کچھ استشراق اور مستشرقین کے بارے میں 2 —– راجہ قاسم محمود

0
  • 11
    Shares

استشراق کا آغاز صرف عربی زبان اور اسلام جیسے مذہب کے مطالعہ سے ہوا۔ لیکن استشراق کا داٸرہ مشرق میں مغربی سامراجیت کے زور پکڑنے کے بعد اتنا وسیع ہو گیا کہ مشرق کے تمام مذاہب ان کی عادات و تقالید، رسم و رواج، تہذیب و ثقافت، زبان و بیان اور اس کے جغرافیاٸی علم کی تحقیق پر محیط ہو کر اختتام پذیر ہوا۔ استشراق کا سب سے اولین پس منظر دینی ہے۔ راہبوں سے اس تحریک کا آغاز ہونا ہی اس پر بین دلیل ہے جیسا کہ عصر حاضر میں بھی یہ سلسلہ جاری و ساری ہے مستشرقین کا یہ منصوبہ تھا کہ اسلام پر کیچڑ اچھالا جاٸے اس کی خوبیوں اور محاسن کو مٹا دیا جاٸے اور اسلام کے روشن حقاٸق کو مسخ کر دیا جاٸے۔ ان راہبوں نے نفسیاتی اثرات کو غنیمت سمجھتے ہوٸےاسلامی علوم کی تحقیق و مطالعہ کی سرگرمیوں میں مزید اضافہ کیا زبردست مطالعہ کے ساتھ علمی تحقیقات کی مدد سے انھوں نے اپنے مشینری مقصد کو زندہ رکھا۔

یہ علمی تحقیق ان کے مقصد کے حصول کے لیے مزید معاون ثابت ہوٸی۔ برصغیر پاک و ہند میں بھی انگریزی دور میں عیسائی مشنریوں نے قدم جمائے مگر اس وقت کے مسلمانوں نے اس کا مقابلہ کرکے بڑی تعداد میں لوگوں کو ارتداد سے بچایا جن میں سب سے نمایاں نام مولانا رحمت اللہ کیرانوی کا ہے جن کا مشہور پادری فنڈر سے 1854 میں اگرہ میں مناظرہ ہوا جس میں اس پادری نے انجیل کے محرف ہونے کا اعتراف کیا، پھر مولانا کیرانوی نے “اظہار الحق” جیسی کتاب لکھی جس کے بارے میں مولانا ابو الحسن علی ندوی کے مطابق برطانوی اخبارات نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر لوگ اس کتاب کا مطالعہ کرتے رہے تو مسیحیت کی ترقی رک جائے گی۔ اس طرح مولانا ندوی نے مولانا آل حسن موہانی، مولانا عنایت رسول چڑیا کوتی، مولانا عبدالحق حقانی، مولانا محمد علی مونگیری، قاضی سیلمان منصور پوری اور مولانا ثنا ء اللہ امرتسری کا ذکر کیا ہے جنہوں نے اپنے اپنے وقت میں عیسائیت کا علمی رد کیا۔ یہ مشنری مشن بھی استشراق کا ایک حصہ ہے لہذا اس کا مقابلہ کرنے میں علماء ہند کا بھی ایک مثبت کردار ہے اور مولانا ندوی کہتے ہیں کہ ان کے مشن کا مقابلہ کرنے میں ہندی مسلمانوں کا رقبے کے لحاظ سے کم مگر دیگر مسلم ممالک کے لوگوں سے زیادہ کردار ہے جو کہ ان کے دینی شعور اور غیرت اسلامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ایسا ہی ایک اور بڑا نام سید امیر علی کا ہے جن کی کتاب The Spirit of Islam جس کو ایک مستشرق Osborn نے تعریف کے قابل کہا۔ پھر ایک اور جلیل القدر نام ڈاکٹر حمید اللہ کا ہیں جنہوں نے مغرب میں بیٹھ کر اسلام کا دفاع کیا آپ کو مختلف زبانوں پر عبور حاصل تھا یوں آپ نے فرنچ اور انگریزی میں اسلام اور بانیِ اسلام ﷺ کی مدافعت میں کتابیں لکھیں۔

گولڈ زیہر اور جوزف شاخت جیسے متعصب مستشرقین نے دنیا کو یہ باور کرانے کی ان تھک کوشش کی ہے کہ اسلام یہودیت سے ماخوذ ہے۔ اس مقصد کے تحت ان کا اگلا وار احادیث نبوی ﷺ کی صحت کے بارے میں شکوک شبہات پیدا کرنا ہے جن کے اوپر امت کے معزز علمإ تحقیق کرکے اعتماد کر چکے ہیں اور ان کی جانچ پڑتال کے لیے انتہاٸی ٹھوس قواعد مرتب کیے ہیں۔

استشراق کے سامراجی پس منظر پر بات کرتے ہوٸے ڈاکٹر سباعی لکھتے ہیں کہ جب صلیبی جنگوں کے خاتمے پر صلیبیوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تو اس کے باوجود اہل مغرب اسلامی ممالک پر قبضے کے خاتمے سے مایوس نہ ہوٸے بس انھوں نے اپنا میدان بدل لیا اور ان ممالک کے حالات و کیفیات، عادات و اطوار، اخلاق و کردار اور عقاٸد و نظریات کا مکمل دل جمعی کے ساتھ مطالعہ کیا تاکہ ان ملکوں کی طاقت و قوت اور ضعف و کمزوری کے پہلووں کا احاطہ ہو سکے۔
ایسے ہی استشراق کا ایک تجارتی پس منظر بھی ہے۔ مصنف کے مطابق مغربی لوگوں نے مسلمانوں کے ساتھ لین دین میں خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کیا مگر اس کے پیچھے مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کے خام قدرتی ذراٸع کو کم سے کم قیمت پر خرید کر ان کی صنعتوں کو نقصان پہنچایا جاٸے۔ استشراق کا ایک پہلو سیاسی بھی تھا یہ تب کھل کر واضح ہوا جب مسلم ممالک مغربی تسلط سے آزاد ہو کر خود مختار ہوٸے۔ ان مسلم بالخصوص عرب ممالک میں مغربی ممالک کے سفارتی اہلکاروں میں ایک مشیر خاص ہوا کرتا تھا جو کہ عربی زبان پر مکمل دسترس رکھتا اور یہ وہاں کے مفکرین و اہل صحافت سے رابطہ رکھ کر ان کے سیاسی افکار پر مطلع ہوتا تھا۔ ایسے ہی مستشرقین کا ایک طبقہ وہ ہےجو خالص علمی پس منظر رکھتا تھا جن کو اقوام و امم کےادیان و مذاہب، تہذیب و ثقافت اور زبان سے دلچسپی تھی ڈاکٹر سباعی کہتے ہیں کہ اس طبقے کے مستشرقین کی بدولت کٸی علمی تحقیقات سامنے آٸیں اور ان کے مضامین میں علمی جھلک نظر آتی ہے جو کہ دیگر متعصب مستشرقین کے ہاں نہیں ملتی۔ انھوں نے اسلامی تراث کے فہم و ادراک میں کم غلطیاں کیں کیونکہ جعل سازی اور غلط بیانی ان کا مقصد نہیں تھا۔ ان میں سے بعض مستشرقین پر اسلام کی حقانیت واضح ہوٸی وہ حلقہ بگوش اسلام ہوٸے۔

استشراق کے اغراض مقاصد پر بات کرتے ہوٸے ان کو تین حصوں میں مصنف نے تقسیم کیا ہے۔ ان کا اول مقصد یہ پرفریب علمیت پر مبنی ہے کہ یہ آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کے بارے میں شکوک شبہات پیدا کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ آپ ﷺ کی نبوت کے منکر ہیں تو آپ ﷺ پر نازل ہونے والی وحی کے بارے میں بات کرتے ہوٸے انتہاٸی جہالت و بد دیانتی کا ارتکاب کرتے ہیں جیسے کہ معاذ اللہ یہ آپ ﷺ پر نزول وحی کی کیفیت کو مرگی سے تعبیر کرتے ہیں جو کہ صریح بد دیانتی و جہالت ہے۔ آپ ﷺ کی عظمت و رفعت سابقہ انبیاٸے کرام علیھم الصلوة ولسلام سے بڑھ کر ہے جس کو یہ تسلیم کرنے سے چوکتے ہیں۔ ایسے ہی آپ ﷺ کے زندہ معجرے یعنی کہ قرآن پاک میں وارد سابقہ امتوں کے تاریخی حقاٸق پر جب یہ لاجواب ہوتے ہیں تو یہ جاہل مشرکین والا بہانہ گھڑ دیتے ہیں کہ آپ ﷺ یہ معلومات لوگوں سے لیتے تھے۔ (معاذ اللہ) اور جب قرآن میں مذکور ساٸنسی حقاٸق سے ان کا سامنا ہوتا ہے تو یہ اسے آپ ﷺ کی ذہانت و فطانت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت یہ اسلام کو ایک مستقل دین تسلیم کرنے پر تیار نہیں بلکہ اسلام کو یہودیت و عیساٸیت کا معجون مرکب قرار دینے پر زور دیتے ہیں مگر اپنے اس دعوے پر ان کے پاس کوٸی بھی ٹھوس علمی دلیل نہیں بس ان کے مفروضے چند ظاہری تشابہ پر مبنی ہیں۔ گولڈ زیہر اور جوزف شاخت جیسے متعصب مستشرقین نے دنیا کو یہ باور کرانے کی انتھک کوشش کی ہے کہ اسلام یہودیت سے ماخوذ ہے۔ اس مقصد کے تحت ان کا اگلا وار احادیث نبوی ﷺ کی صحت کے بارے میں شکوک شبہات پیدا کرنا ہے جن کے اوپر امت کے معزز علمإ تحقیق کرکے اعتماد کر چکے ہیں اور ان کی جانچ پڑتال کے لیے انتہاٸی ٹھوس قواعد مرتب کیے ہیں۔ ڈاکٹر سباعی کہتے ہیں کہ ان مستشرقین کے سامنے جب احادیث نبوی ﷺ کا زبردست ذخیرہ سامنے آتا ہے یہ حیرت انگیز سرمایہ دیکھ کر یہ مبہوت ہوجاتے ہیں۔ ایسا ہی رویہ فقہ اسلامی کے بارے میں ہے، ایسا قانون کسی اور مذہب کے پاس نہیں تو اس پر جب فریب دینے کے لیے انھوں نے یہ دعوی کر دیا کہ فقہ اسلامی رومی قانون سے ماخوذ ہے۔ مسلم علما ٕ نے ان کے اس پر فریب دعوے کا زبردست علمی جواب دے کر اس کو بے بنیاد ثابت کر دیا ہے۔ مستشرقین کی بھاری اکثریت اس پرفریب علمی اغراض و مقاصد کے لیے سرگرم عمل ہے۔

استشراق کا دوسرا مقصد سیاسی و دینی ہے اس کے تحت مسلمانوں کے دلوں میں اسلامی تہذیب و روایات کے بارے میں شکوک و شبہات کو پیدا کیا جاتا ہے مصنف کہتے ہیں کہ اہل مغرب کی اپنی تو کوٸی تہذیب و ثقافت نہیں بلکہ یہ سب رومی تہذیب کا تسلسل ہے وہ مسلمانوں کو یہ باور کراتے رہتے ہیں کہ اسلامی تہذیب و ثقافت میں کٸی کمزوریاں اورخامیاں پاٸی جاتی ہیں۔ اسی مقصد کے تحت مسلمانوں کے علمی سرمایے، اخلاق و عاداب اور عقاٸد و نظریات پر بھی سوال اٹھاٸے جاتے ہیں تاکہ مسلمانوں کا ان پر اعتماد متزلزل ہو اور مغربی تہذیب مسلم سماج میں پروان چڑھے۔ ایسےہی مقصد کے تحت مسلمان ممالک میں قبل اسلام پاٸی جانے والی وطنیت کو زندہ کرکے عوام میں اختلاف پیدا کیے جاتے ہیں۔

تیسرا مقصد خالص عملی غرض سے اسلامی و عربی تراث کا مطالعہ کیا جاٸے اور ان پر بحث و تحقیق کرکے ان کے مخفی حقاٸق کو اجاگر کیا جا سکے مگر یہ مستشرقین اپنے اخلاص کے باوجود عربی زبان اور تاریخ اسلامی کی فضا سے ناواقف ہونے کی وجہ سے کئی غلطیاں اور غیر مستند نتائج پر پہنچتے ہیں جنانچہ وہ اسلامی معاشروں کا تصور اپنے معاشرے کو دیکھتے ہوئے کرتے ہیں جس سے وہ بنیادی غلطی کرتے ہیں۔ ان کا مقصد چونکہ صرف علم کی خدمت ہوتا ہے تو یہ جماعت حق واضح ہونے کے بعد اس کو بآسانی قبول کر لیتی ہے۔ ڈاکٹر سباعی کہتے ہیں کہ پہلی دو جماعتوں کے مستشرقین کے ہاتھوں یہ لوگ ظلم و تشدد کا نشانہ بن جاتے ہیں اور اس کی مثال انھوں نے “توماس” اور “ارنولڈ” کی دی ہے جن کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا کیونکہ انھوں نے اپنی کتاب “الدعوۃ الی الاسلام” میں مسلمانوں کے ساتھ انصاف سے کام لیا اور مسلمانوں کا دیگر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کو بیان کیا۔ اور ان مستشرقین پر جب اسلام کی حقانیت ظاہر ہوئی تو انھوں نے اسلام کو قبول کیا۔

ان مستشرقین نے اپنے اغراض و مقاصد کے لیے ہر ممکنہ وسائل کا استعمال کیا جن میں سے کچھ کا ڈاکٹر سباعی نے ذکر کیا ہے جیسے کہ مذہب اسلام، اسلامی رجحانات و خیالات، آپ ﷺ اور قرآن جیسے موضاعات پر کتابیں لکھی گئیں، جن میں سے اکثر تصانیف میں نصوص و عبارات کو نقل کرنے میں منظم پلان کے مطابق تحریف لفظی و معنوی کی گئی۔ ایسے ہی عیسائی مشن کے فروغ کے لیے خدمت خلق کے ادارے قائم کیے گئے جیسے سکول و ہسپتال اور یتیم خانے وغیرہ اور ان کو اپنے تبلیغی مشن کے لیے استعمال کیا گیا۔ یونی ورسٹیوں اور علمی درسگاہوں میں لیکچرز کا اہتمام کیا جاتا جس میں مسلم ممالک کی اہم درسگاہوں میں اسلام دشمن اور متعصب مقررین کو مدعو کیا جاتا ہے۔ مقامی اخبارات و رسائل میں بھی تحریفی مضامین شائع کیے جاتے ہیں اور صحافت ان کے ابلاغ کا سب سے موثر ذریعہ ہے، کانفرنسز کا انعقاد اور اسلامک انسیکلوپیڈیا کی تیاری۔ مصنف اپنا واقعہ لکھتے ہیں کہ جب 1956 میں وہ آکسفورڈ گئےتو ان کی اسلامک انسائیکلو پیڈیا کے سیکرٹری سے ملاقات ہوئی تو وہ مطلع ہوئے کہ اس کی 13 جلدیں تیار ہو چکی تھیں اور اس کے مضامین اسلام دشمن مستشرقین نے ترتیب دئیے تھے اور کئی اسلامی عقائد و نظریات کے بارے میں جھوٹ اور بد دیانتی کی گئی تھی اس کو ڈاکٹر سباعی شہد میں زہر گھولنے کے مترادف قرار دیتے ہیں۔

​مستشرقین کے چند اہم اخبارات و رساٸل میں سے ایک ایشین میگزین Asian Magzine جس کو 1787 میں فرانسیسی مستشرقین نے جاری کیا۔ ایسے ہی فرانسیسی مستشرقین کا ایک اور رسالہ The Muslim World جو کہ مشنری ورک Missionary Work کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔ اسی نام The Muslim World سے امریکی مستشرقین کا بھی رسالہ ہے جس کو مصنف نے سب سے خطرناک اور زہر یلا رسالہ قرار دیا ہے۔ اس طرح ڈاکٹر سباعی نے اس وقت کے اہم متشدد مستشرقین کا بھی ذکر کیا ہے جیسے A.J. Arberry جو کہ The Encyclopedia of Islam کا مصنف ہے اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اس کا تعصب بہت مشہور ہے۔ دوسرا اہم متعصب مستشرق A.Geom ہے۔ اس کی تحریروں پر عیساٸی تبلیغ کا رنگ غالب رہا ہے۔ Barran Carrade Vaus بھی ایک اہم فرانسیسی مستشرق ہے The Encyclopedia of Islam میں اس نے بھی اپنا حصہ ڈال کر اپنے تعصب کا مظاہرہ کیا۔ اس انسٸیکلوپیڈیا کی اشاعت میں H.A.R. Gibb تحریروں نے بھی اپنا زبردست کردار ادا کیا۔ گب کی تصانیف بے شمار ہیں جو کہ شہرت کی حامل ہیں۔ گولڈ زیہر بھی اس انساٸیکلو پیڈیا میں لکھنے والوں میں سے اہم نام ہے جس کے تعصب اور بد دیانتی کا ذکر پہلے بھی ہو چکا ہے۔

یوں ہی امریکی مستشرق Jone Maynard بھی متعصب مصنفین میں سے ہے اس کے مضامین امریکی رسالے “مجلتہ جمعیتہ الدراسات الشرقیہ” میں لگاتار شاٸع ہوتے رہے ہیں۔ S.M. Zwiemer ایک مشنری مستشرق ہے جو کہ اسلام دشمنی میں کافی معروف ہے۔ امریکی رسالے The Muslim World کی بنیاد اس نے ہی ڈالی۔ ایک مصری مستشرق عزیز عطیہ سوریال بھی قابل ذکر ہے جس کے اندر اسلام اور مسلم دشمنی کوٹ کوٹ کے بھری ہوٸی ہے اس نے صلیبی جنگوں کے متعلق کچھ کتابیں لکھی ہیں۔ G.Von Grunbaum جرمن یہودی مسشرق ہے جس کو امریکی یونیورسٹی میں لیکچر کے لیے بلایا جاتا تھا۔ یہ اسلام کا شدید دشمن تھا جس کی گواہ اس کی زہرآلود اور بے بنیاد تحریریں ہیں۔ فلپ ہیٹی Ph. Hitti جو کہ لبنانی عیساٸی تھا بعد میں امریکہ چلا گیا ایک مشہور نام ہے۔ ڈاکٹر سباعی کہتے ہیں کہ یہ اسلام کے حوالے سے شدید متعصب تھا بظاہر یہ امریکہ میں عرب مساٸل کا دفاع کرتا تھا۔ اس کی ہمیشہ سے کوشش رہی کہ انسانی ثقافت کی تعمیر میں اسلام کے کردار کو مجروع کرے۔ اس کی کتاب The History of Arab میں اسلام پر طعن و تشنیع اور آپ ﷺ کی ذات پاک کے ساتھ تمسخر اور مذاق جا بہ جا نظر آتا ہے۔ A.J.Wensink بھی ایک اہم مستشرق ہے جو کہ اپنی اسلام دشمنی میں بہت شدید تھا۔ اس نے قرآن مقدس کے بارے میں دعوی کیا تھا کہ آپ ﷺ نے دینی اور فلسفیانہ قسم کے کتابوں کے نچوڑ اور خلاصہ سے قرآن کی تالیف کی ہے۔ ایسے لغو اور مضحکہ خیز الزامات سے آپ ﷺ کی ذات بابرکات کو تو رتی برابر فرق نہیں پڑتا مگر ان لوگوں کا علمی معیار اور جہالت آشکار ہوتی ہے۔ The Encyclopedia of Islam میں حصہ ڈالنے والے دیگر مستشرقین میں L.Massignon اور H.Lammens جو کہ فرانسیسی ہیں، امریکی D.B.Macdonald، اور انگریز مستشرقین میں D.S. Margoliouth اور A.R. Nickolson کے ساتھ ساتھ مشہور جرمن J.Schacht شامل ہیں۔ اور یہ تمام لوگ اسلام کے بارے میں تعصب رکھنے کے حوالے سے مشہور ہیں جس کا ثبوت ان کی طرف سے لکھی گئی اس Encyclopedia میں زہر آلود تحریریں ہیں۔ اس کے علاوہ ان لوگوں کی اپنی کتابیں بھی جو ان سب نے اسلام کے حوالے سے لکھی ہیں، میں کذب بیانی اور افترا پردازی واضح نظر آتی ہے۔

میدان تحقیق میں یہ بات معروف ہے کہ کسی چیز کی تحقیق کے دوران اپنی تمام ذاتی خواہشات و میلان سے خالی ہو کر انہی نصوص و مراجع کی تلاش و جستجو میں رہتا ہے جس کی ثقاہت اہل علم کے نزدیک مسلّم ہے، ان ہی مستند ذرائع پر تحقیق سے وہ کسی نتیجے پر پہنچتا ہے۔ مگر اس کے برعکس مستشرقین کا حال یہ ہے کہ پہلے سے ہی معین فکر رکھ کر اس کے اثبات کے لیے بے محل دلائل کا استعمال کرتے ہیں اور اکثر تو یہ ہوتا ہے کہ کسی جزئی واقعہ سے امر کلی کا استنباط کرتے ہیں۔ اگر یہ نفس پرستی اور ذاتی اغراض و مقاصد کا دخل نہ ہو تو ان کی ذات کو بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اس کی مثال میں ایک بڑا نام ڈاکٹر سباعی نے گولڈ زیہر کا لیا ہے جس نے اپنے زعم فاسد سے احادیث نبوی ﷺ کو پہلی تین صدیوں کی کارکردگی کا نتیجہ قرار دیا۔ اور اپنی اس بات کو ثابت کرنے کے لیے علامہ الدمیری کی کتاب “حیات الحیوان” سے حوالے دئیے۔ یہ کتاب حدیث کی کتاب ہی نہیں اور یہ تو ثانوی درجے کی کتاب بھی نہیں، اس میں سے گولد زیہر نے نقل کیا کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کو یہ علم نہیں تھا کہ معرکہ بدر اور احد میں کس کا وقوع پہلے ہوا۔ یہ بات قطعی طور پر بے بنیاد ہے اور تحقیق کا تقاضہ یہ ہے کہ امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ کی بابت بات کرتے ہوئے فقہ حنفی کی مستند کتب سے رجوع کیا جائے، اسی جواب کے ضمن میں ڈاکٹر سباعی نے فقہ حنفی کی کچھ کتابوں کا ذکر کیا ہے جن سے گولڈ زیہر بھی واقف ہے اور یہ بات بھی ہم سے مخفی نہیں کہ امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ دیگر معاصرین اور ان کے مقلدین کی چپقلش تھی جس کے وجہ سے کئی لوگوں نے بے بنیاد باتیں ان کی طرف منسوب کر دیں جن میں سے یہ ایک ہے جو الدمیری نے نقل کی ہے، اور یہ کتاب نہ ہی تاریخ کی کتاب نہ ہی فقہ کی جو مستند ماخذ قرار پائے۔

گولڈ زیہر نے یہی غیر علمی اور متعصبانہ رویہ امام ابن شہاب زہری کے بارے میں اپنایا اور ان پر الزام لگایا کہ وہ اموی ملوک کی شان میں احادیث وضع کیا کرتے تھے۔ ایسے ہی مستشرقین کے تعصب کی ایک اور مثال نقل کرتے ہوئے ڈاکٹر سباعی لکھتے ہیں کہ مستشرق “مایور” نے دعوی کیا کہ عرب بدو فصاحت و بلاغت کی تعلیم کا بہت اہتمام کرتے تھے اور یہ بعید نہیں کہ آپ ﷺ نے عربی زبان کی فصاحت و بلاغت پر مہارت حاصل کرنے کے لیے اسے سیکھا ہوگا۔ اس دعوی سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مستشرقین کے نزدیک تحقیق کا پیمانہ ان کے خیالی مفروضے ہیں کوئی حقائق نہیں۔ اہل عرب کا فصاحت و بلاغت کی تعلیم حاصل کرنے کا ایک بھی تاریخی ثبوت نہیں ہاں قبل از بعثت آپ ﷺ سے نظم و نثر کی کوئی بات منقول نہیں ہے۔ اس دعوی سے مستشرقین کے دعووں میں افراط اور غلو کا غلبہ صاف دکھائی دیتا ہے جس کو تحقیق کے میدان میں کبھی بھی حوصلہ آفز عمل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے انداز و اسلوب پر ایک فرانسیسی نو مسلم مستشرق ناصر الدین دینیہ نے عمدہ بات کہی کہ جب یہ لوگ کسی چیز پر حکم لگاتے ہیں یا اس بابت رائے قائم کرتے ہیں تو ان کی آراء میں اس قدر تضاد اور تناقص پایا جاتا ہے جس کی علمی دنیا میں مثال نہیں ملتی۔

پھر مصنف نے اپنے 1956 میں دورہ یورپ میں مختلف یونی ورسٹیز کے دوروں کے دوران وہاں کے مستشرقین، محققین اور مفکرین کے ساتھ اپنی ملاقاتوں اور ان کے ساتھ ہونے والے علمی مباحث کا ذکر کیا اور نظر آیا کہ کس طرح سے ان درسگاہوں سے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں جھوٹ اور مغالطے پھیلائے جا رہے ہیں۔ وہاں کی اکثر یونیورسٹیز کے اسلامک اور عربک اسٹڈیز کے شعبوں کے سربراہ غیر مسلم تھے اور فقط غیر مسلم نہ تھے بلکہ اسلام کے بارے میں شدید تعصب رکھتے تھے جس کی ایک مثال لندن یونیورسٹی کے ایک مستشرق پروفیسر انڈرسون نے ازھر یونیورسٹی سے فاضل ایک شخص کو اس لیے فیل کر دیا کیونکہ اس نے ایک بحث میں حصہ لیتے ہوئے یہ ثابت کیا تھا کہ اسلام عورتوں کو مکمل حقوق دیتا ہے۔ ایسے ہی اسکاٹ لینڈ یونیورسٹی کے دورے کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہاں اسلامک اسٹڈیز کا ڈین ایک پادری تھا۔ اکسفورڈ یونی ورسٹی میں گولڈ زیہر، مرگولیتھ Margoliouth اور جوزف شاخت جیسے لوگوں کی اسلام کے بارے میں کتابوں کو حرف آخر سمجھا جاتا تھا جن کے اندر صریح بددیانتوں کا ارتکاب کیا گیا۔ کیمبرج یونیورسٹی میں شعبہ اسلامیات کا سربراہ مشہور مستشرق آربری “Arberry” تھا۔ جس نے ڈاکٹر سباعی کے ساتھ گفتگو میں اعتراف کیا کہ ہم مستشرقین اسلام کے بارے میں تحقیقات میں اکثر جگہ غلطیاں کر جاتے ہیں اور بہتر تھا کہ اس میدان میں ہم قدم نہ رکھتے اور مسلمانوں کی تحقیقات پر اعتماد کرتے۔

یہ اعتراف بہت اہم ہے جو کہ اس بات کی نشاندھی کرتا ہے کہ مستشرقین میں سے کچھ لوگوں کو اسلام کے بارے اپنی کمزور تنقید کا بھی علم ہے۔ مانچسٹر یونیورسٹی میں پروفیسر روبسون کے ساتھ اپنی ملاقات میں گولڈ زیہر کے افکار و نظریات پر بات ہوئی تو ڈاکٹر سباعی نے اس کی تاریخی اور علمی غلطیوں کو پروفیسر روبسون کے سامنے رکھا تو وہ حیران رہ گیا اور پروفیسر روبسون نے کہا کہ آج کے مستشرقین گولڈ زیہر سے زیادہ اسلام کا علم رکھتے ہیں۔ ہالینڈ کی لیڈن یونیورسٹی Leedon University میں ڈاکٹر سباعی کی ملاقات مشہور جرمن مستشرق جوزف شاخت سے ہوئی اور یہاں بھی گولڈ زیہر پر بات ہوئی اور اس کے علمی بددیانتی کا ذکر کیا شروع میں تو اسے یقین نہ آیا یہ ملاقات جوزف شاخت کے کتب خانے میں ہو رہی تھئ تو وہ گولڈ زیہر کی کتابیں دیکھنے لگا اور پھر دیکھ کر اعتراف کیا کہ گولڈ زیہر نے یہاں غلطی کی اور آپ کی بات درست ہے۔ اس دورے کے دوران ڈاکٹر سباعی کہتے ہیں کہ ہمارے تجربے میں یہ چیز بھی آئی کہ استشراق کی نشر و اشاعت گرجا گھروں سے ہو رہی ہے اور استشراق سامراجی ممالک میں زیادہ طاقت ور اور مضبوط ہے بہ نسبت ان ممالک کے جو سامراج سے دور ہیں جیسے کہ اسکنڈے نیویا کے ممالک۔ ، جبکہ فرانس اور برطانیہ جیسے ممالک استشراق کو اس کے اغراض و مقاصد سے آگے بڑھانے کے درپے ہیں تاکہ اسلام کا مقابلہ کیا جا سکے۔

استشراق کا آغاز تب ہوا جب عیساٸی مسلمانوں کے مقابل میدان جنگ میں ناکام ہو گٸے تو انھوں نے مقابلے کا میدان تبدیل کر دیا اور اسلامی علوم کے اوپر تحقیق و تنقید شروع کی پھر اس وقت کچھ ہی عرصے میں مسلم دنیا میں علمی انحطاط کا بھی دور شروع ہو گیا جس نے استشراق کو مذید پروان چڑھایا پھر دفاع کے میدان میں بھی مغرب نے برتری حاصل کی تو اس کی جڑیں مضبوط ہو گٸی۔

مستشرقین نے جو اسلامی علوم پر تحقیق کی ہے اس میں سے کچھ لوگوں نے خالص علمی مقصد کے تحت یہ کام کیا ہے اس لحاظ سے ان کا کردار قابل تحسین ہے ان کی کتابیں باقی مستشرقین سے زیادہ بہتر اور معیاری ہیں۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی نے بھی کچھ ایسے مستشرقین اور ان کی تصانیف کا اپنے ایک مقالے میں ذکر کیا ہے ہے جس میں پروفیسر ٹی بی آرنلڈ (T.B. Arnold) کی The Preaching of Islam اورStanley Lane Poole کی Saladin کو مولانا ندوی نے کسی حد تک منصفانہ قرار دیا ہے۔

کسی تحقیق میں حق تک رساٸی نہ ہونے کی دو ہی اسباب ہیں۔ ایک دینی تعصب، اگر کسی شخص میں کسی مذہب کے بارے میں تعصب پایا جاٸے تو وہ کبھی بھی درست نتیجے تک نہیں پہنچ سکتا، اسلام اور بانی اسلام ﷺ کے بارے بالعموم مستشرقین کے ہاں یہ کمزوری پاٸی جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ قابل اعتبار نہیں اگر کسی نے اس معاملے میں انصاف اور جرات سے کام لیا تو وہ مذہب کے شکنجے سے آزاد ہوا ورنہ اسلام کے بارے میں تعصب نے ان کو درست نتیجے تک نہیں پہنچنے دیا دوسرا سبب مادی و علمی قوت کا غرور و تکبر ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ اسلام کو صیح نہ سمجھ سکے مشہور متشرق گب Gibb نے کہا کہ مسلم ذہن علم کلی کے ادراک کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔ جب ایک بندے کی سوچ اس حد تک تکبر میں مبتلاہو تو اس سے کیسے توقع کی جا سکتی ہے وہ منصفانہ اور محققانہ کام کریں۔ مگر جو خالص علمی تحقیق کر رہے تھے ان کے کام میں یہ دونوں کمزوریاں کم ہونے کے باعث معیاری کہا جاسکتا ہے پھر ان مستشرقین کی بدولت قدیم مسلم کتب کی نشرو اشاعت ہوٸی جس کی وجہ سے ہمیں ان لوگوں کی قدر کرنی چاہیے۔ ان میں ایک اہم نام جس کا مولانا ابوالحسن علی ندوی نے بھی ذکر کیا وہ ڈاکٹر اسپرنگر (Sprenger) ہیں جنہوں نے علامہ ابن حجر عسقلانی کی کتاب “الاصابہ فی تمیز الصحابہ” کو ایڈٹ کیا اوراس پر انگریزی میں ایک فاضلانہ مقدمہ لکھا۔ اس لیے جہاں گولڈ زیہر جیسے متعصب مستشرقین پاٸے جاتے ہیں وہاں ایسے محسنین کو بھی یاد رکھا جانا چاہیے۔

ڈاکٹر سباعی اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں کاش مسلم دنیا میں ایسے اہل علم پیدا ہوں جو مغرب کی تہذیب و ثقافت اور ان کے علمی ورثے پر تحقیق کا وہی اسلوب اختیار کریں جیسا مستشرقین نے کیا مثلاً غلط روایتوں کو تلاش کرنا، عبارتوں کا من مانا مفہوم نکالنا، محاسن کو براٸیوں کی شکل میں پیش کرنا اور مغرب کے اندر اچھاٸیوں کے بارے میں لوگوں کو بد ظن کرے اگر کوٸی یہ کام کرے تو نتیجے کے طور پر مغربی علوم اور تہذیب و ثقافت کا ایسا مضحکہ خیز منظر سامنے آے گا جس کو دوسروں سے زیادہ خود ہمارے لوگ ہی ناپسندیدہ سمجھیں گے۔ اس سے فقط یہ بتانا ہے کہ اسلام کے بارے میں مستشرقین کا رویہ کس حد تک غیر علمی اور غیر سنجیدہ ہے اس لیے ان کی تحقیقات پر ہم آنکھیں بند کرکے یقین نہیں کر سکتے۔

ڈاکٹر سباعی کی اس کتاب سے استشراق اور مستشرقین کو اختصار سے سمجھنے میں کافی مدد ملتی ہے۔ بالخصوص متعصب مستشرق گولڈ زیہر کے حدیث کے بارے میں غیر علمی رویے کا پتہ چلتا ہے۔ اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مغربی مصنفین کی اسلام کے بارے میں لکھی کتب کو غور سے دیکھنے کی ضرورت ہے ان پر یکسر آمنا صدقنا کہنا کسی طور پر بھی صیح نہیں۔ پھر ان مصنفین پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے تاکہ پتہ چل سکے کہ یہ کس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں کہ آیا وہ خالص محقق ہیں یا متعصب گروہ کے افراد ہیں۔ پھر ان کے کام کا معیاری جاٸزہ لینا بھی ضروری ہے تاکہ اگر کوٸی ٹھوس اعتراض یا غلط فہمی ہو تو اس کا ازالہ کیا جا سکے۔ ان کے کام کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ایک اور چیز کی طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے کہ ان کے ماخذ و مراجع کے بارے میں ضرور دیکھا جانا چاہیے کہ وہ کتنا مستند ہے، جیسے کہ پہلے ہم دیکھ چکے کہ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ پر گولڈ زیہر نے علامہ الدمیری کی کتاب کو بنیاد بنا کر ان پر سیرت سے لاعلمی کا الزام لگایا۔

پہلی قسط کے لیے اس لنک پر کلک کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: