منیر نیازی : جمال کی پر اسراریت کا شاعر — اعجاز الحق اعجاز

0
  • 60
    Shares

شاعری میں تحسس بھی ایک بہت اہم عنصر ہے۔ عظیم رومانی شاعر جان کیٹس نے اپنی نظم ازابیلا (Isabella) میں کہا تھا:

” I know what was, I feel full well what is”

وہ 21 ستمبر 1819ء کو اپنے ایک خط میں لکھتا ہے :

“In my dramatic capacity I entered fully into the feelings of my subjects”

وجود کے تحسساتی مرکز میں داخل ہوجانے کی خواہش جان کیٹس کی شاعری کی ایک اہم خصوصیت ہے۔ مگر کچھ شعرا ایسے ہیں جو تحسس کو تفکر سے ہم آہنگ کر کے وجود کے مرکز میں اترتے ہیں اور اردو شاعری میں اس کی بلند ترین مثالیں غالب اور اقبال ہیں ۔ مگر کچھ شعرا ایسے ہیں جن کے ہاں تحسس تفکر پر غالب ہوتا ہے اور منیر نیازی اس کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ منیر نیازی جان کیٹس کی طرح سوچنے سے زیادہ محسوس کرتا ہے۔ وہ موسموں اور زمانوں کو ایک انوکھے طریقے سے محسوس کرتا ہے اور وہ ان محسوسات کی جمالیاتی تقلیب ماہیت (Aesthetic Metamorphosis) کر کے اپنی شاعری میں پیش کرتا ہے۔ اس کے لیے شاعری دراصل حسن کی پراسراریت میں کھو جانے کا عمل ہے۔ وہ تخیل اور تحسس کو مرکب کر کے ا پنی شاعری کے سات رنگین دروازے کھولتا ہے۔

چناں چہ وہ مشاہدہ رقص صاعقات اور ساحلوں جیسے حسن میں اپنی حیرانی کو شامل کردیتا ہے۔ وہ سست رو جھیلوں کے پار نم زدہ پیڑ وں کے پھیلے ہوئے بازووں کے آس پاس ایک غم دیدہ پرند کا گیت سنتا ہے، یا یوکلپٹس کے پیڑ کے اوپر ٹھٹھرتے تاروں کے پھیلے جنگل میں چاند کو تنہا اداس پھرتا اور اس درخت تلے خشک پتوں کو ہوا میں اُڑتے ہوئے دیکھتا ہے، یا جب سواد ِ شہر کے کھنڈر گئے دنوں کی خوشبووں سے بھر جاتے ہیں، یا جب سلیٹی شامیں سیاہ کووں کے قافلوں سے اٹ جاتی ہیں تو اس کا تحیر اس کے تحسس سے ہم آہنگ ہوکر ایک انوکھے منظر کی تشکیل کرتا ہے ۔منیر زندگی کے موہ بھرے مدھوبن میں زیست کرتا ہے اور بھولی رادھا کی شیام سے جدائی کا دکھ محسوس کرتا ہے ۔ اس کی متلذذ جمالیات اورمحزوں تحسس اپنی دنیا خود آباد کرتی ہے۔ شاید یہ دنیا عہد ِ حاضر کے کسی شاعر کے پاس نہیں۔ منیر ایک الگ دنیا میں رہتا ہے۔ ہر بڑا شاعر اپنی تخیلاتی دنیا کے سلسلہ روز و شب کو خود تشکیل دیتا ہے، اور اس کے مطابق اپنی ڈکشن مرتب کرتا ہے اور منیر نے بھی یہ کام بہت عمدگی سے انجام دیا ہے۔ اُس نے ایک عجیب دنیا تشکیل دی ہے اور اُس کے اسرار کھولنے ہی کو شاعری کا اعجاز سمجھتا ہے۔ اس سے پہلے یہی کام تخیل، تفکر اور جذبے کی بلند ترسطح اور وسیع تر کینوس پہ اقبال نے کیا تھا۔

منیر کی ساری شاعری ایک جنت گم گشتہ کی بازیافت کا عمل ہے۔ اس نے کہا تھا کہ ’’میں تو بہشت اور بچپن کو ہمیشہ ایک دوسرے سے ملا دیتا ہوں۔‘‘ چناں چہ اس کی شاعری میں ہمیں ایک معصوم بچے کی سی حیرت، تجسس اور سچائی ملتی ہے۔ اس کی شاعری ہمیں سینی گال کے مشہور شاعر سینگور کی یاد دلاتی ہے۔ منیر کی شاعری میں بھی وہی پوشیدہ سراب ہیں جو سینگور کی شاعری میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے ہاں ٹیڈ ہیوز کی طرح قدیم مناظر اور دیو مالا میں پناہ لینے کا رجحان بھی پایا جاتا ہے۔ وہ آرتھر رمباڈ کی طرح جنگلوں کے تحیر کا اسیر ہے اور زمبابوے کے شاعر بارٹ وولف کی طرح اپنی شناخت کو فطرت سے ہم آہنگ کرنے کی فکر میں رہتا ہے۔ اس کی شاعری گم گشتہ بستیوں اور اُجڑے دیاروں کی داستاں ہے اور وہ رستوں میں مری ہوئی امتوں کا نوحہ سناتا ہے۔ وہ شے موجود کا انسلاک کسی قدیم یاد سے کرتا ہے۔ بلکہ وہ موجود کو ایک یاد ہی سمجھتا ہے۔ وہ دیوار فلک اور محراب زماں سے پار اس یاد آفرینی کا عمل جاری رکھنا چاہتا ہے۔ وہ صبح و شام کے دھندلکوں میں طلسمات در خوباں کا اسیر رہنا چاہتا ہے۔ وہ ہمیں اجنبی دیاروں کی تصویریں دکھاتا ہے اور ان تصویروں سے ایک جہان معنی تخلیق کرتا ہے۔ یہ کھلے منظروں کی دنیا بھی ہے اور سرمئی گپھائوں سے اٹی دنیا بھی۔ رومانیت کے دو اہم اجزا وسعت اور دوری ہیں جیسا کہ ہم کالرج کی شاعری میں دیکھتے ہیں۔ منیر کی شاعری کے مناظر بھی وسعت اور دوری سے بھر پور ہیں۔

منیر نیازی کی شاعری ہمیں نئی کونیات سے متعارف کراتی ہے۔ وہ مکان میں کئی نئے ابعاد کا اضافہ کردیتا ہے۔ اُس کی سب سے بڑی خواہش، خواہش سیر شہر رومان ہے۔ رومانیت کی ایک اہم صفت کھلے منظروں کی دہشت کا بیان ہے۔ وہ آدھی رات میں ایک نیم وا دریچہ کھولنا چاہتا ہے۔ وہ دھوپ میں ایک غیر آباد شہر کا نظارا کرتا ہے تو اسے شعری زبان میں یوں ڈھالتا ہے

اک کنواں تھا بیچ میں اک پیتل کا مور
خالی شہر ڈرائونا کھڑا تھا چاروں اور

منیر کالرج کی طرح اشیا و مظاہر میں ایک پراسرا ر اور حیرت زا عنصر کو شامل کر دیتا ہے۔ یہ دہشت اور حیرت بھی کتھارسس کا عمل ہے۔ وہ بیرونی دہشت کے بیان سے انسان کی اندرونی وحشت کو اعتدال میں لانا چاہتا ہے۔ وہ گھنے درختوں، دیواروں اور کوٹھوں پہ ہونے والی بارشوں اور تند ہوا ئوں، درگاہوں اور اونچے سرد مکانوں میں جلنے والی روشنیوں ، ممٹی پہ بیٹھی چیل کی تنہائیوں، سحر آب زار بنگال کی سیروں اور دہشت سے رنگین شاموں کا نغمہ گر ہے۔

آمد باراں کا سناٹا
کبھی کبھی اس سناٹے میں ٹوٹ کے گرتے پتے
دیو آسا اشجار کھڑے ہیں
کہیں کہیں اشجار تلے ویران پرانے رستے
اور
آج بہت دن بعد ملے تھے گہری پیاس اور پانی
ساحلوں جیسا حسن کسی کا اور میری حیرانی

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: