دل کی باتیں —- نصیب جان عاشق

0
  • 32
    Shares

ہمارے ملک کو 1947 میں آزادی ملی اور آج آزادی کے 71 ویں برس میں آ کران سات صدیوں کا جائزہ لیں تو عیاں ہے کہ مختلف قسم کے نظام ہائے ریاست لاگو کرنے کی کوشش کی گئی۔ کبھی عنانِ حکومت آزادی حاصل کرنے والوں کے پاس رہی اور کبھی جمہوریہ قرار دیا گیا تو جمہور کی حکمرانی کی نوید سنائی گئی۔ کبھی بیوروکریسی نے تخت سنبھالا اور کبھی صدارتی نظام کا جامہ فردِ واحد کی قد و قامت کے عین مطابق سیا گیا۔ کبھی بیرکوں والے مالک و مختار بنے اور کبھی عوامی لیڈر ہونے کا دعویٰ کرنے والے فوجی آمروں سے بدتر آمر بن کر ابھرے۔ یہ سب کھچڑی آج تک یہاں پکی، مگر ایک بات جو ہر منظر نامےمیں سب سے زیادہ عیاں رہی، وہ یہ تھی کہ ہر دور میں ایک خاص گروہ نے اپنے ہاتھ میں تمام کی تمام قوت رکھی اور طاقت ہمیشہ چند ہاتھوں میں مرکوز رہی۔ اس کا ارتکاز چند ہاتھوں، بلکہ مناسب ہوگا کہ یہ کہا جائے کہ چند انگلیوں میں مرکوز رہا۔

تاہم اگر تھوڑا عمیق مطالعہ کیا جائے تو سامنے آتا ہے کہ میاں نواز شریف کی میدانِ سیاست میں آمد کے بعد ایک اور بہت واضح تبدیلی سامنے آئی اور وہ تھی سیاسی کھیل میں مال و دھن کا بے دریغ اور آزادانہ استعمال۔ اس خاندان کے سیاست میں آنے کے بعد ہمارا وہ سیاسی نظام جو کبھی جاگیردار کے گھر کی باندی تھا، وہ سرمایہ دار کے گھر کی کنیز بنا۔

یہ وہی میاں محمد نواز شریف ہے جسے آج سے ایک سال قبل پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت نے غیر صادق و غیر امین قرار دیا اور اب احتساب عدالت نےبدعنوانی کا مجرم قرار دیتے ہوئے دس سال قید اور 8 ملین پاؤنڈز جرمانہ کی سزا سنائی۔ کہاں وہ دور کہ جب یہی میاں نواز شریف پنجاب کا وزیرِ خزانہ رہا، پنجاب کا وزیرِ اعلیٰ رہا، اس ملک کا تین مرتبہ وزیرِ اعظم رہا۔ اور کہاں یہ دور کہ آج زمین اس پر ایسی تنگ ہوئی کہ جائے پناہ تلاش کرنا انتہائی دشوار نظر آتا ہے۔

نواز شریف کا انجام صرف کسی ایک خاص طبقے کے لیے عبرت کا نشان نہیں ہے۔ کل سے خیال امروہوی ایک شعر باربار یاد آ رہا ہے

شاید یہ میری آنکھ سے گرتا ہوا آنسو
احباب کی بھولی ہوئی منزل کا نشاں ہو

یہ انجام ہے ہر اس شخص کے لیےعبرت ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ پیسے کے بل بوتے پر ہر صحافی، ہر جج، ہر افسر، الغرض سب کچھ خرید سکتا ہے۔ یہ انجام ہر اس شخص کے لیے عبرت ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ اگر مالدار ہے تو طاقت حاصل کرنا مشکل نہیں اور اگر طاقت رکھتا ہے تو مال بنانا مشکل نہیں۔ یہ انجام سبق ہے ہر اس شخص کے لیے جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ فقط مال و دولت کی بناء پر ایک منصب کے لیے نا اہل ہو کر بھی وہ حاصل کر لے گا۔ یہ فیصلہ عبرت ہے ان سب کے لیے جو سمجھتے ہیں کہ ان کے حواری ہر حال میں ان کے ساتھ رہیں گے, کہ فیصلہ کے وقت کوئی لوہے کا چنا، کوئی سیالکوٹی خواجہ، فیصل آبادی چوہدری کمرہِ عدالت میں موجود نہ تھا۔ یہ فیصلہ عبرت ہے ان سب کے لیے جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ جب چاہیں، جسے چاہیں خرید کر اپنی جیب میں رکھ لیں۔

یہ انجام ہے ان تمام سیاستدانوں کے لیے جو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے کے لیے عوام کے بجائے غیر جمہوری قوتوں کا سہار ا لیتے ہیں۔ یہ سبق ہے ان تمام سیاستدانوں کے لیے جو ایک جرنیل کے کندھے اور دوسرے کی گود میں بیٹھ کر سیاست کا آغاز کرتے ہیں۔ یہ عبرت ہے ان تمام کےلیے جو جرنیلوں سے پیسے لے کر منتخب حکومتیں ختم کرتے ہیں۔ یہ عبرت ہے ان کے لیے جو خلائی مخلوق کے کہنے پر منتخب وزیرِ اعظم کو غدار قرار دلوانے کالا کوٹ پہن کر عدالتِ عظمی پہنچ جاتے ہیں۔ یہ عبرت ہے ان تمام لوگوں کے لیے جو وقار کے ساتھ سازباز کر کے دھاندلی زدہ الیکشن کے ذریعے حکومت میں آتے ہیں۔ یہ عبرت ہے ان سب کے لیے جو ووٹوں کی گنتی کے دوران مضبوط حکومت کی فریاد کرتے ہیں۔ یہ عبرت ہے ان سب کے لیے جومقبولیت عوام میں رکھنے کا دعوی کرتے ہیں مگر ہمیشہ عوام کے مفادات پر اپنے مفاد کو ترجیح دیتے ہیں اور مقصد کے لیے ہر قسم کی کاسہ لیسی کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔

یہ انجام ہے ہر اس شخص کے لیے جو اپنے اقتدار کے دوام کے لیے خدا سے لڑنے سے بھی باز نہیں آتا۔ یہی وہ شخص تھا جس کے حصے میں یہ بد بختی آئی کہ سود کے حق میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں گیا۔ یہی وہ سیاہ رُو ہے جس نے کہا کہ جس رب کو بھارتی پوجتے ہیں، اسے ہی ہم پوجتے ہیں۔ درمیاں ایک سرحد آ گئی ہے، ورنہ بھارتی اور پاکستانی ایک ہی ہیں۔ یہی وہ شخص ہے جو اپنے اقتدار کے دوام کے لیے ختمِ نبوت پر حملہ کرنے سے بھی باز نہ آیا اور حلف نامہ میں تبدیلی کرنے کے ساتھ ساتھ 7 ب اور 7 س جیسی اہم شقوں کو گھناؤنے طریقے سے قانون سے نکالنے والا ٹھہرا۔ سچ پوچھیں تو دل سے یہی صدا نکلتی ہے کہ نواز شریف کے ساتھ جو ہوا، وہ خدا کی پکڑ کے سوا کچھ نہیں، ورنہ کسی وقار، عظمی یا نیب کی کیا جرات تھی کہ کچھ کرتا!

یہ ان گھناؤنی حرکتوں میں سے کچھ کی کارستانی ہے جو یہاں بیان کی، ورنہ اس سیہ بخت کی تاریخ ایسے ان گنت کارناموں سے بھری پڑی ہے۔ اب یہ ناکام شخص سوال گندم جواب چنا کے مصداق جعلی انقلابی بننے کی اداکاری بھی ٹھیک سے نہیں کر رہا۔ اللہ ہماری جان اس جیسے تمام ظالموں اور مکاروں سے چھڑائے!

یاد رکھیے، تاریخ بہت ظالم شے کا نام ہے۔ یہ کسی کو نہیں بخشتی۔ شداد و نمرود، فرعون و قارون، یزید و شمر، حجاج و سلیمان، قذافی و صدام، حسنی و یاسر، ضیاء و بھٹو۔۔۔ کیسے کیسے سروقامت دیو آج قصہِ پارینہ ہوئے۔ اور ایسے ہوئے کہ بعض کو تو گور و کفن بھی نصیب نہ ہوا۔ یہی تاریخ کا سب سے بڑا سچ ہے۔ مسئلہ فقط یہ ہے کہ پیروکار سبق نہیں سیکھتے۔ یہ سبق نوازشریف نے نہیں سیکھا۔ کاش بعد کے آنے والے اس کے انجام سے عبرت پکڑیں!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: