آمد بارات کا وقت ہوا چاہتا ہے —- نبیلہ کامرانی

0
  • 63
    Shares

ایک زمانہ تھا جب شادی بیاہ میں روایتی رسوم و رواج کو بہت زیادہ اہمیت حاصل تھی۔ عام طور پر شادی کی رسومات کا آغاز میلاد النبی یا قرآن خوانی سے ہوتا، میلاد کے بعد لڑکیاں ڈھول لے کر بیٹھ جاتیں اور روائتی گیت گائے جاتے۔ خاندان کی بزرگ خواتین دلہن کو ہلدی کے رنگ کا جوڑا پہنا کر، ابٹن لگا کہ دولہن کو مایوں بیٹھا دیتیں۔ مایوں سے بارات کے درمیان دو چار دن کا وقفہ ہوتا جس میں مہندی آتی اور جاتی مہندی کی رسم کے بھی خاص گیت ہوا کرتے تھے، پھر شادی سے پہلے والی رات دلہن کی بری آتی، اور کبھی کبھی تو یہ بھی ہوتا کہ بری بارات کے دن شادی ہال میں ہی آتی، یہ ساری تقاریب خاندان کی بزرگ خواتین ہی دیکھتیں۔

روایتی شادی میں ھم اسے “بارات کی تیاری” کہہ سکتے ہیں۔ اس شادی میں دولہا گھوڑے یا گاڑی پے آتا ہے، کرتا پاجامہ شیروانی سر پے کلہ چہرہ کو سہرے میں چھپائے۔ باراتی کبھی ڈھول بجاتے آ تش بازی کے ساتھ آتے اور کبھی بنا شور مچائے یوں ہی، پھر نکاح کے بعد چھوہارے کی پڑیا تقسیم کی جاتی اور پھر روتے ہؤے رخصتی ۔ یہ ہوئی روایتی شادی۔

وقت کے ساتھ تیزی سے ان رسوم و رواج میں تبدیلی آئی ہے۔
مایوں کی رسم کو ابتدا میں ہندوانہ رسم کہہ کے چھوڑا گیا، میلادالنبی بدعت اور مہندی کو فضول خرچی کے نام پر ترک کیا گیا۔ لیکن سوشل میڈیا کی برکت سے ہمیں ایک نئے قسم کا مایوں نصیب ہوا جسے “برائڈل شاور” کہا جاتا ہے، اس رسم میں دلہن میکسی پہن کے تیار ہو تی ہے، دلہن کی بہنیں اور بھابھی گھر کو خاص انداز سے برقی قمقموں سے سجاتی ہیں، دلہن اپنی سہیلیوں کے ساتھ کیک کاٹتی ہے، ساری سہیلیاں کاغذی ٹوپیاں اور موچھیں لگا کے فوٹو بنواتی ہیں، اب تو بازار میں خاص برائڈل شاور کی سجاوٹ کے قمقمے اور جھنڈیاں بھی دستیاب ہیں۔

مھندی کی جگہ اب ڈانس کی مشقوں نے لے لی ہے، لڑکے لڑکیاں شاور سے شادی کے وقفے میں ڈانس کی تیاری کرتے ہیں۔ دولہا اب گھوڑے کے بجائے بڑی سی گاڑی میں آ تا ہے۔ کالے تھری پیس سوٹ میں ملبوس۔ دلہن کی والدہ کو دولہے کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالتے وقت کچھ لمحے سوچنا پڑتا ہے کے ان ایک جیسے لباس والوں میں دولہا کون ہے اور دولہے کا دوست کون۔
شادی ہال میں داخل ہوتے ہی دلہن کا ہاتھ دولہے کے ہاتھ میں تھما دیا جاتا ہے پھر دولہا اور دولہن اسپاٹ لائٹ میں تیز موسیقی میں اسٹیج پے آ تے ہیں، عام طور پر نکاح پہلے ہی ہو چکا ہوتا ہے۔ اس لیے اسٹیج ڈانس فلور بن جاتا ہے۔ لاکھوں روپے کی فوٹوگرافی ہوتی ہے، دلہن دولہا اپنے دوستوں کے ہمراہ گروپ ڈانس کرتے ہیں اور آخر میں سب سیلفی لے کر خوشی خوشی اپنے گھروں کو جاتے ھیں۔

عزیز دوستو!
میں یہاں آپ کو شادی کی نئی رسموں پے درس دینے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔
میں تو آج کل پاکستان میں ہونے والے نئے سیاسی ڈرامے کی کہانی سنا رہی تھی۔
جیسے شادی روایتی ہو یا غیر روایتی دونوں میں سب کو بارات کا انتظار ہوتا ہے اور سب جانتے ہیں کہ اب کسی بھی وقت دولہا آنے والا ہے۔ دولہا روایتی کرتا پاجامہ، شیروانی، کلہ، سہرے میں چہرہ چھپائے گھوڑے پے آ ئے یا کالے کوٹ میں بڑی سی گاڑی پے یہ دلہن کی قسمت مگر اب آ پ سب خواتین و حضرات تیار ہو جائیں کیونکہ
“ آمدِ بارات کا وقت ہوا چاہتا ہے”

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: