جمہوریت: منظم اقلیت کی حکمرانی؟ — داود ظفر ندیم

0
  • 42
    Shares

جمہوریت ایک موثر اور منظم اقلیت کی حکمرانی کا نام ہے جو لوگوں کی ایک فیصلہ کن تعداد کا رحجان اپنی حمایت میں کر سکے۔ پاکستان میں موجودہ جمہوریت پنجاب کے صنعتکاروں، تاجروں اور پراپرٹی ڈیلروں کے ہاتھوں یرغمال بن چکی ہے۔ ویسے تو یہ کام پہلے سے شروع ہوچکا تھا مگر جنرل ضیا کے دور میں ایسے ادارے تشکیل دیئے گئے کہ پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی، تجارتی پراپرٹی ڈیلر گروپ عسکری شعبے میں آگیا۔ پنجاب کے صنعت کاروں، تاجروں اور پراپرٹی ڈیلروں پر مشتمل ایک سیاسی جماعت تشکیل دی گئی جو ایک جونیئر پارٹنر کے طور پر سامنے آئی، مگر وقت کے ساتھ اس سیاسی جماعت نے ملک کے دوسرے اداروں کو زیر کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔ یوں لگنے لگا کہ پورے ملک میں عموما اور پنجاب میں خصوصا صنعتکاروں، تاجروں اور پراپرٹی ڈیلروں کے ایک گروپ نے سرکاری اور غیر سرکاری شعبوں پر تسلط قائم کر لیا ہے۔

پاکستان میں موجودہ سول ملٹری کشمکش کا آغاز اس وقت ہوا جب صنعتکاروں، تاجروں اور پراپرٹی ڈیلروں کے اس گروپ نے اپنے بڑے پارٹنر کو بھی سول بالادستی کے نام پر اپنے تسلط میں لانے کی کوشش کی۔ ظاہر ہے بڑے پارٹنر کو یہ قابل قبول نہیں تھا پہلے ان لوگوں کو مختلف حوالے سے مختلف طریقوں سے سمجھانے کی کوشش کی گئی مگر دس سالوں کی جلاوطنی کے بعد واپسی نے ان کے حوصلوں میں اضافہ کیا اور یہ لوگ قائل ہوگئے کہ سول بالادستی کا مطلب ان کی مکمل بالادستی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ عام عوام کیوں ساتھ دیں، ان کے پاس دولت اور طاقت اپنے مخصوص حلقے میں مرتکز کرنے کے علاوہ کوئی ایجنڈا نہیں۔ یہ ریاستی اداروں کو اپنے کاروباری مقاصد کے لئے استعمال کرنا جائز اور درست سمجھتے ہیں۔

نصابی دور پر یہ بات درست ہے کہ کسی عسکری یا سرکاری ادارے کو تجارتی یا کاروباری مقاصد میں شریک نہیں ہونا چاہیے مگر اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ایسی سیاسی جماعت تشکیل ہو جس کی قوت مرذور یونینز، کسانوں کی تنظیمیں، اور نجی شعبوں میں کام کرنے والے نچلے مڈل کلاس طبقے کے لوگ ہوں۔

جب تک جمہوریت میں مرذور، کسان اور نچلے مڈل کلاس طبقے کے لوگ شامل نہیں ہوتے جمہوریت محض صنعت کاروں ور تاجروں کی لونڈی ہے اور یہ مقتدر گروپوں کی باہمی کشمکش ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: