ایمو ——- ڈاکٹر مریم عرفان

1
  • 80
    Shares

نام تو اس کا آمنہ تھا لیکن پنڈ میں وہ ایمو جولاہی کے نام سے مشہور تھی۔ میں ایمو جولاہی کو اس وقت سے جانتا ہوں جب وہ بھرپور جوان تھی اور میں دس سال کا بچہ۔ سارا گاؤں اس کا عاشق تھا۔ وہ جہاں سے گزر جاتی مسافر راستہ بھول کر اس کے پیچھے چل پڑتے۔ کچھ عورتیں مرد مار قسم کی ہوتی ہیں، ایمو جولاہی بھی ایسی ہی قسم کی عورت تھی۔ اس نے اپنی زندگی میں بے شمارعشق کیے۔ کسی زمانے میں اس کے عاشقوں میں سے ایک عاشق میرا باپ بھی تھا۔ تب ایمو جولاہی کلی کی طرح چٹختی تھی۔ میں نے کئی بار اسے اپنی بیٹھک میں آتے دیکھا۔ کالے رنگ کے کرتے پر ہاتھ سے کڑھائی کی ہوئی فیروزی رنگ کی بوٹیاں اس کی سفید چمڑی پر خوب کھلتی تھیں۔ یہ کالا رنگ اس کے گورے چٹے جثے پر بہت پھبتا تھا۔ وہ جب بھی ہماری بیٹھک میں داخل ہوتی تو ہانک لگاتی: ’’وے دین محمدا۔۔۔ بختاں والیا۔۔۔ کتھے ویں‘‘۔ میرا باپ صحن سے تیز تیز قدم اٹھاتا بیٹھک کی جانب لپکتا اور دروازے پر رک کر اپنی دھوتی کی گرہیں کس کر باندھتا۔ وہ پھنیرسانپ کی طرح پھن پھیلائے اس پر بھرپور نظر ڈالتا اور مونچھوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتا: ’’حکم کر۔۔۔ اتھریے گھوڑئیے، خیرتاں ہے ناں‘‘۔ اتھری گھوڑی بڑے انداز سے چھاتی میں اڑسا ہوا کالا بٹوا نکالتے ہوئے کہتی:’’ستے خیراں نے۔۔۔‘‘ اور یوں ایمو میرے باپ کی بیٹھک اپنی خوشبو سے بھر کرچلی جاتی۔

میرے لیے بیٹھک کی کھڑکی کی درزیں جیل کی سلاخیں تھیں جن میں سے جھانکتے ہوئے آنکھوں کو زیادہ موندنا نہیں پڑتا تھا۔ ایمو کپاس کا پھول بن چکی تھی اورمیرا جی چاہتاکہ کپاس کے اس پھول کو اپنی انگلیوں میں رکھ کر روئی کے گالوں کی طرح ہوا میں اڑاتا پھروں۔ اس کی باتیں میرے کانوں میں بازگشت بن کرگونجتی تھیں۔ اکثر رات کے آخری پہر مجھے اس کی گیلی گیلی ہنسی یاد آتی تو اس کی آواز کا لوچ میرے کانوں میں سرسر کرتا جیسے پہاڑوں میں وہ گونج رہی ہو۔ پھر یہ ایمو میرے اندر شب دیگ کی طرح پکنے لگی اور میراتن من اس میں ملیدہ ہوتا رہا۔

ایمو دیمک کی طرح جوان ہوئی تھی۔ وہ کھانگڑ گائے جیسے کسے ہوئے جسم کی مالک تھی، جس کی کمر پر موٹی سی چوٹی پنڈولم کی طرح ہلتی رہتی تھی۔ وہ بھی اس گائے جیسی ہی تھی جو بچھڑا جوان کر کے بھی دودھ دینا بند نہیں کرتی۔ میں نے اسے اس کی درمیانی عمر میں دیکھا تھا تب تک وہ بھٹیارنوں کی طرح چمکیلی دھوپ میں گہرا پکا رنگ اختیارکر چکی تھی۔جب وہ پندرہ سال کی ہوئی توگاؤں کا ویٹرنری ڈاکٹر محمد اکرام اس لاری کی لپیٹ میں آگیا۔ ایمو کا یہ پہلا معاشقہ شہرت کی حدیں پھلانگ گیا۔ ڈاکٹر اکرام ڈھور ڈنگر دیکھنے کے بہانے اس کے گھر آتا اور مفتے کا یہ سلسلہ دو سال چلتا رہا۔ پھر یہ دیمک گاؤں کے دوسرے گھروں میں بھی لگنے لگی۔ فریاد حسین، نیتو قصائی، بلا دھوبی اور نجانے کتنے عاشق اس کے مرید ہو گئے۔ ایمو جیسی بے باک عورت جانتی تھی کہ مرد اپنا ہو یا بے گانہ، کسے خرچ کرنا ہے اور کسے جمع پونجی کی طرح رکھنا ہے۔اس عادت نے اسے بہت سے فائدے دیے۔ ایمو کی جوانی بیری کی طرح بڑی تیزی سے پروان چڑھی۔ یہ جنگلی بوٹی بڑی زہریلی تھی، وہ کوئی دھان پان دوشیزہ نہیں تھی جو تیز ہوا کا سامنا نہ کرسکتی ہو۔ ایمو کا کثرتی وجود آم کے پیڑکی طرح گھنی چھاؤں لیے ہوئے تھا اس کی فربہ ٹانگوں پر گوشت کی تہیں جمی تھیں۔ گوری چٹی پنڈلیاں شلوار کے نیچے سے ایسے جھانکتیں جیسے لہریں ساحل سے ٹکراتی ہیں۔

جانگلی قوم کی عورتیں بڑی کھلی طبیعت کی ہوتی ہیں۔ ہر گاؤں میں ایمو جیسی دوچار ضرور پائی جاتی ہیں۔ ان عورتوں کے جثے برگد کی طرح ہوتے ہیں جن پرمکھیاں بھنبھناتی رہیں تو بھی انھیں فرق نہیں پڑتا۔ ان کے جسم گویا کسے ہوئے بان کی چارپائی ہوں اور ہاتھ پاؤں کچے پھل کی طرح سخت، جن میں کانٹا بھی چبھ جائے تو ماس کے اندر چھلتر بن کر نظر آتا رہتا ہے۔ کہاں گاؤں کی یہ بھاری بھرکم عورتیں اورکہاں شہر کی نازک پھلیوں جیسی لڑکیاں، جنہیں دیکھ کر چھیلنے کو دل کرتا ہے۔ میں جب بھی ایمو کے جثے کو سوچنے لگتا تو مجھے صوبیدار اشرف کے کامے کی بات یاد آجاتی۔ اسے زندگی میں ایک بار صوبیدار اشرف کے ساتھ شہرجانے کا موقع ملا تھا۔ جہاں وہ ماچس کی تیلیوں جیسی زنانیاں دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ گرمیوں کی شاموں میں جب بھی لوگ کھلے میدان میں بیٹھتے تو وہ حقے کی نالی صوبیدار کی جانب موڑتے ہوئے بڑے جذباتی انداز میں کہتا: ’’ جناب ! زنانیاں تو شہر کی ہیں بس۔س۔س۔۔ ہم تو جی! کھوتے ہی واتے رہے ہیں‘‘۔

مجمعے کے منہ سے یوں سی ی ی ی کی آواز نکلتی جیسے دانت کترتے ہوئے ناخن تک ماس کاٹ لیا ہو۔ ہر بار اس کے اس جملے کو سننے والوں کے منہ سے رالیں ٹپکنے لگتیں۔ لگتاکہ ابھی کھوئے کی قلفی جیسی شہری عورتیں زبان پر رکھنے کو مل جائیںگی۔ میرے ہوش سنبھالنے تک ایمو کی دو شادیاں ہوچکی تھیں۔ پہلی شادی دو سال چلی جس میں سے اس کی ایک بیٹی تھی جو وہ ساتھ لے آئی۔ دوسری شادی صرف پندرہ دن ہی قائم رہی اور ایمو مستقل طور پر اپنے گھر آگئی۔ یہ اس کی عمر کا وہ دور تھا جب گاؤں والوں کے لیے اس کا وجود گندے نالے کی طرح ہو گیا تھا۔ میں گاؤں چھٹیاں گزارنے آیا تھا۔ ان دنوں میرے خیالات کی زمین پر ایمو کے نام کی فصل کٹ چکی تھی۔ میری ساری توجہ اپنے پولٹری فارم کی دیکھ بھال پر مرکوز تھی، اس لیے میں گھر سونے کے بجائے وہیں پڑا رہتا۔ اُن دنوں مجھے جاڑے کی راتوں اور کتوں کے بھونکنے میں بڑی مماثلت معلوم ہوتی تھی۔ تنہائی بھی ایسے ہی میرے ٹھنڈے وجود پر چوٹیں کرتی جیسے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سماعت پرحملہ آور ہوتی ہیں۔ میں ابھی دور سے آنے والی مستقل چوں، چوں کی آواز سن رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ میں جانتا تھا اس وقت ریاض کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ میرے دروازہ کھولتے ہی وہ جلدی سے اندر گھس آیا۔ اس نے اپنی بکل سے شراب کی بوتل نکالی اور چارپائی پر بیٹھ کر غٹا غٹ پینے لگا۔ ’’خیریت ہے نا ! جھاکے۔۔ یہ آج تیرے ہاتھ کہاں سے لگ گئی۔‘‘

’’ بس۔۔لگ ہی گئی ہاتھ۔‘‘ ریاض نے آنکھ مارتے ہوئے جواب دیا۔ مجھے ڈر تھا کہ اگر اس وقت گھر سے کوئی آگیا اور اس نے ریاض کو نشے میں دیکھ لیا تو میری خیر نہیں۔ میں ابھی اسی کشمکش میں تھا کہ ریاض بولا: ’’ویرا، مینوں عشق ہوگیا اے۔‘‘ ریاض کے اس بیان پر میری بے ساختہ ہنسی چھوٹ گئی اور میں چارپائی کی پائینتی پر بیٹھ گیا۔ ریاض جب بھی نشے میں ہوتاتو بہکی بہکی باتیں کرتا تھا۔ اس لیے میں نے اس کی بات کو زیادہ اہمیت نہیں دی اور چپ رہا۔ اتنے میں وہ بولا: ’’ایمو جولاہی‘‘۔ مجھے لگا جیسے اس نے میرے کسی پرانے زخم کو ناخنوں سے چھیل دیا ہو۔ مجھے حلق تک تیزابی کھٹاس چڑھتی ہوئی محسوس ہوئی اور یکدم لگاکہ جسم میں گیس بھر گئی ہے۔میں نے اس لمحے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا: ’’لیکن وہ تو تجھ سے عمر میں کافی بڑی ہے۔‘‘ نجانے کیوں میں ریاض کا مقابلہ خود سے کرنے بیٹھ گیا تھا۔ ’’بس یار!عشق نہ پچھے ذاتاں عشق نہ پچھے ناں۔ او پیرا، ہو!۔۔۔‘‘ ریاض چارپائی سے اٹھ کر مستی کے عالم میں گھومنے لگا۔ وہ کسی جوگی کی طرح عشق کی دھونی رما ئے محبوب کے راستے میں بیٹھا تھا۔ محبوب بھی وہ جو اس کی بے بے کی عمر کا تھا۔ ریاض ساری رات میرے پاس رہا اور پو پھٹنے تک ایمو کی ہی باتیں ہوتی رہیں۔

ایمو ان دنوں اس عمر میں تھی جب زمانہ سازی سارے داؤ پیچ سکھا دیتی ہے۔ گاؤں میں اس کے ہم عمر لوگ اب اس کے سائے سے بھی بھاگتے تھے۔ ان حالات میں اسے کسی مستقل سہارے کی ضرورت تھی۔ وہ جہاندیدہ عورت تھی اس لیے اب وہ اپنی عمر سے کم از کم بیس سال چھوٹے لڑکوں سے دوستی گانٹھنے لگی۔ یہ دوستی یاری اس کے مفادات کا پل تھی۔ ایمو اپنے شکار کو حد سے آگے نکلنے نہ دیتی۔ یہ تازہ دم شکار اس کی ضرورتیں پوری کرتے رہتے۔ تارا مسیح بھی ایسا ہی ایک شکار تھا۔ ایک دن ایمو میرے پولٹری فارم میں گھس کر مرغی مانگنے لگی۔ اس سے پہلے کہ میں پیسوں کا تقاضا کرتا تارا مسیح نے اسے گھر بھیجا اور پیسے دے کر مجھ سے مرغی لے گیا۔ وہ بھی تو ایک مرغاہی تھا، جو ایمو کے صحن میں روز دانا چگنے جاتا تھا، کب اس کی گردن پر چھری پھر ی اورکب وہ اس کی پلیٹ میں روسٹ ہوکر آگیا، مجھے کچھ پتہ نہیں۔ بس میں تو اندازے لگاتا تھا کہ ایموکے گال اس مرغے کی روسٹ ٹانگیں کھاکرکتنے پھول گئے ہوں گے۔ ریاض نے گاؤں میں آٹا پیسنے والی چکی لگائی تو یہ جادوگرنی اس کے ٹھکانے کے گردبھی منڈلانے لگی۔ اس کے لیے دو وقت کی روٹی پوری کرنے کے لیے ریاض سے بہتر شکار اور کوئی نہیںتھا۔ ریاض بیل کی طرح کھراس کے دونوں بٹوں کو گھماتا رہتا، کنک کے دانے تسلے میں گھومتے اور آٹے کی پونی سرسرکرتی اکٹھی ہوتی رہتی۔ مجھے اس بیل کے گلے میں پڑی گھنٹی کی آوازسنائی دینے لگتی تومیرادل ہمکنے لگتا۔جی میں آتاکہ ابھی چھری لے کرریاض کی چکی میں گھس جاؤں اور اسے کاٹ کر اسی کے بیلوں کی کھلی میں ڈال دوں۔

جن دنوں وہ میرے باپ کی معشوق تھی بڑی باقاعدگی سے ہمارے گھر دودھ لینے آتی تھی۔ اس کے دودھ کا کٹورہ میں خود بھرتا تھا اور وہ بدلے میں ہماری بیٹھک کو خوشبودار بنا دیتی تھی۔ وہ میرے لیے بھی معشوقہ تھی اور اب میرا دوست ریاض اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ اس کے منہ سے شادی کا ذکر سن کر لگا کہ خواب میں کسی چڑیل نے مجھے دبوچ لیا ہو، میراجسم سن ہو چکا تھا۔ میں سمجھتا تھا کہ شاید یہ ریاض کا وقتی لگاؤ اور جذباتی پن ہے، وقت کے ساتھ ساتھ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ ریاض اور ایمو کے عشق کے قصے گلی گلی مشہور ہونے لگے۔ میں چھٹیاں ختم ہوتے ہی شہر چلا گیا۔ کاندھوں پر کمائی کا بوجھ ڈھوتے ڈھوتے میں ایمو کو بھلا چکا تھا۔ پھر ایک دن ریاض کا فون آیا کہ وہ مجھ سے ضروری ملنا چاہتا ہے۔ میں نے لاکھ بہانے بنائے، نجانے کیوں اب مجھے اس سے وحشت سی محسوس ہوتی تھی۔ پھر ایک دن ریاض نے میرے منصوبوں پر پانی پھیر دیا اور لاہور مجھ سے ملنے چلا آیا۔ اسے اپنے سامنے دیکھتے ہی میں پھیکے شلجم کی طرح ہو گیا۔

وہ ایمو سے شادی کرنے پرمجبور تھاکیونکہ جب پیڑ پر پھل لگنے والا ہو تودیکھنے والوں کے پیٹ ہی نہیں نظریں بھی بھوکی ننگی ہوجاتی ہیں۔ ریاض کو اس مشکل میں پھنسا دیکھ کر میری خباثت نے سکون کا سانس لیا۔وہ میری بے زاری کو بھانپ کرشام ہوتے ہی چپ چاپ گاؤں لوٹ گیا۔جب میں عید کی چھٹیوں پر گاؤں آیا تو پتہ چلا کہ ریاض ایموسے شادی کر کے شیخوپورہ چلاگیا ہے۔ مجھے لگاجیسے میں ہی وہ ہرن ہوں جو عین عالمِ بہار میں مستی پر آیا تھا۔ ابھی چاندنی رات کے طلسم میں ہرنیوں کے جھرمٹ میں کھڑا ہی ہو اتھا کہ شکاری نے مجھ پر تیر سیدھا کیا اور اس سے پہلے کہ مشک بُو میرے نافے سے پھوٹتی، کہیں سے اک تیر میرے سینے میں آکر گڑ گیا۔ میرے منہ سے نکلنے والی درد ناک چیخ اندرہی کہیں گم ہو کر رہ گئی تھی۔

ایمو میں نجانے کیا مقناطیسیت تھی کہ ہر کوئی اس کی طرف کھنچا چلا آتا تھا۔ میں نے شہر میں اس سے کہیںدرجہ حسین عورتیں دیکھی تھیں۔ ان کے مقابلے میں تو وہ گوشت کا ڈھیر تھی اور ریاض شہتوت کاسوکھا تنا۔ بس ایک بات ایمو کو ان سب حسین عورتوں سے جدا کرتی تھی اور وہ اس کے جسم سے پھوٹنے والی خوشبو تھی۔ وہ بالکل نیاز بو کے پودے کی طرح تھی، جسے چھونے والے ہاتھ سے کتنی ہی دیر خوشبو پھوٹتی رہتی ہے۔ جب یہ نیاز بو ریاض کے گھر لگ گیاتو میں اس کی بُو سونگھتا سونگھتا گاؤں چلا جاتا جہاں اب سب کچھ ویران تھا۔ ایسے لگتا تھا جیسے میری جیب کٹ گئی ہو اور میںبے یارومددگار لاری اڈے پر مسافروں کے منہ تک رہا ہوں۔ اس دوران میں نے خود کو گاؤں کی دوسری لڑکیوں کی جانب متوجہ کرنے کی بھی کوشش کی۔ نجو بھی ان میں سے ایک تھی۔ سانولی سلونی نجو، جس کے چہرے پر نمک ہی نمک تھا اور میں نمک کی اس ڈلی کو زبان پر رکھنے کے لیے بے چین ہو گیا۔ میرے دوست اکرم کو میری اس چوری کا علم تھا اس لیے جب بھی میں گاؤں جاتا وہ اس ڈلی کا ذکر چٹخارے لے لے کر کرتا۔ پھر ایک دن وہ اس کے اشارے پر بیٹھک میں مجھ سے ملنے آگئی۔ میں ڈرتا جھجکتا اندر داخل ہوا تو وہ دروازے کے پیچھے کھڑی تھی۔ اکرم بیٹھک میں ہماری جانب پشت کیے کمپیوٹر پر مصروف تھا۔ میں نے اپنے اندر کی ساری کمینگی کو دیگچی کے پیندے پرلگے سالن کی طرح کھرچ کھرچ کر ایک جگہ اکٹھا کیا اور اس سے باتیں کرنے لگا۔ وہ دیکھنے میںجتنی نمکین تھی اس سے کہیں زیادہ شہد جیسی میٹھی بھی لگنے لگی تھی۔ میں نے اس مٹھاس کا ہاتھ پکڑ تے ہوئے کہا:

’’سوہنیو! پھر کیا ارادہ ہے۔‘‘

پتہ نہیں یہ الفاظ کس طرح میرے منہ سے ادا ہوئے۔ میں کہنا تو کچھ اور چاہتا تھا لیکن عجیب سی بدمعاشی میرے اندر کروٹیں لینے لگی۔ جیسے سوئے ہوئے سانپ پر کسی راہ چلتے شخص کا پاؤں پڑ جائے تو وہ کسمساتا ہے بالکل ویسے میں بھی انگڑائیاں لے رہا تھا۔ اتنے میں نجوبولی: ’’کی مطبل جی!‘‘

’’اک چُمی تے دے سو۔‘‘ یہ فقرہ بولتے ہوئے میرا منہ تھوک سے بھر گیا۔ دل چاہا یہیں کہیں تھوک دوں کہ اتنے میں نجو اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے بولی: ’’چُمی تاں میں حالے تک اپھل نوں وی نئیں دتی۔‘‘ اس کی یہ بات سن کر اکرم کی ہنسی نکل گئی اور میری کمینگی کے غبارے سے ہوا۔ مجھ سے اچھا وہ نمبرداروں کا ڈرائیور اپھل ہی تھاجسے نجو کے لبوں تک رسائی کی امید تو تھی۔ دل چاہا کہ نجوکے منہ پر رکھ کر لگاؤں لیکن اگر اس کے چہرے کا نمک میرے ہاتھ کو لگ جاتا تو ساری عمر ہاتھ دھوتے ہی گزرتی۔ میری کمینگی پیشاب کے جھاگ کی طرح بیٹھ گئی اور میں نے نجو کو ایک لمبی سی گالی دیتے ہوئے بیٹھک سے نکال دیا۔ اکرم میری بے بسی پر قہقہے لگا رہا تھا لیکن اس دن مجھے اس کے قہقہے برے نہیں لگے۔ میں سوچتا رہا کہ اگر نجو کی بجائے میں نے ایمو سے اس خواہش کا اظہار کیا ہوتا تو کیا وہ کسی اپھل کو مجھ پر فوقیت دیتی۔ اس جیسی بے باک عورت جو شراب کی رسیا تھی اور ریاض کے لیے خود پنجابی ٹھرا لے کر آتی تھی اس کے آگے ایک چمی کی کیا اوقات تھی۔ نجو کو قریب سے دیکھنے کے بعد مجھے صوبیدار کا وہ کاما شدت سے یاد آنے لگا۔ کم بخت عورت کے جسم کے ایسے نقشے کھینچتا تھا کہ طبیعت خبطی ہونے لگتی۔ میرے پاس یادوں کی اس پٹاری میں اب کچھ نہیں بچا تھا اس لیے میں مستقل طور پر شہرچلا گیا۔

دس سال بعد گاؤں جانا ہوا تو سب کچھ بدل گیاتھا۔ گاؤں کے کچے راستے پر ایمو کے گھر کی پکی اینٹوں والی دیوار پر لگے اپلوں میں مجھے اس کی جھلک دکھائی دینے لگی۔ اس کا گھرمیرے پولٹری فارم کے عین سامنے تھا۔ جس طرح لوگ اپنے پیاروںکی قبروں پر فاتحہ پڑھنے آتے ہیں اس دن میں بھی اس شہر خموشاں کے باہر کھڑا تھا جہاں کبھی ایمو رہتی تھی۔ جس وقت اس نے ریاض سے شادی کی وہ پینتالیس کے پیٹے میں تھی اور ریاض تیس سال کا تھا۔ریاض کی عزت اور چکی دنوں بک گئیں۔اب وہ ٹرک چلاتا ہے لیکن ایمو بالکل اس عورت کی طرح رہی جس کی بدچلنی سے اس کا شوہر نہایت عاجز ہوا تو ایک دن اس نے اپنی بیوی سے یہ کام چھوڑنے کی التجا کی۔ بیوی نے ایک شرط کے بدلے خود کو بدلنے کا وعدہ کر لیا۔ شرط کے مطابق اس کا شوہر روز فقیروں والا چولا پہنے اور ہاتھ میں کٹورا پکڑے مانگنے نکل جاتا۔ ساٹھ دن تک اس کا یہی معمول رہا لیکن اگلے دن جب وہ کاسہ پکڑنے لگا تو بیوی نے اسے جانے سے روک دیا۔ شوہر نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ تو بے شک اپنی من مانی کر لیکن اب میں مانگنے سے باز نہیں آ سکتا۔ بیوی نے ہنستے ہوئے کہا کہ عادت کبھی فطرت کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ ایمو بھی اپنے کسب کا گلا نہ گھونٹ سکی۔ ایمو جس تالاب میں تھی وہ تعفن زدہ تھا لیکن مجھے اس کے عشق میں مچھلی کی طرح تیرنا اچھا لگتا رہا۔ جولاہی کی یہ کھڈی میرے دل کی پونیاں بنا بنا کر اپنی مرضی کے بیل بوٹے نکال رہی تھی۔مجھے اس کابس ایک باراشارے سے اپنے پاس بلانا یاد ہے جب ماں نے اسے میرے باپ کے ساتھ بیٹھک میں رنگے ہاتھوں پکڑا تو گھر اکھاڑہ بن گیا۔ وہ روز مجھے کمر پر ہاتھ رکھے، کھاجانے والی نظروں سے دیکھتی تھی جیسے مجھے مخبر سمجھ رہی ہو۔ پھرایک دن اس نے آواز لگائی: ’’او! کُتے یا، ایدھرتاں آ۔‘‘ میں گلی میں آوارہ کتے کی طرح سرپٹ دوڑا اور پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ میں واقعتا کتاہی تھا، گلیوں کا آوارہ کتا، جسے اسُوکے مہینے میں مشک مارتی کتیا نے دیوانہ بنارکھا تھا۔ گلی کے دوسرے کتے بھی اس کے تعاقب میں تھے اوروہ جوبن پرآئی دوڑ لگاتی کتیا، جس کے پیچھے دوڑنے والے آپس میں لڑرہے تھے۔وہ زبان نکالے،رال ٹپکائے دیکھتی تھی کہ کون اس دنگل میں جیتے گا۔ واؤ۔۔واؤ۔۔کی آوازیں نکالتے، دانت نکوستے، اس کو سونگھنے کو بے قرارکتے ایک دوسرے کو بھنبھوڑتے رہے اور پھر سب بے دم ہوگئے۔ جاٹوں کے کتے نے اس مشک مارتی کتیا کو جیت لیاتھا اور اب میں اس میدان میں کھڑا اس سنجوگ کو دیکھ رہا تھا۔

اس دن واپسی پر میں شیخوپورہ سے گزرتے گزرتے ریاض کے گھر کی طرف ہو لیا۔ میں ایمو کو جی بھر کر دیکھنا چاہتا تھا۔ جیسے ہی میں صحن میں داخل ہوا سامنے چارپائی پر لیٹی ہوئی ایمو اٹھ کر بیٹھ گئی۔ وہ مجھے پہچاننے کی کوشش کرنے لگی اور پھر ایک دم پہچان کا لپکا اس کی آنکھوں میں بجلی کی طرح کوندا۔ اب اس کا بھرا بھرا جسم پہلے کی نسبت کچھ کم ہو گیا تھا۔ اس کے دنداسہ کیے ہوئے دانت آج بھی چم چما رہے تھے۔ اس نے مجھے آگے بڑھ کرگلے لگا لیا اور دلار سے میرے گالوں کو چوما۔ وہ مجھے پہلے کی طرح نیازبوجیسی خوشبودار محسوس ہوئی۔ میرے اندر کہیں عجیب سی خنکی دوڑ گئی۔ اس لمحے لگا جیسے چونٹیاں میرے جسم میں داخل ہو گئی ہوں۔ وہ مجھے کرسی پر بٹھا کرخود چارپائی کی پائینتی پر بیٹھ گئی۔ وہ میرے اتنے قریب تھی جیسے کسی بھی لمحے اچک کراپنے منہ میں ڈال لے گی۔ اس دن مجھے اس کے چہرے پر ڈھونڈے سے بھی ہوس کے بادل نظر نہیں آئے۔ میں تو بڑی امید لے کر آیا تھا کہ شاید آج میں اس کے جسم میں لگی چکی میں دانے کی طرح پس جاؤں لیکن اب اسُو کا مہینہ گزر چکا تھا۔ اچانک میرا دل گھبرانے لگا اور پسینے چھوٹنے لگے۔ اس سے پہلے کہ میری نبض بند ہوتی میں نے اٹھ جانے میں ہی عافیت سمجھی۔ ایمو مجھے دروازے تک چھوڑنے آئی۔ میرا دل چاہا کہ آخری بار اس سے لپٹ کر زارو قطار روؤں لیکن میری ڈرپوکی اس دن بھی اس خواہش کے آڑے آگئی۔ ایمو واقعی اس جولاہی کی طرح تھی جسے معلوم تھا کہ کس سوتر کی پتلی سے ڈوری بنے گئی اور کس سوت کو چاندی کے تار کی طرح بٹ کر سوئی کے ناکے میں پرونا ہے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: