عالمی ادب کی فروزاں قندیلیں۔ نعیم الرحمٰن

0
  • 18
    Shares

سلمیٰ اعوان اردو کی ہمہ جہت مصنفہ ہیں۔ وہ نصف صدی سے اردو ادب کا دامن ناول، افسانے، سفرنامے اور کالم تحریر کر کے بھر رہی ہیں۔ ادب کی یہ تمام اصناف ان کے قلم کی جولانیوں کے روشن حوالے ہیں۔ جن میں وہ اپنے منفرد اسلوب کے ذریعے قارئین کو خوش گوار حیرت اور تازہ علم سے مالامال کرتی ہیں۔ سلمیٰ اعوان کی تحریروں میں المیہ مشرقی پاکستان پر زندہ جاوید ناول ’’تنہا‘‘ فلسطین کے حقائق سے قاری کو روشناس کرانے والا ناول ’’لہو رنگ فلسطین‘‘ انیس سو پینسٹھ کی جنگ کے پس منظر میں ناول ’’ثاقب‘‘، اس کے علاوہ ’’ گھر وندا اک ریت کا‘‘ ، ’’زرغونہ‘‘ اور ’’شیبہ‘‘ افسانوی مجموعوں میں ’’بیچ بچولن‘‘، ’’کہانیاں دنیاکی‘‘، ’’خوابوں کے رنگ‘‘، ’’برف میں دھنسی عورت کچھ کہتی ہے‘‘ اور ’’ذرا سنو تو فسا نہ میرا‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے خوبصورت سفرناموں ’’سندرچترال‘‘۔ ’’میراگلگت وہنزہ‘‘ اور ’’یہ میرا بلتستان‘‘ کے ذریعے قارئین کو پاکستان کے شمالی علاقاجات کے حسن اور دلکشی سے متعارف کرایا۔

سلمیٰ اعوان کے بین الاقوامی سفرناموں میں ’’مصر میرا خواب‘‘، ’’روس کی ایک جھلک‘‘، ’’عراق اشک بار ہیں ہم‘‘، ’’استنبول کہ عالم میں منتخب‘‘، ’’سیلون کے ساحل‘‘، ’’ہند کے میدان‘‘ اور ’’اٹلی ہے دیکھنے کی چیز‘‘ شامل ہیں۔ اور قارئین کو ان تمام ملکوں کی ثقافت، تاریخ، تہذیب اور خوبصورتیوں سے آشنا کرتی ہیں۔ ان کے کالموں کا مجموعہ ’’باتیں دنیا اور دل کی‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ سلمیٰ اعوان کے کتاب ’’عالمی ادب کی فروزاں قندیلیں‘‘ ہے۔ جو دنیا کی متنوع علمی اور ادبی شخصیات کو اردو قاری سے متعارف کراتی ہے۔ اور قاری کی امید کی لَو کو روشن کرتی ہے۔ جس کی ضرورت آج ہر انسان کو ہے۔

کتاب میں سلمیٰ اعوان نے ماضی وحال کی سولہ بین الاقوامی شہرت یافتہ شخصیات کے بارے میں تاثراتی مضامین پیش کئے ہیں۔ جن کا آغاز شام اور دنیا عرب کی طاقتور، توانا، انقلابی، سیاسی اور رومانوی آواز ’’نزارقبانی‘‘ اور شام ہی کی حساس، منفرد اور نئی سوچ کی حامل شاعرہ، کہانی نویس اور ترجمہ نگار ’’موناعمیدی‘‘ سے کیا ہے۔ شام کی موجودہ کشیدہ صورتحال، انسانوں کی بے بسی اور حکمرانوں کی بے حسی کے پس منظر میں شام کی ان دو توانا آوازوں کے بارے میں قاری کے علم ہی میں اضافہ نہیں ہوتا۔ وہ بہت کچھ سوچنے پرمجبوربھی ہو جاتاہے ۔ شام کی ثقافت اور تہذیب سے شناسائی اور اس کے مٹنے کا غم بھی بڑھ جاتا ہے۔ نزار قبانی کی تمام کتب کو مصری حکومت نے بین کر دیا تھا۔ وہ تمام نظمیں جو ام ِکلثوم نے گائی تھیں، جلا دی گئیں۔ شاعر کے مصر میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی۔ مگر شاعر کو کچھ پروا نہیں تھی۔ وہ نشتر چلانے کے ساتھ مایوس لوگوں کے زخموں پر پھاہے رکھ رہا تھا۔ آج یہ پابندیاں لگانے والا جمال عبدالناصر کہاں ہے اور نزار قبانی کا کیا مقام ہے۔ امریکی ماں اور شامی باپ کے گھر انیس سو باسٹھ میں دمشق میں پیدا ہونے والی ’’موناعمیدی‘‘ کے بارے میں بھی بہت کچھ جاننے کا موقع اس کتاب سے ملتا ہے۔ مونا عمیدی نے امریکی ماں کی بیٹی ہوتے ہوئے بھی دمشق نہیں چھوڑا۔ شام جیسے تہذیبی وثقافتی ورثے سے لبالب بھرے ملک کو اب کھنڈر بنتے دیکھنا بڑا کٹھن کام ہے۔ مگر مونا عمیدی لفظوں کے سہارے یہ کام کر رہی ہیں۔ جنگوں کے المیے انسانی جذبات و احساسات کی پوشیدہ پرتوں کو بھی بیدار کر دیتے ہیں۔ سلمٰی اعوان سے ایک ای میل میں مونا عمیدی لکھتی ہیں۔ ’’اس عقل کے اندھے بشار کو کون سمجھائے کہ سیاسی مخالفت کامطلب ہتھیاروں کو اٹھانا نہیں ہوتا۔ سیریا کا جھگڑا پرامن احتجاج کے طور پر شروع ہوا تھا۔ اسے لڑائی میں کیوں بدلنے دیا؟ احمق مغرب کی چالوں کو نہیں سمجھتا۔ جانتی ہو کتنے لوگ مارے گئے۔ ایک لاکھ سے زیادہ اور دربدری کا المیہ تم دیکھتی ہی ہو گی‘‘۔

اگلی چار شخصیات روسی ادب سے متعلق ہیں۔ جن میں نوبل انعام یافتہ ناول نگار، شاعر، موسیقار اور ترجمہ نگار ’’بورس پاسترک‘‘ روس کا قومی شاعر ’’الیکزنڈرسرگیووچ پشکن‘‘، روسی ادب کی بلندقامت ہستی ’’لیوٹالسٹائی اور صوفیہ ٹالسٹائی‘‘ روس کا عظیم ناول نگار ’’دوستووسکی اور اینا دوستووسکی‘‘ شامل ہیں۔ ڈاکٹر ژواگو جیسے شہرہ آفاق ناول کے خالق بورس پاسترک کے بارے میں کچھ نئے گوشے سامنے آئے۔ ناول کے خلاف مسلسل مہم چلانے کے باوجود ڈاکٹر ژواگو غیر کمیونسٹ دنیا میں اپنی اشاعت پر بےحد سنسنی خیز واقعہ ثابت ہوئی۔ اسرائیلی ریاست میں بھی اس ناول پر سخت تنقید کی گئی۔ یہودیوں سے متعلق اس کے خیالات و نظریات کھرے، سچے اور متاثرکن تھے۔ ذاتی اور سماجی رویوں سے حاصل ہونے والے تجربات اور مشاہدات نے اُس کی شاعری کو بےحد توانا اور مقبول بنا دیا۔ فطرت اس کی نظموں میں بارش اور برف کے راستوں سے داخل ہوتی ہے۔ روسی کمیونسٹ حکومت نے اس کی شاعری کو زندہ درگور کر دیا۔ کمیونسٹ انقلاب میں ’’منزل انہیں ملی جو شریکِ سفرنہ تھے‘‘۔ لیکن پاسترک آج بھی زندہ ہے۔ پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہو کر اذیتیں سہتا، اپنے دکھوں پر کڑھتا وہ تیس مئی انیس سو ساٹھ کو ڈاچا میں انتقال کر گیا۔

انیس ویں صدی کے عظیم روسی شاعر اور نثر نگار پشکن پر سلمیٰ اعوان کے مضمون کا بھی جواب نہیں ہے۔ رزمیہ شاعری کے منظوم ناول اور طویل بیانیہ نظم ’’رُسلان اورلُدمیلا‘‘ نے روسی شاعری کو نئے رنگ و آہنگ سے سجا کر دنیا کی ترقی یافتہ شاعری کے مقابلے پر کھڑا کر دیا تھا۔ کیٹس کی مانند وہ بھی تھوڑی عمر لکھوا کر لایا تھا۔ ایک ڈوئل میں پشکن شدید زخمی ہوا۔ لوگ اٹھا کر اسے گھر لائے۔ پورا پیٹرزبرگ اس کے گھر پر ٹوٹ پڑا تھا۔ لوگ مشتعل تھے۔ گلیوں اور سڑکوں پر ماتم کی کیفیت تھی۔ اس کی موت کی خبر دو دن تک چھپائی گئی۔ پھر بھی ہجوم اتنا بپھرا ہوا تھا کہ اس کی تدفین آدھی رات کو اس کی ماں کے پہلو میں کی گئی۔

سلمٰی اعوان کا روس کے سفر میں ان عظیم ادیبوں کی یادگاروں پر جانے کا بیان قاری کو ان کی تحریر سے جوڑے رکھتا ہے۔ ’’جنگ اور امن‘‘ اور ’’ایناکرینیا‘‘ جیسے شاہکار اور لازوال ناولوں کے خالق لیوٹالسٹائی اور صوفیہ ٹالسٹائی پر سلمٰی اعوان کا مضمون بھی قابلِ داد ہے۔ اپنے وقت کے بڑے ناولوں اور ناول نگاروں کا اعتراف کرنے سے ٹالسٹائی ہمیشہ منکر رہا۔ اس کا کہنا ہے کہ اینا کرینیاہی میرا پہلا سچا اور کھرا ناول ہے۔ جب مصنف اپنے دور کی معاشرتی خرابیوں کو موضوع بناتا ہے تو جاذبیت بڑھ جاتی ہے۔ اس ناول نے روسی معاشرے میں پھیلے منافقانہ رویوں، ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کی عادتوں، حسد اور بغض بھرے جذبوں کی بڑی کھل کر عکاسی ناول میں کی گئی ہے۔ سات نومبر دو ہزار دس کی سردہڈیوں کا گودا جماتی رات تھی۔ جب بیاسی سالہ ٹالسٹائی نے ڈرامائی فیصلہ کیا۔ آدھی رات کو اس نے کسی کو بتائے بغیر اپنا آرام دہ گھر اور اسٹیٹ چھوڑ دی۔ چھتیس گھنٹے سفر کے بعد وہ اپنی بہن ماریا کے پاس پہنچا۔ یہیں وہ کوئی ہٹ لیکر بقیہ زندگی گزارنے کا متمنی تھا۔ لیکن اسے وہاں ٹکنا نصیب نہ ہوا۔ اسے مجبور کیا گیا کہ وہ کاکیشیا جانے والی گاڑی میں سوار ہوا۔ اس کی کمزورصحت اسے برداشت نہ کرسکی ۔ دور افتادہ اسٹیشن پر اسٹیشن ماسٹر نے اس کے لئے اپنے گھر کے دروازے کھولے۔ یہ بیس نومبر تھا جب اس نے دنیا کو الوداع کہا۔ اس کے خیال میں دنیا میں محبت قسم کی کوئی چیز نہیں ہے۔ عظیم ٹالسٹائی کی دور افتادہ ریلوے اسٹیشن پر گمنامی کی موت کا ذکر مصنفہ کے ساتھ پڑھنے والے کی آنکھیں بھی پرنم کر دیتی ہیں۔

دوستووسکی ہر دور کا عظیم ناول نگار ہے۔ ادب کا کونسا قاری ہو گا۔ جس نے دوستووسکی کو نہ پڑھا ہو۔ دوستووسکی کہتا ہے کہ میں اپنے بارے میں پرُامید ہوں ۔ انسان ایک سربستہ راز ہے اور اسے کھولنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ پورفوک میں اس کا ہیرو کوئی رومانوی کردار نہیں ہے۔ بلکہ معاشرے کا ستم رسیدہ غیر اہم ایک کلرک ہے۔ انسان کے اندر کی سچائی کی تلاش کو اس نے اپنی تحریر کا منتہا قرار دیا۔ اومسک جیل میں چارسالہ قید بامشقت نے اسے اتنی تکلیف نہیں دی جتنی قلم کاغذ اس سے چھننے پر ہوئی۔ اس نے کہا کہ ’’اگر مجھے لکھنے نہ دیا گیا تو میں مر جاؤں گا۔

کاغذ اور قلم کے ساتھ پندرہ برس کی جیل بھی بخوشی کاٹنے کو تیار ہوں۔ ‘‘جیل کی بیرکوں میں یہ چارسال اس نے چوروں ، ڈاکوؤں اور قاتلوں کے ساتھ گزارے۔ ان کرداروں میں جو گہرائی، توانائی اور خوبصورتی اس نے دیکھی، وہ یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ ’’یہ تو بدصورت سیپیوں میں بند وہ سونا ہے۔ جن کی دریافت میں نہ مجھے اپنے برسوں کے ضائع ہونے کا اور نہ کاغذ قلم چھن جانے کا دکھ ہوا۔ میں نے ان حیرت انگیز لوگوں کو باریک بینی اور سچائی سے پڑھنے اور ان کے کرداروں کی بے شمار جہتوں کو پرکھنے کی کوشش کی ہے۔ یہ میرے لئے بہت بڑا اثاثہ ہے۔ میں روس کو نہیں روسی لوگوں کو ضرور جان گیا ہوں۔ اٹھائیس جنوری اٹھارہ سو اٹھاسی کو یہ عظیم لکھاری دنیا سے رخصت ہو گیا۔

مولانا جلال الدین رومی کے بارے میں مضمون ’’ترکی کاہیرا‘‘ کتاب کا حاصل ہے۔ وہ شاعرکیسے بنے۔ ان کی شاعری اور ان کے کلام میں سوز و درد، جلنے ، تڑپنے اور عرآہ و فغاں کی کیفیت کیسے پیدا ہوئیں؟ وہ تاس منزل کے مسافر ہی نہیں تھے۔ مثنوی معنوی کے نام سے دنیا بھر میں مشہور ’’مثنوی کے عظیم خالق مولانا روم اور شمس تبریزی جیسے مجذوب کا ان کی زندگی میں داخل ہونا گویا دیوانِ شمس تبریز اورمثنوی معنوی کو وجود میں لانے کا ایک خدائی اظہار تھا۔ شمس تبریز نہ ہوتے تو مولانا سب کچھ ہوتے، قرآن کو سینے میں سمونے والے حافظ، فقہ و حدیث، شریعت، طریقت میں درجہ کمال کو پہنچے ہوئے۔ اور استاد ایسے کہ چلتے چلتے بھی حکمت و دانائی کے موتی راستوں پربکھیرتے جائیں۔ پر شاعری کا تو کہیں دور دور تک سان وگمان تک نہ تھا۔ ترکی کا رقصِ درویشاں دراصل کیا ہے۔ یہ اپنے ہرعمل ، اپنی ہر چھوٹی سے چھوٹی حرکت سے خدائی محبت اور اس تک پہنچنے کے روحانی سفر کی ایک دلآویز تمثیل ہے۔ مولانارومی نے تلاش کرنے والوں کو دل کی خوب صورتی، سچ کی خوب صورتی اورانسانیت کی خوب صورتی کی نوید دی۔ دل کو چھولینے والی تحریرہے۔

دیگرمضامین میں ترکی محبوب شاعر ’’یونس ایمرے‘‘ کے حوالے سے سلمٰی اعوان لکھتی ہیں۔ ہماری نئی نسلیں اُن عظیم شاعروں ، ادیبوں اورفن کاروں کے بارے میں کچھ نہیں جانتی ، جنہیں ہم ترجمہ نہیں کرسکے۔ یونس ایمرے کے ہاں ذریعہ اظہار دیہی علاقوں میں بولی جانے والی ترکی زبان تھی۔ شاید اسی لئے وہ ایک عوامی شاعر ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’’دینِ حق سر میں ہے۔ سر پر رکھی جانے والی پگڑیوں اور دستاروں میں نہیں۔ ‘‘

برصغیر کا نوبل انعام یافتہ شاعر، موسیقار اورڈرامہ نگار’’رابندرناتھ ٹیگور‘‘ ایک عظیم اورلافانی شخصیت جن کی شاعری، مصوری، افسانہ ، ناول ڈرامہ ، موسیقی، مقالہ نویسی غرض کون سی صنف ایسی تھی جس کے وہ شہسوار نہ تھے۔ اپنے والدکی طرح ٹیگوربھی حافظ شیرازی اورمولانا رومی سے بہت متاثر تھے۔ ان کی شاعری میں بھی اس کااظہارہواہے۔ ٹیگورکی ذات مذہب، قوم وملت، فرقہ بندی کی بندشوں کوتوڑتی اورانسان کوانسان سے جوڑنے کی ترغیب دیتی ہے۔ گیتانجلی ٹیگورکالافانی شاہکارہے۔ ٹیگورفطرتاًلاپرواتھے۔ تخلیقی عمل سے فارغ ہوتے توسارے سریرمیں کاہلی اورسستی درآتی۔ بھول جاتے کہ جو کچھ تخلیق ہوا اور لکھا گیا ہے، اسے سنبھالنا بھی ہے۔ تا ہم یہ مرینا دیوی تھی۔ جن  کی چھوٹی سے چھوٹی تحریر کو طریقے سلیقے سے سبھالتی تھی۔ ٹیگور کے ادب کا قارئین تک پہنچنے میں مرینا دیوی کا بھی بڑا اہم کردار ہے۔ ٹیگور نے مرینا کو جتنے خط لکھے۔ اس نے جی جان سے ان کی حفاظت کی۔ شوہرکوس کے اپنے لکھے ہوئے خطوط کا شمار آج ادبی نقطہ نظر سے کیا جا رہا ہے۔ کیسا انوکھا شاعر تھا جسے رکشہ چلانے والا اور پتھر کوٹنے والا اگر گاتا تھا تو وہیں حکمرانوں کی آنکھوں کا بھی تارہ تھا۔

سری لنکا کا شاعر، موسیقار اور براڈکاسٹر ’’کرونیرتن ابی سکارا‘‘ پرمضمون بھی کمال کا ہے۔ کروشا عرہی نہیں، بہترین گلوکار، بہتراناؤنسر، ڈیبیٹر، میوزک کمپوزر، کرکٹ کمنٹیٹر، ڈرامہ اور اسٹوری رائٹر کے طور پر بھی بہت کامیاب تھا۔ عراق کا مایہ ناز انقلابی شاعر ’’سعدی یوسف‘‘ کی شاعری عراق کی سیاسی وآمرانہ سچائی اورعالمی طاقتوں کے مکارانہ اور جابرانہ رویوں کی بے باکی سے عکاسی کرتی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں دنیا کا شہری ہوں مگر میری اپنی کوئی سرزمین نہیں ہے۔ ہم اہل عراق اس دھرتی کی تاریخ کے وارث ہیں۔ ہمیں اپنی بانس کی معمولی چھت پر فخر ہے۔ عراق کے عظیم کلاسیکی شاعر ’’ابونواس‘‘ ہمارے عہد کے مفکر، دانشور، شاعر اور ادیب سے زیادہ لبرل تھے۔ نویں صدی کی عرب عورتوں کی روشن خیالی اوردانش وری آج کی عورت کیلئے قابلِ تقلید ہے۔ عظیم مصنف، دلیر سیاح اور بانی عراق ’’جرٹروڈبیل‘‘ روم کا عظیم شاعر ’’کیٹس‘‘ اٹلی کا پہلا نوبل ایوارڈ یافتہ شاعر، نثرنگار اور تنقیدنگار گوزیو کاردوسی اور فلسطین کے انسانیت کا پیغمبر کہلانے والے ’’محموددرویش‘‘ پر مضامین بھی پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔
عالمی ادب کی فروزاں قندیلیں ایسی کتاب ہے۔ جسے ہر باذوق قاری کے پاس ہوناچاہئے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: