افتادگانِ خاک اور امریکی تاریخ —– ترجمہ : عاصم بخشی

0
  • 122
    Shares

افتادگانِ خاکِ احمریں کی ایک پژمردہ یاداشت
تعارف
چیف سی ایٹل سقامش اور دوامش امریکی انڈین قبائل کے سردار تھے۔ ان کا انتقال ۱۸۶۶ء میں ہوا۔ انہوں نے سفید فام آبادکاروں کے ساتھ امن و آشتی اور معاونت کے لیے شہرت پائی۔ امریکی شہر سی ایٹل کا نام انہی کے نام پر ہے۔ زیر نظر ترجمہ ان کی اس مشہورِ زمانہ تقریر کو اردو کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش ہے جو کئی وجوہات کی بناء پر متنازعہ ہے جن میں سرِ فہرست کم یاب دستاویزی ثبوت ، قدیم زبانوں کے لسانی مسائل اور سینہ بہ سینہ زبانی روایتوں کے درجۂ صحت متعین کرنے کے مسائل ہیں۔ زیادہ تر محققین کا خیال ہے کہ چیف سی ایٹل کے اصل الفاظ تو ضائع ہو گئے لیکن کسی گمنام انگریزی مصنف نے راویوں کی زبانی سن کر ان کی لفظی ترجمانی کا حق ادا کیا۔ کچھ کا یہ بھی اصرار ہے کہ اس کی حیثیت محض ایک روایتی دیومالا کی ہے۔ اس تقریر کو اب ماحولیاتی ذمہ داریوں اور قدیم مقامی امریکیوں کے زمینی حقوق کے موضوعات پر ایک اہم استدلالی سند مانا جاتا ہے۔ تقریر کے متعدد متن گردش میں ہیں لہٰذا ترجمہ کے لیے جس انگریزی متن کا استعمال کیا گیا ہے وہ سی ایٹل سٹار سنڈے میں ۲۹ اکتوبر ۱۸۸۷ء کو ڈاکٹر ہنری اے اسمتھ کے ایک کالم میں شائع ہوا۔


عاصم بخشی

یہ سرمدی اور بے تغیر نظر آنے والا آسمان جس نے ان گنت صدیاں میرے لوگوں پر ہمدردی کے آنسو بہائے ہیں بدل بھی تو سکتا ہے۔ آج تو مطلع صاف ہے۔ کل شاید بادل چھا جائیں۔ میرے شبدھ ستاروں کی طرح ہیں جو کبھی نہیں بدلتے۔ سی ایٹل جو بھی کہے، واشنگٹن میں بیٹھا عظیم چیف اس کی بات پر اتنا ہی یقین کر سکتا ہے جتنا وہ سورج اور موسموں کے آنے جانے پر کرتا ہے۔ سفید چیف خبر لایا ہے کہ واشنگٹن میں بیٹھے بڑے چیف نے دوستی اور خیرخواہی کا سندیسہ بھیجا ہے۔ یہ اس کی مہربانی ہے کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ اسے ہماری جوابی دوستی کی کتنی ضرورت ہے۔ اس کے لوگ وسیع و عریض مرغزاروں میں پھیلے سبزے کی طرح متعدد ہیں۔ میرے لوگ طوفانوں سے اجڑے بیابانوں میں بکھرے درختوں کی طرح گنے چنے ہیں۔ عظیم اور میرے خیال میں مہربان سفید چیف نے پیغام بھیجا ہے کہ وہ ہماری زمینیں خریدنے کے متمنی ہیں لیکن ہمیں اتنا رقبہ دینے کے لیے تیار ہیں جس میں ہم آسانی سے رہ سکیں۔ اسے یقیناً انصاف بلکہ شاید فیاضی کہنا چاہیے کیوں کہ سرخ انسان اب کوئی ایسے حقوق نہیں رکھتا جو تکریم کا تقاضا کرتے ہوں، پھر یہ پیش کش دانش مندانہ بھی ہے کیوں کہ ہمیں اب وسیع و عریض رقبے کی مزید کوئی ضرورت نہیں۔

Dr. Henry Smith

ایک وقت تھا جب میرے لوگ زمین پر یوں پھیلے تھے جیسے ہواؤں سے شکن دار سمندر کی لہریں اس کی سیپیوں سی بھری تہہ کو ڈھانپے ہوتی ہیں، لیکن وہ زمانے اب عرصہ ہوا ان قبیلوں کی عظمت لیے گزر گئے جن کی بس اب ایک کرب ناک یاداشت ہی باقی ہے۔ میں نہ تو ہمارے بے وقت اجڑنے کا ماتم کروں گا، نہ ہی اپنے زرد چہرہ بھائیوں کو اس آفت میں جلدی کا دوش دوں گا کیوں کہ شاید ان حالات کا الزام کسی نہ کسی حد تک خود ہم پر بھی عاید ہوتا ہے۔

جوانی من موجی ہوتی ہے۔ جب ہمارے نوجوان کسی حقیقی یا خیالی غلطی پر طیش میں آتے ہیں تو اپنے چہروں پر یہ ظاہر کرنے کے لیے سیاہی مل لیتے ہیں کہ ان کے دل سیاہ ہیں، وہ اکثر ظالم اور سخت دل ہوتے ہیں اور ہمارے بڑے بوڑھے اور بوڑھیاں انہیں لگام دینے میں ناکام رہتے ہیں۔ ہمیشہ سے ایسا ہی ہے۔ یہی حالات اس وقت بھی تھے جب سفید فام آدمیوں نے ہمارے آباؤ اجداد کو مغرب کی جانب دھکیلنا شروع کیا۔ لیکن امید کی جا سکتی ہے کہ ہمارے درمیان کشیدگی کبھی واپس نہ لوٹے۔ ہمارے پاس کھونے کو سب کچھ ہو گا لیکن پانے کو کچھ نہیں۔ جوان خون اپنی جان کی قیمت پر بھی انتقام کو کامیابی ہی سمجھتا ہے، لیکن بوڑھے مرد جو جنگ میں پیچھے رہ جاتے اور مائیں جو اپنے بیٹے گنواتی ہیں بہتر سمجھتی ہیں۔

واشنگٹن سے ہمارے مائی باپ نے پیغام بھیجا ہے کہ اگر ہم اس کی خواہش کے مطابق عمل کریں تو وہ ہماری حفاظت کرے گا اور میرا ماننا ہے کہ جب سے شاہ جارج نے اپنی سرحدیں مزید شمال میں بڑھائی ہیں وہ اب تمہاری طرح ہمارے بھی عظیم مائی باپ ہیں۔ اس کے دلیر جنگجو ہمارے لیے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوں گے، اور اس کے شاندار جنگی بیڑے ہماری بندرگاہیں بھر دیں گے تاکہ مزید شمال میں ہمارے قدیم دشمن یعنی ہیداس اور سمشیان قبائل ہماری عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو ڈرانا دھمکانا بند کر دیں۔ تب وہ اصل میں ہمارا باپ ہو گا اور ہم اس کے بچے۔ لیکن کیا یہ کبھی ممکن ہے؟ تمہارا خدا ہمارا خدا نہیں! تمہارا خدا تمہارے لوگوں سے محبت اور میرے لوگوں سے نفرت کرتا ہے! وہ زردچہرہ انسان کو اپنی مضبوط و محفوظ بانہوں میں سنبھال کر یوں انگلی پکڑ کر چلتا ہے جیسے کوئی باپ کسی نوزائیدہ بچے کی راہنمائی کرتا ہے۔ لیکن اس نے اپنے سرخ بچوں سے منہ موڑ لیا ہے، اگر وہ واقعی اس کی اولاد ہیں بھی۔ ہمارے خدا، روحِ عالی شان نے بھی شاید ہم سے منہ موڑ لیا ہے۔ تمہارا خدا ہر گزرتے دن کے ساتھ تمہارے لوگوں کی تیاریوں میں تیزی لا رہا ہے۔ جلد ہی وہ پورے رقبے کو بھر دیں گے۔ ہمارے لوگ تیزی سے اترتی اس لہر کی طرح ہیں جو کبھی واپس نہیں آئے گی۔ سفید نسلوں کا خدا ہمارے لوگوں سے محبت نہیں کرتا ورنہ ان کی حفاظت کرتا۔ وہ یتیموں کی طرح ہیں جو مدد کے لیے کہیں ہاتھ نہیں پھیلا سکتے۔ پھر ہم کیسے بھائی بند ہو سکتے ہیں؟ کیسے تمہارا خدا ہمارا خدا ہو کر ہماری خوشحالی واپس لا سکتا اور ہماری آنکھوں میں عظمت رفتہ کی واپسی کے خواب جگا سکتا ہے؟ اگر ہمارا آسمانی خدا مشترکہ ہے تو پھر وہ یقیناً یک طرفہ ہو گا کیوں کہ وہ اپنے زرد چہرہ بچوں ہی سےملتا ہے۔ ہم نے تو اسے کبھی نہیں دیکھا۔ اس نے تمہیں قوانین دیے لیکن اپنے سرخ بچوں کے لیے اس کے پاس کوئی الفاظ نہیں جو کبھی اپنی کثرت سے اس وسیع براعظم کو یوں بھر دیا کرتے تھے جیسے ستارے آسمان کو۔ نہیں، ہم دو مختلف نسلیں ہیں، جن کی بنیادیں اور تقدیریں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ہم میں کچھ زیادہ مشترک نہیں۔

ہمارے لیے ہمارے آباء کی راکھ مقدس ہے، جن کی آرام گاہ گہری زمین ہے۔ تم اپنے آباؤ اجداد کی قبروں سے دور سرگرداں ہو اور بظاہر تمہیں اس پر کوئی پشیمانی نہیں۔ ہمارا مذہب ہمارے بڑوں کی روایات ہیں، ہمارے بڑے بوڑھوں کے خواب جو رات کی خاموش ساعتوں میں روحِ عظیم نے انہیں عطا کیے، ہمارے مدبرین کے تصورات، ہمارے لوگوں کے دلوں پر یہ سب کچھ رقم ہے۔

ہمارے لیے ہمارے آباء کی راکھ مقدس ہے، جن کی آرام گاہ گہری زمین ہے۔ تم اپنے آباؤ اجداد کی قبروں سے دور سرگرداں ہو اور بظاہر تمہیں اس پر کوئی پشیمانی نہیں۔ تمہارا مذہب تمہارے خدا کی انگشتِ فولادی سے پتھر کی سِلوں پر لکھ دیا گیا ہے تاکہ تم بھول نہ سکو۔ سرخ انسان کبھی اس کی فہم اور یاداشت کے قابل نہیں ہو سکے گا۔ ہمارا مذہب ہمارے بڑوں کی روایات ہیں، ہمارے بڑے بوڑھوں کے خواب جو رات کی خاموش ساعتوں میں روحِ عظیم نے انہیں عطا کیے، ہمارے مدبرین کے تصورات، ہمارے لوگوں کے دلوں پر یہ سب کچھ رقم ہے۔

تمہارے مردے مقبرے کے در و دیوار سے گزر کر ستاروں سے پرے نکلتے ہی تم سے اور اپنی دھرتی ماتا سے محبت ترک کر دیتے ہیں۔ جلد ہی انہیں بھلادیا جاتا ہے اور وہ کبھی واپس نہیں لوٹتے۔ ہمارے مرے ہوئے کبھی اس خوبصورت دنیا کو نہیں بھولتے جس نے انہیں وجودِ ہستی سےسرفراز کیا۔ وہ اب بھی اس کی زرخیز وادیوں، سرگوشیاں کرتے دریاؤں، پرشکوہ پہاڑوں، گوشہ گزیں درّوں اور سرسبز کنارہ جھیلوں اور کھاڑیوں سے محبت کرتے، تنہا رہ جانے والے زندوں کی الفت میں بے تاب ہوتے، اور اکثر ملاقات، سہارے، راہنمائی اور ڈھارس بندھانے کے لیے پرمسرت شکارگاہوں کی جانب واپس لوٹتے ہیں۔

رات اور دن ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ سرخ آدمی نے ہمیشہ سفید آدمی کی آمد پر یوں اپنا راستہ بدلا ہے جیسے صبح کا دھندلکا طلوعِ آفتاب سے پہلے اپنی راہ لیتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود تمہاری تجویز معقول معلوم ہوتی ہے اور میری رائے میں میرے لوگ اسے قبول کر کے ان جگہوں پر بس جائیں گے جو تم انہیں پیش کرو گے۔ پھر ہم امن کے ساتھ ایک دوسرے سے علیحدہ ہوں گے کیوں کہ عظیم سفید چیف کے الفاظ میرے لوگوں کے لیے اسی طرح ہیں جیسے گہرے اندھیرے میں فطرت ان سے مخاطب ہو۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: ڈاکٹر عزیز ابن الحسن کے مضمون ’’سراج منیر کا تصورِ تہذیب‘‘ پر ایک تبصرہ: عاصم بخشی 

 

یوں بھی اس سے کم ہی فرق پڑتا ہے کہ ہم اپنے بقیہ دن کہاں گزاریں گے۔ یہ کچھ زیادہ نہیں۔ انڈین کی شب سیاہی کی وعید لے کر آئی ہے۔ اس کے افق پر کوئی ایک امید کا ستارہ نہیں۔ دور کہیں اداس ہواؤں کی سسکیاں سنائی دیتی ہیں۔ گمان ہوتا ہے کہ بدقسمتی سرخ آدمی کے تعاقب میں ہے اوروہ جہاں اپنے تباہ کنندہ کے بڑھتے قدموں کی آواز سنتا ہے وہیں قدم جما کر اپنی تقدیر کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے کوئی زخمی ہرن شکاری کے قدموں کی آواز سنتا ہے۔

بس چند اور چاندنی راتوں، بس چند اور سردیوں کی بات ہے کہ ان عظیم میزبانوں کا ایک بھی نام لیوا نہ بچے گا جو کبھی اس وسیع زمین پر چلتے پھرتے، روحِ عظیم کے سائبان تلے پرمسرت مکانوں کے مکین تھے، ان کی قبروں پر ماتم کرنےوالا بھی کوئی نہ ہو گا جو کبھی تم سے زیادہ طاقتور اور باامید تھے۔ لیکن میں اپنے لوگوں کے ناگہانی انجام کا ماتم کیوں کروں؟ قبیلہ قبیلے کے پیچھے چلا آتا ہے، ایک قوم کے پیچھے دوسری قوم ہے جیسے لہر در لہر سمندر۔ یہ فطرت کا نظام ہےاور ہاتھ ملنا بے فائدہ ہے۔ تمہاری معدومیت کا وقت شاید دور ہو لیکن وہ یقیناً آئے گا، کیوں کہ سفید فام نسلیں جن کا خدا ان کے ساتھ دوستوں کی طرح گپ شپ لگاتا ہے، تقدیر کے عمومی جبر سے تو نہیں بچ سکتیں۔ آخر اس نوعیت سے تو ہم بھائی بند ہی ہیں۔ سو ہم دیکھیں گے۔

ہم تمہاری تجویز پر غور کریں گے اور فیصلہ ہوتے ہی تمہیں خبر کر دیں گے۔ لیکن ہماری قبولیت کی صورت میں ابھی اور اسی وقت یہ شرط سامنے رکھ دوں کہ ہمیں کسی استحصال کے بغیر اپنے بڑوں، دوستوں اور بچوں کی قبروں پر حاضری دینےکی اجازت ہو گی۔ میرے لوگوں کی نظر میں اس زمین کا ایک ایک ذرہ مقدس ہے۔ ایک ایک پہاڑی، ایک ایک وادی، ایک ایک میدان اور جھنڈ پر گئے زمانوں کی کسی نہ کسی خوشی اور غمی کا نقش ہے۔ یہاں تک کہ سورج کی تپش سے نڈھال کسی ساحلی ریت کی طرح مردہ اور ساکت نظر آنے والے پتھر بھی میرے لوگوں کی زندگیوں سے متعلق جوشیلے واقعات سے پُرجوش ہیں، تمہارے قدموں تلے پڑی مٹی بھی تمہاری بجائے ان کے قدموں کو زیادہ محبت سے دیکھتی ہے کیوں کہ یہ ہمارے بڑوں کے خون سے تر ہے اور ہمارے ننگے پاؤں اس کے ہمدرد لمس سے آشنا ہیں۔ ہمارے گزرے ہوئے بہادر، ممتا بھری مائیں، مسرت سے لبریز دل کنواریاں، یہاں تک کے دو گھڑی، دو رُت زندہ اور خوش رہنےوالے ننھے بچے بھی ان پژمردہ تنہائیوں سے محبت کرتے اور دن ڈھلے واپس لوٹنے والی پراسرار روحوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ پھر جب آخری سرخ انسان بھی مٹ جائے گا اور میرے قبیلے کی یاد سفید نسلوں کے لیے دیومالا ہو جائے گی تو یہ ساحل میرے قبیلے کے نادیدہ مرے ہوؤں سے بھر جائیں گے، اور جب تمہارے بچوں کے بچے خود کو کسی میدان، گودام، دکان، سڑک کنارے یا درختوں کے بے راستہ جھنڈ کی خاموشی میں پائیں گے تو وہ اکیلے نہیں ہوں گے۔ پوری زمین پر کوئی بھی جگہ تنہائی کے لیے مختص نہیں۔ رات کو جب تمہارے شہروں اور گاؤں کے گلے کوچے خاموش ہوں اور تم انہیں ویران سمجھو تو بھی وہ ان لوٹنے والے میزبانوں سے بھرے ہوں گے جو کبھی یہاں بستے تھے اور اب تک اس خوبصورت زمین سے محبت کرتے ہیں۔ سفید انسان کبھی تنہا نہیں ہو گا۔

سو اسے انصاف پسند ہونا اور میرے لوگوں سے مہربانی سے پیش آنا چاہیے کیوں کہ مرے ہوئے لاچار نہیں ہوتے۔ کیا میں نے مردہ کا لفظ استعمال کیا؟ موت کچھ نہیں، صرف ایک سے دوسری دنیا میں انتقال ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کارپوریٹ کلچر کا بدمست ہاتھی، تاریخی تناظر اور اختر علی سید صاحب کے سوالات

ایک اور اہم مضمون: امریکی ایوانوں میں سسکتی جنسی اور ذہنی غلامی: چوہدری بابر عباس خان

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: