پی ٹی آئی نے کے پی میں کیا کر لیا؟ — قسط 3 —- محمد ندیم سرور

0
  • 59
    Shares

قارئین اس قسط میں چند ناگزیر ذاتی وجوہات کی بنا پر تاخیر میں معذرت۔ پچھلی دو اقساط میں محکمہ صحت میں کی جانے والی انقلابی تبدیلیوں کا ذکر کیا تھا۔ میرا ارادہ تھا کہ اب دوسرے محکموں کی کارکردگی کا جائزہ پیش کیا جائے مگر کچھ دوستوں کا اصرار تھا کہ اسی شعبے میں متعارف کرائی جانے والی سب سے انقلابی سہولت، صحت سہولت کارڈ کے بارے میں لازمی طور پر لکھا جائے۔ انہی کی خواہش کے احترام میں محکمہ صحت کی کارکردگی پر یہ آخری قسط لکھ رہا ہوں، اس کے بعد دیگر محکموں میں کی جانے والی اصلاحات کا جائزہ آپ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

سابقہ حکومتوں کی عدم توجہ کی وجہ سے صوبے میں صحت کی سہولیات کی حالت نہایت ناگفتہ بہ تھی۔ پی ٹی آئی نے اقتدار سنبھالتے ہی اپنے منشور اور الیکشن مہم کے دوران کیے گئے وعدوں کے پیش نظر اس اہم ترین شعبے پر بھرپور توجہ دی۔ سرکاری ہسپتالوں میں مشینری، ادویات، دیگر سہولیات، ڈاکٹرز اور نرسز کی کمی کو پورا کرنے کی خاطر کثیر فنڈز خرچ کئے جس سے تمام سہولیات میں نمایاں بہتری ہوئی۔ ان کی مکمل تفصیلات پچھلی دو اقساط میں آپ کے سامنے رکھی تھیں۔ ڈاکٹرز کی تعداد کو تقریباً تین گنا کرنے، میڈیکل آلات کی خریداری پر تاریخ میں سب سے زیادہ رقم خرچ کرنے اور نئے ہسپتال بنانے کے باوجود آبادی کے تناسب سے سرکاری سہولیات کی فراہمی محدود تھی۔ ایسے میں وسائل والا طبقہ تو پرائیویٹ ہسپتالوں اور کلینکس پر اپنے لئے بہتر سہولیات حاصل کرسکتا تھا مگر کم آمدنی والے طبقے اس سہولت سے محروم تھے۔ اسی مشکل کو دور کرنے کےلیے جنوری 2017 میں خیبر پختونخواہ حکومت نے غریب اور کم آمدنی والے طبقے کےلیے، 5.4ارب روپے سے صحت انصاف کارڈ کا اجراء کیا۔ ابتداء میں یہ سہولت صوبے کی 51 فیصد آبادی کو فراہم کئے جانے کا ارادہ تھا مگر اس کی افادیت کو دیکھتے ہوئے بعد ازاں 1.4 ارب روپے مزید ڈال کر اسے 69 فیصد آبادی تک پھیلا دیا گیا۔

اب غریب مریض بلا کسی مالی پریشانی کے اپنی مرضی کے بہترین سرکاری یا پرائیویٹ ہسپتال میں جاکر ان بہترین طبی سہولیات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے جو پہلے صرف زیادہ آمدنی والے لوگوں کی دسترس میں تھیں

اس کارڈ کے ذریعے ایک خاندان کے 8 افراد ایک سال میں کل 540،000 روپے تک کی میڈیکل سہولیات صوبے کے 110 سرکاری و پرائیویٹ ہسپتالوں سے حاصل کرسکتے ہیں جس کے عوض حکومت انشورنس کمپنی کو 1400 روپے فی خاندان سالانہ ادا کرتی ہے۔ اپریل 2018 تک کے اعداد و شمار کے مطابق 15 لاکھ 65 ہزار خاندانوں کو یہ کارڈ جاری کیا گیا ہے، جن کے قریباً ساڑھے چار لاکھ (450،000) سے زائد مریض اس کارڈ کی سہولت سے فائدہ اٹھا چکے ہیں، ان میں سے ایک لاکھ دس ہزار (110،000) مریض پیچیدہ مرض میں مبتلا ہونےکے باعث ہسپتال میں داخل بھی رکھے گئے ہیں۔ ان میں سے 60 فیصد دل کے امراض میں مبتلا، 20 فیصد جنرل سرجری کے ضروت مند اور 10 فیصد ٹراما اور کینسر جیسی موزی امراض میں مبتلا، روزانہ 2 ڈالر سے کم کمانے والے غریب افراد شامل ہیں۔

اب غریب مریض بلا کسی مالی پریشانی کے اپنی مرضی کے بہترین سرکاری یا پرائیویٹ ہسپتال میں جاکر ان بہترین طبی سہولیات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے جو پہلے صرف زیادہ آمدنی والے لوگوں کی دسترس میں تھیں۔ ہسپتال کا بھی اس میں فائدہ ہے کہ اب ان کے پاس مریضوں کی تعداد زیادہ ہوگئی ہے اور اس کارڈ پر آنے والے تمام مریضوں کا بل ہر ماہ کے آخر میں انہیں مل جاتا ہے۔ اس سے ان کی آمدنی بڑھی ہے جس سے یقیناً پرائیویٹ سیکٹر میں صحت کی سہولیات میں مزید اضافہ ہوگا۔ اسی طرح ان مریضوں کے رخ کرنے کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے، اور سرکاری ہسپتالوں کا معیار مزید بہتر ہونے پر اس میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس اضافی آمدنی سے ہسپتال اپنی سہولیات میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ یوں یہ منصوبہ مریضوں اور میڈیکل کے شعبے سے وابستہ افراد، دونوں کے لیے اور سرکاری و پرائیویٹ دونوں طرح کے ہسپتالوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے۔ واضح رہے کہ صحت انشورنس سکیم ترقی یافتہ ممالک میں رائج ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک میں ایسے منصوبے خال خال ہی ملتے ہیں مگر یہ عمران خان کا خواب ہے کہ ملکی وسائل سیمنٹ سریے سے بنی عمارتوں اور سڑکوں پر لٹانے کی بجائے عوام پر خرچ ہوں، انہیں بہترین تعلیم اور صحت کی معیاری سہولیات حاصل ہوں۔ جب ہیومن ڈیویلپمنٹ ہوگی تو پائیداد معاشی ترقی خود بخود ہوگی، عوام اچھے روڈز بھی بنالیں گے اور اچھی عمارتیں بھی۔

اسی صحت سہولت کارڈ پر نہ صرف معروف ملکی اخبارات، ڈان اور دی نیوز نے بلکہ مشہور بین الاقوامی جریدے، اکانومسٹ نے بھی تعریفی آرٹیکل شائع کئے ہیں۔ اسی سکیم کی مثال دیتے ہوئے عمران خان نے مینار پاکستان پر جلسے میں قوم کے سامنے اپنے 11 نکاتی ریفارم ایجنڈے میں ہیلتھ ریفارمز کا ذکر کیا اور وعدہ کیا کہ اقتدار ملنے کی صورت میں باقی ملک میں بھی اسی طرز پر ہیلتھ انشورنس متعارف کرائی جائے گی۔ اب وہ لوگ جو تیس تیس سال سے ایک ہی جماعت کو ووٹ دیتے ہیں، ان سے یہ سوال کرنا بنتا ہے کہ پی ٹی آئی نے تو اپنی پہلی باری میں غریبوں کے بیمار پڑنے کی صورت میں اخراجات کی فکر سے آزاد کردیا، آپ جن کے گیت گاتے ہیں انہوں نے اپنے صوبوں میں کئی کئی باریاں لینے کے باوجود کوئی ایک ایسا کام کیا؟ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک ایک ویلفیئر سٹیٹ بنے، جہاں سب کو تعلیم و صحت کی سہولیات حاصل ہوں، جہاں حکومت کم آمدنی والے طبقات کی بھرپور مدد کرے تو ہمیں پرانی پارٹیوں سے جان چھڑا کر ایک موقع پی ٹی آئی کو دینا ہو گا تا کہ وہ پورے ملک میں ایسے شاندار منصوبے شروع کرسکیں۔

پہلی قسط کے لیے اس لنک پر کلک کریں

دوسری قسط کے لیے اس لنک پر کلیک کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: