طلاق: زحمت میں چھپی رحمت؟ —– رقیہ اکبر

0
  • 165
    Shares

اور صبا چلی گئی۔ ۔ ۔ ۔ ایک اور صبا دنیا سے منہ موڑ گئی۔ ۔ نمکین، سانولی رنگت کی من موہنی سی، خوبصورت خدوخال اور شیشے کی طرح صاف دل کی مالک صبا۔ ۔ ۔ ۔ والدین کا سر اونچا کرتے کرتے منوں مَٹی تلے جا سوئی۔ ۔ ۔ ۔ درد سہتے سہتے بالآخر تمام غموں اور درد سے آزاد کر دی گئی۔

ساتویں منزل سے دھکا دے کر نیچے گرادی گئی اور دھکا دینے سے پہلے بدترین تشدد کا نشانہ بنائی گئی صبا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس کے پاوں کے ناخن تک اکھاڑ دیئے گئے تھے۔ نجانے کس کرب اور درد سے گزری ہو گی؟؟ کس کس طرح کی اذیت اور ظلم کو برداشت کیا ہو گا اس معصوم نے؟؟ ظالموں نے اسے اس کے سات ماہ کے معصوم شیرخوار بچے سمیت ساتویں منزل سے دھکا دے دیا۔ میں تو اس دن سے بس یہی سوچ رہی ہوں کہ جب اس معصوم کو اس کے بچے سمیت دھکا دیا گیا ہو گا کیا تب وہ زندہ ہو گی؟؟ ہوش میں ہو گی؟؟ اور اگر ہو گی بھی تو بھلا ہوش میں رہی کب ہوگی؟؟ اسے اپنی اذیت، درد اور تکلیف تو شاید یاد ہی نہیں رہی ہو گی جب اس نے اپنے لختِ جگر کی درد ناک موت کے بارے میں سوچا ہو گا۔ ۔ ۔ ۔

میں بات کر رہی ہوں اس صبا کی جسے کی زندگی کا چراغ بڑی بے رحمی سے گل کر دیا گیا۔ آج سے چار چھ ماہ قبل عروس البلاد میں سسرال کے ہاتھوں قتل کردی گئی۔ آپ سب تو شاید اسے بھول گئے ہوں گے مگر اس کا معصوم چہرہ میری آنکھوں میں بس گیا ہے۔ صبا کے مردہ وجود میں مجھے کئی زندہ کہانیاں روتی کُرلاتی اور بَین کرتی نظر آرہی ہیں۔ کتنی ہی ’’صبائیں‘‘ ہیں جو اپنے خاندان کی برباد عزتیں بچانے اور اُنکی اونچی ناکوں کی شان بلند کرتے کرتے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں اور جان سے پہلے نجانے اور کیا کیا گنوا چکی ہوتی ہیں۔ ۔ ۔ ۔ کاش کوئی تو ادراک کرے اس درد کا بھی جو جان جانے سے پہلے اس زندہ وجود پر اترتا ہے۔ کوئی تو پڑھے ان سوالوں کو بھی جو صبا جیسی بیٹیوں کی زبان پر تو شکوہ بن کر نہیں بولتے مگر ان کی خالی بے رونق اور بے نور چشمِ نم میں صاف دیکھے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ فرمائیے: اکیلی عورت، اکیلی کیوں ہے؟ فارینہ الماس

 

ہرن کے گوشت میں بہت لذت ہے سبھی مانتے اور جانتے ہیں مگر چشمِ آہو پہ کوئی بات نہیں کرتا۔ قلانچیں بھرتی، اٹھکیلیاں کرتی ہرنی کی آنکھوں میں شکاری کے خوف کی جو پرچھائی ہے، جو سراسیمگی ہے۔ وہ ہمیں نظر کیو ںنہیں آتی ہرنی کی آنکھوں کی خوبصورتی کے قصیدے پڑھنے والے اس کی آنکھوں میں اَن دیکھے اور پیش آمدہ درد کا خوف کیوں نہیں دیکھ پاتے؟؟ گوشت کی لذت پر لکھنے والے کبھی چشمِ آہو کا خوف بھی تو رقم کریں۔ کوئی تو اس پر بھی قلم اٹھائے کوئی تو ہو جو اس درد کی تصویر کھینچے۔

مجھے صبا کے بے روح جسم کی بے نور آنکھوں میں وہی چشمِ آہو کا خوف اور پرچھائی نظر آئی۔ مجھے ان بے نور آنکھوں کی پتلیوں میں اُس کے ٹوٹے خوابوں کی کرچیاں صاف نظر آئیں جو اس کے جسم کو بھی لہو لہان کر گئیں۔ کاش وہ درد وہ خوف کوئی نوچ پھینکے، کاش کبھی کسی بیٹی کی آنکھ میں وہ خوف نظر نہ آئے۔

شادی سنت بھی ہے اور ضرورت بھی۔ مرد اور عورت دونوں کے لیے اس میں آسودگی ہے۔ سکون ہے اطمینان ہے مگر یہی تعلق یہی رشتہ اگر بوجھ بن جائے آسودگی کی بجائے سانسوں کی تنگی، سکون کی بجائے بے اطمینانی اور راحت کی بجائے درد دینے لگ جائے تو کیا پھر بھی اس بے جان رشتے کی لاش کو کندھوں پہ لادے رکھنا، گھسٹے رکھنا عقلمندی ہو گی؟؟ یہ ہے آج کا سوال جس کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرونگی۔

کہتے ہیں شادی بور کا لڈوہے جو کھائے وہ بھی پچھتائے جو نہ کھائے وہ بھی پچھتائے اور جب ہر دو صورتوں میں پچھتانا لازمی امر ہے تو چلو اسے کھا کر اس کا مزہ چکھ کر پچھتانے میں کیا مضائقہ ہے ڈاکٹر رابعہ خرم لکھتی ہیں یہ بور کا لڈو اگر کھانا ضروری ہے تو پھر کم سے کم یہ لڈو مَن پسند تو ہو کہ پچھتاوے کی شدت کم سے کم ہو جائے۔ اور آج میں اس بور کے لڈو کے حوالے سے ایک سوال کرنا چاہتی ہوں کہ کھانے کے بعد اگر اس میٹھے لڈو میں کوئی کنکر، کوئی نا قابلِ برداشت کڑوی چیز آجائے تو اسے تھوک دینے، اُگل لینے کی اجازت ہے؟؟؟ ضروری تو نہیں کہ منہ میں ڈالے ہر نوالے کو نگل بھی لیا جائے اس سے پہلے کہ وہ کنکر دانت توڑ دے یا اس میٹھے لڈومیں موجود کڑواہٹ زندگی کی مٹھاس میں زہر گھول دے یا اس میں شامل مضر صحت مواد پیٹ میں جا کر درد، بدہضمی یا موت کا سبب بنے تو اسے اُگل دینے میں کیا بُرائی ہے؟؟

مجھے یاد ہے کچھ عرصہ قبل منزہ احتتام نے انہیں کالموں میں ’’پڑھی لکھی عورت اور رشتوں کے مسائل‘‘ پر قلم اٹھایا (مضمون کا لنک) تھا انہوں نے نہایت خوبصورتی اور مہارت سے معاشرے کے اس پہلو کی طرف توجہ دلائی تھی۔
اور پھر سحرش عثمان نے بھی اپنے کالم میں (مضمون کا لنک) یہی سوال قدرے مختلف انداز میں اٹھایا ’’کیا جنت میں بھی اسی ساتھ کو بھگتنا ہو گا؟؟‘‘

سحرش کے مضمون میں جنت میں خوبصورت، من پسند گھر، کافی ٹرے سے نٹس اٹھاتی گلہریوں درختوں پہپڑے دھنک رنگ جھولوں، آسمان پر اڑتے پرندوں، پھولوں پہ اٹھلاتی تتلیوں کے رنگین پروں کے ذکر نے ہم سب کو بہت متاثر کیا۔ اسکی تعریف میں ہم سب رطب اللسان تھے مگر افسوس سحرش کے سوال کا جواب نہیں دیا کسی نے۔ ۔ ۔ ۔ جواب تو دور کی بات کسی نے اس سوال پر لمحہ بھر کے لیے ٹھہر کر سوچنے کی بھی زحمت نہیں کی۔

پیارے نبی ﷺ سے ملاقات سے لیکر خلفائے راشدین سے گفتگو تک۔ میدان ِ کربلا کے شہدا و غازیوں کے آگے اعترافِ جرم یقینا بہت سلیقے سے کیا گیا مگر بلا سفیمی کے خوف سے ادھورے چھوڑے گئے سوال کی بھی تو اپنی اہمیت تھی ناں۔ ۔ ۔ ۔ شاید سحرش کو خوب احساس تھا کہ یہ موضوع عوام الناس کی توجہ نہیں کھینچ سکتا کیونکہ عموم کی نظریں میں عورت تو ہے ہی برتنے کی چیز۔ کم عقل، کم فہم، جذباتی مخلوق، انکی آہ و زاری پہ کان کون دھرے اور کیوں دھرے۔ شاید اسی لئے مصنفہ نے بات ادھوری چھوڑدی۔ اور قارئین اس سوال پر نگاہِ غلط انداز ڈالے بنا ہی آگے بڑھ گئے۔ مگر میں تو اس سوال میں الجھ کر رہ گئی، اس میں چھپے درد میں ڈوب گئی۔

کیا اب بھی یہ وقت نہیں آیا کہ بے جوڑ رشتوں سے چھٹکارے کے عمل کو بھی آسان بنانے کی طرف توجہ دی جائے اللہ نے تو آزادی بھی دی ہے اور اجازت بھی پھر ہم کیوں اس پر پہرے لگائے بیٹھے ہیں؟؟

اور بھلا کیوں نہ اٹکتی، کیسے نہ ڈوبتی؟؟ عورت ہوں ناں عورت کے درد کو سمجھتی ہوں۔ آپ سب کی طرح اس کو نظر انداز کر کے آگے بڑھنے کا حوصلہ نہیں رکھتی۔ اِن سوالوں کے جواب ڈھونڈ لوں تبھی جنت میں خوبصورت گھر کے تصور کا مزہ لے سکوں گی۔ جب جنت میں من پسند ساتھی کی ہمراہی کا یقین ہو جائے گا تبھی ندی کنارے بیٹھ کر پانی کی لہروں کا لطف اٹھا سکتی ہوں۔ کھڑکی کے پاس کھڑے ہو کر کافی کا مگ ہاتھ میں لیکر برستی بارش کی بوندوں کا مزہ بھی تبھی لیا جا سکتا ہے جب ہمسفر من پسند ہو، اگر جنت میں بھی اسی ساتھ کا خوف دامن گیر ہو جس نے دنیا جہنم بنا ڈالی تھی تو کون کافر خوبصورت گھر، برستی بارش اور آسمان پہ پڑے دھنک کے جھولوں کا لطف اٹھا سکتا ہے؟؟

میں تو اس ان دیکھی لڑکی کی چشمِ نم میں چھپے اُس سوال کا جواب ہی تلاش کر تی رہی اور اب تک تلاش کئے جا رہی ہوں۔ آج ایک بار پھر وہی سوال صبا کی خاموش سسکیوں میں مجھے واضح سنائی دیا۔ صبا کے سسرالیوں کو یوں منہ بھر بھر کر گالیاں دینے والوں سے اور بالخصوص صبا کے والدین سے میرا سوال ہے کیا صبا کی موت کے ذمہ دار صرف اس کے سسرالی ہیں؟؟ کیا صرف وہی قاتل ہیں جنہوں نے اسے ساتویں منزل سے دھکا دے دیا؟؟ کیا وہ والدین قصوروار نہیں جنہوں نے سسرالیوں کی اصلیت جاننے کے باوجود اپنی لختِ جگر کو اِن ظالموں کے حوالے کر دیا؟ کیا وجہ تھی جو والدین نے اپنی معصوم بچی ان درندوں کو سونپ دی۔ کہتے ہیں ناں

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

یہ حادثہ بھی ایکدم رونما تو نہیں ہوا ہوگا، وقت نے کئی بار بازی پلٹی ہو گی۔ موت نے کئی بار دروازے پہ دستک دی ہو گی۔ قسمت نے کئی بار پیش آمدہ خطرے کی گھنٹی بجائی ہو گئی۔ للکارا ہو گا، جگایا ہو گا، جھنجھوڑا ہو گا۔ مگر ہر بار والدین کی ناک، خاندان کی پگڑی، اونچا شملہ، بھائیوں کی نام نہاد غیرت آڑے آئی ہو گی۔ ہر بار معصوم صبا واپس سسرال بجھوا دی گئی ہو گی کہ یہ تو شاید ناقابلِ ترمیم اصول ہے کہ جس گھر میں بیٹی کی ڈولی جائے وہاں سے اس کا جنازہ ہی نکلنا چاہیے۔

ناجانے کب تک ہم اپنی بیٹیوں کو ان نام نہاد رواجوں کی بھینٹ چڑھاتے رہیں گے۔ ان سے اپنی ولدیت کا خراج وصول کرتے رہیں گے۔ انہیں پال پوس کر بڑا کر نے کا خراج۔ ان کے جذبات، احساسات، ان کی خوشیاں، یہاں تک کہ ان کی سانسوں کی ڈور بھی ہم اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔

مانتی ہوں والدین اپنی اولاد کا بُرا نہیں سوچتے کبھی جان بوجھ کر غلط فیصلے نہیں کرتے یقینا اپنے جگر کا ٹکڑا کسی کو سونپنے سے پہلے خوب ٹھوک بجا کر تسلی کر لی جاتی ہے مگر انسان ہیں نا اور انسانی فیصلوں میں غلطی کا احتمال ہمیشہ رہتا ہے اور یہ کوئی قابلِ گرفت بات نہیں مگر خرابی تو تب پیدا ہوتی ہے جب غلطی کو سدھارنے کی کوشش نہ کی جائے ساری عمر اس غلطی کی سزا بھگتنے پر اولاد کو مجبور کر دیا جائے اس سے بہتر نہیں کہ غلطی کا کفارہ ادا کر دیا جائے؟ اس سے چھٹکارا حاصل کر لیا جائے؟

بیٹیوں کے درد کو محسوس کرنے کے لیے ان کے مرنے کا انتظار کیوں کیا جاتا ہے؟؟ کب تک بے جوڑ رشتے زندگیاں نگلتے رہیں گے اور ہم اپنی سو کالڈ عزتیں بچانے کے لیے بیٹیوں کا لہو پیش کرتے رہیں گے؟؟

ہم آئے دن سوشل میڈیا پر بالخصوص اور ایکدوسرے سے بالعموم شادی، نکاح کو آسان عمل بنانے کی ترغیب دیتے رہتے ہیں شادی نکاح اور اس سے متعلقہ معاملات کو آسان بنانے کا عمل اپنی جگہ نہایت اہمیت کا حامل ہے مگر کیا اب بھی یہ وقت نہیں آیا کہ بے جوڑ رشتوں سے چھٹکارے کے عمل کو بھی آسان بنانے کی طرف توجہ دی جائے۔ اللہ نے تو آزادی بھی دی ہے اور اجازت بھی پھر ہم کیوں اس پر پہرے لگائے بیٹھے ہیں؟؟

ہمارے معاشرے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں میں سے ایک بڑی غلط فہمی یہ بھی ہے کہ ہم طلاق یا خلع کو جائز سمجھ کر بھی گویا حرام قرار دیتے ہیں۔ اور اسی غلط فہمی کی وجہ سے بہت سے سماجی، معاشرتی اور نفسیاتی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ یہ کوئی دانش مندی نہیں کہ زوجین ایک دوسرے کی زندگی جہنم بنا دیں مگر معاشرتی دبائوں کی وجہ سے علحیدگی نہ چاہیں۔

گویا ذہنی مریض بن جاو صبح شام لڑائی کروایک دوسرے سے دست و گرِیبان رہو، گالم گلوچ، مار کٹائی کرتے رہواور اس کی وجہ سے اپنی اور اپنے ارد گرد رہنے والے لوگوں کی حتیٰ کے اپنے بچوں کی زندگی بھی عذاب کر دومگر خبردار خلع یا طلاق کا نام مت لینا گویا یہ گناہِ کبیرہ یا کفر ہے، ایمان رخصت ہو جائے گا تمہارا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ارے بھئی نباہ نا ہونے کی صورت میں علیحدگی کی سہولت اور اجازت بھی اُسی رب تعالیٰ نے دی ہے۔ جس نے نکاح کا حکم صادر کیا ہے اور اس کی کئی مثالیں ہمیں تاریخ اسلام میں ملتی ہیں۔ بروکن فیملی کے حوالے سے ایک عمومی تاثر یہ ہے کہ بچوں کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے مگر میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ روز روز کے لڑائی جھگڑوں، مار کٹائی، گالم گلوچ، اور لعن طعن سے بچوں کی نفسیات پر کون سے اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ بلکہ شاید مار کٹائی اور بدزبانی والے ماحول میں بچوں کی شخصیت زیادہ بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

میری اس بات کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں گھروں کے ٹوٹنے یہ طلاقوں کے عمل کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہوں۔ حتی المقدور گھر بچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن اگر حالات ناگزیر ہو جائیں تو راستے الگ کرنے میں قباحت نہیں۔ مانا کہ طلاق خدا کے حلال کردہ معاملات میں سے سب سے ناپسندیدہ معاملہ ہے مگر ناجائز اور حرام تو نہیں نا؟ جس طرح چار چار شادیوں کے عمل کو پروموٹ کیا جاتا ہے، یہ کہہ کے کوئی گناہ تو نہیں، اللہ نے اِس کی اجازت دی ہے، تو ایسے ہی طلاق/خلع بھی کوئی گناہ تونہیں؟ کیوں ہم انتظار کرتے رہتے ہیں کہ کوئی صبا کفن کا سفید جوڑا پہننے قبر میں اتاری جائے اور ہم اس کی قبر پر اپنی سو کالڈ عزت کا جھنڈا گاڑیں، اسکی مظلومیت پر صفحوں کے صفحے کالے کریں، دادوتحسین پائیں۔ ۔ ۔ ۔

کسی کا جنازہ اٹھے، اس سے بہتر نہیں کہ نکاح ٹوٹے؟؟

غالب اس تلخ نوائی پہ مجھے رکھیو معاف
آج کچھ درد میرے دل میں ہوا ہوتا ہے


یہ بھی ملاحظہ کیجئے: طلاق کا بڑھتا ہوا خوفناک رجحان اور جدید زندگی ۔ زبیر جیلانی

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: