سالمیت کے عوض قربان ہونے کی اور شانہ بشانہ لڑنے کی انکے لئےہوتا ہے۔ یہ جو سب سے پہلے پاکستان کی بات کرتے ہیں ان کے لیے ہوتا ہے۔
بیرسٹر ہارون بلور شہید کا نمبر 801 تھا۔ ان کے بعد اور بھی ہیں۔ جب تک سالمیت کی بات چلتی رہے گی، محب وطن پختون عوام کٹتے رہیں گے، مرتے رہیں گے۔  آپ کو شاید اب بھی دس سال لگیں گے یہ جاننے کے لیے کہ پختون عوام کا اصل مسئلہ کیا تھا۔ ہم وہ قوم ہیں جو خوش ہونے والوں کے ساتھ  خوش ہوتی ہے اور جو خوشی کے دشمن ہیں ان کی سب سے بڑی دشمن ہے۔
ہارون کی ماں اور بشیر بلور کی بیوہ اور ان مزید آٹھ سو ورکرز کی بیٹیاں اور بہنیں گزارہ کرلیں گی۔ اب تک چلتا رہا آگے بھی چلتا رہے گا۔ ملک کی سالمیت پر ایک کیا ہزار جانیں بھی قربان ہیں۔
 لیکن خدارا باچا خان بابا کے کانگریسی ہونے کی سزا دینا اب بند کر دو۔ یہ وقت ایک قوم پاکستانی قوم بننے کا ہے۔ پختونوں نے ملک کی سالمیت پر اپنے بہترین بیٹے قربان کر دیئے ہیں مگر ناجانے اور کتنے بیٹوں کی بھینٹ چڑھے گی جب خدا راضی ہوگا۔ کوئی تو انسان کا انسان کے لئے بھی دکھ محسوس کرو۔ کوئی تو سمجھو یہ مسئلہ تو ہمارا اجتماعی مسئلہ ہے سندھی، بلوچی، پنجابی، پختون، گلگتی، بلتستانی ،کشمیری یا مہاجر ملک تو ہم سب کا ہے۔ آپ کب مانو گے۔ پتہ نہیں مان بھی لو گے یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
ہم کہ ٹھہرے اجنبی کتنی مداراتوں کے بعد!
پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد۔۔۔۔!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: