پرامن احتجاج تو حق ہے —– آصف محمود

0
  • 1
    Share

بات بہت سیدھی سی ہے۔
مسلم لیگ ن کے کارکن اگر نواز شریف کے استقبال کو جانا چاہتے ہیں تو یہ ان کا آئینی حق ہے۔ بھلے نیب نواز شریف کو ایر پورٹ کے اندر ہی سے گرفتار کر لے لیکن کارکنان جب تک قانون کو ہاتھ میں نہیں لیتے انہیں اجتماع کا حق آئین پاکستان نے دے رکھا ہے۔

یہ ن لیگ کا طرز حکومت رہا کہ مخالفین پر زندگی عذاب بنا دو۔ قادری آئے تو اول ان کے طیارے کا رخ بدلا گیا پھر لاشے گرا دیے گئے۔ لاہور میں قاضی حسین احمد مرحوم کی کال پر احتجاج ہوا تو درندگی اور وحشت کے شرمناک باب رقم کیے گئے۔ وزیر اعلی کے پی کے کو قافلے سمیت پنجاب داخلے سے روکنے کے لیے کنٹینز لگا کر راستے بند کر دیے گئے، عمران خان کے دھرنے پر بد ترین شیلنگ کی گئی۔ مزید ظلم کا حکم دیا گیا تو ایس ایس پی نیکو کار نے یہ حکم ماننے سے انکار کر دیا تو اس کو نوکری سے نکال دیا گیا۔ ملک کو پولیس سٹیٹ بنا دیا۔ جعلی پولیس مقابلے کیے۔ ضلعی انتظامیہ کے ظلم کے ذریعے جبر کا ماحول بنایا اور آج جب اپنی باری آئی تو ابھی کچھ ہوا نہیں اور چیخیں ابھی سے بلند ہو رہی ہیں۔

تاہم اس شرمناک تاریخ کے باوجود، مسلم لیگ ن کے کارکن کا یہ حق ہے کہ وہ باہر نکلنا چاہے تو نکلے۔ نواز شریف کا استقبال کرنا چاہے تو کرے۔ جب تک ن لیگ کا کارکن قانون ہاتھ میں نہیں لیتا اس کا یہ حق اس سے نہیں چھینا جا سکتا۔

کل جب عمران ڈی چوک میں کھڑے تھے اسی اصول کے تحت ہم عمران خان کے ساتھ تھے۔
آج مسلم لیگ ن کا کارکن اگر لاہور پہنچتا ہے تو اسی اصول کے تحت ہم مسلم لیگ ن کے کارکن کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ ایک ہی اصول ہے اور وہ سب کے لیے ہے اور وہ بہت سادہ سا بھی ہے۔

کارکن کو اجتماع اور احتجاج کا حق ہے اور یہ حق اسے آئین نے دے رکھا ہے اور جب تک اپنے اس حق کو آئینی حدود کے اندر رہ کر استعمال کرتا ہے اس سے اس کا یہ حق کوئی نہیں چھین سکتا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: