فرائیڈ! ہم شرمندہ ہیں —- ڈاکٹر فرحان کامرانی

1
  • 79
    Shares

علم نفسیات پڑھ کر ہمیں پہلی بار یہ محسوس ہوا تھا کہ ہم کوئی حقیقی علم پڑھ رہے ہیں، ایک ایسا علم جو ہمیں حیات اور کائنات کی آگاہی میں مدد دیتا ہے۔ اُس وقت جامعہ کراچی کے شعبہ نفسیات میں’’بابائے نفسیات‘‘ سگمنڈ فرائیڈ کو ہی سمجھا جاتا تھا۔ گو کہ اِس ’’باپ‘‘ کے خلاف سازشوں کا آغاز ہو چکا تھا اور اسے فلم ’’باغبان‘‘ کے ہیرو کی طرح ڈپارٹمنٹ سے دیس نکالا دیا ہی جانے والا تھا۔ 1856ء میں سابقہ آسٹرو ہنگرین امپائر میں جنم لینے والے اس نفسیاتی معالج میں ایسا کیا خاص تھا کہ ایک عالم اس کی تعریف یا تنقیض میں مگن ہے اور اب خود اہل نفسیات اُس کو گہرا دفن کر دینے کے درپے ہیں؟

فرائیڈ نے بنیادی طور پر طب کی تعلیم حاصل کی تھی۔ یہاں اس کا پالا ایسی بیماریوں سے پڑا کہ جو جسمانی وجوہ نہ رکھتی تھیں یعنی جو نہ کسی وائرس کا نتیجہ تھیں نہ کسی عضو کی خرابی کا، نہ ہی کسی اور نوع کی جسمانی بنیاد رکھتی تھیں مگر انسانوں کو گھیرے ہوئے تھیں۔ اس وقت ’’اسٹرکچرل ازم‘‘ اور ’’فنکشنل ازم‘‘ نام کی تحاریک نے علم نفسیات کو گھیر رکھا تھا اور ان بیماریوں کو کوئی توجیح موجود ہی نہ تھی۔ فرائیڈ خدا کا انکاری تھا اس لئے روح کے تصور اور روحانی بیماری اور علاج کے تناظر میں بھی ان بیماریوں کو دیکھنے سے قاصر تھا۔ یہاں اس نے ایک نئی راہ نکالی، اس نے سائیکی (Psyche) یعنی معروف معنوں میں مائنڈ (Mind) کے تصور کی بنیاد ڈالی۔ ’’مائنڈ‘‘ جو ’’روح‘‘ نہیں تھا بلکہ اگر کمپیوٹر کی اصطلاح میں بات کریں تو ہمارے جسم کے ہارڈ ویئر میں انسٹالڈ سافٹ ویئر کا درجہ رکھتا ہے۔ مگر بات صرف یہیں تک کی نہیں تھی۔ فرائیڈ نے انسانی لاشعور کو دریافت کیا اور یہ بتایا کہ انسان کے افعال صرف شعور اور سوچ کا ہی حاصل نہیں ہوتے بلکہ انسان کی خواہشات اور جذبات کا حقیقی پاور ہاؤس تو لاشعور ہے۔

فرائیڈ نے بتایا کہ انسان کے افعال کے پیچھے دو ہی قسم کے محرکات ہوتے ہیں، دو ہی قسم کی جبلتیں کارفرما ہوتی ہیں۔ جنسی جبلت یعنی محبت اور موت کی جبلت۔ فرائیڈ نے انسانی جنسی جذبے کو بلوغت پر پیدا ہو جانے والا کوئی جذبہ قرار نہ دیا بلکہ بچے کی ولادت کے لمحے سے ہی اس میں جنسی اور موت کی جبلت کے مظاہر دیکھے اور اپنی کتاب میں وضاحت سے بیان کیے۔ فرائیڈ کے نزدیک دراصل انسانی نفسیاتی نشونما، جنسی نفسیاتی مراحل (Psycho-sexual stages) میں ہوتی ہے۔ بچہ ماں کے دودھ پینے کے عمل اور بعد ازاں فضلہ کے اخراج اور پھر اعضاء تناسل کی چھیڑ خانی اور پھر ایک جنسی سناٹے کے بعد بالغ جنسیت کی صورت میں اپنی جنسی جبلت کا اظہار کرتا ہے۔ فرائیڈ نے جنسی قوت کے اظہار کو اس کی خالص اور خام صورت میں ہی ظاہر ہونے کا بیان نہیں کیا بلکہ سماجی اصولوں کی وجہ سے جنس پر اور غصہ پر جو قدغن لگتے ہیں، اس سے یہ قوتیں مختلف صورتوں میں ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ فرائیڈ کہتا ہے کہ تہذیب کی ابتداء اس دن ہوئی کہ جس دن انسان نے پتھر مارنے کی جگہ گالی بکی۔

فرائیڈ نے مذہب کا انکار کیا اور اسے اجتماعی خوف سے بچنے کا طریقہ بتایا مگر خود فرائیڈ نے مذہب کا انکار کر کے بھی ایک خالص اخلاقی زندگی گزاری۔ بس وہ سائناگوگ نہ جاتا تھا۔ وہ کسی اور طرح کی زندگی گزارنے کے خود بھی خلاف تھا، اس لئے کہ Sublimation کو وہ خود بھی خام جنسیت یا خام جبلت مرگ پر فوقیت دیتا تھا۔ اس دور میں کہ جب فرائیڈ نے اپنی تحقیقات پر مبنی کتب تحریر کیں، ایک طوفان برپا ہو گیا۔ عیسائیت گو کہ مغربی معاشرے اور سیاست سے نکل رہی تھی مگر پھر بھی سماج کے لئے ایسا کوئی نظریہ قابل قبول نہ تھا کہ جو یوں انسانی نفس کی حرکیات میں جنس کو اور غصے کو بطور جوہر تسلیم کر لے۔ فرائیڈ مذاہب کو نہیں مانتا کیوں کہ وہ خدا کو نہیں مانتا مگر وہ یورپ کا ایسا پہلا شخص نہیں تھا۔ شوپنہار، نطشے اور مارکس وغیرہ بلکہ اگر مذہب کی تردید کرنے والے اہل یورپ کی فہرست مرتب ہو تو دفتر کے دفتر بھر جائیں۔ کچھ لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ فرایڈ کو دراصل منکر خدا ہونے کے باعث نکالا اکیڈیمیا سے نکالا جا رہا ہے جو کہ بالکل غلط ہے۔ دراصل اس لئے نہیں ہے کہ وہ تردید مذہب کرتا ہے، اس خوف کی اصل وجہ یہ ہے کہ فرائیڈ نے لاشعور کو انسانی افعال کے پیچھے موجود اہم ترین محرک قرار دیا ہے۔

ایک ایسا متحرک جو نامعلوم ہے مگر نفس انسانی کو حرکت دیتا ہے۔ ایک ایسا محرک جو خوشی اور غم کا حقیقی ماخذ ہے مگر اس کی بنیاد نہ انا میں ہے نہ ضمیر میں نہ بیرونی حقیقت میں۔ یہ اتنی Unmanagable بات ہے، یہ بات اپنے اندر اتنا بڑا سونامی ہے کہ اس پر کوئی بند باندھا ہی نہیں جا سکتا۔ اگر ہمارے لوگوں اور نام نہاد نفسیات دانوں کو فرائیڈ اس لئے ناقابل قبول ہے کہ وہ خدا کو نہیں مانتا یا وہ ’’مخرب‘‘ باتیں کرتا ہے تو اہل مغرب کیوں فرائیڈ کو تہہ خانوں میں چھپا دینا چاہتے ہیں جو خودخام جنسیت اور خام جبلتِ موت کی تصویر بنتے ہی چلے جارہے ہیں اور خدا کا انکار وہاں کی زندگی کا سب سے بڑا مظہر ہے؟ وہ کیوں فرائیڈ سے بھاگ رہے ہیں؟ کوگنیٹو (Cognitive) نفسیات یا بی ہیویئرازم (Behaviourism) اسی لئے مغرب اور ہمارے یہاں یوں ہاتھوں ہاتھ لیا جا رہا ہے کہ سوچیں اور رویے تو مینج (Manage) کیے جا سکتے ہیں مگر لاشعور؟

مگر مسئلہ یہ ہے کہ فرائیڈ کی سائیکو انالیسس (Psychoanalysis) کا کورس نصاب سے نکال دینے والے بھی ابھی تک جنسی جبلت اور جبلت موت کے گھیرے میں نظر آتے ہیں۔ انہیں نے بھی بچپن میں چیونٹیوں اور کیڑوں کو جوتوں سے کچل کچل کر مارنے میں مزہ پایا ہے اور اپنے پیشاب پر پیر مار کر ’’چھپ چھپ‘‘ کیاہیں۔ کوگنیٹو نفسیات اور ’’بی ہیویئرازم‘‘ ان مظاہر کا کیا جواب دے سکتے ہیں بھلا؟ حالانکہ کوگنیٹو نفسیات اور ’’بی ہیویئرازم‘‘ دہریت کی وہ اگلی منازل ہیں کہ فرائیڈکی سائیکو انالیسس تو اس کے پاسنگ میں بھی نہیں اس لئے کہ فرائیڈ ایک نامعلوم حقیقت یعنی لاشعور پر تو ’’ایمان‘‘ رکھتا ہے جب کہ یہ اسکنر، واٹسن، ہیک، ایلس وغیرہ تو بس جو دیکھتے ہیں وہی مانتے ہیں۔ بلکہ مانتے تو اس کو بھی نہیں ہیں بلکہ ایسے سوالات پر جب رویوں کی وجوہات پوچھی جائیں تو سوال کرنے والوں کو جھڑک کر کہتے ہیں کہ ’’چھوڑو وجوہات کو‘‘ بس رویوں کو manage کرنا سیکھو‘‘۔

جامعہ کراچی کے نصاب میں فرائیڈ جتنا 2005ء میں تھا، آج اس کا 10 فیصد بھی نہیں ہے۔ ہمیں جو اساتذہ یہ بتایا کرتے تھے کہ فرائیڈ جدید علم نفسیات کا باپ ہے آج جب ہم اُن سے کبھی ازراہ مذاق یہ پوچھ لیتے ہیں کہ اب کون ہے نفسیات کا باپ تو وہ گھبرا جاتے ہیں۔ حال ہی میں اس سوال کا ایک مزاحیہ جواب ہمیں سننے کو ملا کہ ’’کسی علم کا کوئی باپ نہیں ہوتا، فرائیڈ نے نفسیات کا علم ایجاد تھوڑی کیا تھا‘‘۔ ہم نے سوال تھوڑا بدل کر پوچھ لیا، کہ پھر یہ بتا دیجئے کہ علم نفسیات کی اہم ترین شخصیت کون ہے؟ جواباً گھبراہٹ اور بڑھ گئی اور کافی غور و خوض کے بعد کارل یونگ (Carl Yung) کا نام لیا گیا۔ ہماری ہنسی چھوٹ گئی۔ عجیب بات ہے کہ یونگ کے پاس سوائے فرائیڈ کی اترن کے کچھ بھی نہ تھا اور وہ کبھی بھی اس طرح ایک تحریک نہ بن سکا جیسا کہ فرائیڈ بنا مگر لاشعور سے خوفزدہ لوگوں کے لیے فرائیڈ قابل قبول نہیں، مگر یونگ ہے۔ اس لئے کہ یونگ کے یہاں لاشعور بھی ایک مذاق ہے، ایک زنجیروں میں بندھا ہوا کمزور سا گیدڑ۔ فرائیڈ کے لاشعور کی طرح ’’ڈائناسار‘‘ نہیں۔

فرائیڈ ہی جدید علم نفسیات کا باپ ہے اور فرائیڈ کی صحیح تنقید بھی اس کے علم اور آگاہی سے ہی پیدا ہو سکتی ہے، اس سے آنکھ بند کر کے نہیں۔ مگر اس جھوٹ کے دور میں کون اتنی محنت کرے، کون شعور کی آرام گاہ سے لاشعور میں جھانکنے کی جرأت کرے، کون خود کا تجزیہ کرے؟

خیر فرائیڈ کو دیس نکالے پر نفسیات کے اساتذہ بڑے خوش ہیں، اب جنس سے متعلق تو کوئی موضوع تو پڑھانا نہیں پڑتا اور فرائیڈ جیسا گہرا فلسفہ پڑھانا کون سا بچوں کا کھیل تھا؟ پڑھانے والے کی ہی ساری قابلیت کا پردہ کھل جاتا تھا، مگر اب سب کے لئے آسانی ہے، سب خوش کہ فرائیڈ مع لاشعور کے اب علم نفسیات کی درسگاہوں سے بھی رخصت ہوا۔ مگر میں فرض کفایہ کے طور پر تحریر میں فرائیڈ سے شرمندگی کا اظہار کرتا ہوں۔ بحیثیت استاد علم نفسیات، میں کم از کم یہ اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ فرائیڈ ہی جدید علم نفسیات کا باپ ہے اور فرائیڈ کی صحیح تنقید بھی اس کے علم اور آگاہی سے ہی پیدا ہو سکتی ہے، اس سے آنکھ بند کر کے نہیں۔ مگر اس جھوٹ کے دور میں کون اتنی محنت کرے، کون شعور کی آرام گاہ سے لاشعور میں جھانکنے کی جرأت کرے، کون خود کا تجزیہ کرے؟ اس سے آسان ہے کہ آنکھ بند کر لو اور فرائیڈ کو نکال دو بلکہ کہہ دو کہ فرائیڈ کوئی تھا ہی نہیں، کبھی پیدا ہی نہیں ہوا۔ یہ جس فرائیڈ کا نام کبھی سننے کو مل جاتا ہے یہ تو ایک ’’لاشعوری‘‘ الجھن ہے اور بس۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. ’’تخلیقی عمل اور اسلوب ‘‘ میں محمد حسن عسکری کا ایک مضمون شامل ہے جس میں انھوں نے فرائیڈ اور یونگ کی نفسیات کا تقابلی مطالعہ کیا ہے، کامرانی صاحب کے یہ مضمون عسکری صاحب کے مضمون کی تفصیل اور تشریح بھی ہے۔
    عسکری کا آخری جملہ غالباً کچھ یوں تھا: ’’یونگ پرستوں کی بھیڑ میں بھی فرائیڈ زندہ باد!‘‘

Leave A Reply

%d bloggers like this: