ایم ایم اے: سادگی، خواب زدگی یا خود فریبی —- سید مظفر الحق

0
  • 117
    Shares

زیادہ مدّت نہیں ہوئی کہ کہیں کی اینٹ اور کہیں کا روڑا ملا کر بھان متی نےکنبہ جوڑا تھا، نظریہ ضرورت کا دباؤ تھا یا عالمِ بالا کے اشارے نے روایتی جبّہ و دستار، سیاسی طالع آزماؤں اور اسلامی انقلاب کے داعیوں کو پرویزی ڈوری میں پرو کر متحدہ مجلسِ عمل نامی مالا بنا ڈالی، بدخواہوں نے اسے ملّا ملٹری الائینس کا نام دے ڈالا کیونکہ ان کی دال نہ گل سکی تھی اور این آر او موخر ہوگیا، آزاد معیشت کی یہی تو خصوصیت ہے کہ بازاری اجناس کی قدر و قیمت کا تعین طلب اور رسد کی بنیاد پہ ہوتا ہے۔

مصنف

پیر فرتوت نے ارزاں نرخ پہ جنسِ وفا پیش کردی، پیشکش پرکشش اور اجناس تازہ تھیں جلد خراب ہونے کا کوئی خدشہ بھی لاحق نہیں تھا ان کا مال بازار اور اثر و رسوخ منڈی کے ایک کونے تک محدود تھا جبکہ دوسری پارٹی نا قابلِ اعتماد اور حریص تھی جو پورے بازار پہ اجارہ داری کی تاک میں تھی سو سودا پکّا ہوگیا۔ قاضیِ شہر کو سرپرست اور نمائشی سرتاج بنا کر پیرِ فرتوت جس کی شاطرانہ صلاحیتیوں اور چک پھیریوں کے آگے بیچارہ قاضی کچھ اپنی سادگی اور کچھ خانقاہی عقیدتوں کی وجہ سے ڈھیر ہوگیا۔ وہ اپنے صافے میں لگی کلغی پہ ہی پھولا نہ سماتا تھا جبکہ حرفوں کا بنا شاطر پہلے تو خود بازار کا سرخیل جو وزیراعظم کہلاتا تھا اس کا امید وار بنا، یہ پتّھر بھاری تھا نہ اٹھ سکا چچا سام پیٹھ دکھا گئے تو اس نے بساط پہ دوسری چال چلی اور اکثریت نہ ہونے کے باوجود جوڑ توڑ کرکے قائدِ حزب اختلاف بن گیا اور اپنے ایک کفش بردار کو کے پی کی حکومت سونپ کر خود مرکز اور صوبے کے میوہ جات سے شکم سیر یوتا اور اپنی ذریت کو نوازتا رہا، جبکہ خواب زدہ اسلامی انقلابی شعوری طور پہ یا فریب خوردگی کے سبب اسے توانائی فراہم کرتے رہے اور رسوا ہوتے رہے۔

یہ بھی ملاحظہ کریں: متحدہ مجلس لطائف ——– آصف محمود

 

حتٰی کہ اس رنگے سیار نے وردی پوش آقا کو وردی میں ہی بارِ دگر سریر آرائے تخت کرانے کا ڈول ڈالا، سودے بازی کرکے شرم و حیا کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اور اپنے یمین و یسار انقلاب زدہ صالحین کو آنکھیں دکھا کر اقتدار کی چوکھٹ پہ سجدہ ریز ہوکر نعلینِ کو بوسہ دیا اور اس کے کفش بردار نے جو وزیر اعلٰی کہلاتا تھا اسمبلی ٹوٹنے سے پہلے جو بل پاس کروائے ان میں سے کوئی عوام کی فلاح اورصوبے کے مفاد کے لئے نہیں بلکہ صرف اپنی مراعات اور مفادات کے لئے تھے۔

اقتدار کی چاٹ اور مردار خوری کی لت ایسی بری ہے کہ کے پی کے میں اقتدار کے فراق کی آگ میں جھلستا ہیرِ فرتوت ایک بار پھر وہی جالِ ہمرنگِ زمیں لے کے آیا ہے جس سے مردِ دانا کی درویشی و مومنانہ فراست نے خواب زدہ انقلابیوں کو رہائی دلوائی تھی۔

اب اسے سادگی کہیں، خواب زدگی، سمجھیں یا خود فریبی کا نام دیں کہ صید خود صیاد کے جال میں پھنسنے کو بیتاب ہے۔


یہ بھی ملاحظہ کریں: علماء اور سیاست : احمد الیاس

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: