باپ ایسے ہوتے ہیں کیا ؟ —- ڈاکٹر مریم عرفان

0
  • 87
    Shares

یہ جو کرسی پر نظرکا چشمہ لگائے، اخبار کے مطالعے میں گم شخص ہے، کون ہے بھلا؟ میں نے کمرے میں داخل ہوتے لمحہ بھر کو سوچا اور جیسے خواب سے چونکتے ہوئے بڑبڑائی ابو ہیں اور کون ہے۔ میں نے آج تک لوگوں کو ماں کے لیے ہی اشک بار ہوتے دیکھا ہے۔ ماں کی قربانیاں، اس کا ایثار اور محبت اگر ماں میں سے نکال دی جائے تو وہ ایسے ہی ہے جیسے کلر زدہ زمین۔ اورباپ۔ ۔ ۔ وہ کیا ہے؟ مجھے تو لگتا ہے جیسے میری ماں نے مجھے نو ماہ پیٹ میں نہیں رکھا کرسی پر بیٹھے اس شخص نے یہ جوکھم اٹھایا ہے جو میرا باپ ہے۔ توبہ توبہ، کیسی ناہنجار لڑکی ہے، کیسا کفر بکتی ہے، کیسی آزاد خیال ہے کہ باپ کو بھی تندوری روٹی کی طرح جلتا دیکھ کر اپنے خمیری ہونے کا دعوی کررہی ہے۔ پڑھنے والے میرے بارے میں شاید ایسے ہی خیالات کا اظہار کرسکتے ہیں۔

اچھا تو میں بتا رہی تھی کہ باپ کیسے ہوتے ہیں۔ میں چونکہ والدین کی بڑی اولاد ہوں تو ایسے ہی ہوں جیسے مزار پر کوئی منت کا دیا۔ چھینک مجھے آتی ہے اور زکام انہیں ہو جاتا ہے، ہچکی مجھے لگتی ہے تو پانی انہیں پلانا پڑتا ہے، گویا میں چلتا پھرتا پھوڑا ہوں اوریہ دونوں پھاہا۔ یہ جو میں آج جس مقام پر ہوں، جتنی بگڑی ہوں، جتنی سنوری ہوں اس میں کرسی پر بیٹھے اس شخص کا بڑا ہاتھ ہے۔ مجھے میٹرک تک کبھی اپنا سکول یونیفارم استری نہیں کرنا پڑا، جوتے پالش نہیں کرنے دئیے گئے۔ یہ تو کچھ بھی نہیں عید پر بھی انہیں بخشا نہیں جاتا تھا۔ چاند رات کے آخری پہر ابو تھکے ماندے جب بھی گھر لوٹتے تو آگے پانچ بچوں کے عید کے جوڑے دھرے ہیں۔ کیوں بھئی! آپ کریں گے استری، ہم سے جل نہ جائیں کہیں۔ پرمجال ہے جو ماتھے پر کبھی شکن آئی ہو، بس دبی دبی ہنسی دیکھنے کو ملتی اور پھر مزدوری شروع۔ اب میں سوچتی ہوں کہ باپ ایسے ہوتے ہیں کیا!

لوگوں کی طرح یہ اپنی بڑی اولاد کو تجربے کی بھٹی میں پھینکنے کے بجائے اپنے چاؤ مجھ پر پورے کرنے لگے۔ پھر مجھے اپنے قد سے اونچے سکول میں ڈال دیا۔ بڑے گھروں کی بیٹیاں ساتھ پڑتی تھیں اور کہاں میں ایک معمولی درجے کے باپ کی بیٹی، کوئی پجارو میں آتی، کوئی مرسڈیزپر، اس سے نیچے تانگوں اور اس سے اوپر والی سکول ویگنوں پر اور ایک میرے لیے بچی سائیکل کی گدی۔ واہ ری قسمت! پانچ منٹ کا راستہ اور میں کمر پر بستہ لٹکائے، شرمندہ شرمندہ سی سائیکل پر ابو کے پیچھے منہ نیہوڑائے بیٹھی رہتی۔ بڑا غصہ آتا تھا اس سائیکل پر، اللہ ماری ٹوٹتی بھی نہیں کہ اس بہانے شاید پیدل ہی چل لوں۔ نجانے کیا کیا خیال دل میں دلدل بناتے اور ایک یہ شخص اپنی مستی میں گم میرے مستقبل کے خواب دیکھے جاتا۔ پھر ایک دن اسی سائیکل کے پہیے میں میرا پاؤں آگیا۔ سائیکل سوارنے تڑپ کر چھلانگ لگائی اور میری جراب اتار کر ایڑی سہلانے لگا۔ بڑی نفرت ہوئی اس دن ان مرسڈیز پرسواری کرنے والیوں سے اورغصہ آیا اس معصوم شخص پر جو جانتا ہی نہیں کہ پاؤں پرچوٹ کھانے والی یہ بیٹی اس کی سادگی پر دل ہی دل میں کیسے چوٹیں کیے جاتی تھی۔ تب سے سوچ رہی ہوں کہ باپ ایسے ہوتے ہیں کیا!

ماں باپ پیارمیں بچوں کو بگاڑ دیتے ہیں مگریہ کیا مجھے تو سینت سینت کر رکھنے نے بگاڑ دیا۔ مجھ بارود جیسی طبیعت رکھنے والی کو ماچس کی بو اور دھواں برا لگتا ہے۔ اب بگاڑ دیکھئے کہ بجائے اس کا عادی بناتے انھوں نے گھر میں ماچس کا داخلہ ہی بند کردیا اور جدید پسٹل نما لائٹر لا کر کچن میں رکھ دیا گیا۔ مجھے ایم۔ اے تک روٹی بنانا نہیں آتی تھی، تو ایک دن پیڑھی پر بیٹھے پیڑا بنایا اور لگے سکھانے۔ میرے اندرکے باغی نے دہائی دی کہ جتنا یہ بچتی ہے اتناہی سایہ کیوں تان دیتے ہو، اسے جلنے دودھوپ میں۔ اگرمجھ سے کوئی پوچھے کہ کھانا بنانا کس سے سیکھا تو میں بلاتامل کرسی پر بیٹھے اس شخص کی جانب اشارہ کردوں گی۔ ابو بھی فنون لطیفہ سے محبت کرنے والے انسان ہیں انھیں بھی پڑھنے کا شوق ایسے ہی رہاجیسے کسی سترہ اٹھارہ سال کی لڑکی پرجن آتے ہوں۔ مزید قیامت، یہ چاٹ مجھے بھی لگادی۔ سر پر انٹرمیڈیٹ کے امتحان اور کمرے کی دونوں الماریاں ڈائجسٹوں سے بھر دیں۔ پڑھو، پڑھو جو جی چاہے پڑھو۔ پھرمیں بھی بگڑ گئی، اوپر درسی کتابیں اور نیچے ڈائجسٹ کی دنیا آباد کرلی۔ ایک دن میں چھت پر بیٹھی پڑھ رہی تھی، ابو بڑی وارفتگی سے اوپر آئے اور ’’پیار کا پہلا شہر‘‘ میں ہاتھ میں تھما کر بولے کہ اسے پڑھو بہت اچھا ناول ہے۔ میرے اندرکے ولن نے انگڑائی لے کر سوچا باپ ایسے ہوتے ہیں کیا!

کالج میں داخلہ لیا تو دل عجیب سی خوشی سے سرشار تھا مگر یہ کیا، پاس بٹھا کرکہنے لگے اب تم کالج جارہی ہو، نئی زندگی شروع ہونے لگی ہے، دھیان سے رہنا تمہارے نام کے ساتھ میرا نام آتا ہے۔ بس انگڑائی درمیان میں ہی ٹوٹ گئی، سارا خمار بھک سے اڑ گیا، لگا مینار پاکستان دیکھنے گئی تھی لیکن کسی نے وہ اوپرکی منزل سے نیچے دھکا دیا کہ اٹھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ بس اس دن سے میں اندر ہی اندر مرد بن گئی۔ پھر سمجھو اس دن سے وہ میری ڈائری بن گئے اورمیں قلم، اب تو جو دیکھا وہ سنا دیا والا حساب ہوگیا۔ ماں بھی تنگ کہ آخر یہ ہر بات ’انہیں‘ کیوں بتا دیتی ہے اور میں اس خود اعتمادی پر خوش۔ ایک دن امی نے اپنی دوست کا دکھ سناتے ہوئے کہا کہ دیکھو بچاری کے پِتے میں پتھری ہے لیکن وہ آپریشن کرانے سے ڈرتی ہے۔ اب جس کے اندر مرد پیدا ہوچکا ہو بھلا اس کی زبان کون روکے۔ میں جھٹ سے بولی، پانچ بچے پیدا کرلیے تو ڈر نہیں لگا اور اتنے سے آپریشن سے ڈررہی ہے آپ کی دوست۔ اخبارکے پیچھے منہ چھپائے اس شخص کی ہنسی نکل گئی اور ماں کی چیخ۔ وہ بولے بالکل سہی کہتی ہے یہ۔ اگلے دن ماں بولی، بے شرم لڑکی باپ کے سامنے ایسی بات کرتے شرم نہیں آتی، کیسی اولاد پیدا کرلی میں نے۔ ماں بیچاری کو کیا پتہ کہ اگرعورت کے من میں مرد پیدا ہو جائے تو مرتا نہیں۔ اس کو بولو جس نے یہ خود اعتمادی دی ہے، جس نے جھینپ جھینپ کر جینا نہیں سکھایا۔ ٹھاہ ٹھاہ جواب دینے کی ایسی عادت پڑی کہ زمانہ مجھ سے بات کرنے سے پہلے کئی بارسوچتا ہے کہ کم بخت ڈرتی ہی نہیں۔ جو دل میں ہو تڑاخ سے منہ پرکہہ دیتی ہے۔ اب یہ ہمت جس نے دی ہے اس کا بھی کیا قصور۔ ماں اب سوچے کہ باپ ایسے ہوتے ہیں کیا!

اچھا تو یہ نام کی بھی خوب رہی، ابھی تازہ تازہ قلم میرے ہاتھ میں آیا تھا اخباروں میں میرے کالم اور نظمیں چھپنے لگیں۔ میں بڑے دھڑلے سے ہجر و وصال میں بجھی ہوئی غزلیں لہک لہک کر ابو کو سناتی اور وہ ’’واہ، واہ‘‘ کہتے تھکتے نہیں تھے۔ اس معصوم سے شخص نے بڑی معصومیت سے کہا، بیٹا جی! اب تم میرا نام اپنے نام کے ساتھ مت استعمال کیا کرو، شادی کے بعد تو لڑکی کے نام کے ساتھ اس کے شوہر کا نام لگ جاتاہے اس لیے اپنی خود کی پہچان بناؤ۔ مجھے لگا جیسے کسی گھر سے مستقل بھیک ملتے ملتے مالک مکان نے دروازہ بند کرکے کہا ہو، جامائی معاف کر۔ میرے اندر کے مرد نے دہائی دی اور پہلی بارشادی کے نام سے بڑی نفرت ہوئی۔ لو بھلا یہ کیا بکواس ہے، میں کیوں اپنے نام کے ساتھ یہ ظلم کروں، کس کتاب میں لکھا ہے، بس اس دن خود سے عہد کیا کہ زمین پھٹ جائے، آسمان ٹوٹ کرگرجائے مگرنام کا سابقہ نہیں بدلنا۔ قسمت بنانے والا بھی جانتا تھاکہ اس آندھی جیسی طبیعت والی کو وہی دے دو جو یہ چاہتی ہے۔ اب چاہوں بھی تو اس عرفانیت سے جان نہیں چھوٹ سکتی کیوں کہ میرے میاں کانام بھی عرفان ہے۔

بیٹا ایک دن گھر دیر سے آیا تو فوراً اس پر ہاتھ اٹھا لیا۔ ساتھ ساتھ مارتے جاتے اور ہانپتے جاتے۔ بیچ بچاؤ کے بعدخود رونے لگے۔ لو اب ایسا کمزور دل بھی کسی کا نہ ہو۔ میری تو ہنسی ہی چھوٹ گئی۔ شیرکی طرح دھاڑ بھی نہیں سکتے۔ بھلا باپ ایسے ہوتے ہیں کیا!

میں ایسے ہی اس شخص کو معصوم نہیں کہتی۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ بڑی وجہ تو یہی ہے کہ بھیڑ میں چلنے والا یہ شخص کبھی کسی کو کندھا مار کر، راستہ کاٹ کر نہیں چلتا، بس سرجھکائے اپنے ہی دھیان میں چلے جارہاہے۔ اسے چاہیے دوسروں کی طرح شکوہ شکایت کرے، اپنے پسندکی چیزکھائے، نہ ملنے پر برتن اٹھا اٹھا کر دیواروں پر مارے، ایسا رعب رکھے کہ اولاد اباجی کہتے ہوئے کانپ کانپ اٹھے۔ آہ! ایک یہ ہیں کتنے ہی تھکے ماندے گھرآئیں، کسی کو نہیں کہنا کہ بھئی! مجھے بھی کھانا دے دو، پانی پلا دو۔ مجال ہے جو اپنے اندر کے مرد کو کبھی زندہ کیا ہو۔ ایک دن دوپہر کے بعد اپنے کسی کام سے گھر لوٹے، سب سو رہے تھے۔ سہ پہرکے قریب میں نے اٹھ کر پوچھا، کھانا نہیں کھایا آپ نے؟شرما کر بولے، میں نے سوچا کیا تم لوگوں کو تنگ کرنا جب سب کے لیے شام کی چائے بنے گی تو کھالوں گا کچھ ساتھ میں۔ بڑا غصہ آیا اس وقت مجھے، آپ سوچ رہے ہوں گے خود پر۔ جی نہیں! اس شخص پر، کہ باپ ایسے ہوتے ہیں کیا!

امیر مینائی نے کہاتھا کہ سارے جہاں کا درد ہمارے جگرمیں ہے۔ ابو نے ثابت کردیاکہ یہ جگر امیرؔکا نہیں بلکہ ان کا ہے۔ اخبار میں کوئی درد بھری خبر پڑھ کر یا ٹی وی پر کوئی دردناک سین دیکھ کر جتنی جلدی بادل ان کی آنکھوں میں آتے دیکھے ہیں اور کہیں نظرنہیں آئے۔ اب تو ٹی وی کے سامنے بیٹھتے ہی انہیں وارننگ دینا پڑتی ہے کہ پلیز کسی سین پر رونا نہیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ان کا پیارصرف مجھ سے ہے؟ جی نہیں! سب سے ہے۔ ایک دن چھوٹا بھائی ماں سے ناراض ہوا تو گھرچھوڑ کر چلا گیا۔ انہیں دھاڑیں مار مارکر روتے دیکھا، گھر چھوڑنے والے سے زیادہ گھرمیں رہنے والے کی فکر پڑ گئی۔ وہ تین دن بعد آیا تو سمجھو یہ دنیامیں آئے۔ ایک طرف اتنا لاڈ دلار اور دوسری طرف غصے کا دوسرا رخ دیکھئے کہ پہلے تو کسی کو کچھ نہیں کہنا، اندر ہی اندر دم پخت کی طرح پکتے رہنا ہے۔ جب بھاپ اٹھنے لگے اورل اوا باہر آنے کو تیار ہو تو پھٹ جانا ہے۔ وہ ایسے کہ یہی بیٹا ایک دن گھر دیر سے آیا تو فوراً اس پر ہاتھ اٹھا لیا۔ ساتھ ساتھ مارتے جاتے اور ہانپتے جاتے۔ بیچ بچاؤ کے بعدخود رونے لگے۔ لو اب ایسا کمزور دل بھی کسی کا نہ ہو۔ میری تو ہنسی ہی چھوٹ گئی۔ شیرکی طرح دھاڑ بھی نہیں سکتے۔ بھلا باپ ایسے ہوتے ہیں کیا!

کرسی پر بیٹھا یہ شخص باپ سے زیادہ محب شوہر بھی ہے۔ انھوں نے آج تک امی پر کوئی پابندی نہیں لگائی، اونچی آواز میں پکارنا تو دور سخت لہجے میں بات کرتے بھی نہیں سنا، گالیاں تو کیا کوسنے دینے کی بھی نوبت نہیں آئی۔ امی پر کبھی طنزکے تیر بھی نہیں چلائے۔ میں نے آج تک ان دونوں کو ساتھ بیٹھے نہیں دیکھا، ہمیشہ بڑے ادب آداب سے آمنے سامنے بیٹھے باتیں کرتے ہیں۔ گویا گھر نہ ہوا مسجد کا صحن ہو گیا کہ جوتا اتارکر جاؤ، آہستہ بولو اور بس اللہ ہوُ کا ورد کرو۔ ہر دس میں سے ایک عورت ایسی ہوتی ہے جسے ایسا شوہر ملتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کا ایسے خیال رکھتے ہیں جیسے مرغی انڈوں پر بیٹھ کر ان سے نکلنے والے چوزوں کا رکھتی ہے۔ میں نے کبھی اس معصوم شخص کے ماتھے پر سلوٹ بنتے نہیں دیکھی۔ مَیں جو نہیں ان میں، برسنا نہیں ہے، بس گرج گرج کر خود پر ہی رم جھم شروع۔ شفیق اتنے کہ رشتے داروں کے بچے بھی ابو ابو کہتے پھرتے ہیں۔ یعنی ہمارے ابو نہ ہوئے لاٹری کے ٹکٹ ہوگئے جس کی نکلی اس نے چوم کر سینے سے لگا لیا۔ آپ سمجھیں گے کچھ زیادہ ہی تعریف کے پل باندھ دئیے۔ ایساہے تو پھر ایسا ہی ہوگا، کسی بھی محفل میں جائیں ان کی گود میں، دائیں بائیں بچے ہی بچے منڈلاتے ہیں۔ کبھی بیمار ہو جائیں تو ملنے والے ہماری ناک میں دم کر دیتے ہیں۔ لوگوں کی زبان انہیں ’’شاہ صاحب‘‘ کہتے نہیں سوکھتی اوریہ اپنے چاہنے والوں کی چاہت کے احسان تلے سوکھتے چلے جاتے ہیں۔

ابو منہ پر تعریف نہیں کرتے لیکن میں جانتی ہوں کہ ہم سب بہن بھائیوں کی کسی نہ کسی خوبی پرخوش ضرور ہوتے ہیں۔ اپنی ضدکے پکے ہیں اور منواتے ایسے ہیں کہ سامنے والے کو خبر ہی نہیں ہو پاتی۔ کسی زمانے میں مجھے ائیر ہوسٹس بننے کاخبط ہوگیا، میں اخبارمیں ان کی بھرتیوں کے اشتہار دیکھ کرخواب دیکھنے لگتی۔ ابو میرے اس شوق کو سن کرپریشان تو ہوئے لیکن انھوں نے مجھ پرسختی نہیں کی۔ بڑے عام سے اندازمیں ائیر ہوسٹسزکی سروسز کو بیان کرتے ہوئے کہتے کہ جب ہماری مریم بھی ائیرہوسٹس بنے گی تو یہی کرے گی۔ کمرہ سب کے فلک شگاف قہقہوں سے گونج اٹھتا اور میں سر پکڑ لیتی۔ پھر ایک دن میرے جہاز پر سوار ہونے کاشوق بھی چوبرجی کے پاس پلینٹیرم جو اب اورنج لائن کی زدمیں آکر غائب ہوگیا ہے، وہاں لے جا کر پورا کروایا۔ بولے کہ اب اس جہازمیں ائیرہوسٹس بن کر گھومو۔ میری نفسیات کی الجھی ہوئی گتھیاں انھوں نے پل بھرمیں کھول کر رکھ دیں۔ پھر ایم۔ اے کے دوران مجھے صحافی بننے کا دورہ پڑنے لگا۔ میں نے خود ہی ایک مقامی روزنامے میں ٹرینی سب ایڈیٹرکی جاب ڈھونڈلی۔ ابو نے بس ایک بار آفس آکر تسلی کی اور میرے لیے اس شعبے کو پسندکر لیا۔ امی کو ہمیشہ میری آزادی کھٹکتی ہی رہی وہ سادہ دل خاتون مصلے پر بھی یہی دعائیں مانگتی تھیں کہ یااللہ !یہ لڑکی استانی لگ جائے۔ کالج میں جاب انھی دعاؤں کانتیجہ تھی لیکن ابو کو میری میڈیا کی جاب چھوڑنے کادکھ ہوا اور میں نے سر پکڑ کر سوچا باپ ایسے ہوتے ہیں کیا!

پھرجب باری آئی میری شادی کی تو جیسے پریشانی ان کے کاندھوں پرآکر بیٹھ گئی اورلگی طوطے کی طرح ٹرٹر کرنے۔ اگر کبھی کوئی پسند آجاتا تو مجھ سے پچھوایا جاتا کہ ٹھیک ہے؟ میں کاپی پردس میں سے تین نمبردے کر امیدوار کو فیل کر دیتی تو سر پکڑ لیتے۔ پھر ایک دن بولے کہ آخرمسئلہ کیا ہے؟ میری دل ہی دل میں بڑی ہنسی چھوٹی۔ ان کی معصومیت کی اس انتہا پر کہ پوچھنا تو چاہتے ہیں کیا مجھے کوئی پسند تو نہیں، میری کہیں اور تو مرضی نہیں، لیکن مارے حجاب کے بول کچھ اور دیا۔ اب میرے اندر کیسا ہی مرد ہو لیکن پچھتر فیصد عورت کے آگے تو یہ پچیس فیصد کچھ بھی نہیں۔ اب میں کیسے یہ کہتی کہ سارا بگاڑ آپ کا پیدا کردہ ہے۔ ایک تو رسی کو اتنی ڈھیل دئیے رکھی اورجب اوپر کھینچنے کی باری آئی تو لگے رسی کے بل کھولنے۔ زندگی میں جب بھی کبھی اپنی مرضی کرنے کا موقع ملا تو ذہن میں کرسی پر بیٹھے معصوم شخص کے الفاظ چیخنے لگے کہ تمہارے نام کے ساتھ میرا نام آتاہے۔ پھرمیں نے سوچا مرضی کی ایسی کی تیسی، یہ اس شخص کے قد جتنی تو نہیں۔ بس پھر اس خیال کو ایسے خود سے وار کر پرے پھینک دیا جیسے کوئی نئے نویلے دولہے پر سو سو کے نوٹ وار رہا ہو۔ اس غلام کی طرح جس نے اپنے آقاکے حکم پر قیمتی ہیرا توڑ دیا تو مجمع چیخ پڑا، اے نادان! غضب کا نشانہ بنے گا، غضب کا، لیکن آقا نے غلام کی اس بجا آوری پر فخرکیا۔ بس ایسا ہی آقا ہے یہ معصوم شخص جس نے غلام کی مرضی پوچھ لی۔ بس ایک بری بات ہے اس معصوم شخص میں اور وہ یہ کہ ڈر اورخوف بہت ہے، کوئی ناراض نہ ہوجائے، کچھ برا نہ لگ جائے جب انہیں ایسے بھنور ستاتے ہیں تو قوتِ فیصلہ کا فقدان ایسے ہی پیدا ہو جاتا ہے جیسے وٹامن اے، بی، سی، ڈی کی ایک ساتھ کمی، لیکن میں نے اپنی شادی کے بعد ابو کو بہت مضبوط باپ بنتے ہوئے دیکھا۔ لڑکیوں کے باپ انھیں شوہرکی زیادتیوں پر زبان بندی سکھاتے ہیں اور ’یہ زندگی ہے‘ کا درس دیتے ہیں۔ گھر بسائے رکھنے کے گُر بھی بتاتے ہیں اورعزت نفس کو قائم رکھنے کی نصیحت بھی نہیں چھوڑتے۔ اچھی بیوی بنو لیکن شوہرسے ایک گال پہ طمانچہ کھا کر دوسرا آگے پیش نہ کرنے کا بھی کہہ دیتے ہیں۔ دل جلے تو لازماً کہیں گے باپ ایسے ہیں ہوتے ہیں کیا!

میں زندگی کے اب اس دور میں داخل ہوچکی ہوں جس میں سائے جسم سے دور محسوس ہوتے ہیں۔ انسان پر نیکی بدی اور جینا مرنا سب واضح ہو جاتا ہے، گاڑی کی ونڈ سکرین سے جب بارش کی بوندوں کو وائپرصاف کرتے ہیں تو سامنے کا منظر نکھر جاتا ہے بالکل ایسے ہی دلوں پر پڑی ہوئی دھند بڑھتی اور چھٹتی چلی جاتی ہے۔ یہ ابو کی کامیابی ہے کہ اتنے لبرلز کے درمیان رہ کر بھی میرے اندرکا دیسی پن ختم نہیں ہوا۔ ہم باپ بیٹی اپنی بہت سی باتیں ایک دوسرے سے کرکے مشورے لیتے ہیں اور کرتے پھر اپنی اپنی ہی ہیں۔ اس اپنی اپنی میں بھی ابو کی جھلک شامل ہے کیونکہ وہ مجھے ہمیشہ ایسے ہی مضبوط اور توانا دیکھنا چاہتے ہیں۔ انھیں روتی بسورتی، گلے کرتی اور قسمت کو کوسنے والی بیٹی کے بجائے ڈٹ جانے والی، وفا شعار، مخلص اور قوت فیصلہ رکھنے والی مریم پسند ہے۔ وہ جیسے شادی کے دوسرے دن بیٹی نے ماں کو فون کرکے کہا کہ میرا ان سے جھگڑا ہوگیا۔ ماں نے سمجھاتے ہوئے کہاکہ بیٹی میاں بیوی میں لڑائی ہو ہی جاتی ہے۔ بیٹی بولی: وہ تو ٹھیک ہے لیکن پہلے یہ بتائیں لاش کا کیا کرنا ہے۔ اس خود اعتمادی پر دورکی کوڑی لانے والے تو کہیں گے کہ باپ ایسے ہوتے ہیں کیا!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: