کتنی تصویروں کے ساتھ آئی ہے شامِ زندگی –انور عباسی کی آپ بیتی حصہ 1

0

ایف آئی آر:

کتنی تصویروں کے ساتھ آئی ہے شامِ زندگی

وقت جب کم رہ گیا تو کام یاد آئے بہت

ضمیر جعفری کو توغالباً ایسے کام یاد آ گئے ہوںگے جو کرنے کے تھے مگر ابھی تک کر نہ سکے ہوں مگر ہمارے پاس کچھ بھی تو کرنے کے لیے نہیں تھا جس کے بارے میں پریشان ہوتے ۔ ایسے میں شامِ زندگی صرف ماضی میں ہی جھانکنے کا حوصلہ دلاسکتی ہے۔ماضی کے لمحات، زندگی کے قیمتی لمحات کی ایسی تصویریں جو سرعت کے ساتھ وقت کے دھندلکوں میں غائب ہوگئی تھیں، یقین نہیں آتااس طرح آ موجود ہوں گی۔یہ ماہ و سال پھسل کر کدھر کو نکل گئے تھے؟ مُٹھی میں بند ریت کے ذرات کی طرح۔ آہستہ آہستہ اور غیر محسوس، خاموش اور دبے پائوں ماضی کی اتھاہ گہرائیوں میں ایسی جگہ جہاںشعور کی روشنی کا کوئی گزر نہیں۔ماضی میں جانے کے لیے جہاں دل میں بے پناہ خواہشیںمچل رہی ہوتی ہیں، وہاںکتنے پاپڑ بیلنے پڑیں گے اس کا اندازہ نہیں تھا۔ ماضی پیارا ہوتا ہے، اپنا ماضی۔ یہ یادوں کی وہ صلیب ہے جو انسان کو کسی حالت میں نہیں چھوڑتی۔اس کے دُکھ، اس کے سُکھ، تکلیف اور آرام،اس کی ہر شے اپنی اور اپنی چیز کسے پیاری نہیں ہوتی۔شاہ ہو یا گدا، غریب ہو یا امیر، سب ماضی کے اسیر۔ماضی ہی وقت کی سب سے بڑی حقیقت۔ مستقبل تو کسی نے دیکھا نہیں۔اس کی حقیقت بس اتنی ہے کہ اس کا ہر لمحہ تیزی سے ماضی میں تبدیل ہو رہا ہے۔ حال ہے کہاں؟ کیا ہم ایک سیکنڈ کو حال کہیں گے؟ سیکنڈ کے دسویں حصے کو یا اس کے کروڑویں حصے کو؟ ہم تو مستقبل کو ماضی بنتے اورحال کو بے حال ہوتے ایک تماشائی کی طرح اس منظرنامے کو تکتے رہتے ہیں۔ کچھ بھی باقی نہیں سوائے ماضی کے اور اچانک کسی وقت ہم سب ماضی کا حصہ بن جائیں گے۔ رہے نام اللہ کا۔

لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حال کتنا ہی بے حال کیوں نہ ہو، ہم اس سے فرار حاصل کر سکتے ہیں۔ درست بات یہ ہے کہ اگر ماضی ہمیں حال میں رہنے کا حوصلہ عطاکرسکے، اس کے گر سکھا سکے اور ہم کچھ سبق سیکھ سکیں تو کامیابی ہی کامیابی ورنہ ناکامی اپنا مقدر۔ ایک ماں نے بیٹے سے پوچھا:’ بیٹا سلطان صلاح الدین ایوبی کون تھا؟‘ ’پتا نہیں!‘ بیٹے نے جواب دیا۔ ماں بولی: ’ بیٹا! اپنی کتابوں پر دھیان دیا کرو۔۔۔تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ماضی میں ہمارے اسلاف کون اور کیسے تھے‘۔ ’ممی!‘ لڑکے نے ترکی بہ ترکی سوال کیا، ’آپ کو معلوم ہے کہ پِنکی آنٹی کون ہیں؟‘ ’نہیں۔۔۔مگر اس سوال کی کیا تُک ہے؟‘ ماں نے حیران ہو کر پوچھا۔ لڑکا بولا: ’ممی! ہمیں ماضی کے بجائے حال میں رہنا چاہیے۔۔۔۔پِنکی آنٹی سامنے فلیٹ میں رہتی ہیں اور وہ بہت خوبصورت اور ہنس مکھ ہیں۔ڈیڈی کی ان سے بڑی دوستی ہے۔ میں تو اسلاف کے بغیر رہ لوں گا، مگر آپ؟ آپ کو ماضی کی بجائے حال اور ڈیڈی پر دھیان دینا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ۔۔۔۔۔‘ لہذا میری کوشش ہوگی کہ میرے حال پرمیرے ماضی کا غلبہ تناسب سے زیادہ نہ ہو جائے۔ اگر ایسا ہوا تو ’پنکی آنٹی‘ سب کچھ لے اڑے گی !
خود نوشت کے بارے میں کسی نے کہا ہے کہ اس میں سچ دوسروں کے بارے میں بولا جاتا ہے۔ شاید اسی لیے مارک ٹوئن نے انیسویں صدی کی ابتدا میں اپنی خود نوشت لکھی لیکن کہا کہ اسے ایک صدی کے بعد شائع کیا جائے تا کہ وہ سارے لوگ مر چکے ہوں جن کے بارے میں سچ بولا گیا ہے۔ ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ ہم نے دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنے بارے میں بھی سچ  ہی بولا ہے۔ البتہ احتیاط یہ ضرور برتی ہے کہ اپنے اور دوسروں کے وہی سچ بیان ہوں جو فسادِ  خلق کا باعث نہ ہوں۔ سارے سچ اپنے ہی پاس رہنے دیں تو اچھا۔ لہذا بلا خوفِ تردید کہا جا سکتا ہے کہ ہم سے وہی سچ نا گفتہ رہ گئے ہیں جو ہر لحاظ سے ناگفتنی تھے! آخر اپنا بھرم بھی تو قائم رکھنا ہوتا ہے نا۔
ہم نے یہ مقدمہ خود اپنے خلاف اپنی ہی عدالت میں دائر کیا ہے۔ہمیں کوزہ گرو کوزہ خر و کوزہ فروش ۔ مدعی ، مدعی علیہ اور منصف ہم ہی بقلم خود، بلکہ بکمپیوٹر خود، لہذا فیصلے کے خلاف اپیل کی کوئی گنجائش نہیں۔ نہیں ،شاید یہsweeping statement اتنا درست نہ ہو۔مقدمے کے ایک حصے کے خلاف اپیل تو کیا اسے مکمل طور پرمستردکیا جا سکتا ہے۔ اور یہ حصہ واقعات کی تفہیم و تعبیر اور ذاتی علم و فہم سے تعلق رکھتا ہے۔ رہا دوسرا حصہ، توجاننا چاہیے کہ حقائق و واقعات کسی کے فہم وفراست کے تابع نہیں ہوتے۔ البتہ دل میں ایک خیال سا ابھرتا ہے کہ اپنے بارے میں کچھ تفصیل و اِطناب کی طرف جائیں تو یار لوگ شاید اسے غلوسمجھیں اور اختصار و اِیجاز کی طرف آئیں تو کچھ اور سمجھنا شروع کر دیں جو ہمیں گوارا نہیں۔ایک صاحب اپنی گفتگو میں، دوسروں سے خط وکتابت میں خود کو حقیر و پُر تقصیر کہنے کے عادی تھے۔ لوگوں نے ان کو یہی سمجھنا اور کہنا شروع کردیا کہ دیکھو وہ حقیر جا رہا ہے!
اپنے اس مقدمے کی ایف آئی آر ’یادوں کے پھول‘ کی صورت میں قارئین کے کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے خوشی محسوس ہوتی ہے، یاکم از کم افسوس نہیں ہوتا۔ ؎ گر قبول افتد، زہے عزّو شرف۔

دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱) وطن ہمارا آزاد کشمیر۔۔۔، باغوں اور بہاروں والا۔۔۔
کھول آنکھ، زمیں دیکھ۔۔۔
روایت ہے کہ سن انیس سو چالیس کے جولائی کی دو تاریخ تھی جب علّامہ اقبال کی نصیحت پر عمل کرنے کے لیے مابدولت زمین دیکھنے کے لیے دنیا میں تشریف لائے۔ روایت میں یہی بتایا گیا ہے۔ یہ ذہن میں رہے کہ اہلِ مذہب کے ہاں جو روایت میں شک کرے اس کا ایمان ہی مشکوک ہو جاتا ہے۔ویسے ’تاریخی حقائق‘ بھی اسی کی نشان دہی کرتے ہیں۔اس کا ثبوت ہماری میٹرک کی سند ہے جس میں یہی تاریخ لکھی ہے ۔ درست بھی یہی دکھائی دیتی ہے کیوں کہ بھلے دنوں میں سترہ سالوں سے کم میں میٹرک کرنے کا تصوّر ذرا کم ہی تھا۔ یہ برق رفتاری مشینی دور کے اس عہد کی پیداوار ہے جب انسان تو کیا ہر شے ہی وقت سے پہلے کسی نامعلوم منزل تک پہنچنے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔ غیرمتعین منزل تک پہنچنے کے لیے ہر فرد نے راستہ بھی الگ چن رکھا ہے۔ بے شمار منزلیں اور بے شمار راستے، بھول بھلیوں میں گم، حیران ،پریشان اور ششدر۔راہنما بھی ایک نہیں ،کئی ایک ، بالکل اپنے اپنے پیروکاروںکی طرح حیران و پریشان غیرمتعین منزلوں کی طرف رواں دواں۔۔۔ خیر تو اس کو طے ہی سمجھئے کہ سترہ سالوں میں میٹرک کرنے کے حساب سے بھی ہماری تاریخ نہ سہی ، سن تو یقینا انیس سو چالیس ہی بنتا ہے۔ یہ دوسری جنگِ عظیم کا زمانہ ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ ہماری وجہ سے شروع ہوئی کیونکہ تاریخی کتابوں میں یہ لکھا ہوا ملتا ہے کہ یہ ایک سال پہلے شروع ہو چکی تھی۔
گائوں کی آبادی ، چند اقلیتوں کے چھوڑ کر، عباسیوں پر مشتمل تھی اور ہے لیکن اُس دور میں ہر فرد اپنے نام کے ساتھ صرف خان کا اضافہ کرتا تھا۔ نام کے ساتھ عباسی کا لاحقہ لگانے کی عام روایت نہیں تھی۔ ایک دو پڑھے لکھے نوجوانوں کی دیکھا دیکھی ہم نے بھی اپنے نام محمد انور خان کے ساتھ عباسی لکھنا شروع کیا۔ بعد میں کراچی میں جب سوال ہوا کہ تم عباسی ہو یا خان؟ہمیں یہ سوال بڑا ہی عجیب لگا۔چنانچہ ہمارا جواب ایک سوال پر مشتمل تھا کیوں کیا دونوں ایک نہیں ہو سکتے؟لوگ ہنس دیے اور چپ رہے، شاید منظور تھا پردہ مرا۔کاغذوں کی دنیا سے باہر تو نہیں،کاغذوں میں عباسی ، خان کے ساتھ جڑا ہوا پایا جاتا ہے۔ اس کابرملا اظہار اس لیے بھی ضروری ہے کہ کہیں مجھے انور عباسی اور انور خان عباسی کے چکر میں گھما کرکہیں غائب ہی نہ کر دیا جائے جس طرح ابنِ جریر طبری ؒ کی شخصیت کو بعض لوگوں نے ایک یا دو کی بحث میں الجھا کر رکھ دیا ہے۔

قسط نمبر 2 کا لنک

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: