پرائیویٹائزیشن یا نیشنلائزیشن —– راو جاوید

0
  • 21
    Shares

پچھلی حکومت کے آخری دنوں میں پی آئی اے اور سٹیل ملز کی پرائیویٹائزیشن کے خلاف بلاول بھٹو نے بیان جاری کیا تھا۔ مسلم لیگ ن اپنی پالیسی کے مطابق پرائیویٹائزیشن کی جانب بڑھ رہی تھی۔ پرائیویٹائزیشن پر سیاسی جماعتوں کی کوئی پالیسی نہیں۔ پی ٹی آئی کی ویب سائیٹ پر ایک طویل مضمون موجود ہے جس میں پرائیویٹائزیشن کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ ساتھ میں ایک حل دیا گیا ہے کہ ری سٹرکچرنگ کا ادارہ قائم کیا جائے۔ ری سٹرکچرنگ کا واضح مقصد پرائیویٹائزیشن سے جان چھڑانا ہے۔ لیکن یہ پارٹی پالیسی کے طور پر سامنے نہیں آیا۔

پیپلز پارٹی جس نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی نیشنلائزیشن کی، اسکی بھی کوئی ایسی تحریری پالیسی موجود نہیں۔ یہ شرمناک ہے۔ اس انداز سے 21 کروڑ لوگوں کا نظم و نسق نہیں سنبھالا جا سکتا۔ بینظیر بھٹو نے اپنے دوسرے دور میں پرائیویٹائزیشن کی۔ کوٹ ادو پاور کمپنی اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کو بیچنے کیلئے پیش کیا گیا۔ دونوں منافع بخش ادارے تھے۔

پاکستان میں کامیاب اداروں کو برداشت کرنے کی روایت ڈالنا ہو گی۔ یہی جمہوریت ہے کہ کوئی بھی شخص یا گروہ اپنے ادارے بنا اور چلا سکتا ہے۔ وگرنہ نقاد و صیاد قسم کے افراد سب کچھ ڈبو سکتے ہیں۔

میاں نوا شریف نے 1991 میں ڈی نیشنلائزیشن کی بڑی مہم میں 115 صنعتیں نجی شعبے کے حوالے کردیں۔ اس دوران دو بڑے بینک، 68 صنعتی کارخانے اور سوئی ناردرن گیس کے 10٪ حصص بیچے گئے۔ برطانیہ میں ایسی ہی مہم کی کامیابی کے بعد میاں صاحب کا خیال تھا کہ ملک جنوبی کوریا کی مانند ترقی یافتی شمار کیا جائیگا۔

نجی شعبے یا عساکرِ پاکستان کو اپنی کمپنیاں بنا کر چلانے کا طعنہ دینے والے کچھ بھی کہیں لیکن الائیڈ بنک کے ملازمین نے جب بینک خود سنبھالا تو نہ چلاسکے۔ اسے بنک دولت پاکستان نے خود کنٹرول کرکے 2004 میں بیچا۔ مزدور اور سٹاف انجمنیں بھی ناکام ہوئی جاتی ہیں۔ کون ناکام کرتا ہے؟ یہاں عقلمندی کام نہیں آتی۔ اس کیلئے عقل بازار سے خریدنا ہوگی۔ شاید کہیں مل جائے۔ اس لئے پاکستان میں کامیاب اداروں کو برداشت کرنے کی روایت ڈالنا ہو گی۔ یہی جمہوریت ہے کہ کوئی بھی شخص یا گروہ اپنے ادارے بنا اور چلا سکتا ہے۔ وگرنہ نقاد و صیاد قسم کے افراد سب کچھ ڈبو سکتے ہیں۔

پرائیویٹائزیشن کمیشن کی پالیسی مسلم لیگ ن کی پالیسی شمار کی جائیگی۔ اس اندازِ حکمرانی میں نجی شعبے کو اہمیت دیکر سب کچھ عوام کے ذریعے سے حاصل کیا جاتا ہے۔ لیکن کیا غیر منظم نجی شعبہ اب بھی ترقی کی تمام تر ذمہ داری اٹھانے کو تیار ہے؟ یہ بہت مشکل سوال ہے۔ ملکی نجی ادارے ایسی قابلیت کا واضح اظہار نہیں کرسکے۔ اب بھی حکومتی ادارے دھکے دیکر نجی شعبے کو چلاتے ہیں۔ نجی شعبے نے کوئی ایجادات نہیں کیں۔ ایجادات ہی حقیقی نجی شعبہ ہیں۔ نجی شعبے نے اس کے علاوہ حکومتی شعبے میں جاری ایجادات اور ایجاداتی شعبوں سے بھی فائدہ نہیں اٹھایا۔ پاکستان کونسل برائے سائنسی و صنعتی تحقیق (پی سی ایس آئی آر) ہر سال ایسی ایجادات کی ایک طویل فہرست جاری کرتا ہے۔ لیکن اس سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ گھسی پٹی مصنوعات کو کبھی ایک بیچتا ہے تو کبھی دوسرا۔ برآمدات میں کاٹن ار کپڑے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ کپڑا بنانے والوں کے نخرے اس سے کہیں سوا ہیں۔ جبکہ اس میدان میں بھی بنگلہ دیش اور ویتنام عالمی منڈی میں بازی لے گئے ہیں۔ سرکاری شعبوں کی ایجادات اور ان سے فائدے کیلئے بنکوں سے رقوم تک جاری نہیں کی گئیں۔ بنکوں میں ایسا کوئی کوٹا بھی نہیں رکھا گیا۔ حالانکہ تمام بنک (نیشنل بینک کے سوا) نجی شعبے کی ملکیت ہیں۔ بنکوں سے نجی شعبے کو جاری کردہ قرض اس قدر کم ہے کہ تمام بنک سرکاری بنکوں جیسے رویے کے عادی ہیں۔ حتیٰ کہ کچھ اسلامی بنک بھی ایسی عادات اپنانے لگے ہیں۔ کیا خاک ایجادات ہونگی؟ ایسے کیسے کوئی صنعتی تکنیک تشکیل دیجائیگی یا پیداوار کو منڈی تک پہنچایا جائیگا؟ یہی وجہ ہے کہ میاں صاحبان کی نجی شعبے سے توقعات پوری نہیں ہوسکیں۔ دوسری جانب چین اور انڈیا، کوریا اور ملائشیا میں نجی شعبے قائدانہ کردار ادا کررہے ہیں۔

قومیانے کی پالیسی ہو یا بیچ دینے کا انداز، پاکستان کارِ خیر کے ٹکڑوں پر پلنے کیلئے ہے۔ کسی ایک ملک سے مانگ لیں یا دوسرے سے التجا کرلیں، لیکن خود کچھ نہ کریں نہ ہی کرنے دیں۔ ساتھ میں تمام دنیا سے بدنامی بھی خرید کریں۔ بھٹو کا مزدور، بیوروکریٹ یا میاں صاحب کا صنعتی عوامی قائد، تمام ناکام کردیئے گیے۔ اب ملک کے نظم و نسق اور پیداواری شعبوں کو کامیاب بنانے کیلئے عادلانِ عوامی میدان سجائیں گے یا عساکر کو فرائض تفویض کئے جائینگے؟ حقیقت یہ ہے کہ کچھ غیر ذمہ دار عناصر ملک کو ناکام کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ذمہ دار لوگ الزام لیکر اور کام کرنے کے بعد بھی سزائیں پاکر منہ چھپاتے پھرتے ہیں۔ سازشی عناصر سینہ تان کر ملک کو برباد کرنے کا اعلان کریں گے پھر بھی پذیرائی حاصل کریں گے۔ یاخدایا۔۔۔ ملکِ خداد پر اندھوں اور اندھیروں کا راج قائم کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ اس میں جتنا گڑ ڈالیں گے اتنا ہی میٹھا ہوگا۔

جدید تحقیق پڑھیں تو یہ زیادہ تر پرائیویٹائزیشن کے برخلاف مکمل مقدمہ لگتا ہے۔ فریڈرک ای برٹ سٹفٹنگ ایک جرمن ادارہ ہے جسکی بالکل حالیہ تحقیق کا کہنا ہے کہ “نجیالینا ناکام طریق کار ہے۔ اسکا کہنا ہے کہ یہ پالیسی صرف ملکیت تبدیل کرنے پر مشتمل ہے جس سے صنعتوں کو فائدہ نہیں ہؤا۔ مقاصد حاصل نہیں ہوئے۔ نہ تو قرضہ جات کم ہوئے ار نہ ہی حکومتی اخراجات کا میزانیہ مکمل درست ہوسکا۔ صنعتوں کو نجی شعبے کی تحویل میں دینے سے بھی کارکردگی بہتر نہیں ہوئی۔ صنعتوں کے نظم و ضبط میں اضافہ نہیں ہؤا۔ اس سے سرمایہ کاری بھی نہیں بڑھی۔ ملازمتیں نہیں دی گئیں اور نہ ہی غربت میں کمی ہوئی۔ اگر دوبارہ پرائیویٹائزیشن کی گئی تو اس سے نقصانات بڑھ جائیں گے۔ اس سے اچھی قسم کی نوکریاں ملنے کی بجائے کم ہوجائیں گی۔ مزدوروں کو حقوق حاصل نہیں ہونگے۔ مزدوروں کے کام کرنے کی جگہیں بہتر نہیں کی جاسکیں گی۔ پیداواری اخراجات بڑھ جائیں گے جس سے صنعتیں نقصان میں جائیں گی۔ معیشت پر بوجھ بڑھ جائیگا۔ معیشت کی بہتری کیلئے سرکاری صنعتوں میں نظم بہتر کرنا ہوگا”۔

سرکاری صنعتوں کے نظم و نسق کی بہتری اہم ہے۔ سرکار کے کچھ اداروں میں نظم و نسق کی شدید کمی ہے۔ اسکا باضابطہ اعتراف کرنا چاہیئے۔ اس کی بنیادی وجہ لاپرواہی ہے۔ سرکاری عہدیداروں کی لاپرواہی مکمل طور پر دور نہیں کی جاسکی۔ بھلے اس کیلئے عساکر نے حکومت سنبھال کر محنت کی ہو، مزدور یونین کی عملداری قائم کی گئی ہو یا کارخانے دار کو خدا بناکر ملکی اثاثے نجی ملکیت میں دئیے گئے ہوں۔ اس میں آئندہ بھی کمی نہیں ہوگی چاہے اس کیلئے اسلامی چیمپئین کیا کرپائیں گے؟ ایم ایم اے نے سرحد میں حالات سنبھال کر دیکھ لئے۔ یہ رویوں کو مسئلہ ہے۔ لوگ ابھی تک ملک اور قومی اثاثوں کو بوجھ جبکہ سرکاری نوکری کو آسانی کیساتھ ہاتھ آنے والا مالِ غنیمت سمجھتے ہیں۔ سرکاری اثاثے ہتھیاکر بھی برباد کردیئے جاتے ہیں۔

پی ٹی آئی کی ویب سائیٹ پر اس بارے میں غیر اعلانیہ ری سٹرکچرنگ کی پالیسی کا ذکر ہے جسے بہتر قرار دینا چاہیئے۔ لیکن پالیسی کو باقاعدہ اپنالینے میں کیا حرج ہے؟ اسکی تفصیلات پر کام کرنے میں کیا حرج ہے۔ اس پر کچھ حکومتی کمیشن بنا کر خرچ کرنے سے کس نے روکا ہے؟ شاید کوئی روحانیاتی حکم آسمان سے اترے گا تو ہمیں اسکی توفیق ہوگی۔ اب تو روحانیات گھر میں بسالی گئی ہیں۔ اس کے بعد شاید حالات بہتر ہوجائیں۔

قرضوں کا رونا رونے والے مزید شرمناک داستان سناتے ہیں۔ لیکن کوئی یہ نہیں کہتا کہ شور مچانے والے طرم خان جہاں سے چندے وصول کرتے ہیں وہاں سے صنعتی پیداوار یا برآمد کا کوٹا کیوں نہیں لاتے؟ اب دہشت گردی کی بناء پر پاکستان پر پابندیاں لگیں تو سب بھگتیں گے۔عالمی مشکلات کسی ایک دورِ حکومت میں ہوں یا دوسرے میں، بہت کم پارٹیاں عالمی طور مزاحمت میں شریک ہوتی ہیں۔ اگر ایسی پابندیوں سے قبل سب نے مل کر تیاری کی ہوتی تو ذرا بچ جاتے۔ لیکن تیاری کرنا تو حرام ہے۔ پابندیوں پر باقی پارٹیاں شاید خوشی مناتی ہیں کہ موجودہ حکومت کچھ مزید ناکام ہوجائے۔ اقتدار میں آکر سب کو قرض اٹھانا پڑتا ہے، پابندیاں برداشت کرنا ہوتی ہیں۔ معاشی پابندیاں لگیں تو انتہائی صاف ستھرا گروہ بھی کوئی بکھیڑا ضرورر گلے میں ڈالے گا۔ وگرنہ ہمیں عالمی جنگ لڑنا ہوگی۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ ہر ایک نے دوسرے کو بدنام کرنے کیلئے جس قدر پاپڑ بیلے تھے، اسکا نتیجہ خود میدان میں آکر بھگتے گا۔ یہی قانونِ قدرت ہے۔ عالمی پابندیوں یا اندرونی بدنظمی میں مسائل کا شکار ہونے والے اداروں کو بچانا کارِ خیر ہے۔ اس ناکامی سے کسی کو بھی بچانا ضروری ہے۔ ڈھنڈورا پیٹنے والے ملک کو ناکام کرتے ہیں۔ یہ سیاسی مزاج بن چکا ہے۔ غیرذمہ دارانہ وریہ عادتیں بن کر گھٹی میں بیٹھ گیا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: