اقبال اور کشمیر ———– فیضان بٹ

0
  • 89
    Shares

تنم گلے زخیابان جنت کشمیر
ولم زخاک حجازو نواز شیرا راست

علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال کی شاعری میں کئی ایسے اشعار ملتے ہیں جن سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ علامہ اقبال کو کشمیر سے کس قدر روحانی اور جذباتی محبت تھی۔ اقبال نے نہ صرف شاعری کے ذریعے کشمیریوں کی ترجمانی کی بلکہ سیاسی اور عملی میدان میں بھی کشمیریوں کے احساسات و جذبات کے نقیب بنے۔ علامہ اقبال کے بزرگوں کا تعلق کشمیر سے ہی تھا۔ انہیں اس بات پر ناز تھا کہ اُن کی شریانوں میں دوڑنے والا خون کشمیر سے تعلق رکھتا ہے۔

جب علامہ اقبال سیالکوٹ سے لاہور تشریف لے گئے تو وہاں انھوں نے کشمیری مسلمانوں کی قائم کردہ تنظیم ’’انجمن کشمیری مسلمانان‘‘ میں شمولیت کی جس کے وہ بعد ازاں سیکرٹری جنرل بنائے گئے۔ علامہ اقبال نے کشمیر کو دور سے ہی نہیں دیکھا بلکہ بنفسِ نفیس کشمیر کا دورہ کرکے کشمیری مسلمانوں کے حالات کا از خود جائزہ لیا۔ کشمیر کو دیکھنے کی خواہش علامہ کے دل میں اُس وقت گھر کر گئی تھی جب علامہ نے منشی محمد دین فوق کے رسالہ ’’رہنمائے کشمیر‘‘ کا مطالعہ کیا۔ ایک خط میں منشی محمد دین فوق کو لکھتے ہیں:

’’رسالہ رہنما ئے کشمیر جو حال میں آپ کے قلم سے نکلا ہے نہایت ہی مفید ہے، طرز بیان بھی دلکش ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ رسالہ عام لوگوں کے لیے نہایت مفید ہوگا۔ افسوس ہے کہ میں آج تک کشمیر کی سیر نہیں کر سکا لیکن اس سال ممکن ہے کہ آپ کا رسالہ مجھے اُدھر کھینچ لے جائے‘‘۔

زیر نظر کتاب ’اقبال اور کشمیر‘‘ جس کو کتاب محل سرینگر نے شائع کیا ہے کشمیر سے علامہ اقبال کے تعلق کو سمجھنے کے لئے نہایت ہی کتاب مفید ہے۔ کتاب کے مصنف سلیم خاں گمی نے روایت سے ہٹ کر کشمیر اور علامہ اقبال پر قابلِ ستائش کام کیا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف پڑھے لکھے طبقے کی علمی پیاس بجھا سکتی ہے بلکہ اُن کو روایت سے ہٹ کر سوچنے کے دریچے بھی کھول سکتی ہے۔اقبال صلاح الدین کے بقول ’’سلیم خاں گمی کی کتاب ’’اقبال اور کشمیر‘‘ ایک ادیب کی جانب سے ایک لائق ستائش اقدام ہے۔ جہاں یہ کتاب اس حساس ذہن کی شبانہ روز کاوشوں کا مظہر ہے۔ وہاں ان کی سوچ اور فکر کی درست نہج کو بھی متعین کرتی ہے۔ بظاہر کتاب کی ضخامت بہت کم ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں ہوں گمیؔ صاحب نے کشمیر اور اقبال کے بیشتر متعلقات کا مکمل احاطہ کر دیا ہے۔ یہ کتاب جس جذبے کی عکاس ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ایسے جذبات کی کھلے قلب و ذہن سے قدر کریں۔ بہر صورت میرے لئے تو یہ کتاب بالخصوص وجہ سکینت و طمانیت ہے۔ اس لئے میری تشویق بارآور ثابت ہوئی‘‘۔

کتاب ’’اقبال اور کشمیر‘‘ ۱۳۵ صفحات پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں مصنف نے کشمیر کے مذہبی اور فکری پس منظر پر روشنی ڈالی ہے۔ لکھتے ہیں: ’’لفظ کشمیر پر مشتشرقین اور پاک و ہند کی قدیم تاریخ کے محققین نے کافی تحقیق کی ہے۔ لیکن پھر بھی کسی ایک نظریے پر متفق نہیں ہوسکتے۔ ایک نظر یہ یہ ہے کہ پراکرت میں ’’کس‘‘ نالہ کو اور ’’میر‘‘ پہاڑ کو کہتے ہیں۔ چونکہ کشمیر پہاڑوں نالوں کا علاقہ ہے لہذا کشمیر کا مرکب لفظ اس کے لئے استعمال کیا گیا۔ مصنف آگے کتاب میں کشمیر سے متعلق کئی نظریات پر مفصل اور مدلل روشنی ڈالتے ہیں۔

کتاب کے صفحہ نمبر ۵۵ میں ’’کشمیر کی تحریکِ حریت اور اقبال‘‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں، اولاً علامہ اقبال خود کو کشمیرکے لوگوں میں سے ایک تصور کرتے تھے اور ثانیاً جو ظلم ڈوگروں کی طرف سے کشمیریوں پر روا رکھا جاتا تھا وہ خود اُسے اپنی ذات پرمحسوس کرتے تھے۔ علامہ اقبال کشمیریوں کی بدحالی پر کس قدر کڑھتے تھے اس کا اندازہ اس قطعہ سے لگایا جاسکتاہے۔

پنجہ ظلم و جہالت نے بُرا حال کیا
بن کے مقراض ہمیں بے پر وبال کیا
توڑ اُس دستِ جفاکش کو یارب جس نے
رُوحِ آزادیٔ کشمیر کو پامال کیا

الغرض اس کتاب کا مطالعہ ہر کشمیری کو کرنا چاہیے اور میں کتاب کے مطالعہ کو سامنے رکھ کر ذاتی طور پر کہوں گا اگر قدرت علامہ کو مہلت دیتی تو مجھے یقین ہے کہ علامہ کشمیر کے تابناک مستقبل کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لاتے اور شاید آج کا کشمیر کچھ مختلف ہوتا۔

bhatfaizan10@gmail.com

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: