ناطق اور ناول: بد نام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا —- احمد اقبال

1
  • 147
    Shares
گذشتہ دنوں سوشل میڈیا پہ علی اکبر ناطق صاحب کا ایک وڈیو انٹرویو گردش کرتا رہا جس میں ادب، ادیب اور ناول کے موضوع پہ بہت کچھ کہا گیا۔  سینیر فکشن رائٹر جناب احمد اقبال صاحب نے اس گفتگو پہ اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے جسے ہم ادب کے سنجیدہ قارئین کے لئے پیش کررہے ہیں۔
دانش کاپلیٹ فارم اس موضوع پہ کسی بھی موقف، تحریر کی اشاعت کے لئے دستیاب ہے۔

زندگی میں سکون محض ایک تصوراتی اصطلاح ہے۔ روزمرہ کے معمولات کی ہلچل یعنی بقا کی لازمی و دائمی جدوجہد جاری رہتی ہے۔ خواہ موچی جوتا بنائے یا شاعر ایک غزل کہے۔ ہم بھی زندہ ہونے کے احساس کو زندہ رکھنے کےلئے کچھ سے دل لگی کرتے ہیں۔

BV / TV تو کچھ دیر کیلئے فیس بک کے بازار میں اپنی دکان بھی کھول لیتے ہیں۔ سب کی اپنی اپنی بولی میں ہم بھی شامل۔۔ اب جیسے بازار میں جو ہے “میڈ ان چائنہ” تو فیس بک پر جو ہے الیکشن کی سیاست کا ڈسا ہوا۔ سو اس کانے کی طرح جو بازار سے گزرا تو ایک طرف کی دکانوں کو دیکھتا گیا۔۔ لوٹا تو دوسری طرف کی۔۔ حیران ہو کے بولا “عجب دستور ہے یہاں کا کہ ایک طرف کا بازار بند رکھتے ہیں تو فیس بک پر بھی خا صے صاحب نظر کانے ہوگئے ہیں کہ یا نواز دکھائی دیتا ہے یا عمران۔ بغداد کے قحط سے منسوب محاورے۔ “یاراں فراموش کردند عشق” کو بھی الیکشن سےمنسوب کرلیں کہ لوگ شاعری اور ادب کیا گھر والی کا نام بھی بھول گئے۔ ایسے میں اپنے علی اکبر ناطق نے ایک ویب سائٹ سے وڈیو انٹرویو چلوا کے اپنا طبل جنگ بجایا تو کان ہمارے بھی کھڑے ہوئے کہ سنیں تو سہی کہ یہ ادب کے فلمی اسٹیج کا “رنگیلا” کہتا کیا ہے۔

رنگیلا کو آپ بھولے تو نہ ہوں گے۔۔ یعنی کیا نہیں تھا وہ۔۔ فلمی ایکٹر۔ جوکر۔ سنگر۔۔ موسیقار۔۔ پرؤڈیوسر۔۔ ڈایریکٹر۔ تو علی اکبر بھی اپنی ذات میں کیا نہیں۔ شاعر۔۔ استاد۔۔ ناول نویس۔۔ نقاد۔۔ مورخ۔ اینکر۔۔ ایک مماثلت ہمہ دانی کی تو نکلی۔ اس پرانگریزی کا محاورہ یا د آیا Jack of all trades but master of none

بطور ناول نگار ان کا سارا اثاثہ “نو لکھی کوٹھی” تک محدود ہے۔ اس کی تکمیل کے بعد وہ عرصہ دراز تک ہر جگہ خود ہی اس کو اردو کا عظیم ترین ناول قرار دیتے رہے اور اپنی پبلسٹی کرتے رہے کیونکہ ادب شناس حلقے نے ناول کو یکسر نظر انداز کرنے کے قابل ہی سمجھا تھا۔ میں نے سکہ بند نقادوں کا وہ دور دیکھا ہے جب ممتاز حسین۔۔ وقار عظیم۔۔ عبادت بریلوی۔۔ شوکت سبزواری۔۔ احتشام حسین، سید محمد عبداللہ اور ان جیسے متعدد گراں قدر نقادوں کی رائے کسی بھی ادبی تخلیق کے معیار اور ادیب کے قد و قامت پر سند کی حیثیت رکھتی تھی۔ وہ بہت وسیع مطالعہ بسیط مشاہدہ اور عمیق نگاہ رکھنے والے لوگ تھے۔ چنانچہ ان کی۔۔ مستند ہے میرا فرمایا ہوا۔۔ والی اجارہ داری اس وقت تک قائم رہی جب تک از خود ان کے بارے میں ایک حقیقت سامنے نہیں آئی کہ تنقید کا زبردست شعور رکھنے والے تخلیق کی ادبی صلاحیت سے یکسر محروم تھے۔ وہ شاعری میں قطعہ یا رباعی۔ نظم۔ آزاد نظم وغیرہ اور افسانے میں مختصر افسانہ۔ طویل مختصر افسانہ۔ ناولا (جسے ہم ناولٹ کہنے کے عادی ہیں) ناول۔ کسی صنف ادب میں کبھی تخلیق کے اہل ثابت نہیں ہوئے۔ اس کے بعد معیار پر ان کی مہر تصدیق کا دور رفتہ رفتہ غیر اہم اور بالاخر ختم ہوگیا۔ نئے دور کے ایک بڑے نقاد بھارت کے “کئی چاند تھے سر آسماں” والے فاروقی صاحب نے گویا ایٹمی دھماکا کیا اور اس مفروضے کے وجود کو مٹا دیا کہ نقاد وہی بنتا ہے جو تخلیقی صلاحیت سے محروم ہو۔۔ بگڑا شاعر مرثیہ گو اور بگڑا گویّا قوال والی بات پہلے ہی چلی آرہی تھی۔ میں سر دست ناول کی ادبی عظمت پر بحث نہیں کرتا۔ اس میں 1857 کی دہلی کا کینوس ہے چناچہ ہم داغ دہلوی کی والدہ کی اس کہانی میں مرزا غالب اور نواب شمس الدین کلو کے ساتھ خود کو اس دور کا کردارمحسوس کرتے ہیں تو یہ مصنف کی تاریخ پر گرفت اور جزئیات نگاری پر تھری ڈی کیمرے جیسی مکمل دسترس کا کمال ہے۔۔ ڈاکٹر انیس اشفاق بھی ان کے ہم عصر ہیں بہت بڑے اسکالر ہیں جن سے عالمی اردو کانفرس میں ملاقات کا شرف حاصل ہوتا ہے۔ اس بار وہ اپنا تازہ مطبوعہ ناول “سراب گرداب” عنایت کر گئے جس کا زمانہ وپی لیکن مقام لکھنو اور موضوع سخن “امراو جان ادا” ہے۔ اپنی تمام کمتری وکم علمی کے باوصف میں ذہنی سطح پر اس ناول کو فاروقی صاحب کے ناول کا ہمسر تو کجا، ایک اوسط درجے کی ادبی کاوش بھی تسلیم نہ کر سکا۔۔ اور میرے خیال میں اس کی وجہ ناول کی تکنیک پر ڈاکٹر انیس فاروق کے عبور کی خامی ہے۔

بات پہلے ناول کی جو مصنف کے خیال میں انہوں نے سب سے بڑی تخلیقی توپ چلائی ہے۔ “نو لکھی کوٹھی” میں وقت کا کینوس کنفیوژن اور الجھاو کا شکار ہے، اس میں “یونٹی آف ٹائیم” کے تکنیکی عمل میں انتشار ہے۔ وقت کا مصنف کی ذہنی گرفت میں نہ رہنا ایک لا شعوری ناکامی ہے جو فسانے کو حقیقت کا قالب دینے کی کوشش میں لاشعوری طور پر سر زد ہوتی ہے۔ خصوصا” اس وقت جب کہانی کے پس منظر میں وہ اپنی زندگی کے مشاہدات اور تاثرات کے ساتھ خود بھی موجود نہ ہو۔۔ غیر موجود سامع یا نظر سے اوجھل شاہد بن کر ہی وہ وقت کی اکائی نہیں گم کرتا۔ مکمل ناول نگاروں کے لازوال ادبی حیثیت کے حامل شہکاروں میں یہ وصف ایک دلیل بن جاتا ہے۔۔ بقول غالب ؎اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہے۔۔ آپ عزیز احمد کے “آگ” کو دیکھئے، وہ شاید 70 برس قبل لکھا گیا تھا۔ وقت اور مقام کشمیر ہے لیکن اس کے واقعات یا کردار تاریخی اور معاشرتی حقائق میں شامل ہیں جن کو مصنف آج کے خفیہ سیکیورٹی کیمرے کی طرح ریکارڈ کرتا محسوس ہوتا ہے۔ ناول نگار کی نظر نے مرکزی کردار غضنفر جو کو رکھا اور نصف صدی بعد میں نے اسلام آباد کی ایک نمائش میں ایک اسٹال پر “غضنفر جو” کا بورڈ دیکھا تو وہاں موجود خواتین سے پوچھے بغیر نہ رہ سکا کہ کیا آپ کا یہ خاندانی نام سرینگر سے کوئی تعلق رکھتا ہے تو انہوں نے اعتراف کیا کہ ایسا ہی ہے۔ چلیے اس دور کو جانے دیں جو عزیز احمد نے بھی جیا۔۔ ان کا ایک شہکار ناولٹ ہے “خدنگ جستہ” (جو اب عزیز احمد کے پانچ ناولٹ کی کتابی صورت میں دستیاب ہے)۔ یہ ایک سپاہی کی کمان سے بلا ارادہ نکل جانے والے تیر کی کہانی ہے جس نے امیر تیمور کو تاریخ میں “تیمور لنگ” کر دیا۔ سپاہی تو خیر وہیں ماردیا گیا لیکن تیمور لنگ نےتاریخ میں ایک خوں شام حملہ اورحاکم کی شہرت پائی۔۔ یہ اس سفاک شخص کی ایک عورت کیلئے جو اس کی بیوی تھی محبت۔ عشق اور دیوانگی کی داستان ہے جسے وہ تاتار کے برفانی پہاڑوں میں مدفون چھوڑ آیا تھا۔ عورت اس کے لئے کیا تھی مگر عشق نے اسے کس طرح تسخیر کیا۔۔ یہ آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ اور خیال سے محسوص کر سکتے ہیں۔۔ اس وقت تو عزیز احمد تیمور کے ساتھ نہیں تھا؟ لیکن اس نے تخیل میں خود کو شریک وقت کیا اور پھر بیان کی ساحری سے پڑھنے والے کو بھی وہاں پہنچا دیا۔ عزیز احمد فرنچ میں ڈاکٹریٹ رکھتا تھا لیکن اس کی تحریر میں فارسی اسی طرح شامل ہے جیسے قرۃالعین کی تحریر میں فارسی کے ساتھ ہندی اور علاقائی زبانیں ایک حقیقی فضا قائم کرتی ہیں حالانکہ وہ انتہائی ارسٹو کریٹ اور فیوڈل پس منظر رکھتی تھی۔ ناول تو خیر اس کے تاریخ اور تہذیب پرناقابل یقین عبور کا ثبوت ہیں لیکن اس کے افسانے اور ناولٹ ذاتی مشاہدے کے واقعات کا تصویری عکس ہیں جس میں اس نے زبان کے جادو سے آپ کو بھی عینی شاہد بنا لیا ہے۔۔ “چائے کے باغ” دیکھئے۔۔ آسام اور سلہٹ کے ولایتی اور دیسی استعماری ماحول میں آپ مقامی عورت کی بے وقعت زندگی کو ایسے دیکھیں گے جیسے فلم۔ اس نے “سیتا ہرن” میں ایک بہت خوبصورت عورت ڈاکٹر سیتا مرچنڈانی کی سرحد کے دونوں طرف کے مردانہ معاشرے میں بے وقعتی کو لفظوں میں یوں پینٹ کیا ہے کہ آپ اس سے مل کر اداس ہوں گے۔ پھر آپ ان کا رپور تاژ “کوہ دماوند” دیکھئے۔۔۔

جن کا میں نے ذکر کیا۔۔۔ کیا ان میں سے ایک بھی اپنا ڈھول بجاتا پھرا کہ قدردان۔۔ مہربان۔۔ میرا ناول پڑھو۔۔ یہ دنیا کا سب سے عظیم ناول ہے۔۔ جاہلو۔۔ قدر ناشناسو۔۔ نا سمجھو۔۔ میری عظمت کو تسلیم کرو۔

ناول کی بات لمبی ضرور ہوئی لیکن یہ ضروری تھا کہ میں شہکار ناول کا تصور اجاگر کروں۔ یہ نام وہ ہیں جن کا ناطق بھولے سے بھی ذکر نہیں کرے گا، اس کے علاوہ عبداللہ حسین ہیں۔ خاندانی علم و ادب پیشہ محترمہ نثار عزیز بٹ (ہمشیرہ سرتاج عزیز) ہیں جن کے صرف چار مکمل شہکار ناول کی کلیات “سنگ میل” نے شائع کی ہے اور کئی سال قبل میں نے دل پر پتھر رکھ کے 1500 میں خریدی تھی، ان کا پہلا ناول “نگری نگری پھرا مسافر” ہی چونکادینے والا تھا جو 1955 کے لگ بھگ آیا تھا۔ انہوں نے افسانہ ایک بھی نہیں لکھا۔۔ حقیقت یہ ہے کہ ناول اردو میں انگریزی سے آیا اور وہ سب جن کا میں نے ذکر کیا انگلش اور فرنچ لٹریچر پر عبور رکھتے تھے قراۃ العین حیدر نے “ہمیں چراغ ہمیں پروانے” ترجمہ کیا اور ایک ناولٹ “آدمی کا مقدر” مائیکل شولو خوف کا (جو سیپ کے ناولٹ نمبر مطبوعہ 1957 میں ہے)۔

یہ بھی پڑھئے: خواتین ناول نگار اور مذہبی رومانویت : ایک تاثر ۔۔۔۔ جویریہ سعید

 

جن کا میں نے ذکر کیا۔۔۔ کیا ان میں سے ایک بھی اپنا ڈھول بجاتا پھرا کہ قدردان۔۔ مہربان۔۔ میرا ناول پڑھو۔۔ یہ دنیا کا سب سے عظیم ناول ہے۔۔ جاہلو۔۔ قدر ناشناسو۔۔ نا سمجھو۔۔ میری عظمت کو تسلیم کرو۔ در اصل ناول اپنی تکنیک میں جدا ہے۔۔ مختصر افسانے چند سطروں کے بھی منٹو نے لکھے اور “موذیل” بھی لکھا۔ ذراسا فرق طویل مختصر افسانے میں ہے۔۔ پھر ناولٹ جو مختصر ناول سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ فرق ٹائم کے کینوس کا ہے مصور “منی ایچر” بھی انہی رنگوں سے بناتا ہے جن سے صادقین اپنے میورل۔۔ سائیز 23 فٹ بائی 69 فٹ بناتا رہا۔۔ ناطق کو غالبا” اس کا شعور نہیں یا وہ ایک بڑے وقت اور عہد کی کہانی کو ہینڈل کرنے سے قاصرہے۔۔ وہ واقعات اور کرداروں کو منطقی یکسانیت سے ساتھ نہیں چلاسکتا۔۔ اور آخری بات۔ اپنے حسن بیان سے قاری کو بہا کر ساتھ نہیں لے جا سکتا۔۔ گلشن نندہ۔۔ قیسی رامپوری اور ایم اسلم کے سینکڑوں ناول آج کہیں ملتے ہیں؟ ان کا ذکر کسی ادبی حوالے میں آتا ہے چنانچہ۔ اب نمرا احمد، عمیرا احمد ٹائپ چار پانچ کلو کی ضخیم کہانی لکھنے والی خواتین نے مارکیٹ پکڑ لی ہے مگر کیا وہ ادب ہے۔

ناطق نے انہیں ٹارگٹ کیا ہے جن کی ادبی حیثیت پہلے ہی متنازعہ تھی، اشفاق احمد نے چند افسانے بہت اچھے لکھے جن میں “گڈریا” ایک حوالہ بنا لیکن بعد میں اس نے کمرشل صوفی ازم اختیار کیا جو زیادہ مقبولیت اور مالی منقت کا ضامن تھا تو افسانوں پر لعنت بھیج دی بلکہ اپنے شہکار “گڈریا” کو بھی جوانی کی غلط کاری میں شمار کرنے لگا۔ وہ زبردست “براڈ کاسٹر” تھا، ٹی وی کی آمد سے پہلے وہ ریڈیو پر “تلقین شاہ” بنا جسے سننے کیلئے سڑک پر ٹھٹھ لگانے والوں میں راقم بھی تھا۔ تلقین شاہ کی صدا کاری وہ خود کرتا تھا۔ یہ ایک منافق کا کردار تھا جو نیکی کی تلقین کرتا ہے مگر خود اپنے کہے کے بر عکس عمل کرتا ہے۔۔ اس کا نوکر “ہدایت اللہ” اس تضاد پر ٹوکتا ہے تو انجام ہوتا تھا “تیں ترقی نہیں کرنی ہدایت اللہ” پر۔۔ ٹی وی آیا تو اس نے چند اچھے ڈرامے لکھے۔ بھٹو کے دور میں وہ ماؤ والی بشرٹ پہنتا رہا اور “اردو سائنس فاونڈیشن” کا چیر مین بنا تو ضیاء دور میں وہ صوفی بن گیا اور “زاویہ” جیسا براہ راست تبلیغ کا پروگرام کرنے لگا جس میں اس نے روحانی قوت والے بے شمار بابے بتائے جو صرف اس کی نظر دیکھ سکتی تھی۔۔ آج یہ متعدد ضخیم جلدوں والی کتاب ہے جو اس کے افسانون سے ہزار گنا بکتی ہے اور وہ تقریبا” پیر اور رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ ہے۔ اس ملک میں ہر تھوڑے بہت سیانے کو کثیر تعداد میں بہترین احمق دستیاب ہیں جو اسے دولت مند بنا دیں گے۔ اشفاق احمد کی بیوی نے بھی “راجہ گدھ” میں کامیابی اور ناکامی۔ عزت و ذلت کو اعمال کی جزا یا سزا کا موضوع بنایا۔۔ وہ شہاب کی قائم کردہ “چار یار انٹر پرائیز” میں ممتاز مفتی اور ابن انشاء کے ساتھ شامل رہا۔ اب ان میں سے ناول نگار تو کوئی بھی نہیں۔ ممتاز مفتی نفسیاتی افسانے لکھتا آیا تھا۔ میں نے 1948 میں اس کا افسانہ “مہندی والے ہاتھ” م۔ ش۔ (محمد شفیع) کے پندرہ روزہ “استقلال” میں پڑھا تھا۔ دور ضیاء میں ان پر بھی بڑھاپا آچکا تھا، وہ ناول نگار تھا ہی نہیں لیکن اس سے “علی پور کا ایلی” اور “الکھ نگری” لکھوائےگئے اور بالاخر “لبیک”۔

اب رہے اپنے شہاب صاحب۔۔ اللہ ان کی مغفرت کرے، تین سربراہان ملک کا راز داں (سیکرٹری) بالاخر مارشل لا کا سبب بنا۔۔ ہم آج تک اس کے کینسر جیسے اثرات سے مر رہے ہیں اس نے خود اعتراف جرم کیا ہے کہ میرے بارے میں یہ شعر مشہور کرنا “سازش” ہے:
جب کہیں انقلاب ہوتا ہے
قدرت اللہ شہاب ہوتا ہے

ناطق جیسے کمپلکس کا شکار میں نے مرحوم احسن فاروقی کو دیکھا تھا جو اردو کے ساتھ انگلش میں بھی ڈاکٹریٹ رکھتے تھے اورخود کوسب سے بڑا ناول نگار مانتے تھے۔ جو نہ مانے اس کی شامت۔ انہوں نے بھی غالبا” ہنری جیمس کے ناول The Turn of a screw کا ترجمہ “پیچ کا پھیر” کے نام سے کیا تھا۔ 1970 میں وہ حیدر آباد یونیورسٹی میں تھے جب عزیز احمد کو ان سے بڑا ناول نگار کہنے پر انہوں نے مجھے باقاعدہ بے عزت کیا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: عمیرہ احمد : مذہب، رومان، تصوف اور تضاد: عامر منیر کا دلچسپ تجزیہ

 

ناول کا انتم سنسکار کرنے کے بعد لیتے ہیں ناطق کی شاعری کو۔۔ میرا خیال ہے احمد ندیم قاسمی کے سوا اب تک افسانوی ادب اور شاعری میں یکساں معیاری تخلیق کرنے والا دوسرا نام نہیں لیکن اس مرد قلندر نے یہ دعویٰ کبھی نہیں کیا کہ “ہم چو من دیگرے نیست”۔۔ ناطق صاحب کے جیسا تو تاریخ اردو ادب میں نہیں جو ناول نگار بھی ہو اور شاعر بھی چنانچہ خود ہی ہنکارتے پھرتے ہیں کہ “جدھر دیکھتا ہوں ادھر میں ہی میں ہوں”۔۔ انہوں نے ظفر اقبال جیسے شاعر کیلئے کتنی آسانی سے کہہ دیا کہ ان کے 33 مجموعے ہیں لیکن کام کے شعر 150 ہی ہیں۔۔ اب یہ تو خدائے سخن میر کے لئے بھی کہا جاتا ہے کہ “پست است بغایت پست و بلند است بغایت بلند”۔۔۔ اب ایمانداری کی بات یہ ہے کہ میں نے ناطق کی شاعری ساری نہیں پڑھی۔ پھر بھی میں بے خطر کہہ سکتا ہوں کی افتخار عارف یا امجد اسلام امجد اس عصر کی نمائندگی کرتے ہیں۔۔ ناطق جیسی شاعری کون نہیں کر سکتا۔۔ اسی پر بس نہیں۔۔۔ موصوف نقاد بھی ہیں اور اقبال اکیڈمی ہونے کے باوجود انہوں نے اس کا بھی پوسٹ مارٹم کیا۔۔ آپ مورخ بھی ہیں۔۔ لوک ورثہ اسلام آباد کےایک فیسٹول میں ا س ناچیز نے آپ کو 4 سیشن میں میزبانی کرتے دیکھا۔ جس میں آخری مشاعرے کی نظامت تھی۔۔ کیا اسلام آباد پنڈی اور باہر سے آئے ہوئے مہمانوں میں کوئی اس کا اہل نہ تھا؟ آپ نے کس کس کی ناز برادری سے یہ شہرت کا ٹکٹ حاصل کیا۔۔ یہ سوال تو اٹھے گا۔۔ حد ہے جب وہ اعتراف کرتا ہے کہ مجھے ایک ادبی رسالے کے لئے موصول ہونے والے 63 افسانون اور 300 غزلیات میں ایک بھی قابل اشاعت نہ تھی۔۔ یار اتنے تو پاکستان میں شاعر اور افسانہ نگار ہی نہیں ہونگے۔۔ کچھ تو خدا کا خوف کرو۔۔ خودستائی کے قطب مینار پر چڑھے رہو لیکن یہ تو نہ کہو کہ نیچے سب کاکروچ ہیں سالے۔۔

ایک طرف ناطق کا دعویٰ ہے کہ اس کے دوست وہ ہیں جو نہ شاعر ہیں نہ ادیب۔۔ یہ کان کو ہاتھ گھما کے پکڑنے والی بات ہے۔۔ شاعر ادیب اس سے دور میں رہتےہیں۔ جو ہمہ وقت خود ستائی کے مرض کا شکار ہو ا سکے منہ کون لگے۔۔ پھر وہ زود رنج اتنا ہے کہ جو اسے جانتے ہیں وہ محتاط رہتے ہیں۔۔ میری کئی سا ل کی شناسی تھی لیکن میں نے بھی اسے برداشت کیا۔ اسلام آباد کے سیکٹر 8-1 میں کتابوں کی دکان “مکتبہ غالب” تھی وہاں بہت کم لوگ آتے تھے۔ چنانچہ وہ لیکچرر بن کے لاہور چلا گیا۔ پی ایچ ڈی تو ہے نہیں مگر خود کو پروفیسر لکھتا ہے۔۔ اگر وہ مطالبہ کرے کہ میرے علم اور قابلیت کی بنیاد پر مجھے وائس چانسلر لگایا جائے تو مجھے حیرت نہیں ہوگی۔


یہ بھی دلچسپ ہے: عمیرہ احمد و نمرہ احمد وغیرہ کا مسئلہ: کبیر علی

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. اردو کی ادبی تاریخ کے ساتھ کی گئی حرام خوری پر ایک بہترین تجزیہ ہے یہ آرٹیکل۔ ماشاءاللہ بہت خوب!

Leave A Reply

%d bloggers like this: