جماعت اسلامی اور اصولوں کی سیاست — ضیا الرحمان

0
  • 50
    Shares

واقعی سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ ویسے تو یہ جملہ ایک ضرب المثل کی سی صورت اختیار کر چکا ہے لیکن ہم جیسے سادہ لوح قسم کے لوگوں کیلئے یہ محض الفاظ کا ایک گورکھ دھندہ تھا۔ جسے بوقت ضرورت استعمال کرکے مفاد پرست عناصر اپنے اپنے الو سیدھے کرتے رہے۔ لیکن میرا ماتھا تب ٹھنکا جب پاکستان کی مذہبی جماعتوں کی سرخیل کے امیر محترم سوات میں ایک جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کا فرمانا تھا کہ “ہمارے دور میں سیدو کے ائیر پورٹ پر سعودی عرب اور دبئی کے شیوخ اتریں گے اور مارے مارے پھر رہے ہونگے کہ ہمیں روزگار چاہئے اور کفیل کی ضرورت ہے”

جماعت اسلامی جیسی تحریک کے امیر اگر ایسے ہوا میں تیر چلا رہے ہیں تو شیخوں، مخدوموں، خانوں اور ترینوں سے کیا گلہ۔ اگر اقامت دین کے دعوے دار محض کرسی کے خاطر لایعنی اور لاحاصل دعوے کرتے ہیں تو میں زرداری کے قصے کیوں چھیڑوں؟ پھر میں نواز شریف کا کیا گلہ کروں؟

ایک وقت تھا جب لوگ جماعت کی اصولوں کی سیاست کے مثالیں دیا کرتے تھے۔ لیکن آج جماعت اسلامی کی سیاست میں اصول سے دور دور تک کوئی واسطہ نظر نہیں آر ہا۔ ایک طرف پاناما کیس میں نواز شریف کے خلاف عدالتی فیصلے کا سہرا اپنے سر پر سجاتے ہیں اور دوسری طرف اسمبلی میں اسی نواز شریف کے دست و بازو بن جاتے ہیں۔ اسمبلی کے اندر حامی و موافق اور اسمبلی کے باہر پاکستان کے سارے مسائل کی جڑ نواز شریف اینڈ کمپنی۔ حلقے میں ایاز صادق کو ووٹ نہیں دیتے بلکہ مخالف امیدوار کو سپورٹ کرتے ہیں لیکن سپیکر کے انتخاب میں اسی ایاز صادق کو ووٹ دیتے ہیں۔ قول و فعل میں اس قسم کی شدید تضاد جماعت اسلامی کی تاریخ میں نہیں رہے ہیں۔

قصر سلطانی کے گنبد پر اسلامی انقلاب کے جھنڈے گاڑنے والے تحریک کے رہنماوں نے سینٹ کے انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کے حمایت سے سینٹر منتخب کیا ہے۔ مجھے اس اتحاد پر زاتی طور پر کوئی اعتراض نہیں لیکن ایک طرف جماعت اسلامی کے رہمناء نیشنل پارٹی کے نظریے کو سیکولر اور لادین قرار دیتے ہیں تو دوسری طرف انہی کے کندھوں پاوں رکھتے ہوئے کرسی حاصل کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ مجھے اعتراض اس رویہ پر ہے کہ خدارا لوگوں کو بے وقوف بنانا چھوڑ دیجئے۔

سید مودوی کے اقوال اور تعلیمات تو یہی بتاتی ہیں کہ کسی عہدے کیلئے خود کو پیش کرنا اس عہدے کیلئے نااہل ہونے کا واضح اور بین ثبوت ہے۔ لیکن کیا آج جماعت اسلامی میں عہدوں کے بندر بانٹ میں شدید قسم کے اختلافات نہیں پائے جاتے؟ لابنگ کا مافیا سر چڑھ کر نہیں بول رہا؟ رائے شماری کیلئے ارکان سے “نامناسب” رابطے نہیں کئے جاتے؟ مافیاز کا اندازہ لگا نا ہے تو دیر کا چکر لگایئے۔ کرپشن کے خلاف زبانی گولہ باری کرنے والے امیر محترم کے اپنے ضلع دیر کا کیا حال ہے۔۔۔۔ یہاں جن لوگوں کو ٹکٹس جاری کئے گئے ہیں کیا وہ کرپشن کے لت سے پاک ہیں؟؟ دوسروں کیلئے 62 اور 63 کے اطلاق کے مطالبہ کرنے والے امیر محترم اپنے امیدواروں پر 62 اور 63 کا اطلاق کر سکتے ہیں؟؟

ویسے تو آج کا دور میڈیا کا ہے اور ہر کوئی کسی نہ کسی طریقے سے “ان” رہنے کیلئے جگاڑ کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن جماعت اسلامی جیسی تحریک کیلئے اس قسم کی بیساکھیوں کا سہارا لینا لمحہ فکریہ ہے۔ جماعت اسلامی کے نظریہ کا مرکزی خیال “ہمیں تشہیر کا نہیں روشنی کا شوق ہے” کے گرد گھومتی ہے، لیکن آج کے جماعت اسلامی کے اکابر نت نئے طریقوں سے میڈیا میں پاوں گھسانے کے چکروں میں پڑے ہے۔ “اوپر سے ارڈر آیا ہے” والا شو تو خاصی تک کامیاب رہا ہے۔

اس دن فیس بک پر ایک ویڈیو دیکھ رہا تھا جس میں امیر محترم سمیت 5 دوسرے سفید ریش بزرگ ایک پتھر کو ہٹا رہے تھے۔ ساتھ میں تین عدد نوجوان سائیڈ پہ کھڑے تماشا دیکھ رہے تھے۔ پولیس والا سیکورٹی کا فریضہ سرانجام دے رہا تھا اور کیمرہ مین عکس بندی میں مصروف عمل تھا۔ راستے سے پتھر ہٹانا فعل احسن ہے لیکن نوجوانو کو سائیڈ پہ کھڑا کرکے ویڈیو بنا کر پارسائی اور درویشی کا خود ساختہ پرچار چی معنی دارد؟؟

سراج الحق صاحب اکثر اپنے جلسوں اپنے غربت کے قصے کہانیاں سناتے ہیں۔ اگر دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو جتنے بھی کامیاب اشخاص گزرے ہیں وہ اس سے زیادہ سخت اور درشت حالات سے گزرے ہوتے ہیں۔ چاہے وہ امریکہ کا ابراہم لنکن ہو یا افریقہ کا نیلسن منڈیلا۔۔۔ مصر کے مرسی ہو یا جرمنی کا ہٹلر۔ لیکن اس طرح کا فریاد ان کے خود نوشت میں کبھی بھی دیکھنے میں نہیں آیا۔

دوسری بات یہ ہے کہ ستر اور اسی کی دہائی میں مجموعی طور پر دیر کے جغرافیائی حالات کچھ اس قسم کے تھے۔ ریاست دیر کے نواب شاہجہان نے عوام کو از حد پستی میں رکھا تھا کسی قسم کا کوئی ترقیاتی یا تعلیمی سرگرمیوں کا دور دور تک کوئی نشان نہیں تھا۔ معاشی طور پر لوگ نہایت کمزور تھے۔ اگر آپ ان دہایئوں میں تعلیم حاصل کئے ہوئے لوگوں سے اس بابت پوچھنے کی کوشش کرینگے تو تقریبا سب کا یہی حال رہا ہے۔ لیکن مجال ہے کہ کسی سے میں نے اس قسم کی سر عام فریاد سنا ہو۔ اس لیئے کہ یہ اس دور کی ایک تلخ حقیقت ہے۔

میرے خیال میں جماعت اسلامی کے امیر کو اس قسم کا رویہ زیب نہیں دیتا۔ یہ نقصان کا باعث بن رہا ہے۔ کیونکہ یہ “انڈر سٹوڈ” ہے کہ جماعت کا امیر ایثار و قربانی کا مینار ہوگا۔ ایک وقت تھا جب جماعت اسلامی کے رہنماء پانی کے بہاو کے خلاف تیراکی کرتے ہوئی خم ٹھونک کر حالات کا مقابلہ کرتے تھے لیکن افسوس کہ اب وہ روایات مذید باقی نہیں رہیں۔ اب جس طرف کی ہوا اڑے اسے اس جانب پرواز کے حامی بھری جاتی ہے۔ اللہ ہم سب کو کو حق دیکھنے، سننے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمایئں۔


حافظ نعیم: جماعت اسلامی کراچی کا نیا چہرہ —– عابد آفریدی

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: