عسکری و سول : ہمارے سیاسی فلسفے کا جائزہ — ذوالنورین سرور

0
  • 44
    Shares

Author

ہمارا سیاسی اور تاریخی علم بہت سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ اتنا سادہ ہے کہ آپ بہت چھوٹے درجوں میں طالب علموں کو با سہولت پڑھا سکتے ہیں لیکن فی الحال وطن عزیز میں یہ سہولت میسر نہیں۔

اس سبب سے ہم نے اسے ملک کے غیر مرتبہ نصاب کا نام دیا ہے۔ اس نصاب کو جاننے کا فائدہ یہ ہے کہ ماضی، حال اور مستقبل کے تمام مسائل کا سبب فوراً معلوم ہو جاتا ہے بلکہ ان کا حل اور اس تک پہنچنے کا طریقہ بھی معلوم ہو جاتا ہے۔
ہمارے ملک کے تمام نمائندہ اخبارات، نیوز چینلز، یونیورسٹیاں، سیاسی جماعتیں یہ تاریخی اور سیاسی مقدمہ قوم کو سکھا، پڑھا اور سمجھا رہے ہیں۔ ملکی مسائل ہیں لیکن کہ حل ہو کر نہیں دیتے۔

جن لوگوں کو “پیار” سے بوٹ پالشیا کہا جاتا ہے، وہ بھی بڑی حد تک اس مقدمے سے متفق ہیں اور ان کا اختلاف بھی “فروعی” نوعیت کا ہی ہے۔

مقدمہ یہ ہے کہ پاکستان کی فوج تمام ملکی وسائل پر قابض ہے۔ اقتدار پر براہ راست قبضہ کرنے کی بھی بے حد شوقین ہے۔ فوج نے عوام کو نصاب، لٹریچر، ملی نغموں اور مذہبی نعروں کے ذریعے بے وقوف بنا رکھا ہے۔ اس میں بھارت دشمنی کا تصور بالکل “جعلی” ہے اور فوج کا “گھڑا” ہوا ہے۔ اگر کسی طرح عوام کو فوج کا “اصل چہرہ”دکھا کر متنفر کر دیا جائے تو فوج بطور ادارہ کمزور ہو جائے گی۔ ملکی وسائل پر سویلین بالادستی قائم ہوتے ہی ہماری “ترقی کا سفر” شروع ہو جائے گا جو بوجوہ رکا ہوا تھا اور اب اس کے بغیر چارہ نہیں ہے۔ ۔ ۔

یوں تو ہم سب ہی دل و جان سے اس مقدمہ پر یقین رکھتے ہیں لیکن میرے دوست نے ایک بہت اچھی تحریر لکھی جس میں اس مقدمے کے تمام نکات بالصراحت شامل کئے گئے۔
اس تحریر میں لیکن کچھ غلط عناصر بھی شامل ہو گئے جو اصل مقدمے کے لئے ازحد نقصان دہ ہیں۔ ۔ ان کا “ذمہ دار” میں ابوبکر کو گردانتا ہوں کیونکہ وہ واقعتاً ایک پڑھا لکھا، صاحب رائے اور ذہین آدمی ہے۔

اس کا ایک فقرہ جس کو میں بیان کرنا چاہوں گا وہ یہ ہے کہ فوج میں اقتدار حاصل کرنے کی خواہش صرف چند منہ زور جرنیلوں کی ذاتی خواہش کا نتیجہ نہیں ہے۔ یہ بہت چونکا دینے والا بیان ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج تک تو یہی سمجھا گیا ہے کہ مارشل لاء لگانے کا فیصلہ ملک کا آرمی چیف کرتا ہے اور اس میں صلاح مشورہ بھی بہت اعلی سطح پر ہی ہوتا ہے۔ نچلی کمان تک تو حکم ہی آتا ہے۔
یہ فقرہ حاصل تحریر ہے اور اس ایک فقرے کی اگر درست تفہیم ہو جائے تو گویا پاکستان کے اصل مرض کی تشخیص ہو جائے!

اس سیاسی بیانیہ کے مطابق ملکی بقا اور فوج بطور ادارہ لازم و ملزوم نہیں ہیں۔ یعنی عالمی طاقتیں، ہمسایہ ممالک سب پاکستان کے خیر خواہ ہیں!
یہاں فوج پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان کی آئیڈیالوجی کی زبردستی نمائندہ بنی ہوئی ہے۔

اس طرح یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ پاکستانی فوج افغانستان میں امن نہیں چاہتی! عالمی طاقتوں سے براہ راست رابطہ رکھ کر اپنی جیو سٹریٹجک پوزیشن کو معاشی فلاح کے لئے استعمال کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں وہ پاکستانی حکومت کو جوابدہی نہیں کرتی۔ یہ موقف لیکن چند سوالات کے جواب فراہم نہیں کرتا مثلاً

افغانستان کے مسلسل گرم محاذ کی ذمہ دار کیا پاکستانی فوج ہے؟
اسی طرح نئ گریٹ گیم یا پرانی گریٹ گیم میں کیا پاکستان شمولیت اختیار کرنے پر مجبور تھا یا آزاد تھا؟
جن عوامل سے یہ مسئائل پیدا ہوئے وہ داخلی تھے یا خارجی تھے؟
ان کا ماخذ کوئ ایسا طاقت کا نظام تھا جو ہمارے بس میں تھا یا ایسا طاقت کا نظام تھا جس کے سامنے ہم بے بس تھے؟
جہاں تک بات رہ گئ فیصلہ سازی سے سیاستدانوں کی مکمل بے دخلی، اس میں کچھ ان کی نااہلی کو بھی دخل ہے یا وہ ہر الزام سے بالکل بری ہیں؟

خارجہ پالیسی اور سٹریٹجک تعلقات پر فیصلہ سازی دفاعی نقطہ نظر سے اور فوج کے ذریعے ہو رہی ہے۔ یہ بات بالکل درست ہے لیکن کیا کوئی متبادل ابھی تک پیش کیا گیا ہے؟ میاں صاحب کی خارجہ پالیسی کی ساری بحث ہندوستان سے شروع ہو کر ہندوستان کے ساتھ تجارت کرنے پر ختم ہو جاتی ہے۔

دیکھیں میاں صاحب اور فوج میں طاقت کا جھگڑا چل رہا ہے، کوئی عوامی حقوق کی جنگ تو چل نہیں رہی۔ اب سیاستدان نے تو ساری جنگ عوامی حمایت کی بنیاد پر لڑنی ہوتی ہے نا؟ تو اس مقصد کے لئے اسے رائے عامہ کو تیار کرنا چاہئے اور اس کا مقدمہ اعلی انسانی آدرشوں اور ایسے عقلی اصولوں پر استوار ہو جو عوام تک پہنچائے جا سکیں۔ اس میں اخلاقی اصولوں کی پاسداری یعنی ذاتی مفاد سے گریز اور قومی مفاد کو پیش نظر رکھنے کا ڈھکوسلہ بہت اہم اور ضروری ہے۔ میاں صاحب ابھی تک تو اس میں ناکام نظر آتے ہیں۔

خارجہ پالیسی اور سٹریٹجک تعلقات پر فیصلہ سازی دفاعی نقطہ نظر سے اور فوج کے ذریعے ہو رہی ہے۔ یہ بات بالکل درست ہے لیکن کیا کوئی متبادل ابھی تک پیش کیا گیا ہے؟ میاں صاحب کی خارجہ پالیسی کی ساری بحث ہندوستان سے شروع ہو کر ہندوستان کے ساتھ تجارت کرنے پر ختم ہو جاتی ہے۔

بیان تو انھوں نے دے دیا کہ سرحد کی لکیر باریک سی لکیر ہے اور وہ بھی آلو گوشت کھاتے ہیں، ہم بھی آلو گوشت کھاتے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ عوامی رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لئے یہ طرز استدلال بہت نا کافی اور شرمناک ہے۔ مزید دکھ کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک کے ذہین ترین لوگ (ذاتی مفادات / اصولی موقف) اس مقدمہ کے ساتھ کھڑے ہیں مگر اس “علمی” اعانت کے باوجود اس کا بیان اتنا عامیانہ اور سطحی ہے۔

باقی اس تجزیہ میں زیادہ تر آرزو مندی ہے۔ خواہشات جن کا ہم دل سے احترام کرتے ہیں۔ ان کی قبولیت کے لئے دعا گو بھی ہیں۔ ملک میں طاقت کا توازن درست ہونا چاہئے۔ فوج کو سیاست میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے وغیرہ وغیرہ۔ یہ متفق علیہ آدرش ہیں جیسا کہ ماں باپ کے ساتھ برا مت بولو، عورتوں پر ہاتھ نہ اٹھاؤ۔ غریب کا مال نہ لوٹو۔ جمعہ کے خطبات میں مولانا جب ایسی باتیں کرتے ہیں تو ہم انھیں گھسی پٹی اور موضوعی یا لایعنی گفتگو کرنے کا الزام دیتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہمارے سیاسی مباحث اب تھوڑا آگے چلنے چاہئیں۔ گلی محلے میں ہونے والی گفتگو اور سنجیدہ گفتگو میں کچھ فرق ہونا چاہئے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: عسکری کاروبار اور رئیل اسٹیٹ کی بحث: کچھ پہلو —- محمد خان قلندر

 

کچھ چیزیں سارے ملک کو پتا ہیں۔ ہر شخص جانتا ہے کہ محکمہ زراعت کیسے کام کرتا ہے لیکن بات اب تھوڑی آگے جانے چاہئے۔ مزید کیا قابلِ عمل امکانات ہو سکتے ہیں، ان پر بات ہونی چاہئے۔ آئیڈیل کی خواہش رکھنا الگ بات ہے مگر اسے سیاسی موقف بنا لینا عجیب وغریب ہے۔ ہم امن چاہتے ہیں لیکن کیا بھارت بھی چاہتا ہے؟ اگر ان دوستوں کے بہ قول “دونوں طرف کا عام آدمی امن چاہتا ہے” تو مودی الیکشن کیوں جیت رہا ہے؟

ایک بات واضح ہو کہ عالمی طاقتیں فوج سے براہ راست معاملہ کرتی ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے، یہ ہمارا موقف ہے۔

اب علمی کاوش یہ ہے کہ اس بات کو سمجھا جائے کہ ایسا کیوں ہے؟ کیسے ہے؟ کب سے ہے؟ اور اس سے نجات کیونکر ممکن ہے؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: