پاکستانی نوسٹرا ڈیمس بابا جوگی کی پیش گوئیاں —— نبیلہ کامرانی

1
  • 213
    Shares

مائیکل ڈی نوسٹرا ڈیمس 1503 میں فرانس میں پیدا ہوئے، پیشے کے اعتبار سے طبیب اور صاحب کشف بزرگ تھے۔ انکی شہرت کی وجہ کتاب Les Propheties بنی، جو انکی وفات سے سال بھر پہلے 1555شایع ہوئی۔

 یہ اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے پہلے ایڈیشن میں 353 رباعیات تھیں لیکن اب اس کتاب میں 942 رباعیات ہیں، انٹرنیٹ کی برکت سے اب انکی تعداد ہزاروں میں جا چکی ہیں ۔

 ا پنی کتاب میں انہوں نے رباعی کی صورت میں مبینہ طور پر مستقبل کے واقعات کی پیشن گوئی کی ہے۔ نوسٹرا ڈیمس کے مداح دنیا بھر میں پائے جاتے ہیں، اور انکا یہ عقیدہ ہے کہ یہ پیشگوئیاں حقیقی ہیں۔ بیسویں اور اکیسویں صدی میں دنیا بھر میں ہونے والے اہم واقعات 1555 ہی لکھے جا چکے ہیں۔

مثال کے طور پر، لندن میں لگنے والی آگ، انقلاب ؍فرانس، نپولین اور ہٹلر کی شکست، دونوں عالمی جنگیں، ہیروشیما اور ناگاساکی کی جوہری تباہکاریاں، 1968 میں اپالو کی لینڈنگ، 1986 میں خلائی شٹل، 1997 میں ڈیانا کی موت اور 2001 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹرز کے حملے تک۔

اب تو بات یہاں تک جا پہنچی ہے کہ امریکہ کے موجودہ صدر اور ہندوستان کے وزیراعظم کو بھی انکی پیش گوئی میں تلاش کیا جا رہا ہے۔

حال ہی میں نوسٹرا ڈیمس کی طرح پاکستان میں بھی ایک صاحب کشف بزرگ اپنی وفات سے ایک برس قبل منظر عام پہ آئے۔ بلوچستان کے شہر کوئٹہ سے 70 کلومیٹر کے فاصلے پر پیر غائب کے پراسرار پہاڑوں میں انہوں نے ساری زندگی گزاری۔ پیشے کے اعتبار سے چرواہے تھے، شاعری بھی کرتے تھے، جڑی بوٹیوں کی پہچان رکھتے تھے اس وجہ سے ان کے پاس دور دور سے لوگ آتے تھے۔

 وہاں کے لوگوں میں “بابا جوگی” کے نام سے جانے جاتے ہیں، بابا جوگی اور نوسٹرا ڈیمس میں جہاں بہت سی مشابہتیں ہیں وہاں ایک یہ بھی ہے کہ بابا جی کی کتاب کی اشاعت بھی انکی وفات سے ایک سال قبل ہی ہوئی، انکی وفات کے بعد سے  انکے مداحوں کی تعداد میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔

بابا جوگی نے اپنی کتاب میں سن 2050 کے لیے پیش گوئیاں کی ہیں، جن میں چند درج ذیل ہیں، امید ہے آپ سب بھی ان پیش گوئیوں کو ایک بار پڑھنے کے بعد ان کے مداح بن جائیں گے۔ اور یقیناً آنے والے چند برسوں میں نوسٹرا ڈیمس کی طرح بابا جوگی کی پیشن گوئی کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گا۔

 سال 2050 میں سرزمین پاکستان کی قومی زبان چائینز ہو گی۔

گوادر میں ایک نئی قوم نظر آ ئے گی جو پاک چین دوستی کا نتیجہ ہو گی۔

اس قوم کو “پکچینی” کہا جائے گا۔

اسلام آباد کی جگہ چاینہ ٹاؤن ہو گا۔

ملک ریاض سارے قصبوں اور دیہاتوں کو شہر بنا کے چائنا ٹاؤن کے ایک کوٹھے کا منشی یوگا۔

بلوچی زبان بولنے والے ریڈ انڈین کی طرح ختم ہو چکے ہوں گے، اور کراچی کے نیشنل میوزیم میں انکی کھالوں میں بھوسہ بھرے مجسمے نصب ہوں گے، جنہیں پکچینی حیرت سے دیکھیں گے۔

عمران خان کے مزار پے پیرنی کے بچے دھمال کریں گے، اور عمران کے بچے مجاور ہوں گے۔

نئے پاکستان میں ایک ایسا وزیراعظم بنے گا جو آنکھوں کے ہوتے نابینا اور کان رکھتے سماعت سے محروم ہو گا سرخ میکسی اور ہائی ہیل سکینڈلز پہن کے تخت نشین ہوگا۔

 پاکستان کی قومی بیماری ایڈز ہو گی۔

سوات کے ہر کونے میں ملالہ پر شکوہ مجسمے نصب ہوں گے۔

مرد زنانہ اور خواتین مردانہ لباس پہنا کریں گی۔

دریائے بولان چائنیز ٹیکنالوجی سے پورے بلوچستان میں رواں ہو جائے گا۔

ایک سے زیادہ بچے پیدا کرنے والے کو جیل میں ڈال دیا جائے گا۔

پکچینیوں کی رنگت سانولی، اور نقوش چائنیز ہوں گے۔

کتے اور گدھوں کی نسل ختم ہو جائے گی۔ کچھ ضعیف لوگ انکی تصویر اپنے پوتا پوتی کو دکھایا کریں گے، اور فخر سے بتایا کریں گے کہ اس دور میں سب سے پہلے لاہوریوں نے کتا اور گدھا کھایا تھا۔

نوٹ!
مطالعہ پکچین کی درسی کتب میں لکھا ہو گا کہ پہلے اس خطے کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان تھا۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: