خطرناک مذہبی سیاست —– مظفر الحق

0
  • 39
    Shares

سن ستّر کے منحوس انتخابات میں جمیعت علمائے پاکستان کا انتخابی نشان چابی تھا اور ان کی پارٹی کے جھنڈے پہ گنبدِ خضرا کی تصویر بنی ہوئی تھی اس مناسبت سے نعرے لگتے تھے “نبی کا جھنڈا اونچا رہے گا” اور شاہ احمد نوارانی چابی ہے نشانی، ان کے حامی اور معتقدین اسے جنت کی کنجی کہتے تھے۔

لیکن تب ماحول دوسرا تھا اور اسلام اور سوشلزم کے درمیان معرکہ آرائی تھی بھٹو صاحب کے سوشلزم اور پھر اسلامی سوشلزم کے نعرے نے تمام لبرلز، سیکولرز، قادیانیوں اور کچھ مذہبی مسالک کو بھی ان کے گرد جمع کردیا تھا۔

لیکن اس وقت صورتِ حال دوسری ہے اور جس طرح موجودہ انتخابات کو ایک سیاسی جماعت اپنے مفادات کے لئے اسلام اور کفر کا معرکہ بنا کر پیش کر رہی ہے اور اپنے انتخابی نشان کتاب کو کتاب اللہ سے تشبیہ دے رہی ہے۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے کیوں کہ درحقیقت یہ اس کے سربراہ کی اقتدار سے تیس سالہ وابستگی کا روزنامچہ ہے اور اسے قرآن سے تشبیہ دینا شرمناک فعل ہے۔ اسلامی اصولوں اور ضوابط کے نفاذ کو اپنے منشور کا حصہ بنانا اور کردار کی بنیاد پہ تشہیری مہم کی حد تک بات درست ہے اور ان کاحق ہے۔ جبکہ موجودہ انتخابات کو اسلام اور کفر کی جنگ بنانا، اس میں خود کو اسلام کی علامت جبکہ سیاسی حریف کو یہودیت اور لبرل ازم کا نمائندہ ٹھہرانا انتہائی خطرناک ہے۔ خاص طور پہ اس صورت میں کہ جب ایک انتہا پسند اور جذباتی مسلکی نئی سیاسی جماعت بھی میدان میں اتر چکی ہے اور وہ خاصی متحرک ہے۔ ابھی دو روز پہلے کراچی میں انہوں نے قابل توجہ جلوس بھی نکالا جس کے بارے میں عاصمہ شیرازی نے محمد مالک کے ٹی وی پروگرام میں بتایا کہ اس نے ڈیفنس جیسے رہائشی علاقے میں لوگوں سے سنا کہ وہ تحریک لبیک کو ووٹ دیں گے۔

یاد رہے کہ مسلم لیگ نواز نے ختمِ نبوت بل میں جس سازشی انداز میں قادیانی نواز تحریف یا ترمیم کرنے کی کوشش کی تھی اس کے خلاف عوام کو متحرک کرنے اور دھرنا دینے کا سہرا تحریکِ لبیک کے سر جاتا ہے، اس وقت جے یو آئی حکومت کا حصّہ تھی اور آخر تک اس میں شامل رہی۔ تحریک لبیک سے کچھ بعید نہیں کہ کسی بھی وقت کوئی غیر متوقع انداز اختیارکر لے۔ ایم ایم اے میں شامل تین جماعتیں جے یو آئی، جماعت اسلامی اور جمیعت اہلحدیث اور فقہ جعفریہ مسلک کے اعتبار سے اہل سنت اور تحریک لبیک کی تنقید اور مخالفت کا ہدف رہی ہیں اور وہ انہیں گستاخان رسول (ص) کہتے رہے ہیں۔ اب اگر کسی مرحلے پہ اپنے سیاسی مفادات کی خاطر یا کسی پسِ پردہ طاقت کے اشارے پہ وہ ایم ایم اے کے خلاف مسلکی معرکہ آرائی شروع کر دیتے ہیں تو ان کے جذباتی پیروکار اور دین کی حقیقی روح سے نابلد و ناواقف معتقدین اسے وہابیت اور مقام مصطفیٰ کی جنگ سمجھ کر انتہا پسندانہ اقدامات کا مظاہرہ شروع کردیتے ہیں جو کہ خارج از امکان نہیں تو اس کے تباہ کن نتائج کا اندازہ لگانا دشوار نہیں۔

اس لئے سب کی بھلائی اور عافیت اسی میں ہے کہ ان انتخابات کو کرپشن کے خلاف، اقتدار مافیا کی اجارہ داری سے نجات اور عوام کی فلاح و بنیادی حقوق کے تحفظ کے مقاصد تک محدود رکھا جائے۔ خود کو اسلام کا علمبردار، اپنے انتخابی نشان کو قرآن اور اپنے سربراہ کو مرد مومن اور سیاسی حریفوں کو اسلام دشمن، مشرک اور بدکردار و بے حیائی کا منبع کہنے سے گریز کیا جائے۔ اپنے منشور، ماضی کی کارکردگی اور امیدواروں کی اہلیت اور صفات کو اجاگر کرکے مثبت رویہ اپنایا جائے ورنہ نفرت اور کافر سازی کی یہ چنگاری کسی بھس میں جا گری تو بہت کچھ جل کر خاکستر ہوجائے گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: