اردگان اور پاکستان کی اسلامی تحریکیں —— صفتین خان

1
  • 125
    Shares

طیب اردگان کی کامیابی کے بعد پاکستان میں اسلامی تحریکوں کی کامیابی کے امکانات کے بارے میں حامیوں اور مخالفین میں معرکہ جاری ہے۔ حامی اس سے خوش ہو کر یہاں بھی مقامی “اردگان ” سراج الحق کی فتح کے لیے نا امید نہیں تو مخالفین اس جوش سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

یہ سنجیدہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسی کیا وجہ ہے کہ یہاں اسلامی تحریکوں کو مقبولیت نہیں ملی۔ یہی سوال سلیم صافی و چند دیگر نے بھی اٹھایا ہے کہ اگر ایمانداری و خدمت ہی اقتدار کے لوازم ہیں تو پھر جماعت اسلامی کیوں نہیں تحریک انصاف کے بجائے۔ اس لیے کہ جماعت کا مزاج اکثریت کے تہذیبی مزاج سے مختلف ہے۔ اس کا جواب خارج میں نہیں داخل میں تلاش کیا جائے تو شاید مستقبل مختلف ہو۔ کوئی بھی اسلامی تحریک سماج کے تہذیبی مزاج سے ہٹ کر کبھی منزل تک نہیں پہنچ سکتی۔ برصغیر کا المیہ یہ ہے کہ یہاں سے اٹھنے والے اصحاب انقلاب نے اس پہلو کو ثانوی حیثیت دی ہے۔ خلافت تحریک ہو یا ریشمی رومال, جماعت اسلامی ہو یا تنظیم اسلامی، جمیعت علمائے اسلام ہو یا سنی تحریک جدید دور سے متاثر تہذیبی اقدار کو نظر انداز کیا گیا اور قرون وسطی کی تہذیبی تشریح کو تقدس کا درجہ عطا کر کے اس پر اصرار کیا گیا۔ ظاہری حلیہ کو حد سے زیادہ اہمیت دی گئی۔ اس پستی کی انتہا وہ لمحہ تھا جب ایم ایم اے کے دور حکومت میں جماعت اسلامی کا اکرم درانی کی وزارت اعلی پر اعتراض داڑھی کا نہ ہونا تھا اس کا بدترین کریکٹر نہیں۔

خواتین، اقلیتوں اور فنون لطیفہ سے متعلق خاص طور پر جدید سماج و دنیا کی حساسیت کو نا سمجھتے ہوئے روایتی فقہی موقف کو اپنایا گیا جس سے اسلامی تحریکوں سے متعلق جمود اور انتہا پسندی کا تاثر ابھرا۔ اسی نے عام عوام میں ان کے بارے میں سو ظن پیدا کیا۔ سماج کبھی ایسی قوت کو اقتدار کے پیمانے پر نہیں دیکھنا چاہتا جو اس کے تہذیبی مظاہر کے بارے میں ناپسندیدگی کا رویہ رکھے۔ پاکستانی سماج کا عمومی مزاج معتدلانہ ہے۔ اس سے وہ اس خوف میں مبتلا ہوتا ہے کہ مبادا قوت حاصل کرنے کے بعد تہذیبی شناخت کے متشددانہ و روایت پسندانہ فہم کو بزور نافذ کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ خصوصا جب کہ ماضی قریب اس پر شاہد ہو طالبان کی ملائیت، ایران کی پاپائیت اور سعودیہ کی جبری بادشاہت کی صورت میں۔

اس کے برعکس ترکی ہو یا تیونس رہبران اسلام نے زیادہ سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے تہذیبی شعور کو معاشرے کی سوچ کے مطابق ڈھالا ہے۔ انہوں نے جدید دور اور ذہن کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ردعمل کی نفسیات سے اجتناب برتا ہے۔ وہ معاملات جہاں جدید تہذیب زیادہ حساس ہے وہاں وسعت علم و عمل کا ادراک کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام آدمی تحریکی شناخت کو روزمرہ کی شناخت سے متضاد نہیں پاتا۔ خواتین کے لباس و سماج میں ان کے کردار میں اپنائیت محسوس کرتا ہے۔

دوسری اور اہم ترین وجہ علم کا جمود ہے۔ تہذیبی جمود بھی اسی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ شریعت کی وہ جامد تعبیر جس میں اجتہاد کو نظری طور پر ماننے کے باوجود عملا سید مودودی و علمائے اکابر دیوبند کی فقہی رائے کو الہامی درجہ عطا کیا گیا ہے۔ قرآن و حدیث کا تعلق، ماخذ شریعت کی درست ترتیب، تصور جہاد، سود، اقلیتوں و خواتین کے حقوق، فنون لطیفہ کی حرمت اور دوسرے بہت سے معاملات میں تحریک اسلامی بیسویں صدی کے نصف اول سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ حتی کہ جاوید احمد غامدی جیسی شخصیت جس کو خود بانی تحریک علمی ارتقاء کے لیے ذاتی نگرانی میں مقرر کرتے ہیں سمو نہیں پاتے۔ سیاسی معاملات میں حد درجہ اشتغال نے علمی ارتقاء کی اہمیت کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے جس سے بالآخر نقصان سیاسی ہو رہا ہے کیوں کہ تحریک کا ہر عمل علم سے پھوٹتا ہے جس سے سماج میں تاثر پیدا ہوتا ہے اور اقتدار کا سارا دارومدار عوامی حمایت پر منحصر ہے۔

تیسرا سبب احمقانہ حد تک قابل رحم سیاسی بصیرت ہے۔ چاہے وہ قیام پاکستان سے پہلے جدوجہد آزادی کی مخالفت ہو یا ایوب، ضیا و مشرف سمیت ہر آمر و بدعنوان کو قانونی جواز فراہم کرنے لیے ہر اول دستے کا کردار ادا کرنا ہو۔ انتخابی عمل کی ابتدا میں مخالفت ہو یا بعد میں الیکشن کے لیے علم و دعوت تک کو قربان کر دینے کی دوسری انتہا۔ چند سیٹوں کے لیے اصولوں کی قربانی ہو یا متحدہ مجلس عمل جیسے تلخ تجربات کا بار بار اعادہ۔ خدمت، بصیرت و استقامت سے ہی کامیابی کی راہ روشن ہو سکنے کی امید ہے۔

نجی تصور جہاد نے بھی تحریک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر اس کا تعارف ہوا ہے۔ افسوس کی بات یہ کہ نائن الیون کے بعد بھی جماعت اس پر نظر ثانی کرنے کو تیار نہیں۔ ابھی تک وہ افغان جنگ کے سحر سے باہر نہیں آ سکی حالانکہ دنیا میں اس حوالے سے زمین آسمان کا تغیر رونما ہو چکا۔ جہاد کشمیر جماعت کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے۔ جدید تمدن میں ایسی کسی تنظیم کو ملکی سطح پر حکومت ملنے کا امکان ناممکن ہے۔

اسلامی تحریکوں کو اب اپنے ڈھانچے اور لائحہ عمل میں چند بنیادی تبدیلیاں لانی ہوں گی۔ اختلاف و تنقید کو کھلے عام برداشت کرنا ہو گا۔ سیاسی و تنظیمی امور میں اجتہاد کرتے ہوئے قیادت کے لیے ذہین جدید ذہن کے لوگوں کو سامنے لانا ہو گا جو صرف سادگی کے مظاہرے نہ کریں بلکہ بصیرت افروز رہنمائی کا فریضہ انجام دیں۔ مغربی تمدن اور مغربی اقدار سے کلی نفرت کے بجائے انصاف پر رد و قبول کرنا ہو گا۔ جذباتیت کی جگہ حکمت سے کام کرنا ہوگا۔ تحریک اسلامی کے پاس پر خلوص کارکن اور ایماندار قیادت موجود ہے جس کو اگر فہیم انقلابی لیڈر میسر آ جائے تو مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. محمد کاشف on

    جدید تقاضوں کو مدے نظر رکھتےہیں تو معاشرہ دینی لوگوں کے اس فعل کو قبول نہیں کرتا.اگر دینی احکامات کی کامل طور پر پیروی کی بات کی جائے تو معاشرہ پھر بھی تنقید کرتا ہے.ہم نہ تو کھل کے مغربی پیروکار بنتے ہیں اور نہ ہی مشرقی تو مشکل حل کیسے ہو؟

Leave A Reply

%d bloggers like this: