مظلوم، معصوم بچے اور والدین —- رقیہ اکبر

0
  • 239
    Shares

اسکی عمر بمشکل ڈھائی تین سال ہو گی منہ میں فیڈر دبائے اپنی ماں کا ہاتھ سختی سے تھامے وہ ننھا فرشتہ کسی حد تک خوفزدہ اور خاصا بیزار دکھائی دے رہا تھا۔ سٹیج پر اُس کا نام دوسری دفعہ پکارا گیا تو ماں کے چہرے پر زرا سختی جھلکنے لگی مگر وہ معصوم عمر کے اس حصے میں نہ تھا جہاں وہ اس بات کی نزاکت کو سمجھ سکتا اور خوشی خوشی سٹیج پر چڑھ جاتا۔

وہ تو اتنا معصوم تھا کہ اسے اس بات کا احساس ہی نہ تھا کہ اسے پکارا جا رہا ہے یا شاید سپیکر سے آتی اِس آواز نے اُس کی سماعتوں پہ دستک ہی نہ دی تھی وہ تو اپنی سوچ میں مگن تھا۔ تیسری مرتبہ نام پکارے جانے پر اسکی والدہ نے خاصی خشمگین نظروں سے اسے گھورا مگر وہ ٹس سے مَس نہ ہوا، شاید وہ ان نظروں میں چھپی خفگی کی وجہ سمجھنے سے بھی قاصر تھا، اب کی بار والدہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر تقریباً دھکیلتے ہوئے سٹیج کی سیڑھیوں پر چڑھایا وہ ایک ہاتھ سے فیڈر تھامے اور دوسرے ہاتھ سے رونے کی وجہ سے بہتی ناک کے پانی کو صاف کرتا کچھ نہ سمجھتے ہوئے سٹیج پر چڑھا مگر اس کا ننھا دماغ ابھی بھی یہ بات سمجھنے سے قاصر تھا کہ اسے یہاں سب کے سامنے کیوں لا کر کھڑا کر دیا گیا ہے۔

اس کی مِس نے ایک کارڈ اس کے ہاتھ میں تھمایا جسے وہ بمشکل پکڑ سکا اور اب اسے ہدایت دی جا رہی تھی کہ وہ یہ کارڈ اپنی ’’والد ماجدہ‘‘ یعنی ’’مدر‘‘ کو پیش کرے۔ ۔ ۔ ۔ وہ ننھا بچہ جیسے نہ تو کارڈ پہ لکھی عبارت کا مطلب آتا تھا نہ ’’مدر ڈے‘‘ کی بین الاقوامی اہمیت سے کوئی غرض تھی۔ بار بار ہاتھ جھٹک دیتا۔ بالآخر زبردستی اس کے ہاتھ سے اسکی والدہ ماجدہ کو کارڈ پکڑایا گیا ساتھ ہی والدہ کچھ شرمندہ شرمندہ سی اسے لیکر سٹیج سے نیچے اتر آئیں اور اپنے فیڈر پیتے بچے کو یوں خفگی سے گھورا گویا کہ اس ننھے فرشتے نے کوئی بہت بڑا جرم کیا ہو۔

اب ایک اور نام پکارا گیا ہلکے گلابی رنگ کے پریوں جیسے لباس میں ملبوس گوری چٹی نازک سی بچی، جس کی عمر تقریباً کوئی تین ساڑے تین سال ہو گی کچھ شرماتی لجاتی سٹیج پر چڑھی۔ اب یہ فریضہ اسے سر انجام دینا تھا یعنی اپنی مدر کی عظمت کو سراہتے ہوئے Token of Thanks and Love کے طور پر اسے کارڈ پیش کرنا تھا جو یقینا سکول انتظامہ نے اپنی کسی ٹیجر سے بنوایا ہو گا۔ ۔ ۔ مگر اب جو خاتون کارڈ وصول کرنے کے لیے سٹیج پر شریف لائیں وہ نہایت کمزور، خاصے پکے رنگ کی ادھیڑ عمر خاتون تھیں جو کوئی ملازمہ لگتی تھیں کیونکہ وہ اُس حسین گوری چٹی برف کے جیسے گورے گالوں والی گڑیا کی ماں تو بہرحال کسی صورت نہیں تھیں۔ اب بچی نے اپنی اس ملازمہ بچوں کے گورنس کو ماں کا درجہ دیتے ہوئے کارڈ پیش کیا۔ ۔ ۔ یہ قصہ ہے میرے سکول میں ’مدرز ڈے‘ کے حوالے سے منعقدہ تقریب کا جہاں میں اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں سے کچھ وقت ’’کشید‘‘ کرنے موجود تھی۔ جہاں میرے بچوں نے سٹیج پر اپنے کارناموں کے جوہر دکھانے تھے اور میری موجودگی یقینا بہت ضروری تھی۔

یہ آج کا المیہ ہے، ہم ایک ایسی دوڑمیں لگے ہیں جس کی کوئی منزل نہیں۔ جاب کرنے والی افسر مزاج عورت ہو یا گھر میں بیٹھی مہلائیں۔ مشترکہ خاندانی نظام کے پریشان حال گھرانے ہوں یا علیحدہ فمیلی سسٹم سے لطف انذوز ہونے والے والدین، سب ہی نے اپنی اپنی ذمہ داروں کا بوجھ سکولوں پر ڈال دیا ہے۔

یہاں میری ملاقات پلے گروپ کے ان معصوم بچوں سے ہوئی جن میں سے بشتر بچوں کے ہاتھ میں فیڈر تھے اور جنہیں اس دن کی اہمیت کا ہرگز کوئی اندازہ نہ تھا ان معصوم بچوں کو دیکھ کر میرا دل پسیج گیا وہ معصوم ننھے بچے جنہیں ابھی نرم گرم بستر پر نیند کے مزے لوٹنے تھے۔ جنہیں صبح اٹھ کر ماں کی گرم گود میں بیٹھ کر اس کے شفیق ہاتھوں سے نوالے کھانے تھے اور ہر ہر نوالے پہ ماں کے منہ سے ’’ماں صدقے‘‘ ’’ماں واری‘‘ ’’میرا لال‘‘ ’’میرا لاڈلا‘‘ کے الفاظ سننا تھے، وہ اس سکول کی بے رحم انتظامیہ کے حوالے کر دیئے گے تھے۔ جنہیں صبح صبح زبر دستی نیند سے بیدار کر کے ہاتھ منہ دھلا کر بِنا ناشتے کے والدین نے سکول دھکیل دیا تھا جہاں ان کے لاڈ اٹھانے والا کوئی نہیں۔ ۔ ۔ ۔ انہیں شفقت سے محبت سے نوالے کھلانے والا کوئی نہیں بلکہ ایک فیڈر بنا کر زبردستی ہاتھ میں پکڑا دینے والی آیا جس کی چیل کی طرح گھورتی آنکھوں کا خوف ویسے ہی بچے کی بھوک مِٹانے کے لیے کافی ہوتاہے۔

میں نے اپنے قریب بیٹھی ایک ایسے ہی معصوم بچے کی ہشاش بشاش جوان حسین والدہ سے پوچھا! آپ جاب کرتی ہیں؟ جواب مِلا نہیں! میری حیرت کی انتہا نہ رہی کیوں کہ عموماً وہ مائیں بچوں کو اتنی جلدی سکول داخل کرواتی ہیں جو جاب کرتی ہوں اور گھر میں بچے کو سنبھالنے والا کوئی نہ ہو۔ ایسے میں یہ ایک بہترین آپشن ہوتا ہے۔ مگر یہاں تو معاملہ بالکل الٹ تھا۔ نہ وہ خاتون جاب کرتی تھیں اور نہ اکیلی رہتی تھیں۔ گھر میں بچے کی دادی پھپھو تائی سب موجود تھیں۔ “پھر کیا وجہ ہے کہ آپ نے اتنے معصوم کو ابھی سے سکول میں داخل کروایا؟” میرا اگلا سوال انہیں شاید ناگوار گزرا۔ ۔ ۔ ۔ وہ ایک نگاہِ غلط انداز سے محض کندھے اُچکا کے رہ گئیں۔ گویا مجھ سے کہہ رہی ہوں ’’آپ نہیں جانتیں کہ بچوں کو پلے گروپ سے ہی سکول بھیجنا کتنا ضروری ہے‘‘۔ ایک درد کی لہر میرے اندر تک اتر گئی، نہ چاہتے ہوئے بھی چہرے پہ ناگواری اور لہجے میں سختی در آئی۔

یہ کسی ایک بچے ایک ماں یا ایک گھر کی کہانی نہیں، اب تو یہ گھر گھر کی کہانی ہے۔ یہ آج کا المیہ ہے، ہم ایک ایسی دوڑمیں لگے ہیں جس کی کوئی منزل نہیں۔ جاب کرنے والی افسر مزاج عورت ہو یا گھر میں بیٹھی مہلائیں۔ مشترکہ خاندانی نظام کے پریشان حال گھرانے ہوں یا علیحدہ فمیلی سسٹم سے لطف انذوز ہونے والے والدین، سب ہی نے اپنی اپنی ذمہ داروں کا بوجھ سکولوں پر ڈال دیا ہے۔ صبح صبح ادھوری نیند سے بیدار کر کے ایک فیڈر منہ میں ٹھنسا کے روتے بسورتے بچے کو محض ’’سٹیٹس‘‘ کے لئے سکول کے حوالے کرنے والی مائیں جب منہ بسور کر کہتی ہیں ’’مجھے تو سارا دن فکر لگی رہتی ہے میرا بچہ کچھ کھائے پئے بغیر سکول جاتا ہے، پتہ نہیں سکول میں ڈھنگ سے لنچ بھی کرے گا کہ نہیں‘‘ تو میں سوچ میں پڑ جاتی ہوں کہ فکر۔ ۔ ۔ کیسی فکر؟ گھر میں بیٹھی ان مہلائوں کی کیا مجبوری ہے جو وہ اپنے بچوں کو نہ خود سنبھال سکتی ہیں، نہ ماں دادی، پھپھو کے حوالے کر سکتی ہیں۔ انہیں نہ اس بھوک کی فکر نہ نیند کی، نہ اس ننھے فرشتے کی تربیت کی کوئی پروا۔ ۔ ۔ اللہ جانے انہیں حوصلہ کیسے ہوتا ہے اپنے اتنے چھوٹے بچوں کو صبح سویرے جگانے اور پھر ادھ کھلی آنکھیں ملتے ہوئے بچے کو سکول بھیجنے کا۔

پلے گروپ اور نرسری کے نام پر پرائیوٹ سکولز بھاری فیسوں کی مدد سے اپنی جیبیں بھرتے جا رہے ہیں اور ہم انہیں مادہ پرست سکولوں کی بے رحم آیائوں کے حوالے کرتے چلے جا رہے ہیں۔

وہ عمر جس میں بچے کو اپنی ماں کی نرم گرم گود درکار ہوتی ہے ماں کی محبت بھری چاہت کا لمس ضروری ہوتا ہے نیند پوری کر کے انکی بہتر Growth کی ضرورت ہوتی ہے، ہم اُن سے یہ سب چھین لیتے ہیں۔ ۔ ۔ اپنی قربت سے دور کر دیتے ہیں۔ صبح بھوکا پیاسا ننھا وجود جب سکول جاتا ہے تو کون سی آیا ہے جو اسکا سر اپنی گود میں رکھ کر دودھ پلائے؟ کون سے سکول کی ٹیچرز اتنی مہربان ہیں جو اس ننھے بچے کی بہتی ناک صاف کریں اور آنکھوں میں بسے آنسوئوں کو محسوس کر سکیں؟ روتا بسورتا بچہ ساتھی بچوں کے تھپڑ بھی سہتا ہے اور آیا کی پھٹکار بھی۔ نہ بھوک مٹتی ہے نہ تو پیٹ بھرتا ہے نہ نیند کے مزے رہے اور مامتا کی گود؟ تو وہ تو خیر قصہِ بارینہ بن چکی۔

سکول انتظامیہ اپنی دکان چمکانے کے ہر حربے سے بخوبی واقف ہے۔ والدین کی نفسیات سے کھیلنا انہیں خوب آتا ہے۔ ہر بچے کے والدین کو یہ احساس تفاخر میں ڈال دیتے ہیں کہ ان کا بچہ تو کوئی ’’خاص‘‘ صلاحیت و قابلیت کا مالک ہے ایسی قابلیت جو اس سے قبل کسی بھی بچے یا کم از کم اس کے ہم عمروں ہم جماعتوں میں سے کسی اور میں تو ہرگز موجود نہیں۔ اور والدین اپنی اولاد کی اس نادیدہ قابلیت پہ سینہ پُھلائے بڑے فخر سے سب کو بتاتے ہیں کہ یہی وجہ تھی جو انہیں ایسے ہونہار بروا کو قبل از وقت سکول داخل کروانا ضروری تھا۔ اپنی انا کی تسکین کی قیمت اپنے ہی معصوم بچوں سے زبردستی وصول کی جاتی ہے۔

سکول انتظامیہ کو والدین کی نفسیات سے کھیلنا خوب آتا ہے۔ ہر بچے کے والدین کو یہ احساس تفاخر میں ڈال دیتے ہیں کہ ان کا بچہ تو کوئی ’’خاص‘‘ صلاحیت و قابلیت کا مالک ہے ایسی قابلیت جو اس سے قبل کسی بھی بچے یا کم از کم اس کے ہم عمروں ہم جماعتوں میں سے کسی اور میں تو ہرگز موجود نہیں۔ والدین اپنی اولاد کی اس نادیدہ قابلیت پہ سینہ پُھلائے فخر سے سب کو بتاتے ہیں کہ یہی وجہ تھی جو انہیں ایسے ہونہار بروا کو قبل از وقت سکول داخل کروانا ضروری تھا۔ اپنی انا کی تسکین کی قیمت اپنے ہی معصوم بچوں سے زبردستی وصول کی جاتی ہے۔

ہمایوں مجاہد بچوں کی تعلیم کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ آخر کیا مصیبت پڑی ہوئی ہے جو معصوم بچہ صبح سویرے 6:00 بجے اٹھ کر وین میں پورے شہر کا چکر لگا کر سکول جائے۔ سکول کے اوقات میں تبدیلی بھی تو کی جا سکتی ہے۔ مگر میں تو یہ سوچتی ہوں کہ سکول جانے کی ابتدائی عمر کا تعین کیوں نہیں کیا جاتا۔ ہمارے وقت میں چھ سے ساتھ یا بہت زیادہ ہوا تو پانچ سے چھ سال کی عمر کا بچہ سکول جاتا تھا۔ روز بروز یہ عمر گھٹی چلی گئی جوں جوں پرائیویٹ سکولز کھمبیوں کی طرح گلی محلے میں اگتے چلے گئے۔ نرسری، پریپ اور پھر پلے گروپ کے نام پر انتہائی کم عمر بچوں کو سکول بھیجنے کا رجحان بڑھتا چلا گیا۔

اسلام میں بھی رسمی تعلیم کے سیکھنے کی ابتدائی عمر سات سال مقرر کی گئی ہے۔ اس سے قبل بچہ ماں کی گود اور باپ کی زیر تربیت غیر رسمی تعلیم حاصل کرتا ہے۔ جب سات سال کا ہو جائے تو نماز سکھاو۔ جب نماز جیسے اللہ کی پہچان کے عمل کی ابتدائی عمر متعین کر دی گئی ہے تو دنیاوی تعلیم کے لیے ابتدائی عمر ڈھائی تین سال کیوں؟

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: بچوں کی تعلیم و تربیت: سب اچھا نہیں (قسطِ 1) — ہمایوں مجاہد تارڑ

 

جس بچے کو تین ساڑھے تین سال کی عمر سے قرآنی حروف کی پہچان اور شناخت کرانے پہ ہم لیت و لعل سے کام لیتے ہیں اور اسے بچے پہ بوجھ کہتے ہیں اس بچے کو اسی عمر میں انگریزی حروف کی پہچان کرانے لگتے ہیں۔ ہندسوں کے پھیر سکھانے لگ جاتے ہیں اور یہ ہندسوں کے پھیر سیکھتے ہوئے اسے اپنے اردگرد اپنی ماں کا مانوس اور شفیق چہرہ نظر نہیں آتا، باپ کی شفقت بھری نظریں محسوس نہیں ہوتیں بلکہ جھڑکیاں دیتی، ڈانٹتی دیہاتی آیائیں اور استانیاں نظر آتی ہیں۔ جو سبق غیر رسمی طور پر پیار سے ماں نے پڑھانا تھا وہ سبق رسمی طور پر جھڑکتی اور گھورتی اُستانی سکھانے آپہنچی ہے۔

جس وقت بچوں کو ماں کی قربت اور لمس کی ضرورت ہوتی ہے اس وقت ہم اسے اپنے آپ سے دور کر دیتے ہیں اور پھر توقع رکھتے ہیں کہ بڑھاپے میں جب ہم بچوں کی طرح ضد کریں تو وہ بچہ ہمارے پاس ہو ہمارا خیال رکھنے کے لیے۔ ایک لمحے کو رک کر ٹہر کر ذرا اپنے اپنے گریبان میں جھانکئے۔ کیا ہم مائیں عظمت کی ان بلندیوں کو چھونے کے قابل ہیں جن کے ہر سال ’’مدرز ڈے‘‘ پر گن گائے جاتے ہیں؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: