درپردہ : مسعود کتابدار — جاہل آدمی کا علم

0

شاہد اعوان صاحب کا خیال ہے کہ راقم الحروف  اس قابل ہے کہ وہ  پاکستان کے صحافتی معیار کے مطابق  کالم لکھ سکے مگر مجھے خود اس بارے میں کوئی خوش فہمی نہیں ہے کیونکہ میں  غالب کا طرفدار ہوں اور سمجھتا ہوں کہ :

میں کہاں کا دانا ہوں ، کس ہُنر میں یکتا ہوں

بایں ہمہ ، میں شاہد اعوان صاحب کا دل رکھنے کے لیے ایک گفتگو کا آغاز  کر رہا ہوں اور مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ کوئی میری تحریر کو پسند کرتا ہے یا نہیں ۔ اگر کوئی قاری ناک بھوں چڑھاتا ہے تو میں اُس کا شکر گزار ہوں گا کیونکہ فی زمانہ کوئی اس قدر ردِ عمل بھی مفت میں ظاہر نہیں کرتا ۔ 

مسعود کتابدار

میں ہر روز پاکستانی ٹی  وی کے ٹاک شوز دیکھتا ہوں ۔ اس کے دو فوائد ہیں :  ایک تو ذہنی تفریح کے لیے اس سے بہتر کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ۔ آپ بیک وقت سانپ نیولے ، ریچھ کُتے اور اصیل مرغوں کی لڑائی سے لطف اندوز ہونے کی مسرت حاصل کرتے ہیں اور دوسرے پاکستان کے  سیاسی ہاتھا پائی  کلچر سے بھی  بہرہ اندوز ہوتے ہیں ۔ بعض اوقات لگتا ہے کہ شرکاء ایک دوسرے کو جاہل جاہل کہ کر  دوطرفہ سچ بول رہے ہیں ۔

جاہل آدمی کے علم کے بارے میں عربی کا ایک ناقابلِ فراموش شعر موجود  اور دستیاب ہے ، جس کو پڑھ کر کسی شرمیلے آدمی پر ندامت اور شرمندگی کا دورہ پڑ سکتا ہے ۔ لیکن اس عہد کے لوگ جو منافقت کے نفیس ترین ادارے سے وابستہ ہیں اور منافقت کی منفی قدروں کی بنیاد پر استوار معاشرے میں رہتے ہیں ، اپنی نجی محفلوں میں ہر قسم کی لسانی پورنوگرافی کو جائز سمجھتے ہیں ۔ ہم چونکہ صرف ایک دوسرے کے سامنے ایکسپوز ہونے سے ڈرتے ہیں ، اس لیے اللہ رب العزت کی پروا کیے بغیر ، پردے کی اوٹ میں ہر طرح کی داستانی فحاشی سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ اس داستانی پورنو گرافی کی ایک  شاندار مثال الف لیلیٰ کی کہانیاں ہیں ۔

پردہ یا برقعہ ہمارے ایمان کا ایک بنیادی جزو  رہا ہے اور جزوی طور پر اب بھی ہے ۔ ہم پردہ صرف خواتین پر ہی نافذ نہیں سمجھتے بلکہ  خود بھی بہت کچھ پردے کی اوٹ میں کرتے ہیں  ۔ ہمارے معاشرے میں پردہ دار مردوں کی بت بڑی تعداد ہے جن میں لال مسجد کے مولوی عبد العزیز شامل نہیں ہیں ۔ خواجہ حافظ شیرازی کا ایک شعر اس سلسلہ ء پردہ داری پر ڈنکے کی چوٹ ہے ۔ فرماتے ہیں :

واعظاں ، کیں جلوہ بر محراب و منبر می کُنند

چوں بخلوت می روند ،  آں کارِ دیگر می کنند

( یہ واعظ لوگ جو محراب کی اوٹ میں منبر پر کھڑے ہو کر روشنیاں برساتے ہیں ، جب وہ  اپنی تنہائی کے نگار خانے میں ہوتے ہیں تو وہ کچھ اور ہی کرتے ہیں ) ۔ یہ کچھ اور کیا ہے ؟ اب یہ پردے کی باتیں ہیں ، میں کیا عرض کروں؟

اِس مردانہ پردہ داری کو ہم ایک اعلیٰ اخلاقی قدر قرار دیتے ہیں  ۔ ہم میں سے مومنین کا ایک گروہ ہے جو چھپ کر شراب پیتا ہے ، ماورائے ازدواج جنسی روابط سے متمتع ہوتا ہے ، ٹیکس چوری کرتا اور دولت کے حصول کے لیے چائنا کٹنگ سے لے کر منی لانڈرنگ تک ہر ناجائز ذریعے کو جائز قرار دیتا ہے ، اور یہ سب کچھ دیدہ دلیری سے کر کے  بھی اسلام سے اپنی بے لوث وابستگی پر حرف نہیں آنے دیتا ۔ اسے کہتے ہیں سونے پہ سہاگہ ۔ اگر کوئی سیاسی یا فرقہ بند مخالف ان منفی اعمال اور رویوں پر اعتراض کرے تو ہم اُسے اسلام کا  دشمن ، یہودی ایجنٹ ، راندہ ئ درگاہ اور مودی مزاج قرار دے کر ردی کی ٹوکڑی میں ڈال دیتے ہیں ۔  ایک جاہل آدمی کا علم فقط نظریاتی اور کتابی ہوتا ہے ۔  یہ علم بالعموم سیکنڈ ہینڈ ہوتا جسے ہم دوسروں سے خیرات میں حاصل کرتے ہیں اور اُن پر بے سوچے سمجھے ایمان لاتے ہیں ۔ لنڈے کے اِس علم پر ہمارا ایمان ، اللہ تعالیٰ پر ایمان سے بھی کئی گنا مضبوط ہوتا ہے ۔

قارئین ! میرا ایک سوال ہے ۔ اس سوال پر میری گوشمالی نہ کیجیے گا  بلکہ میرے سوال کو عواقب و جوانب سے جانچ کر مجھے اصل حقیقت سمجھائیے گا ۔ سوال یہ ہے  کہ کیا ایک  شخص جو یونی ورسٹی سے اعلیٰ تعلیمی ڈگری یافتہ ہے ، اتنا صاحبِ فہم ہوجاتا ہے کہ زندگی کے مسائل اور اعمال و افعال  کے نفع نقصان کو سمجھ سکے ؟ یاد رہے کہ علمی اصطلاح میں سمجھنے کا مطلب عمل کی استعداد حاصل کر لینا ہے ۔

مثال کے طور پر کیا وہ سگریٹ کے پیکٹ پر لکھا ہوا یہ جملہ کہ تمباکو نوشی قتل کرتی ہے ، پڑھ کر سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ؟ اگر نہیں تو پھر وہ قرآنِ حکیم جیسی آسمانی کتاب کو کیسے پڑھ اور سمجھ سکتا ہے ؟ جبکہ قول اور عمل ایک ہی سکے کے دو رُخ اور لازم و ملزوم ہیں ۔ تو ان جامعات اور مدرسوں میں کس قسم کا علم دیا جا رہا ہے ؟  گلا گھونٹ دینے کا علم کہ لا الہ کی صدا ہمیشہ کے لیے مر جائے ؟

گلا تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے ترا

کہاں سے آئے صدا لا الہ الاللہ

مگر اس کے باوجود لا الہ کی صدا ہمیشہ آتی رہتی ہے ، کیونکہ یہ تلاوت اور وظیفہ اب انسانوں سے زیادہ  ٹیپ ریکارڈر ، سی ڈی پلیئر اور کمپیوٹر کرتے ہیں ۔ بچوں کے لوہے کے طوطے جنہیں  پرسنل کمپیوٹر یا ڈیٹا مشین کہا جاتا ہے ، پورا قرآن فر فر سنا سکتے ہیں اور کسی بھی غلطی کے بغیر ۔  ٹیکنالوجی کی اس پیش رفت اور تسلط کے دور میں کالجوں ، یونی ورسٹیوں اور مدرسوں کا کردار کیا ہونا چاہیے؟

ان تعلیمی اداروں کا ہمیشہ سے ایک ہی کردار مقرر ہے کہ وہ کردار اور سیرت کی اعلیٰ عملی تربیت کے ذریعے لکھنے پڑھنے کے ساتھ ساتھ اچھے ، قانون کے پابند اور ذمہ دار شہری تیار کریں  ، کیونکہ مسلمان ایک اعلیٰ کردار کے حامل انسان کا خطاب ہے ۔ وہ اچھا انسان جو معاشرے میں اپنے عمل سے اسوہ ء حسنہ کی تصویر مرتب کرتا ہے  ۔ لہٰذا ، جس مسلمان کے عمل سے خُلقِ عظیم کی مہک نہ آئے وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گلستانِ رسالت کا پھول نہیں ہے ۔  جو شخص اپنے مسلمان ہونے کے دعوے کا عملی ثبوت پیش نہ کرے اس کا دعویٰ جھوٹ ہوگا اور جھوٹا لعنتی ہے ۔ لعنتہ اللہ علی الکاذبین ۔

 

 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: