پاکستانی قوم: شکریہ اور مبارکباد — محمود فیاض

0
  • 178
    Shares

شکریہ ایک پاکستانی قوم شکریہ

میں شرمندہ تھا۔ سچ میں بہت شرمندہ تھا۔ اور یہ بات میں نے کسی کو نہیں بتائی تھی۔ حتیٰ کہ سال میں تین سو پینسٹھ فیس بک پوسٹوں اور بلاگز میں بھی کبھی اپنی اس شرمندگی کا اظہار نہیں کیا تھا۔ مگر میں سخت شرمندہ تھا۔

آئیے واپس چلیں، وقت کے پیچھے۔ جب بھٹو نے عوام کے لیے تحریک چلائی۔ پاکستان میں عرصے کا مارشل لاؤں کے درمیان عوام کے لیے ایک تحریک اٹھی۔ اور پوری دنیا میں ایک پیغام گیا کہ پاکستانی مزدور کی آواز سننے والی ایک جماعت وجود میں آگئی ہے۔ بھٹو ۔ ۔ ۔ نام کا ایک لیڈر ۔ ۔ ۔ پاکستانی قوم کا لیڈر ہے۔ تب ہم بہت چھوٹے تھے مگر برسوں بعد جب ملکوں ملکوں گھومنے کا موقع ملا تو جہاں کہیں دور کسی قصبے میں رات کے بون فائر پر سارے لوگ اپنے اپنے ملک کا نام بتا رہے ہوتے تو بہت سے لوگ “پیکسٹان” کے نام پر آنکھیں خلا میں گھماتے۔ (یہ تب کی بات ہے کہ دہشت گردی نے پاکستان کو ایک منفی شہرت نہیں دلائی تھی)۔ تب اچانک کسی کی آنکھیں چمکتیں ، او ۔ ۔ اوووو ۔۔۔ او ۔۔ یو مین دی پیکسٹان آف بھٹو؟ بھٹو کا پاکستان؟ پی پی میں کبھی نہ ہونے کے باوجود سر فخر سے اونچا ہوجاتا کہ دنیا میں ہماری بھی کوئی پہچان ہے۔ لوگ ہمارے ملک کو جانتے ہیں اور یہ حوالہ معتبر ہے۔ عوام کا ۔ ۔ ۔ عوامی تحریک کا ۔ ۔ ۔ مزدور کا ۔ ۔ ۔ روٹی کپڑا مکان کا۔ بعد میں اس نعرے اور اندرونی نااہلی کا کیا ہوا، دنیا بہرحال اس سے بے خبر رہی۔

اس فخر سے کئی برس بعد ایسے ہی ایک بون فائر پر شرمندگی نے گھیرا ڈال دیا۔ جب ماس کمیونیکشنز کے اسٹوڈنٹس نے پوچھا کہ تمہارے ملک میں ڈکٹیٹر شپ کیوں ہے؟ کیا تم لوگ اپنی کوئی رائے نہیں رکھتے۔ تب میں کوئی جواب سوچنے ہی والا تھا کہ کسی نے مشرف کا یہ جملہ کوٹ کردیا، “پاکستان کے لوگ جمہوریت کے لائق ہی نہیں” ۔ ۔ ۔ کافی کے گھونٹ اور کڑوے ہوگئے، میرے اردگرد بتیس یورپی ملکوں سے آئے اسٹوڈنٹس ہنس رہے تھے، کسی اور بات پر، مگر مجھے لگ رہا تھا کہ یہ سارے قہقہے میری قوم کا ٹھٹھا اڑا رہے ہیں۔ ایک ایسی قوم جو دنیا بھر میں اپنی ذہانت، فطانت، اور کارناموں سے مشہور ہے، مگر جن کی اپنے ہی گھر میں کوئی عزت نہیں ہے۔ جبکہ ان یوروپی ملکوں کے طلبا بس عام سے تھے، مگر انکی حکومتیں انکو عزت دلانے کا باعث تھیں۔

ان دو واقعات سے بتانا فقط یہ تھا کہ دنیا کی باقی قوموں کی نظر میں آپکی عزت یا ذلت کا معیار کیا ہے؟ اور وہ معیار موجود دنیا میں صرف ایک نکتے کے گرد آ ٹھہرا ہے۔ کہ آپ اپنے معاملات میں کس قدر آزاد اور خودمختار ہو۔ آپ کے عوام کی کس قدر عزت ہے؟ جن کی گھر میں عزت نہیں ہوتی، وہ باقی دنیا میں کتنے بھی مہنگے کپڑوں پر کتنے ہی عمدہ پرفیوم لگائے پھریں ، کوئی انکو ایک گدھے سے زیادہ کی اہمیت نہیں دیتا۔

پانامہ لیکس نے جب پوری دنیا میں ایک بھونچال کی کیفیت پیدا کی اور ملک ملک میں کرپٹ اور بددیانت لوگوں کا احتساب شروع ہوا تو مجھے بھی ایک امید لگی کہ قدرت کی مدد آن پہنچی اور اب پاکستانی قوم اس معاملے میں یکسو ہو جائیگی۔ اب وہ اپنے مجرم پہچان جائیگی۔ مگر ہوا یوں کہ باقی قوموں نے تو اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیا اور کسی ملک کا وزیراعظم جو قومی مجرم تھا، عوامی سیلاب کے سامنے نہ ٹھہر سکا اور مستعفی ہو گیا۔ تو کسی کو ملکی قانون نے پکڑ کر اندر ڈال دیا۔ کچھ با غیرت قومیں تو ایسی بھی نکلیں کہ انکے لیڈرز اپنے رشتہ داروں کے نام پانامہ میں آنے کی بنا پر مستعفی ہو گئے۔ مگر پاکستان میں میری قوم اور کمزور پاکستانی ریاست پانامہ میں آنے والے چوروں پر ہاتھ ڈالنے میں بری طرح ناکام رہی۔ پروپیگنڈہ کی دھول اڑانے کے ماہر مافیا نے ایک کنفیوزڈ قوم کو مزید کنفیوز کر دیا، اور ایک جاہل طبقے کو ڈھال بنا کر جمہوریت کے پیچھے جا چھپا۔ یہ مافیا پچھلے تیس سالوں میں سیاسی اداروں اور سیاسی حلقوں میں اس قدر طاقتور ہوچکا تھا کہ پانامہ پر واضح ثبوتوں کے باوجود ملک میں ان پر ہاتھ ڈالنے والا کوئی ادارہ نہیں تھا۔ میڈیا، بیوروکریسی، پارلیمان، عدلیہ سب بال کو ادھر سے ادھر پھینک رہے تھے۔ اور مافیا گاڈ اطمینان کے ساتھ بڑے بڑے منصوبوں سے مزید مال پانامہ میں ڈالنے کے لیے اکٹھا کر رہا تھا۔

دوستو! میں تب سے ہی مایوس اور شرمندہ تھا۔ کہ پاکستانی قوم جو پہلے ہی کئی حوالوں سے دنیا میں شرمندگی اٹھا رہی ہے۔ اب ہر “بون فائر” پر کوئی نہ کوئی پاکستانی اپنا سر اس سوال پر ضرور جھکا دے گا، جب کوئی اس سے پوچھے گا کہ تم اپنی قوم کے وسائل پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو کھلی چھوٹ کیوں دے دیتے ہو؟ تم لوگوں کا کوئی اخلاقی سسٹم ہے یا نہیں؟ کیا ساری پاکستانی قوم ہی کرپٹ ہے، جو کرپٹ لیڈرز سے انکو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

میں شرمندہ تھا کہ میری عدلیہ کمزور ہے، اس میں بیٹھے ہوئے ججز اخلاق کی اس بلندی پر نہیں پہنچ سکے کہ اگر قوم کے مجرم نہیں پکڑ سکتے تو اس “حرام کی کمائی” جو عدلیہ کی تنخواہوں کی صورت میں وہ لیتے ہیں، سے جان چھڑا لیں اور مستعفی ہو جائیں۔

میں شرمندہ تھا کہ میرے ملک کی پارلیمان، جس کے تقدس پر زبانی کلامی کوئی بات ہو جائے تو پارلیمان میں بیٹھے ہوؤں کی عزت نفس مجروح ہوجاتی ہے، مگر اسی پارلیمان کے فلور پر اگر کوئی ببانگ دہل جھوٹ پر جھوٹ بولتا چلا جائے تو کسی ایک میں بھی اتنی شرم یا حیا باقی نہیں کہ وہ اپنے مفادات کو بھلا کر اس پر احتجاج کر سکے۔ ایسی پارلیمان جو جھوٹوں کو عزت دے، کیسے قابل یقدیس رہ سکتی ہے؟

میں شرمندہ تھا کہ میرے ملک کی اشرافیہ اصل میں حرامیہ میں تبدیل ہو چکی ہے اور اس گلے سڑے نظام سے فائدہ اٹھانے والے اتنے زیادہ ہو چکے ہیں کہ میرے ملک کے پراپرٹی ڈیلر، اسمگلر، چائنہ سے کنٹینر منگوانے والے تاجر، ان تاجروں سے مال اینٹھتے کسٹم آفیسر، سرکاری و غیر سرکاری عمارات بنا کر ناجائز منافع خوری کرتے کانٹریکٹر، بکے ہوئے سینیٹر، اور کروڑوں کی دیہاڑی لگاتے ممبر سب اکٹھے ہو چکے ہیں اس بات پر کہ اس ملک کی قسمت میں صرف کرپٹ حکمران ہی لکھے ہیں اور یہ کہ غریب عوام کا خون سب کو حلال ہے۔

میں شرمندہ تھا کہ میرے ملک کی پڑھی لکھی سول سوسائیٹی اس حد تک بے حس ہو چکی ہے کہ وہ صرف اپنے بچوں کو او لیول ، اے لیول کروا کر بیرون ملک یونیورسٹیوں میں داخلے کروانے میں مصروف ہے، اور ہر کوئی جلد از جلد اپنی اولادوں کو بیرون ملک اچھی ملازمتوں پر لگوا کر انکی سیلفی اپنی فیس بک وال پر لگانا چاہتا ہے۔ مگر کوئی بھی گندے غلیظ پانی سے مرتے لوگوں، خودکشیاں کرتے بھوکوں، اور بغیر علاج کے مرتے مریضوں کی اس حالت کے زمہ داروں کی سزا دلوانے کے لیے ایک دن صرف ایک دن کے لیے شہر کی سڑکوں پر نہیں آنا چاہتا۔

سچ مانیں تو ایسی مردہ قوم کے وجود کا حصہ ہونے پر میں شرمندہ تھا۔ جس میں سارے اپنے ہی بہن بھائیوں کی بوٹیوں پر زندہ رہنے کی کوشش میں تھے۔

مگر اللہ تعالیٰ شائد اس قوم کو ایک موقع اور دینا چاہتا تھا اور اس قوم کی خاکستر میں کچھ چنگاریاں موجود تھیں۔ بیس برس سے کرپٹ حکمرانوں کے خلاف کوشش کرتا عمران خان۔ دہائیوں سے ایک صالح حکومت کی امید میں سیاست میں موجود جماعت اسلامی اور اسکا موجودہ سربراہ سراج الحق۔ دہائیوں کی دہشت گردی کا سامنا کرتی فوج، اور اس میں موجود قیادت کی سول سپرمیسی کو سمجھنے کی نئی کوشش، چند سال پہلے کی عدلیہ آزادی کی تحریک سے جنم لینے والی عدلیہ کی تھوڑی بہت آزادی، اور میڈیا کے چند سر پھرے صحافی جو بکنے پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ یہ سب وہ عناصر تھے جنہوں نے دو سال سے جاری اس کرپشن کی جنگ میں ملک کے طول و عرض پر قابض مافیا گاڈ کو مسلسل دباؤ، تحریکوں، قانونی جنگ، اور پروپیگنڈے کے خلاف میڈیا کے استعمال سے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ اس میں آپ سوشل میڈیا کا کردار بھی شامل کر لیں۔

آج میاں نواز شریف اور انکے خاندان کو ملنے والی سزا میرے لیے اس لحاظ سے اہم نہیں ہے کہ ایک کرپٹ لیڈر کو سزا مل گئی اور اب پاکستان میں غریب عوام خوشی کے شادیانے بجائیں گے۔ میں جانتا ہوں کہ ایک کوڑھ زدہ اور فالج زدہ معاشرے کو ٹھیک ہونے میں برسوں لگتے ہیں۔ مگر میرے ملک کی عدالتوں کا یہ فیصلہ آج میری اس شرمندگی کو ختم کرنے کا باعث ہے، جو میں باقی دنیا کی قوموں کے سامنے ایک پاکستانی کی حیثیت سے محسوس کرتا تھا۔ اب میں بھی اگلے “بون فائر” میں فخر سے کہہ سکوں گا کہ میں اس پاکستان سے آیا ہوں جہاں کرپٹ کو کرپٹ ہی سمجھا جاتا ہے، چاہے وہ کس قدر طاقتور ہی کیوں نہ ہو۔ جہاں سول سوسائٹی اور ادارے اتنے زندہ تو ہیں کہ چاہے دو سال بعد ہی سہی، مگر کرپٹ کو سزا دینے لائق ہیں۔ اور جہاں کے لوگ باقی دنیا کی طرح انسان ہیں اور انسانوں کے حقوق کے مستحق ہیں۔

شکریہ مجھے اس شرمندگی سے نکالنے کے لیے۔ ان تمام لوگوں، اداروں اور سول سوسائٹی کے ہر اس فرد کا ، جس نے اس طویل جدوجہد میں ایک تنکا بھی ہلایا ہے۔ شکریہ۔ اور مبارک باد۔

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: