پاکستان کے چند حقیقی مسائل اور معاشی ترقی کے خواب — راو جاوید

0
  • 14
    Shares

ترقی کرنے سے ملک کو کون روکتا ہے؟ اسکا درست جواب تو شاید خدا ہی جانتا ہے۔ مگر ہم جیسے ناچیز قسم کے معاشی طلباء اس کی کھوج میں اپنی زندگی گزارتے گزارتے خود اس جہانِ فانی سے گزر جاتے ہیں۔

توقعات بھی بے تحاشا ہیں۔ ابھی میرے سامنے ڈان نیوز کی فروری کی خبر ہے کہ پاکستان 2050 تک دنیا کی سولہویں بڑی معیشت بن پائے گا۔ یہ اٹلی اور کینیڈا سے آگے بڑھ جائیگا۔ اس توقع کے پالنے میں بڑے بڑے عالمی ادارے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔

اکنامکس کی کتابیں پڑھیں تو ایک طویل کتھا ہے۔ زیادہ تر کتب شعبہ جاتی مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ہماری برآمد کم اور درآمدات زیادہ ہیں۔ ہماری پیداوار اس قدر کم ہے کہ برآمد کرنے کو کچھ بھی نہیں بچتا۔ ہمارے مزدور اور افرادی قوت کی استعداد بہت کم ہے۔ تعلیم اور صحت پت اخراجات کم ہیں۔ مسائل کی بھرمار ہے۔ ایسے ہی ہمارے کارخانوں کی مشینری پرانی ہے۔ ہمارے ٹیکس کا نظام ناکارہ ہے جس کی بناء پر عوام پر ضرورت سے کہیں زیادہ بوجھ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں جدید ترین ٹیکنالوجی حاصل نہیں ہوتی۔ ہم ترقی اور تنوع کیلئے اس قدر کم خرچ کرتے ہیں کہ ہمارے یہاں ایجادات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ غرض تمام ہی معاملات میں ہمیں پیچھے دکھایا جاتا ہے۔ معیشت کی ایک ہوش اڑا دینے والی تصویر دکھا کر ہمیں دلا دیا جاتا ہے۔ ایسے میں توقعات کا پہاڑ ہمیں ناممکن نظر آتا ہے۔ کون اس پہاڑ کو عبور کرے گا؟

کسی نے آج تک پاکستان کے بوجھ کو سمجھا نہیں۔ صرف اسکی مشکلات اور راستے کے ترقیاتی مسائل ہی کو دیکھا۔ جس نے اس ملک کے بوجھ کو نہیں سمجھا، اس نے ظلم کیا۔ جس نے اسکے بوجھ کو سمجھا لیکن اسے اختیارات دینے سے انکار کیا، اس نے اس پر مزید ظلم کیا۔ قانونِ فطرت ہے کہ جس پر بوجھ ڈالا جائے، اسے اس بوجھ سے نمٹنے کا حوصلہ دیا جائے، وسائل دئیے جائیں اور کم ازکم اختیار دیا جائے۔ لیکن ایسا نہ کرنے سے پاکستان کو توڑ مروڑ دیاگیا۔ اندر سے اس کا معاشرہ تباہ ہوگیا، اور یہ اپنی عالمی ذمہ داریاں بھی ادا نہ کر پایا۔ اس پر طرہ یہ کہ پاکستان سے امید کی جاتی ہے کہ یہ آگے بڑھ کر نئے دور کی دہلیز پر کامیابی سے رواں دواں ہوگا۔ یہ نئے دور کی ذمہ داریاں ادا کرے گا۔ عرب ممالک یہ توقع رکھتے ہیں کہ پاکستان نئے دور میں وہاں کے مسائل میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔

پاکسان کے معاشی مسائل کا اس کی سیاسی امور پر بہت دار و مدار ہے۔ اس سیاسی مشکل کا باعث چند ذمہ دار ادارے ہیں۔ پاکستان کو درحقیقت ایسے ماحول سے سابقی پیش آیا کی جسے کھولتے ہوئے لاوے سے ہی تشبیہ دی جاسکتی ہے۔ زیادہ تر وقت اس ملک کے اندر اور باہر کی جنگیں تھیں جن سے جان چھڑانا ہمارے لئے ممکن ہی نہیں تھا۔ پچھلے پینتالیس سال سے ہمارے ہمسائے افغانستان میں جنگ موجود ہے بلکہ دہک رہی ہے اور دہکائی جارہی ہے۔ ایسے ہی کشمیر کا مسئلہ 70 سے زائد سالوں سے لاینحل ہے اور اسے حل کیلئے اٹھائے گئے تمام اقدامات ناکام ہوئے۔ تین باقاعدہ اور بہت سی ان گنت بے باقاعدہ جنگیں ہماری مشکل میں اضافہ کرتی رہی ہیں۔ پاکستان بننے کی جدوجہد کو ایک جنگ شمار کیا جائے جو کہ مستقبل کی تمام جنگوں کی بنیادی وجہ بھی ہے تو یہ یہ پہلی مشکل تھی۔ اس کیساتھ ہی کشمیر پر 1948 کی جنگ دوسری، 1965 کی تیسری، 1971 کی چوتھی، روس کی افغان جنگ پانچویں، امریکہ اور اقوام متحدہ کی افغانستان ملا محمد عمر کی افغان حکومت پر یورش چھٹی اور ملک میں موجودہ خانہ جنگی ساتویں جنگ ہے۔ اس حساب سے پاکستان کو ہر دہائی میں ایک نئی جنگ سے سابقہ پیش آیا۔ ہم مسلسل ایک تباہی کی سی کیفیت میں رہے۔ 1980 کی دہائی کے بعد سے آج تک ہمیں پورے عشرے بھر کی ہنگامی صورتحال سے گزرنا پڑا ہے۔ ایسے میں کسی کا یہ کہنا کہ ہم معاشی ترقی بھی کر دکھائیں، تو یہ مرے کو مارے شاہ مدار والی بات ہے۔ پاکستان کا بطور ایک ملک باقی رہنا اور اسکا نام قائم رہنا بھی ایک بڑی جدوجہد کے بعد ہی ممکن ہے۔

پاکستان دراصل اپنی نوعیت کی عجیب مشکل سے درپیش رہاہے۔ اس ملک کو عالمی برادری میں پذیرائی نہ مل پائی لیکن شاید تمام عالم کا بوجھ اسکے کاندھوں پر ضرور سوار کیا گیا۔ ایسا کوئی ملک نہیں ملتا جسے اس قسم کی صورتحال سے مسلسل گزرنا پڑا ہو۔ پاکستان مسائلستان بنا لیکن اس نتیجے تک پہنچانے والے پاکستان کے وہ مہربان ہیں جنہوں نے اسے تباہی کا حقدار بنایا۔

جنگ مسائل کا انبار لاتی ہے۔ جنگ صرف ایک مشکل کا باعث نہیں ہوتی۔ اس کیساتھ مکمل معاشرہ اپنی پٹڑی سے اتر جاتا ہے۔ افراد کار اپنی ترجیحات جنگ کی روشنی میں طے کرتے ہیں۔ تحریکیں اور تنظیمیں اپنے رخ اس کے حساب سے بناتی ہیں۔ جائز اور درست کام بھی نادرست قرار پاتے ہیں۔ بجائے درست کے نادرست اقدامات پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔ سپاہیوں اور افسروں کی ایک لمبی چوڑی کھیپ بھرتی کرنا پڑتی ہے۔

وہ تمام امن کے داعی جنہوں نے 1990 اور 2000 کی دہائی میں امن کے نام پر پاکستان کی افواج میں کمی کا رونا رویا تھا، وہ 2006 کے بعد سے امن کیلئے دہشت گردی کے نام پر مزید سیکورٹی اقدامات کیلئے تمام تر کوششیں کرتے رہے۔ وہ تمام ادارے جنہوں نے فوجی اخراجات کے خلاف لکھتے ہوئے قلم توڑ دیئے، وہ اب کسی طور آواز اٹھا کر نہیں دیتے۔ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ ہمارے ادارے اور انکے مفکرین اپنی وقتی مصلحت کی خاطر حکمت عملی تشکیل دیتے ہیں۔ یہی مسائل کا باعث ہے۔ اگر ماضی میں وہ درست تھے تو انہیں آج بھی اس پر آواز اٹھانا چاہئیے تھی۔ اور اگر وہ غلط تھے تو انہیں قوم سے معافی طلب کرنا چاہئیے۔ لیکن کوئی بھی ادارہ پاکستان کو یہ ضمانت دلانے میں کامیاب نہیں ہوپایا کہ ہمیں مستقبل کی عالمی جنگوں سے چھٹکارا مل پائیگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک کو درپیش معاملات بڑے عجیب ہیں۔ ہمیں کل کی جنگ سے کسی طور چھٹکارا نہیں مل پائے گا۔ اس کیلئے جس قدر بھی تیاری کی گئی، وہ کم تھی۔ آئندہ بھی جس قدر تیاری کی جائیگی، وہ کم ہی ہوگی۔ یہ ہماے لئے حقیقی مسائل کا آئینہ ہے جسے قوم بھول نہیں سکتی اور نہ ہی اس سے پہلوتہی کرسکتی ہے۔

وہ ادارے جنہیں پاکستان کو غربت زدہ قرار دینے میں چنداں مشکل پیش نہیں آتی، ان سے یہ سوال ضروری ہےکہ کیا وہ پاکستان کا بوجھ بانٹنے میں مخلص تھے؟ یا کبھی آئندہ اس کیلئے اخلاص کا ثبوت دے پائیں گے؟ پاکستان کا بوجھ بڑا واضح ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کردیا جائے تو بوجھ آدھا ہوجائیگا۔ مسئلہ فلسطین حل کردیا جائے تو یہ بوجھ ایک تہائی رہ جائیگا۔ شریعت کو قانون ماننے اور دنیا بھر کے غیر ضروری قوانین کے مقابلے اسے بھی ایک اہم قانونی روایت مان لیا جائے تو پاکستانیوں کا بوجھ نہ ہونے کے برابر ہوگا۔ یہ ہمارے بنیادی مسائل ہیں۔ ہمیں ان سے عہدہ برآ ہونا ہے۔ ان سے چھٹکارا نہیں پاسکتے۔ کوئی بھی ہمارے اس بوجھ کو ہلکا کرنے میں ساتھ نہیں دیتا۔ حالانکہ جن ممالک نے ناٹو کو افغانستان پر یورش کیلئے تیار کیا، وہ ہمارے عہد کے اہم ترین چیلنج کو سمجھ نہ پائے۔ پاکستان جس نے روس کے بالمقابل ایک سد راہ کا کام کیا، وہ افغان مسائل کو بھی حل کرسکتا تھا، لیکن ایسا نہیں ہونے دیا گیا۔ اس کے برعکس امن کے نام پر تمام دنیا کی سرمایہ کاری کو تباہی کی دلدل میں دھکیل دیا گیا۔ ایسے حالات میں کیسے ترقی اور خیر کی توقع کی جائے؟ اس تمام معاشی و سیاسی تباہی کے ذمہ داران کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کرنا ہوگا۔

اس تمام کے باوجود پاکستان میں ہونے والی تمام تر کوششیں مثبت انداز میں جاری رہیں۔ پاکستان نے اس دوران میں مختلف ممالک کو ساتھ لیکر چلنے کی کوشش کی۔ اس سے جہاں فائدہ ہؤا، وہاں نقصان بھی ہوا۔ مگر مشکل حالات میں بھی کوشش جاری رکھنا زیادہ ضروری ہوتا ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: