دیوانگی ——– (قسط 3) — عارفہ رانا

0
  • 24
    Shares

اس کہانی کا پچھلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں

جس روز کیس کی فائل وکیل صاحب کے دفتر آئی اسی روز انہوں نے رشید کو بلوا کر ساری ضروری معلومات لے لیں۔ اور اگلے روز وہ جا کر رشید کے ہمراہ وارث سے ملاقات بھی کر آئے۔ اور اس تک یہ خبر بھی پہنچا آئے کہ چند روز میں خوش نصیب کی شادی ندیم کے ساتھ ہونے جا رہی ہے۔ جو کچھ بھی خوش نصیب کے ساتھ ہوا، اس کو بھلا کر ندیم اللہ کی خوشنودی کے لیے اس کو اپنانے کو تیار تھا۔ اور اس بات پر نور محمد بڑا خوش تھا کہ اس کی بیٹی کسی کھاتے پیتے گھرانے میں جا رہی ہے۔ مگر خوش نصیب اس پر راضی تھی یا نہیں یہ معلوم نہ تھا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کیس چلتے ہوئے قریباً چھے ماہ ہو چلے تھے۔ مگر اب تک جو بات سامنے آئی تھی وہ یہ تھی کہ وارث نے یہ قدم رشتے سے انکار کے نتیجے میں اٹھایا۔ اس صورت میں اس کی سزا لازمی تھی۔ ایڈووکیٹ بیگ وارث کی فائیل کھولے سامنے بیٹھے تھے۔ ان کی نظریں رشید کے آزردہ چہرے پر تھیں۔ اب کیس فیصلے کے نہائیت قریب تھا۔ اور اس کا نتیجہ عمر قید کی صورت نکلنا تھا۔ اچانک رشید کمزور اور اداس لہجے میں بولا ’’ ہن تک تو ان کے بچہ بھی ہو گیا وکیل صاب اور میرا بچہ رل گیا‘‘۔ بیگ صاحب چونک کر سیدھے ہوئے اور حیرت سے پوچھا ’’کب‘‘؟
’’صاب پرسوں شام کو۔ کہتے ہیں اللہ نے بڑا سوہنا پتر دیا ہے۔ نور محمد بڑا خوش ہے۔ لیکن اس کی گھر والی نہیں۔ لیکن زنانی کو کون پوچھتا ہے۔ وہ تو پہلے بھی وارث کے رشتے کے لیے راضی تھی۔ پر اللہ کو جو منظور۔‘‘ اس نے یاسیت بھرے لہجے میں کہا۔ بیگ صاحب نے اسی وقت اپنے ایسوایٹ کو اندر بلوایا اور DNA کے ٹیسٹ کے لیے درخواست تیار کرنے کو کہا۔ کل کی پیشی پر یہ درخواست دی جانا لازمی تھی۔ پھر رشید کو مخاطب ہو کر کہا۔ ’’آپ گھر جائیں۔ اگر وہ کل مٹھائی بانٹ رہے تھے۔ تواگلے ماہ اسی د ن تک آپ مٹھائی کا انتظام کر کے رکھنا۔ فیس تو آپ سے لی نہیں مٹھائی لازمی کھائوں گا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ دفتر سے باہر نکل گئے۔ اور رشید نا سمجھی کی کیفیت میں ان کو پیچھے سے تکتا رہ گیا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اگلے روز پیشی پر مخالف وکیل نے اس درخواست کو صرف سزا کو لیٹ کرانے کا طریقہ قرار دیا۔ جبکہ جج صاحب نے دلائل سننے کے بعد درخواست کو منظور کر لیا تھا۔ علاوہ ازیں سیمپل کس بورڈ کو بھیجے جایئں گے یہ بھی خفیہ رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ کیونکہ اصل اعتراض ڈی این اے ٹیسٹ پر ہی اٹھایا گیا تھا۔ اب بیگ صاحب کو صرف اور صرف رپورٹ کا انتظار تھا۔ اور پیشی کے روز کا انتظار۔

مقررہ روز پر رپورٹ آنے کے بعد کیس کا نتیجہ وہی ہوا جو بیگ صاحب نے سوچا تھا۔ انہوں نے اپنے ایسوسی ایٹ کے ذمہ رہائی کی ضروری کاروائی لگائی۔ خود رشید کو ہمراہ لیے واپس دفتر آ گئے۔ رشید جو اس سارے کیس کو اپنی کم علمی کی وجہ سے یہ جاننے سے قاصر تھا۔ ان کے آفس میں بیٹھتے ہی پوچھ بیٹھا کہ یہ سب کیسے ہوا؟

’’ارے رشید میاں آپ مٹھائی کھلائو پھر بتاتا ہوں۔ ‘‘ بیگ صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔ پھر گویا ہوئے۔ ’’دیکھو جس روز تم نے مجھے بتایا تھا اس روز وارث کی گرفتاری کو چھ ماہ دس دن ہو چکے تھے۔ اگر یہ بچہ وارث کاہوتا تو چھ ماہ میں پیدا نہیں ہوتا۔ کیونکہ جس دن زیادتی رپورٹ ہوئی تب سے اب تک چھ ماہ سے کچھ اوپر دن ہوئے ہیں۔ میں نے خوش نصیب اور ندیم کے کالز ریکارڈ پولیس کی مدد سے نکلوائے۔ جس سے ان کا تعلق ثابت ہو گیا۔ جو کہ پچھلے ایک سال سے زائد سے چل رہا تھا۔ اس سے مجھے کنفرم ہو گیا کہ بچہ ندیم کا ہی ہے وارث صرف الزام سہہ رہا ہے۔ محبت کا الزام۔ ‘‘ بیگ صاحب سانس لینے کو رکے۔

’’صاب وارث واقعی بہت چاہتا تھا نصیبو کو۔ اسی لیے میں نے رشتہ ڈال دیا تھا۔ پر اس کا باپ راضی نہیں تھا۔‘‘ رشید نے ان کو بتایا۔
’’جانتا ہوں رشید۔ وہ خود بھی خوش نصیب کا رشتہ ندیم سے کرنا چاہتا تھا۔ مگر یہ سب وہ بھی نہیں جانتا کہ وارث کو پھنسایا گیا ہے۔ بس اس واقعہ کے بعد اس کو اپنی بات منوانے کا موقع مل گیا۔ اس روز خوش نصیب نے وارث کو بلایا تھا۔ وہ ندیم کے بچے کی ماں بننے والی تھی۔ اس سے پہلے دنیا اس کو گناہ گار سمجھتی اس نے اپنا گناہ ندیم کی ملی بھگت سے مل کر وارث کے سر ڈال دیا۔ اور صرف اس کو بدنامی سے بچانے کے لیے اپنا جرم قبول کر گیا۔ ‘‘ بیگ صاحب نے تفصیل بتائی۔
’’لیکن صاحب وہ سرکاری ڈاکٹر نے بھی کہا تھا نا کہ زیادتی ہوئی ہے۔ پھر وارث کیسے انکار کرتا۔‘‘ رشید نے سوال کیا۔
’’دیکھو رشید ہمارا سسٹم پیسے کا غلام بن گیا ہے۔ جس کے پاس پیسہ ہے وہ ہر الزام سے بری الذمہ ہے۔ ندیم چونکہ پیسے والا تھا۔ ویسے بھی یہ سب اس کا پلان تھا۔ اس نے ڈاکٹر کو پہلے سے ہی اعتماد میں لے لیا۔‘‘ بیگ صاحب نے مختصراً بتایا۔
’’صاب ایک آخری سوال پوچھوں؟‘‘ رشید نے کچھ دیر کی خاموشی کے بعد پوچھا۔
’’ہاں ہاں کیوں نہیں۔ آخری کیوں۔ تم کچھ بھی جو سمجھ نہیں آ رہا پوچھ سکتے ہو۔‘‘ بیگ صاحب اس کی طرف دوبارہ متوجہ ہوئے۔
’’صاب آپ نے کہا کہ سب کام پیسے سے ہوتے ہیں۔ تو آپ نے پیسے کیوں نہیں لیے۔‘‘ رشید نے وہ سوال آخر دہرا ہی دیا جو اس کے ذہن میں تب سے تھا جب سے وہ پہلی دفعہ ایڈوکیٹ اسد بیگ سے ملتے ہوئے ذہن میں آیا تھا۔

اس کے سوال پر بیگ صاحب زیر لب مسکرائے۔ اور بولے’’دیکھو رشید۔ قانون سب کا خیال رکھتا ہے۔ ہم اس کا خیال نہیں رکھتے۔ میں مانتا ہوں کہ عدلیہ کے سسٹم میں تھوڑی سی خرابی ہے۔ اس کو مزید بہتر ہونے کی ضرورت ہے۔ اور ہم نے ہی مل کر بہتر کرنا ہے۔ رہی پیسوں کی بات، تو تم سے کس نے کہا کہ مجھے اس کیس کے پیسے نہیں ملے۔‘‘ بیگ صاحب مسکرائے۔ رشید نے الجھ کر ان کو دیکھا۔

؎’’جو تم جیسے لوگ ہوتے ہیں نا۔ غریب مگر سچے۔ ان کو قانون ایک سہولت دیتا ہے۔ وہ یہ کہ ان کا وکیل عدالت مقرر کر دے۔ کیوںکہ قانون کے مطابق الزام علیہ اور ملزم دونوں کا وکیل ہونا اور ان کواپنا آپ سچا ثابت کرنے کا موقع ضرور ملنا چاہیے۔ ورنہ ٹھیک سے انصاف نہیں ہو پائے گا۔ تمہارے کیس میں بھی ایسا ہی تھا۔ اتفاق سے اس کورٹ کی لسٹ میں میرا نام موجود تھا۔ اس لیے میں نے تمہاری مجبوری دیکھتے ہوئے کیس اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اور مجھے اس کیس کی فیس بھی مل چکی ہی۔‘‘ انہوں نے اس کو تفصیلی جواب دیا۔ ’’اب تم گھر جائو۔ کل تک وارث بھی آجائے گا۔‘‘ انہوں نے یہ کہہ کر مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ رشید مصافحے کے بعد مطمئن دل لیے وہاں سے اٹھ آیا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
وارث رہائی کے بعد بہت خاموش رہنے لگا تھا۔ چپ چاپ کام پر جاتا تھا واپس آ جاتا تھا۔ پہلے بھی کم بولتا تھا مگر اب تو بالکل ہی اس کے منہ پر چپ کے تالے تھے۔ خوش نصیب یا ندیم سے اس کا اکثر سامنا ہوتا رہتا تھا۔ مگر وہ ایک خاموش نگاہ ڈال کر آگے بڑھ جاتا تھا۔ وہ خوش نصیب سے پوچھنا چاہتا تھا کہ اس نے اس کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ اگر اس کو ندیم پسند تھا۔ وہ ایک مرتبہ بتاتی تو سہی۔ وہ خود نور محمد اور برکت بی بی سے بات کرتا۔ اس کے چائے کے کھوکھے پر کسی نے یہ بھی بتایا تھا کہ ندیم کا کسی اور کے ساتھ شادی کا ارادہ ہے۔ جس روز سے اس نے یہ سنا تھا اس کے دل میں خوش نصیب سے بات کرنے کی خواہش مزید بڑھ گئی تھی۔

آم کا موسم آ گیا تھا۔ بور پھلوں میں بدل گیا تھا۔ ایک روز اس نے آم کے باغ کی پگڈنڈی کی جانب نصیبو کو جاتے دیکھا تو نہ چاہتے ہوئے اس کے قدم اس کے پیچھے بڑھ گئے۔ وہ باغ میں اپنی مرضی کے پھل توڑ رہی تھی۔ کہ اچانک اس نے باغ کی دیوار کے پیچھے ایک مرد اور عورت کی آواز سنی۔ تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ وہاں پہنچی تو اس نے ایسا منظر دیکھا کہ اس کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ وہاں اس دیوار کے پیچھے ندیم کسی اور عورت کے ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اس کو مستقبل کے خواب دکھا رہا تھا۔ خوش نصیب اس انداز سے کھڑی تھی کہ ندیم یا وہ عورت اس کو نہ دیکھ پائی۔ وہ الٹے قدموں بھاگی۔ اچانک ٹھوکر لگی اور وہ نیچے گر گئی۔ ایک مظبوط مردانہ ہاتھ اس کو سہارا دینے کو اس کی جانب بڑھا۔ اس نے نظر اٹھا کر دیکھا تو وہ وارث تھا۔ وہ اس کے ہاتھ کا سہارا لیے بنا اٹھی۔ اس سے قبل وہ جانے کے لیے پلٹتی وارث کی آواز نے اس کو روک لیا۔

’’نصیبو۔ شائد تو نے آج یہ نظارہ پہلی دفعہ دیکھا ہے۔ لیکن میں کئی بار دیکھ چکا ہوں۔ ہر بار ایک نئی عورت کے ساتھ۔ مگر مجھے ذرا بھی احساس ہوتا کہ تو اس کو پسند کرتی ہے تو میں اس کی اصلیت تیرے سامنے لے آتا۔ مگر تو اعتبار نہ کرتی مجھ پر کبھی بھی۔ شک تو مجھے تب بھی ہوا تھا جب تو حساب کے رجسٹر سے کچھ لکھ رہی تھی۔ وہ یقیناً ندیم کا نمبر ہو گا۔ جو میں نے اس پر لکھا تھا۔ میرے پوچھنے پر تو بات بدل گئی تھی۔ اور میں اس ہی خوش فہمی میں جیتا رہا کہ اگر کچھ ہوتا تو، تو مجھے ضرور بتاتی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ طنزیہ ہنسا۔ مگر وہ خاموشی سے اس کو سن رہی تھی۔ ’’بس تو ایک بار مجھے بتاتی تو سہی۔‘‘ اب کے بار اس کی آواز میں شکوہ تھا۔ وہ یہ کہہ کر چل دیا۔ اور وہ اس کی پیٹھ دیکھتی رہ گئی۔ وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وارث کے شکوے کے پل اس کے لیے بھاری ثابت ہوں گے۔

ان کو باتیں کرتے ہوئے ندیم نے دیکھ لیا تھا۔ کہتے ہیں کہ انسان کو یہی لگتا ہے کہ جو زیادتی وہ کسی کے ساتھ کر رہا ہے وہی دوسرا اس کے ساتھ کر رہا ہے۔ ندیم نے وارث کے ساتھ زیادتی کی تھی۔ مگر وارث نے صرف اتنا کیا کہ اس نے ندیم کے اندر کے شک کے پودے کو پانی دیا۔ ندیم کو لگا کہ جیسے خوش نصیب نے اس کے ساتھ مل کر وارث کو دھوکہ دیا ہے۔ اب کیس ہارنے پر و ہ اپنے آپ کو قذف کے مقدمے سے بچانے کے لیے وارث کے ساتھ مل کر اس کو دھوکہ دے رہی ہے۔ خوش نصیب کی دن والے واقعہ کی باز پُرس نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ جب بات زیادہ بڑھی تو اس نے جوش میں آ کر خوش نصیب کو قتل کر دیا۔ لاش نہر برد کر دی۔

وارث تو دنیا کے سامنے دنیا کی عدالت سے باعزت بری ہو گیا۔ مگر کچھ عدالتیں اندر بھی لگتی ہیں۔ اس رات ندیم جب خوش نصیب کی لاش کو ٹھکانے لگا کر نہر کنارے بیٹھا تھا۔ اس کے اندر بھی عدالت لگی جس نے اس کو مجرم ٹھہرایا۔ اسی لیے وہ صبح ہوتے ہی آلہء قتل کے ہمراہ اپنی گرفتاری دینے آپہنچا تھا۔ ۔ ۔

ختم شد

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: