دیوانگی ——– (قسط 1) — عارفہ رانا

0
  • 84
    Shares

کرم دین کھیت میں گوڈی کر کے فارغ ہوا تھا۔ اور اب نہر جو اس کے کھیتوں کے پاس سے گزرتی تھی۔ اس کے بہتے پانی سے منہ ہاتھ دھو کر خود کو تازہ دم کر رہا تھا۔ تاکہ اس کے بعد وہ دودھ بیچنے شہر جا سکے۔ اچانک اس کی نظر پانی میں بہتی گٹھڑی پر پڑی۔ کرم دین پہلے تو سمجھا کہ کوئی کپڑا وغیرہ ہے۔ جو پانی کے ساتھ بہتا چلا آرہا ہے۔ لیکن جب وہ قریب پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ وہ گٹھڑی نہیں بلکہ انسانی جسم ہے۔ جیسے ہی اس کو یہ پتہ لگا تو اس نے بے ساختہ باآواز بلند چلایا ــــــ’’ہائے او ربا‘‘۔

کچھ دور کرم دین کے بیٹے جو باپ کے ہمراہ کھیتوں میں فصل کی گوڈی کے لیے آئے تھے، باپ کی چیخ سن کر اس کی طرف لپکے یہ سوچتے ہوئے کہ شائد سانپ وغیرہ نے ڈس لیا ہو۔ مگر جب وہ وہاں پہنچے ماجرہ ہی کچھ اور دیکھا اور وہ بھی حیران رہ گئے۔ نہر کنارے سر کنڈوں میں پھنسی ہوئی ایک لڑکی کی لاش موجود تھی۔ جس کا منہ نیچے کو تھا، اور وہ گلابی پھول دار کپڑے پہنے ہوئے تھی۔

گائوں کے قریبی کھیتوں میں صبح صبح ایک ہلچل مچ گئی تھی۔ گائوں کے مشرقی طرف جو نہر بہتی تھی اس میں کرم دین نے کچھ بہتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس کے بعد فضا میں اس کی چیخ گونجی تھی۔ جس سے آس پاس کے کھیتوں والے متوجہ ہو گئے تھے۔ جولوگ کھیتوں میں کام کر رہے تھے، اسی جانب متوجہ تھے تاکہ معلوم کر سکیں کہ معاملہ کیا ہے۔
کرم دین کے بیٹے آگے بڑھے اور گھسیٹ کر لاش کو باہر نکالا۔ لڑکی کے ایک کان میں سونے کا موٹا جھمکا تھا دوسرے کان کا جھمکا شائد کہیں گر چکا تھا۔ بالوں میں لال پراندہ تھا جس میں گھنگھرو لگے تھے۔ اور ہاتھوں میں چوڑیاں۔ حلیے سے لڑکی اچھے گھر کی لگتی تھی۔ کرم دین کے کہنے پر بڑے بیٹے نے آگے بڑھ کر لاش کو پلٹا کہ شکل دیکھی جا سکے۔ اتنی دیر میں کرم دین کی چیخ اور اس کے بیٹوں کے اس کی جانب بھاگنے کی وجہ سے ارد گرد کے کھیتوں کے لوگ بھی ادھر ہی چلے آرہے تھے کہ معاملہ جان سکیں۔

جیسے ہی کرم دین کے بیٹے نے لاش سیدھی کی تو وہاں موجود سب لوگوں کا سانس رک گیا اور سب بے ساختہ ایک قدم پیچھے ہٹ گئے۔ لاش کا چہرہ بری طرح سے مسخ کیا گیا تھا اور اسی وجہ سے وہ بہت بھیانک دکھائی دے رہی تھی۔
اچانک کوئی چلایا کہ ’’چوکی اطلاع کر دو‘‘۔
کرم دین نے آگے بڑھ کر اپنے صافے سے لاش کو ڈھانک دیا ’’ نہ جانے کون ہے نمانی‘‘ اس نے تاسف سے سوچا۔
کرم دین کا بیٹا چوکی کی جانب چل دیا کہ اطلاع دی جا سکے۔ اور جو لوگ وہاں سے واپس چل دیئے تھے، ان نے خود سے ہی اس خبر کو بستی تک پہنچانے کی ذمہ داری لے لی۔ رفتہ رفتہ بات پھیل گئی اور ایک ہلچل اور بے چینی سی پیدا ہو گئی کہ پتہ لگایا جائے مرنے والی کون تھی۔ کچھ لوگ لاش کے بارے قیاس آرائیاں کر رہے تھے اور کچھ لوگ اس کو دیکھنے جا رہے تھے۔ کچھ دیکھ کر آ رہے تھے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
’’جی وکیل صاحب DNA کی رپورٹ آگئی؟‘‘ جج صاحب نے وکیل دفاع کو دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔
وکیل صفائی نے مسکراتے ہوئے کہا: ’’جی می لارڈ رپورٹ آ گئی ہے، اور رپورٹ بھی ایسی ہے کہ آپ آج میرے مئوکل کو بری کر دیں گے۔ باعزت بری۔‘‘
وکیل صاحب نے رپورٹ کورٹ کے اہلکار کو تھما دی تاکہ وہ اسے جج صاحب کو دے دے (عدالت میں کوئی بھی کاغذ یا رپورٹ جج صاحب کو ڈائرکٹ نہیں دی جاتی، بلکہ کو رٹ اہلکار کو دی جاتی ہے تاکہ وہ جج صاحب تک پہنچا دے)۔ اور مسکراتے ہوئے آ کر اپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے۔ اس دوران مدعی کا وکیل جس کے ہاتھ میں رپورٹ کی کاپی تھی۔ کافی پریشان دیکھائی دے رہا تھا۔ اپنی پیشانی سے نادیدہ پسینہ پوچھنے لگا۔
جج صاحب نے غور سے رپورٹ پڑھی۔ ایک لمبا سانس لیا اور چشمہ اتار کر ایک نظر مدعی کے وکیل اور مدعی پر ڈالی۔ اور پھر دریافت کیا۔ ’’ملزم حاضر ہے کیا؟‘‘
’’جی جناب‘‘۔ ایک جانب سے آواز آئی۔ دو پولیس اہلکار ایک ملزم کو ہتھکٹریوں میں اپنے ساتھ لیے کھڑے تھے آواز اسی جانب سے آئی تھی۔
’’جی وکیل صاحب سب آپ کے سامنے ہے۔ اب آپ کیا کہتے ہیں؟؟‘‘ جج صاحب مدعی کے وکیل کی جانب دیکھتے ہوئے بولے۔
’’سر یہ رپورٹ کسی دبائو کے تحت یا رشوت دے کر ایسے بنوائی گئی ہے۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ آجکل سب ممکن ہے۔ ‘‘ مدعی وکیل نے لہجہ پرزور بنانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
’’لیکن یہ تو آپ کے ہی کہنے پر دوبارہ سیمپل کی جانچ کرائی گئی ہے۔ اور اب کے بار میڈیکل بورڈ بھی خفیہ تھا۔ جس کو آپ دونوں وکلاء میں سے کوئی نہیں جانتا تھا۔ بحرحال میں اس رپورٹ کو من و عن درست مانتے ہوئے ملزم کو باعزت بری کرنے کا حکم دیتا ہوں۔ ۔ ــ‘‘ جج صاحب فیصلہ سنا کر اسٹینو کو فیصلہ لکھوانے لگ گئے۔
ـ’’مگر می لارڈ سنیے تو‘‘۔ مدعی کے وکیل نے کمزور آواز میں کچھ کہنے کی کوشش کی۔
’’ وکیل صاحب دلائل آپ کے پاس ختم ہو چکے ہیں۔ فیصلہ میں لکھوا چکا ہوں۔ اب ملزم چاہے تو مدعی کے خلاف قذف کا مقدمہ بھی کر سکتا ہے۔ آپ جائیں اور نئے مقدمے کی تیاری کریں۔ عدالت کو اپنا کام کرنے دیں۔ ‘‘ جج صاحب نے اگلے مقدمہ کے لیے اہلکار کو اشارہ کیا۔
’’آپ دو منٹ میری بات سن لیں مہربانی ہوگی‘‘۔ مدعی نے ہمت کی اور آگے بڑھ کر جج کو کہنے کی کوشش کی۔ ۔ ’’ یہ جو درخواست میں لکھا تھا یہی سچ تھا۔ آپ اس کو ایسے رہا نہیں کر سکتے ہیں۔ ‘‘یہ کہتے ہوئے اس نے ایک نفرت بھری نگاہ ملزم پر ڈالی جو ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
وہ تھکے قدموں سے تھانے کی عمارت کے آگے رکا۔ اس نے کچھ دیر سوچا۔ پھر لمبی سانس لے کر وہ اندر داخل ہو گیا۔
ایس ایچ او اس کو جانتا تھا اس نے اس کو اس حال میں دیکھا تو سبب دریافت کیا۔ اس نے ویران آنکھوں سے اس کی جانب دیکھا اور اپنی بغل میں دبائے ہوئے صافے کو اپنے اور اس کے درمیان میز پر رکھ کر کھولنے لگا۔ اچانک محرر نے آ کر نا معلوم لاش ملنے کی اطلاع دی۔ اور ایس ایچ او اس کی بات سنے بنا اٹھ کر محررکے ساتھ چل دیا۔ بنا جانے وہ کیا دکھانے یا کیا کہنے آیا تھا۔ وہ وہیں بیٹھ کر اس کی واپسی کا انتظار کرنے لگا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
نور محمد کے خاندان میں صرف اس کی ماں تھی۔ اور باقی جو بھی رشتہ دارتھے، وہ شہر جا کر بس گئے تھے۔ اس کو اور اس کی ماں کو ان کی تھوڑی سی زمین کی محبت کہیں نہیں جانے دیتی تھی۔ ماں نے اس کی شادی ساتھ والے پنڈ کی برکت بی بی کے ساتھ کر دی تھی۔ بے شک وہ کوئی بڑا زمیندار نہیں تھا۔ مگر جب سے اس کی شادی برکت بی بی سے ہوئی تھی ہر چیز میں برکت پڑ گئی تھی۔ وہ کہتے ہیں نا کہ رزق عورت کے مقدر سے ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات سچ ثابت ہوتی ہوئی نظر آتی تھی۔
گھر میں کھولی ہوئی دکان کی آمدن پہلے سے زیادہ ہونے لگی تھی۔ بھینس نے اب کے بار کٹی دی تھی۔ دودھ بھی زیادہ ہو گیا تھا۔ وہ اسے اپنی خوش نصیبی کی بجائے اپنی گھر والی کی برکت سمجھتا تھا۔ ویسے بھی ہر کوئی اس کی بڑھتی خوشحالی دیکھ کر یہی کہتا تھا کہ، بیوی نصیب والی ملی ہے۔ رفتہ رفتہ اس کا کچا پکا مکان مکمل پکا ہو گیا۔ جانوروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگیا۔ اس نے اپنے ایکڑ کے ساتھ بکنے والا ایکڑ بھی خرید لیا تھا۔ کام بڑھا تو دکان نظر انداز ہونے لگی تھی۔ اس کے لیے اس نے ماں سے بات کی تو اس نے اگلی گلی کے رشید کے بیٹے وارث کا نام لیا۔ جو سکول بھی جاتا تھا۔ مگرگھر میں غربت کا راج تھا۔ اس کا باپ دوسروں کی زمینوں کے کام کاج کر کے اپنا اور وارث کا پیٹ پالتا تھا۔ اور وارث بھی اکثر لوگوں کے چھوٹے موٹے کام کر کے اپنا جیب خرچ نکلال لیتا تھا۔ ماں اس کے بچپن میں ہی گزر چکی تھی۔

نور محمد اور برکت بی بی کی ہر لحاظ سے مکمل زندگی میں بس ایک چیز کی کمی تھی۔ ان کے اولاد نہ تھی۔ جس کے لیے اس نے ہر دربارپر منتیں مان لیں تھیں۔ ہر طرح کے ٹونے ٹوٹکے کر لیے تھے۔ شہر کے بڑے بڑے ڈاکٹروں کو بھی دکھا لایا تھا مگر کوئی دعا کوئی دوا ابھی تک کام نہ آئی تھی۔ نور محمد کی ماں بھی پوتا یا پوتی کی خواہش لیے قبروں میں جا سوئی تھی۔
وارث کو جب سے کام پر رکھا گیابرکت بی بی کے بچوں کے لیے پیار کو ایک راستہ مل گیا۔ وارث تو پہلے ہی ماں کے پیار کو ترسا ہوا تھا۔ اب وارث کے باپ کو شکوہ رہنے لگا کہ وہ گھر واپس نہیں آتا۔ لیکن ایک لحاظ سے وہ مطمئن ہو گیا کہ بر کت بی بی جیسی سمجھدار عورت کے ہاتھوں اس کی تربیت اچھی ہو جائے گی۔
وہ ایک گھٹن زدہ دن تھاجب ہوا بالکل بند تھی۔ آسمان پر بہت سے بادل جمع تھے۔ نہ برستے تھے اور نہ چھٹتے تھے۔ سانس لینا محال سا لگتا تھا۔ اچھے خاصے بندے کا دل گھبرا تا ہے۔ برکت بی بی کی طبعیت کچھ اچھی نہ تھی۔ اس نے ایک گھر چھوڑ کر رہنے والی گاماں مائی کو بلا بھیجا۔ ادھر اچانک بادل گرج کر برسنا شروع ہوئے اور ادھر گاماں نے خوشخبری کا نعرہ لگایا۔ برکت بی بی پہلے بچے کے ہونے کا احساس لے کر ایک عجیب سی کیفیت میں بیٹھی تھی۔ اور ادھر نور محمد برستی بارش میں حلوائی کی طرف بھاگا جا رہا تھا۔ ۔
اللہ کی جب مرضی ہو تو دعائوں کا صلہ بنا مانگے ہی دے دیتا ہے۔ چاہے اس وقت تک انسان کی امید ختم ہی کیوں نہ ہو چکی ہو۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
’’ نور محمد تجھے شائد بیٹا چاہیے تھا۔ جو تیرا وارث ہوتا۔‘‘ برکت بی بی نے بیٹی کو چارپائی کے ساتھ بندھے جھلنگے میں ہلاتے ہوئے کہا۔
’’ او نہیں برکتے۔ ۔ میں تو صرف اس کے نصیب سے ڈرتا ہوں۔ اماں کہتی تھیںکہ دھیوں کا نصیب تو سورج کو بھی گرہن لگا دیتا ہے۔ اس کا نام میں نے خوش نصیب اسی لیے رکھا کہ نام کی طرح خوش نصیب ہو‘‘۔ نورمحمد نے اس کی بات کا جواب دیا۔
اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ ’’اماں گڑیا جاگ رہی ہے۔‘‘ وارث نے وہیں سے آواز لگائی۔
نور محمد اور برکت بی بی ہنس پڑے۔
’’ لے بھئی برکتے وارث تو اس کو تیرے پاس نہیں چھوڑنے والا‘‘۔ نور محمد اپنا صافہ لے کر اٹھا۔ اس نے بات تو کر دی، لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا، کہ کبھی کبھی مذاق کی کہی بات پوری ہو جاتی ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
وقت گزر ہی جاتا ہے۔ اچھا گزرے یا برا۔ یہ وقت کی بہت اچھی یا بہت بری عادت ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ ا، نسان کی عمر میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے جذبات اور محسوسات بھی بدل جاتے ہیں۔ وارث اور خوش بخت دونوں عمر کے اسی دور سے گزر رہے تھے۔ فرق اتنا تھا کہ وارث کو وقت کی تلخی اور حالات نے اتنا سمجھدار ضرور بنا دیا تھا کہ وہ ہر کام سوچ سمجھ کر کرتا تھا۔ ویسے بھی وہ خوش نصیب سے عمر میں بڑا تھا۔ خوش نصیب کو لاڈ بھری زندگی ملی تھی اس کی ہر خواہش اور ہر خوشی کو مقدم رکھا گیا تھا۔ اس لیے اس کی عادتیں بھی چلبلی تھیں۔
وارث اس کو اکثر منع کرتا تھا کہ دکان پر نہ آیا کرے۔ ہر طرح کے لوگ وہاں آتے جاتے رہتے ہیں اس لیے اچھا نہیں لگتا۔ مگر وہ اکژ دوکان اور گھر کے درمیان بنی چھوٹی سی کھڑکی نما دروازے سے اس کو ستانے اور چڑانے کے لیے آن وارد ہوتی۔ وارث اس کی اس حرکت پر چپ چاپ اس کو گھورتا رہتا تھا۔ شام کو برکت بی بی کو اس کی شکائیت لگانا نہیں بھولتا تھا۔ وہ بھی ہنس کر ٹال دیتی تھیں کہ بچی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ سمجھ جائے گی۔

وقت کے ساتھ ساتھ گائوںایک اچھا خاصا قصبہ بن چکا تھا۔ جب سے پاس میں کاٹن فیکٹری بنی تھی، لوگوں کا آنا جانابھی زیادہ ہو گیا تھا۔ اس دن گائوں کی کاٹن فیکٹری میں کپاس کا تول ہو رہا تھا اور بیچنے والے بیوپاریوں کی وجہ سے چہل پہل زیادہ تھی۔
وہ دوکان پر کھڑا گاہکوں کو سامان دے رہا تھا۔ اچانک اس کے عقب میں کھڑکی کھلی۔ اس میں سے خوش نصیب نے سر نکالا اور اس سے مخاطب ہوئی۔ ’’وارث آدھ کلودال دے دو اماں کہہ رہی ہیں۔ ‘‘ اور پھر اس کے جواب کا انتظار کیے بنا ہی کھڑکی سے کود کر دوکان میں داخل ہو گئی۔ ’’ تمہیں پتہ ہے آج دال چاول بنیں گے۔ ‘‘اس نے چٹخارہ بھر کر کہا۔ اورچاول کی بوری پر چڑھ کر بیٹھ گئی۔ اور گاہکوں کا جائزہ لینے لگی۔ وارث اس دوران کسی گاہک کو سامان دینے میں مصروف تھا۔ اس لیے خاموشی سے اس نے اس حرکت کو دیکھا۔ اور صرف گھورنے پر اکتفا کیا۔
’’ بھائی جی آپ کے دو سو روپے ہو گئے ہیں‘‘۔ اس نے سامان کا شاپر گاہک کو پکڑاتے ہوئے کہا۔
’’نہ جی میرے پاس پانچ ہزار کے کھلے نہیں ہیں۔‘‘ اس نے گاہک کو کہا۔ جو اپنے ہاتھ میں پانچ ہزار کا نوٹ تھامے کھڑا تھا۔
’’اب کیا کریں۔ میرے پاس جو کھلے پیسے تھے وہ فیکٹری آتے ہوئے راستے میں پنکچر پانی پر لگ گئے‘‘۔ گاہک نے اس کو بتایا۔
’’ کوئی بات نہیں جی آپ ہمارے پنڈ کے مہمان ہیں۔ اب کے بار رہنے دیں۔ اگلی بار جب آئیں تب دے دینا۔ ‘‘ اس نے نرمی سے گاہک کو جواب دیا۔
’’ہاں یار۔ پرسوں آنا ہے میں نے۔ تب دے دوں گا۔ تب تک تو ایک کام کر۔ اس کو میرے نام سے ادھار کے کھاتے میں لکھ لے۔ میرا نام ندیم ہے۔ تو چاہے تو میرا نمبر بھی لکھ لے۔ ‘‘گاہک نے اس کو بتایا۔ وارث نے اس کے کہنے پر ادھار کے کھاتے میںلکھ لیا۔ اور ساتھ ہی اس کا موبائل نمبر بھی درج کر لیا۔
اس کے جانے کے بعد وہ مڑا اور بوری پر چڑھ کر بیٹھی خوش نصیب کوایک بار پھر سے گھور کر دیکھا۔ اور ناراضگی سے بولا۔
’’کتنی بار منع کیا ہے۔ ایسے دوکان میں نہ آیا کر۔ اب تو بڑی ہو گئی ہے۔ لوگ آتے جاتے ہیں۔ اور اب تو باہر کے پنڈ سے بھی لوگ آتے ہیں۔ مگر تو سمجھتی ہی نہیں ہے۔‘‘ وہ دال نکال رہا تھا اور ساتھ ساتھ مسلسل بول رہا تھا۔ دال تول کر اس نے شاپر خوش نصیب کے ہاتھ میں پکڑایا۔ وہ اچھل کر بوری سے اتری اور بولی۔
’’تو نا۔ ۔ ۔ میری فکر نہ کیا کر۔ اپنے بارے میں سوچ۔ میں اپنا خیال رکھ لوںگی۔‘‘ اس نے تنک کر اس سے کہا اور دوبارہ کھڑکی سے گھر میں کود گئی۔ ۔
’’ہاں اپنی فکر ہی تو ہے۔‘‘ اس نے خود سے کہا۔ اس کی آنکھوں میں اس کا کھلتا سانولا رنگ، بڑی بڑی آنکھیں اورکالی لمبی چٹیا لہرا گئی۔ وہ اپنے خیالات جھٹکتا ہوا آنے والے گاہک کی طرف متوجہ ہو گیا۔

دوسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: