دیوانگی ——– (قسط 2) — عارفہ رانا

0
  • 56
    Shares

اس کہانی کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے


چند روز بعد ندیم آ کر اپنا کھاتہ کلئیر کروا گیا۔ ۔ اب وہ اکژاس کی دوکان پر آنے لگا تھا۔ دونوں میں کافی بے تکلفی ہو چکی تھی۔ اس دوران کئی بار اس کی نور محمد سے بھی ملاقات ہوئی۔ نور محمد کو وہ بڑا سلجھا ہوا اچھا لڑکا لگا۔ کپاس کا سیزن ختم ہو چکا تھا۔ گندم کی بوائی ہوئے بھی کافی دن ہو چکے تھے۔ مگر ندیم اب بھی آتا جاتا تھا۔ وارث کے پوچھنے پر اس نے کہا کہ یہاں ایک دوست سے ملنے آتا ہوں۔ اسی بہانے تمہاری طرف بھی چکر لگا لیتا ہوں۔ اس طرح وقت گزرتا گیا۔ وارث کے لیے بھی اس کا آنا اب معمول کی بات بن گئی تھی۔ وہ آتا تودیر شام تک اس کے پاس بیٹھتا اور پھر اچانک اٹھ کر چلا جاتا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
نور محمد کا معمول تھا کہ کھیتوں سے واپس لوٹ کر دوکان کو کچھ وقت ضرور دیتا تھا۔ تاکہ دوکان کی ضروریات اور اخراجات کا حساب کتاب رکھ سکے۔ اس روز بھی وہ جیسے ہی کھیتوں سے واپس آکر بیٹھا تو وارث نے اس کو برکت بی بی کا پیغام دیا۔ اس نے جلدی گھر آنے کا کہلا بھیجا تھا۔ وہ وارث کو تھوڑی دیر بعد واپس آنے کا کہہ کر گھر کی جانب چل دیا۔
برکت بی بی برآمدے میں چارپائی پر بیٹھی تھیں۔ پاس ہی خوش نصیب بھی بیٹھی ماں سے باتیں کر رہی تھی۔ جیسے ہی اس کی نظر اپنے باپ پر پڑی، تو وہ ان کو سلام کرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ ۔ نور محمد اس کے سلام کا جواب دیتا ہوا سامنے پڑی کرسی پر بیٹھ گیا۔
’’جا ذرا چاہ بنا کر لا میرے لیے‘‘۔ نور محمد نے خوش نصیب سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔ وہ یہ بات سن کر باورچی خانے کی طرف چل پڑی۔ ۔
’’ہاں بھئی برکت بی بی۔ خیر تے ہے تو نے جلدی آنے کو کہا‘‘۔ نور محمد نے بیوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
’’نور محمد بات یہ ہے کہ اپنی نصیبو اب بڑی ہو گئی ہے‘‘۔ ۔ یہ کہتے ہوئے اس نے خوش نصیب کی طرف دیکھا جو جاتے ہوئے رک کر ان کی باتیں سن رہی تھی۔
’’نی کیا سن رہی ہے۔ جا ابے کے لیے چاہ بنا کر لا‘‘۔ اس نے فورا خوش نصیب کو ڈانٹا۔ جو منہ بنا کر دوبارہ باورچی خانے کی طرف چل دی۔
’’تو کیوں اس کو ڈانٹتی ہے۔‘‘ نور محمد نے بیوی کو گُھرکا۔
’’تو اس کو چھوڑ میری بات سن۔ وارث کا ابا، وارث کے لیے اس کا رشتہ ڈال کے گیا ہے۔ میں سوچتی ہوں دیکھا بھالا ہے۔ یہیں پلا ہے اس کا خیال رکھے گا۔ ‘‘ برکت بی بی نے وہ ضروری بات بتائی جس کے لیے اس نے شوہر کو بلوایا تھا۔
’’دیکھ برکتے وہ ہمارا ملازم ہے۔ اس کی اتنی آمدن نہیں ہے کہ وہ میری دھی کو خوش رکھ سکے۔ میرا نہیں خیال کہ یہ رشتہ ہمیں منظور کرنا چاہیے۔‘‘۔ ۔ نور محمد نے اس کی بات کا جواب دیا۔
’’پر نور محمد۔ ۔ میری اک او اک دھی ہے۔ میرا دل نہیں مانتا کہ اس کو ویاہ کر دور بھیجوں‘‘۔ برکت بی بی نے بے چارگی سے اپنا مسئلہ بتایا۔
’’برکتے اس کا سکھ دیکھ۔ جذباتی نہ ہو۔ ‘‘ نور محمد کی بات سن کر برکت بی بی نے برا سا منہ بنایا۔
’’ایک منڈا ہے میری نظر میں۔ اچھا کھاتا پیتا ہے۔ کاروباری ہے۔ اس کے گھر والوں سے بات کرتا ہوں۔‘‘ نور محمد نے ندیم کے بارے سوچتے ہوئے کہا۔ وہ اس سے باتو ں باتوں میںاس کے اور اس کے خاندان میں کافی معلومات لے لیں تھیں۔
’’ویکھ لے۔ میں بس اس کملی کی بہتری چاہتی ہوں‘‘۔ برکت بی بی نے اپنی بات کے رد کیے جانے سے مایوس ہو کر کہا۔ وہ دل سے وارث کے رشتے کے لیے آمادہ تھی۔ ایک تو وہ اس کو اچھے سے جانتی تھی۔ اور دوسرا خوش نصیب اس سے زیادہ دور نہ ہوتی اس صورت میں۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
نور محمد اپنی مرضی کا مالک تھا۔ اس نے اس کے بعد سے وارث کو دکان سے نکال کر نیا لڑکا رکھ لیا تھا۔ کیونکہ اس کو لگا کہ وارث اس کی بیٹی کی خوشیوں کی راہ میں رکاوٹ بنے گا۔ وارث نے فیکٹری کے پاس اپنی جمع پونجی سے ایک اپنا کھوکھا بنا لیا تھا۔ لیکن پھر بھی وہ برکت بی بی سے ملنے آتا رہتا تھا۔ جب سے نور محمد نے اسے اپنی دکان سے ہٹایا تھا، تب سے ندیم جو اکثر فیکٹری آتا رہتا تھاوارث سے نظر چرا کر گزر جاتا تھا۔
فیکٹری کے سامنے ہی وہ پگڈنڈی تھی جو نمبردار کے باغ کو جاتی تھی۔ وہ اکثر خوش نصیب کو اس رستے سے باغ کو جاتا دیکھا کرتا تھا۔ ایک روز اس کے دل میں نہ جانے کیا آئی۔ وہ خوش نصیب کو جاتا دیکھ کر۔ اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ با غ کے اندر جا کر اس نے پورا باغ گھوم لیا مگر وہ اس کو نظر نہ آئی۔ وارث اس کو اپنا وہم جان کر وہاں سے واپس لوٹ آیا۔ مگر اس کے آنے کے کچھ ہی دیر بعد اس کو خوش نصیب باغ سے نکلتی دکھائی دی۔

کچھ روز بعدوہ ایسے ہی باغ کا چکر لگانے چلا گیا۔ جب وہ باغ کے آخری کونے میں جہاں پرانے درخت ایک جھنڈ کی صورت تھے۔ وہاں پہنچا تو اس نے کچھ باتوں کی آوازیں سنیں۔
’’اب کیا ہو گا۔ اگر ابھی اس کا حل نہ نکالا تو بات باہر نکل جائے گی۔ پھر ابا اور اماں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں گے۔‘‘ ایک زنانہ آواز آئی
’’تو فکر کیوں کرتی ہے۔ اس کا حل میں سوچتا ہوں۔ بس جیسے میں کہتا جائوں ویسے کرتی جانا۔‘‘ ایک مردانہ آواز نے جواب دیا۔ اس سے آگے ا س نے سننے کی کوشش نہ کی۔ وہ وہاں سے واپس لوٹ آیا۔ ویسے بھی وہ کسی کے کام میں کم ہی دخل دیتا تھا۔
چند روز بعد اس کو خوش نصیب نے محلے کے بچے کے ہاتھ پیغام بھجوایا کہ رات کو ان کی جانوروں کی کوٹھی میں آکر ملے۔ وارث یہ سن کر حیران ہوا کہ ایسا کون سا کام ہے جو یہ جگہ اور وقت چنا گیا ہے۔ جو ہونے والا تھا وہ اس کے وہم و گمان میں نہ تھا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
وارث اس رات جانوروں کی کوٹھی میں گیا۔ اچانک اس کو خوش نصیب کی آواز آئی۔
’’وارث رک کیوں گئے۔ آجائو۔ میں وہی ہوں تمہاری نصیبو۔‘‘ وارث ٹھٹھک کر رک گیا۔ اگر اس کی شکل دن کی روشنی میں دیکھی جاتی تو اس پر حیرت بجا نظر آتی۔
’’ خوش نصیب کس لیے بلایا تم نے مجھے یہاں۔‘‘ وارث نے سنبھل کر پوچھا
’’دیکھ نا ابا نہیں مانا مگر میں تیرے بنا اب رہ نہیں سکتی۔‘‘ خوش نصیب نے ایک ادا سے کہا۔ باہر سے آنے والی روشنی خوش نصیب کی کمر کی جانب سے پڑ رہی تھی اس کا چہرہ مکمل اندھیرے میں تھا۔ جبکہ وارث کا چہرہ وہ دیکھ سکتی تھی۔ کیونکہ وہ اس کے سامنے کھڑا تھا۔ خوش نصیب کے کھڑے ہونے کا انداز کچھ ایسا تھا کہ اس کے جسم کے سارے خدوخال واضح ہو رہے تھے۔ وارث نے ایک نظر اس کو دیکھا اور نگاہ نیچی کر لی۔ اس کو لگا کہ وہ اس کے عکس کو بھی غور سے دیکھے گا تو اس کی محبت میں خیانت ہو گی۔
’’ اِدھر اُدھر کی باتیں نہ کر سیدھی بات کر۔ ‘‘ وارث نے پھر سے پوچھا۔

وہ دھیرے ھیرے چلتی ہوئی قریب آرہی تھی۔ وہ اتنا قریب آ چکی تھی کہ اس کے سانس وارث کو چھو رہے تھے۔ اس نے گھبرا کر قدم پیچھے ہٹائے تو وہ کیسی چیز سے ٹھوکر کھا کر گرا۔ گرتے ہوئے لاشعوری طور سے اس نے خوش نصیب کا سہارا لیا۔ وہ بھی اس کے ساتھ ہی اس کے اوپر آ رہی۔ کئی پل ایسے ہی بیت گئے۔ اچانک باہر کا دروازہ کھلا اور نور محمد باہر کی جانب سے آتا دکھائی دیا۔ صرف خوش نصیب جانتی تھی کہ آج کی رات اس کا ابا کھیتوں پر پانی لگانے گیا ہے اور وہ دیر سے آئے گا۔ قدموں کی چاپ سن کر وارث ہڑبڑا کر سیدھا ہوا۔ اور اٹھ کر جانوروںکی کوٹھی جس کا دروازہ باہر کے دروازے کے ساتھ ہی تھا نکل کر باہر کی جانب بھاگا۔ نور محمد نے بھاگتے قدموں کی آواز سنی تو پلٹ کر گلی تک گیا۔ اسے لگا کوئی چور تھا۔ مگر اس کو سایہ وارث کا نظر آیا۔ اس کو سب باتوں پر یقین آسکتا تھا مگر کسی ایسی بات پر نہیں کہ وارث کوئی غلط کام کر سکتا ہے۔ وہ اس کو اپنا وہم سمجھتا ہوا گھر میں داخل ہو گیا۔ اس بات سے بے خبر کہ معاملہ کیا سے کیا ہو گیا تھا۔ اچانک اس کو جانوروں والی کوٹھی کی جانب سے کسی کے سسکنے کی آواز آئی۔ اس نے وہاں جا کرجیسے ہی بلب کا بٹن آن کیا۔ زمین اس کے پیروں کے نیچے سے نکل گئی۔ لٹی پٹی حالت میں خوش نصیب وہاں فرش پر پڑی سسک رہی تھی۔ اس نے بڑھ کر اپنے کندھے سے صافہ (رومال) اتار کر اس کو ڈھانپنے کی کوشش کی۔
’’برکتے تو سو رہی ہے۔ دیکھ کیا ظلم ہو گیا۔ ہم کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہے۔‘‘ اس نے جا کر صحن میں بے خبر سوتی برکت بی بی کو جھنجوڑ دیا۔ وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی۔ جب اس کو صورت حال سمجھ میں آئی تو وہ بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔
’’میں پولیس میں رپورٹ کراتا ہوں۔ اس نمک حرام کی اتنی جرأت کہ وہ ایسی حرکت کرے۔‘‘ نور محمد نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔
مگر برکت بی بی چونکہ ماں تھی۔ اس لیے اس کا ذہن خوش نصیب کے مستقبل پر اٹک گیا۔ کہ اب کیا ہو گا۔ کون کرے گا اس سے شادی۔ کا فی دیر کی خاموشی کے بعد بولی۔
’’ نور محمد۔ ۔ میں تو کہتی ہوں کہ نصیبو کا ویاہ اسی کے ساتھ کر دو۔ پولیس تھانے میں بات گئی تو بیٹی بدنام ہو جائے گی۔ کہیں کے نہیں رہیں گے ہم۔‘‘ نور محمد کو بھی اس کے خدشات درست لگے۔ مگر ان حالات میں بھی وہ خوش نصیب کی شادی وارث سے کرنے کو تیار نہیں تھا۔ اس نے کچھ سوچا اور اس پر ڈٹے رہنے کا فیصلہ کیا۔
’’جو ہو گا دیکھا جائے گا۔ میں تو پہلے بھی اس سے اپنی دھی کے ویاہ کے خلاف تھا۔ اور اب تو بالکل نہیں۔‘‘ نور محمد نے اپنا اٹل فیصلہ سنایا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
صبح ہوتے ہی نور محمد تھانے کی جانب رپورٹ لکھوانے چل دیا۔ اچانک راستے میں ندیم مل گیا۔ پریشانی میں نور محمد کو خیال ہی نہ آیا کہ وہ اس سے پوچھ لیتا کہ اتنے سویرے وہ یہاں کیا کر رہا ہے۔ اس کے بار بار کریدنے پر اس نے ساری بات اس کے گوش گزار کر دی۔ ساری بات سن کرندیم نے اُسے بتا یا کہ تھانے دار اس کے تعلق والا ہے۔ ایف آئی آر میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ اور وہ جلدی ضمانت بھی نہیں ہونے دے گا۔ ندیم بھی نور محمد کے ہمراہ ہولیا۔
اسی روز پولیس رات تک وارث کو گرفتار کر کے لے گئی۔ اس کا باپ غریب انسان تھا۔ اس لیے زیادہ ہاتھ پائوں نہ مار سکا۔ الزام خوش نصیب کے ساتھ زیادتی کا تھا۔ اور صورت حال ایسی تھی کہ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔ ایسی صورت میں ندیم نے خوش نصیب کو اپنانے اور اس کے ہونے والے بچے کو باپ کا نام دینے کی حامی بھری۔ جو کہ نور محمد کے لئے کسی رحمت سے کم نہ تھی۔ گائوں میں و ارث کی نمک حرامی اور ندیم کی سعادت مندی کے قصے عام تھے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جب ملزم غریب اور کمزور ہو تو عموماً پولیس کا رویہ کچھ ایسا ہوتا ہے کہ، جو جرائم ملزم نے نہیں بھی کیے وہ بھی اس کے کھاتے میں ڈال دیے جاتے ہیں۔ اور یہ مقدمہ بھی ایسا تھا کہ اس میں ضمانت آسانی سے نہیں ہو سکتی تھی۔ خوش نصیب کا میڈیکل کرانے کا کہا گیا۔ جو قریبی سر کاری ہسپتال سے ہوا۔ اور اس میں زیادتی ثابت ہوگئی۔ کیس کا چالان عدالت میں پیش ہوا۔ اور اب ٹرائل کا مرحلہ شروع ہونے والا تھا۔ یہاں تک کے تمام کاموں میں ندیم نے بڑھ چڑھ کر نور محمد کا ساتھ دیا۔ وہ بلا تکان سارا وقت نور محمد کے ساتھ گزارتا تھا۔ یہاںتک کہ اگر کہیں کچھ دینا دلانا بھی پڑا تو اس میں بھی اس نے بھرپور ساتھ دیا۔ آخر وہ اچھا خاصا تعلق دار اور مالدار شخص تھا۔

وارث سے جب بھی پوچھا گیاکہ اس نے ایسا کیوں کیا۔ اپنے محسن کے گھر نقب لگا ئی۔ تو اس کا جواب ہمیشہ یہی ہوتا تھا۔ جو کیا وہ مان لیا۔ کیوں کیا یہ نہیں بتائوں گا۔ چاہے اس جواب پر اس کو مار ہی کیوں نہ کھانی پڑتی۔
جس روز عدالت میں پیشی تھی اس روز وارث کا غریب باپ بھی وہیں موجود تھا۔ جج صاحب کے وارث سے استفسار پرکہ کیا وہ اپنے مجرم ہونے کا اقرار کرتا ہے۔ وارث نے ایک نظر گردن اکڑائے کھڑے نور محمد کو اور اس کے ساتھ کھڑے ندیم کو دیکھا اور اثبات میں سر ہلا دیا۔ اس دوران رشید جو اس کا باپ تھا ہاتھ جوڑے آگے بڑھا اور جج صاحب سے مخاطب ہوا۔
’’صاب ہم غریب لوگ ہیں۔ میرا ایک ہی بیٹا ہے۔ مجھے یقین ہے اس نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے۔ کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ نصیبو تو میری بیٹی جیسی ہے۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھنے لگا۔ ۔
’’دیکھو۔ جو کہنا ہے وہ اپنے وکیل کے ذریعے کہو۔ عدالت کا کوئی قاعدہ ہوتا ہے۔ یہاں ایسے بات نہیں کی جا سکتی۔‘‘ جج صاحب نے فائیل کو بند کرتے ہوئے رشید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
’’صاحب میں بہت غریب ہوں۔ میں تو وکیل کی فیس بھی نہیں ادا کرسکتا۔ اورکوئی اتنا قرض بھی نہیںدے گا مجھے۔ آپ میری بات کا یقین کریں میرا بیٹا گائوںکی ہر بہن بیٹی کی عزت کرتا ہے۔ ایسا نہیں کر سکتا۔ ‘‘ رشید نے گلو گیر لہجے میں سب بتاتے ہوئے کہا۔
اسی دوران عدالت میں موجود ایک ایڈووکیٹ آگے بڑھے اور انہوں نے جج صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’بار ایسوایشن کے نمائیندگان سے بات میں کر لوں گا۔ Pauper لسٹ میں میرا نام موجود ہے۔ آپ ان کا کیس مجھے سونپ دیں۔‘‘
’’لیکن صاب میں آپ کی فیس نہیں دے سکتا‘‘ رشید نے وکیل صاحب کے حلیے پر غور کرتے ہوئے کہا جو کافی قیمتی کالے پینٹ کوٹ اور جوتوں میں ملبوس تھے۔ کوٹ سے جھانکتی کف کے اوپر سونے جیسے چمکتے بٹن لگے تھے۔
’’میاں تم سے فیس کس نے مانگی ہے؟ اللہ کا کرم ہے۔ اور ہمارا کام ہی توکل پر چلتا ہے۔ اللہ اجر دے گا۔‘‘ گر ے بالوں والے وکیل صاحب نے رشید کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا۔ اور پھر جج صاحب کی طرف جواب طلب نظروں سے دیکھا۔
’’ٹھیک ہے بیگ صاحب۔ میں سرکاری وکیل صاحب کو کہہ دیتا ہوں۔ وہ فائیل کی کاپی آپ کو دے دیں گے۔ اگلی پیشی پر آپ اپنی تیاری کے ساتھ آئیے گا۔ ‘‘ جج صاحب نے یہ کہہ کر سرکاری وکیل کو اشارہ کیا۔ اور خود اگلی فائیل کھول لی۔ اور ایڈووکیٹ بیگ صاحب اپنے ایسوسی ایٹ اور رشید کے ساتھ عدالت کے کمرے سے باہر نکل گئے۔ وارث کو جوڈیشل کسٹڈی میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔

اگلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: