ہراسگی, صنف نازک اور فیشن — ڈاکٹر مریم عرفان

0
  • 150
    Shares

یہ دنیا اپنی آفرینش سے ہی تین مسائل کاشکار رہی ہے۔ زن، زر اور زمین۔ اس کے علاوہ اگر کوئی مسئلہ یا فساد کی جڑ نظر آئی ہو تو نشان دہی کی جاسکتی ہے۔ زر اور زمین انسان کے لالچ سے بندھے ہیں جس کی مثالیں انسانی زندگی سے مستعارلی جاسکتی ہیں۔ یہ جانور اور پرندے بھی اپنے غاروں، ٹھکانوں اور گھونسلوں کے بارے میں بڑے حساس ہوتے ہیں۔ چوہا بل میں ہی سوتاہے، چڑیا درخت پر ہی گھونسلا بناتی ہے شیر کی کچھار اس کا ٹھکانہ ہے۔ جانوروں کی دنیامیں لالچ کا مظہر اتنا قوی نہیں جتنا انسانوں کے ہاں موجود ہے۔ ان کا مقصد حیات سوائے پیٹ بھرنے کے اور کچھ نہیں ہے۔ کبھی کسی نے سناکہ جنگلی بلیوں کو بندروں نے چھیڑا ہو، شیرنی کو کسی ریچھ نے آنکھ ماری ہو، ہاتھی نے اپنے سونڈھ چیتی کی کمر پر پھیری ہو یا گلہری کسی خرگوش کے ساتھ رنگ رلیاں مناتی پکڑی گئی ہو۔ جی نہیں! جانوروں کی بھوک بس پیٹ تک ہی محدود ہے انھیں جنسی ہراسگی کی کچھ خبر نہیں۔ کہنے کو یہ جانور ہیں جنھیں منہ سے نوالے چھیننے میں مزہ آتاہے، شہد کا چھتا بنانے سے قبل مادہ مکھی آسمان کی وسعتوں کو چھوتی ہے اوراس کے پیچھے جانے والے متعدد نر اڑان بھرتے ہیں۔ ایک ایک کرکے سب حوصلے ہار جاتے ہیں اور بس ایک نر، اس مکھی کو حاصل کر پاتا ہے۔ یوں وصل کی یہ لذتیں اس نرکی موت اور مادہ مکھی کے زندگی تیاگ دینے پرختم ہو جاتی ہیں۔ گویا یہ حشرات بھی وفاداری کی مثالیں نبھاتے ہیں۔

اب آتے ہیں انسانوں کی طرف، جن کے ہاں بھوک کا تصورپیٹ سے نیچے منسلک ہے۔ پیٹ کی بھوک کا تدارک تو ہو سکتا ہے لیکن نفس کے لالچ کی کوئی حد نہیں ہے۔ ہمارے ہاں جنس کا نام آتے ہی ذہن میں مردوں کی شبیہیں بننے لگتی ہیں اور ہم چشم زدن میں ان تمام مردوں کو ایک ہی قطارمیں کھڑا کرلیتے ہیں جو اپنی حرصی نظریں ہمارے جسموں میں گاڑتے رہتے ہیں۔ ہمیں یہ رال ٹپکاتے مرد تو نظر آجاتے ہیں لیکن ان کے منہ میں بننے والے لعاب کی وجہ دکھائی نہیں دیتی۔ کائنات کی کتاب کو کھولیں تو پتہ چلتا ہے کہ دنیا کا پہلا قتل ایک عورت کے حصول کے لیے ہوا۔ اقلیما کا حسن اس قتل کی واردات کی وجہ بنا۔ اب آتے ہیں قدیم تہذیبوں کی جانب، جہاں ہمیں یونانی اور مصری دیوی دیوتاؤں کے قصے ملتے ہیں۔ یہاں بھی عورت دیوی بن کر خوب قیامت ڈھا رہی ہے، لگتا ہے پوری کائنات کو انگلیوں پر نچانے والی یہی مخلوق ہے۔ ہندو دیو مالا میں برہما کا اپنی ہی بیٹی سرسوتی کے ساتھ ناجائز تعلق نفسی ابتری کو اجاگر کرتا ہے۔ کہیں قلوپطرہ ہے تو کہیں ہیلن آف ٹرائے، سب عورتیں ایک ہی کام پر لگی ہیں اور وہ ہے گمراہ کرنا۔ اس ضمن میں مجھے اناتول فرانسس کا ناول ’’تائیس‘‘ یاد آگیا جس کا مقصد ہی یہ بتاتا ہے کہ عورت کسی راہب کو بھی بھٹکا سکتی ہے۔ پفنوتوس کا اسکندریہ کی طوائف تائیس کو راہ راست پرلانے کا سفر اس کے حسن کے دھوبی گھاٹ میں اتر کا ختم ہو گیا۔ اس ناول کے یہ دو مکالمے بالخصوص اب بھی میری یادداشت کاحصہ ہیں۔

کوئی بات جو عورت کی فطرت کے خلاف کبھی نہیں کرنی چاہیے۔
سب بیجوں میں سے ایک ہی طرح کے پھول پیدا نہیں ہوتے۔

آج کل سوشل میڈیا پرجنسی ہراسگی کا اتنا چرچا ہے کہ پڑھنے والے چٹخارے لینے پر مجبور ہیں۔ ایک دوسرے پر الزامات کی بارشیں بھی ہو رہی ہیں، مرد کہتے ہیں وہ بے قصور ہیں اور عورتیں کہتی ہیں وہ جنس زدگی کانشانہ بننے پر مجبور ہیں۔ حقیقت میں چھری اورخربوزہ دونوں اپنے اپنے کام پر لگے ہوئے ہیں۔ نقصان صرف اس نسل کا ہے جو سوشل میڈیا کا حصہ بن چکی ہے۔ جنس کوئی نیا موضوع نہیں ہے نہ اس کو اتنی تشریح کی ضرورت ہے جسے بنیاد بنا کر آیندہ ہمارے نصاب میں بھی شامل کیا جائے۔ آج کل کسی کے پاس اتنا وقت نہیں کہ کسی پر ضائع کیاجائے اس لیے ہمارے ہاں آپشنز موجود رہتی ہیں۔ عورت کی فراوانی ہے اور جنس ایک ارزاں شے بن کر رہ گئی ہے۔ غربت کی بہتات اور قربت کی کمی جن عورتوں کو بھٹکنے کا موقع دیتی ہے ان پر ہم جنسی ہراسگی کا الزام عائد کرسکتے ہیں۔ اگرجنسی زدگی کا پہلا مقدمہ کسی عورت پر ہوتا تو وہ ضرور زلیخا ہی تھی جس نے حضرت یوسف ؑ کی خوبصورتی کا فائدہ اٹھانے کا سوچا تھا۔

جی ہاں! عورتیں بھی ہراساں کرسکتی ہیں۔ سب مفادات کا کھیل ہے، اس موقع پر بہت عامیانہ سا مذاق یاد آگیا کہ پنکی یہ کل تمہارے ساتھ کون لڑکا تھا۔ وہ میرا کزن تھا۔ اچھا۔ ۔ ۔ پچھلے سال وہ میرا کزن تھا۔ سوچ اور فکر کی آزادی نے مرد و زن میں فرق ہی مٹا دیا ہے ایک دوسرے کو متاثر کرنے کے وہ حربے استعمال ہو رہے ہیں کہ جن کو تحریر کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ پیریڈز اور پیڈز، یہ دونوں لفظ اب معیوب ہی نہیں رہے، زنانہ مسائل ایسے بیان کیے جاتے ہیں گویا ہمارے آباؤ اجداد اس سے محروم ہو کر دوزخ میں گئے ہوں گے۔ ایلیٹ کلاس کے تو کیا ہی کہنے کہ وہاں تو بات اب چھیڑ چھاڑ سے دور نکل گئی ہے۔ ’’میرا جسم، میری مرضی‘‘ کا شرمناک نعرہ لگانے والوں میں نر کیوں شامل نہیں ہوتے۔ یہ میری نسل کا زنان خانہ، پٹوارخانہ کیوں بنتا جا رہا ہے۔ آزاد خیال مادہ سے معذرت کے ساتھ اگر آپ مردوں سے اپنی نسوانی جسمانی مسائل شئیر کر سکتی ہیں تو پھر ان سے ان کے ایسے ہی نجی جسمانی مسائل بھی پوچھیں اور سیرحاصل گفتگو کریں۔

غربت کی بہتات اور قربت کی کمی جن عورتوں کو بھٹکنے کا موقع دیتی ہے ان پر ہم جنسی ہراسگی کا الزام عائد کرسکتے ہیں۔ اگرجنسی زدگی کا پہلا مقدمہ کسی عورت پر ہوتا تو وہ ضرور زلیخا ہی تھی جس نے حضرت یوسف ؑ کی خوبصورتی کا فائدہ اٹھانے کا سوچا تھا۔

میں جب اپنے کالج کی حدود میں داخل ہوتی ہوں تو بچیوں کے ٹانگوں سے چپکی ٹائٹس، اونچے اونچے پیپ لمز اور بغیر آستینوں کی قمیضوں سے جھانکتی غار جیسی بغلیں دیکھ کر ابکائی آنے لگتی ہے۔ کیا جب یہ گھر سے کالج کے لیے نکلتی ہیں تو ان کی مائیں لباس کی قطع و برید سے بے خبر ہوتی ہیں۔ اکیڈمیوں میں تو فیشن کی یہ لہر اپنے عروج پر ہے۔ برقعے کے نام پر عبایہ پہنا ہے لیکن اس بناوٹ اور تراش خراش سے کہ چہرہ کتابی لگنے لگتا ہے۔ جب میری نظر ان کے چہروں سے نہیں ہٹتی تو باہر ہزاروں کی تعداد میں پھرنے والے مرد کیسے خود کو بچا سکتے ہیں۔ ہر سکول اور کالج وین کی فرنٹ سیٹ سجے سجائے بناوٹی چہرے سے پر ہوتی ہے، کیا یہ جنسی ہراسگی نہیں ہے۔ بڑے بڑے شاپنگ مالز میں برانڈڈ سوٹ میں ملبوس، آدھی ڈھکی آدھی ننگی آنٹیاں جنسی ہراسگی کا ذریعہ نہیں بنتیں؟ جب یونیورسٹی میں کانٹریکٹ ختم ہونے والا ہو اور اچانک ایک کمرے سے جنس زدگی کا شور مچے تو پکڑا استاد جاتا ہے اور اتنے سال تک خاموش رہنے والی موصوفہ جنسی ہراسگی کا شکار ٹھہرتی ہے۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ اتنے سال تم خاموش کیوں رہیں، کیا تب زبان پر لقوہ ہوگیا تھا یا فالج۔

اس ساری بحث کا مقصد مرد کو پارسا ثابت کرنا نہیں ہے بلکہ تصویرکا دوسرا رخ پیش کرنا ہے جس میں ہمیں عورتیں بھی برابر کی شریک نظر آتی ہیں۔ دھواں وہیں سے اٹھتاہے جہاں آگ دہک رہی ہو۔ حدمیں رہنے والے ہی حدود کا تعین کرتے ہیں۔ ورنہ تو مرد بھی بس دو طرح کے ہیں ایک وہ جنہیں موقع مل جاتا ہے اور دوسرے وہ جنھیں موقعے سے فائدہ اٹھانا ہی نہیں آتا۔ مغرب زدہ معاشرے سے متاثرہونے کا انجام بہت سنگین ہے۔ ہمیں اس وقت سے ڈرنا چاہیے جب ہماری نسل ہمارے سامنے زنانہ و مردانہ مسائل کو عام گفتگو کا حصہ بنائے گی اور ہم ’’دلی دوراست‘‘ کہتے رہ جائیں گے۔


یہ بھی ملاحظہ کیجئے:
کیا مرد بھی ’می ٹو‘ Me Too کہہ سکتے ہیں؟ — سمیع کالیا

جنسی ہراسانی میں لڑکیوں کا کردار — محمودفیاض

جنسی ہراسانی: مذہب کا اخلاقی و قانونی زاویہ نظر — عمار خان ناصر

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: