عمران خان کا سجدہ —- سید مظفر الحق

0
  • 31
    Shares

دوستی ہو یا دشمنی، محبت ہو یا عداوت، انصاف اور سچائی کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہئے۔ خدا بیزار اور مادیت پسند مغرب کے لئے توا س کا یہ قول درست ہوسکتا ہے کہ “محبت اور جنگ میں” میں سب کچھ جائز ہے لیکن بحیثیت مسلمان ہمارے لئے نہ جنگ میں سب کچھ جائز ہے اور نہ محبت میں سب کچھ روا ہے۔ دونوں کے لئے کچھ اصول اور ضوابط مقرر ہیں۔

لیکن ان دنوں اچھے اچھے ذی فہم اور مثبت سوچ رکھنے والے افراد بھی توازن اور انصاف کو پس پشت ڈال کر محض ذاتی مفاد اور انا کے زیرِ اثر کسی ایک فریق کے حق میں یا اس کے خلاف زبان و قلم کو آلودہ کرنے پہ کمربستہ ہیں۔ جس کی ایک مثال عمران خان پہ یہودیوں کا ایجنٹ، اسلام دشمن اور سیکولر و لبرل ہونے کا بہتان اور لوٹا کریسی کاحامی ہونے کا الزام ہے۔ جس کے لئے نہ کوئی منطق ہے نہ حوالہ اور نہ ہی اس کا حقائق سے کوئی واسطہ۔

جب عمران خان نئی نسل اور پاکستانی معاشرے کے سیاست سے لاتعلق طبقے کو متحرک کر رہا تھا تو اس پہ یہ اعتراض تھا کہ وہ رومانویت کا شکار ہو کر زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہا ہے اور الیکٹیبلز کے بغیر اس طبقے کے ساتھ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا اور اب جب کہ اس نے ان الیکٹیبلز کو برسرِ اقتدار مافیا سے توڑلیا ہے تو اس پہ لوٹوں کو نوازنے اور اصول شکنی کی پھبتی کسی جا رہی پے گویا
جنابِ شیخ کا نقشِ قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی

اب الزام تراشی بلکہ بہتان طرازی کی نئی اور تازہ مہم اس کے بارے میں بابا فرید گنج شکر کے مزار پہ سجدے کی ہے اور جھوٹ کا وہ طومار باندھا جارہا ہے کہ اس پہ جوتوں سمیت آنکھوں میں گھس آنے کا محاورہ صادق آتا ہے۔ عمران خان کی وضاحت سے قطع نظر جس ویڈیو کلپ کے حوالے سے یہ تازہ مہم شروع کی گئی ہے اس میں صاف نظر آرہا ہے کہ۔اس نے قبر سے فاصلے پہ داخلی دروازے کی چوکھٹ کو بوسہ دیا ہے۔

قبر وہ وہ بالکل سیدھا کھڑا ہوا ہے نہ گردن خم ہے نہ کمر جھکی ہوئی ہے نہ بوسے یا سجدے کا شائبہ تک ہوتا ہے اس کے باوجود “خوئے بد را بہانہِ بسیار” کے مصداق قینچی کی طرح چلتی زبانیں حقیقت کو مسخ کرنے اور بے آبرو قلم سچائی کی عصمت دری پہ۔تلے ہوئے ہیں۔

یہ جبہ و دستار اور لسان و قلم کے عصمت فروش جمعے کی چھٹی منسوخ کرنے والے، سود کی حمایت میں عدلیہ سے حکم۔امتناعی لینے، ختم نبوت کے قانون میں نقب لگانے، پارلیمان سے میڈیا تک کذب و افترا کے مرتکب، قومی دولت میں خیانت کے مرتکب، اللہ اور بھگوان کو یکساں قرار دینے اور شہیدوں کے لہو سے بنی سرحدوں کو لکیر کہنے اور مسلمانِ و کفر کی تہذیب کو یکساں بتانے والے، کلیساؤں میں مسیح و مریم کے بتوں کے آگے ہاتھ جوڑ کر محوِ دعا رہنے والوں کے بارے میں ایک۔لفظ کہنے سے عاری ہیں۔ ان کی زبانیں تالو سے چپک جاتی ہیں، حواس مختل ہوجاتے ہیں، ان کا دینی فہم اور تحریکی فکر تعصب کی آگ میں جل کر خاکستر ہوجاتی ہے۔

یہ رنگے سیار، فکر و کردار کی منافقت کے شاہکار کرپشن کے پشت پناہ عشروں سے اقتدار میں شریک مفاد پرست اور اقربا نواز اتنی اخلاقی جرات نہیں رکھتے کہ کھل کر اپنے ارادوں اور اتحادیوں کا اعلان کرسکیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: