تکمیلِ شخصیت، البرہان اور مفتی سید عدنان کاکا خیل —- نعمان کاکا خیل

1
  • 1.8K
    Shares

انسان کو اس دنیا کے اندر بھیجتے وقت ظاہری جسم کے ساتھ ساتھ نفس، روح اور قلب سے نوازا گیا۔ مشہور ماہر نفسیات سگمنڈ فرائیڈ (Sigmund Freud) نے بھی جدید علم نفسیات کی روشنی میں انسان کے ان لطیف خواص کی تین اقسام یعنی (Id, Ego, super ego) میں درجہ بندی کی ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ درجہ بندی کے حوالے سے جدید اور قدیم تصورات کے اندرہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

لفظِ ’قلب‘ کے معنی ـ ـ’ نا رکنے والی شے‘ کے ہیں۔ اور اسی سے لفظ ’انقلاب‘ کا تصور نکلا ہے۔ انسانی جسم کے تمام اعضاء کے اندر قلب واحد عضو ہے جو ہر وقت دھڑکتا رہتا ہے اور نظامِ زندگی کا دارومدار دل کے دھڑکنے کے اوپر ہے۔ اسی طرح اس دل کی کیفیات بھی ایک نروئد حقیقت ہے۔ کیفیات کے اندر نشیب و فراز اور خوشی و غم کا بھی دل کے ساتھ بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق معلوم ہوتا ہے جو کہ عام مشاہدے کی بھی بات ہے۔ آج کا جدید ترقی یافتہ انسان قصداً یا سہواً اس حقیقت سے نا آشنا ہے۔ اور اس کا علاج دنیاوی مال و متاع کے اندر ڈھونڈنے کے اندر مصروف ہے۔

نفس اور روح کے درمیان مقابلہ اور کشمکش کی کیفیت قلب کے اوپر اپنے نمایاں اثرات مرتب کرتی ہے۔ اور جس کے نتیجے میں جسم کے ظاہری اعضاء سے اعمال سرزد ہوتے ہیں۔ اسی طرح جسمانی اور مادی ترقی کے حوالے سے محنت اور تحریکیں سب کے سامنے عیاں ہیں لیکن قلوب کے اوپر محنت اور اس حوالے سے تحریکیں تقریباً نا ہونے کے برابر ہیں۔ ایسے حقیقی اللہ والے بہت ہی قلیل تعداد میں پائے جاتے ہیں جو اس مادی ترقی اور دولت کی ریل پیل کے اندر امت کے ہر کلمہ گو کی روحانی ترقی کے لئے دردِ دل رکھتے ہیں اور عملی طور پر اپنی توانائیاں، وسائل، اور وقت استعمال کر رہے ہیں۔ جن کا نصب العین ہے کہ امت مسلمہ کو ان کی کوئی ہوئی شان اور تاریخ ِ انسانی کے سنہرے دور کے پیچھے عظیم مسلمان رہنماوؤ ں کی شخصیت کے نمایاں پہلو سے آگاہ کر سکیں۔

انہی شخصیات میں اے ایک شخصیت اس عصر کے نوجوان عالمِ دین اور دینی و دنیوی علوم کا گہرا اور وسیع علم رکھنے والے حضرت مفتی سید عدنان کاکا خیل صاحب ہیں۔ جن کا شمار اس نوجوانی کے اندر بھی اکابر علماء کے درمیان ہوتا ہے۔ آپ اسلامی اور انسانی تاریخ کا عمیق مطالعہ رکھنے کے ساتھ ساتھ جدید دور کے تقاضوں اور نوجوانانِ امت کے کردار کے حوالے سے نہایت معانی خیز اور قابلِ عمل نظریہ رکھتے ہیں۔ اور یہ نظریہ صرف الفاظ کی خوبصورتی یا حسنِ بیان تک ہی محدود نہیں بلکہ اپنی مکمل صلاحیتیں اور وسائل امت مسلمہ کے لئے بالعموم اور نوجوانانِ وطن کے لئے بالخصوص صرف کر رہے۔

اس دور کے اندر جہاں جدیدت اور ترقی و شخصی آزادی و خود مختاری کے نام پر کئی سارے عجیب و غریب اور خلافِ فطرتِ انسانی عوامل آج کے نوجوان کو اپنے پنجے اور نرغے میں لینے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں وہیں آپ جیسے حضرات گھپ اندھیرے میں صبحِ خوش جمال کی سورج کی حیثیت رکھتے ہیں۔

تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل طلباء اگر اب بھی مقصدِ حیات کو سمجھنے کے اندر الجھن کا شکار ہیں وہ لازماً مفتی صاحب کی مبارک تحریک کا حصہ بنیں۔ جہاں اعلی اوصاف اوراعلٰی اخلاقی اقدار کے ساتھ ساتھ جینے کے گُر سکھائے جاتے ہیں۔جہاں روایتی سوچ کا خاتمہ اور ایک تحریکی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ اسی تحریکی خیالات کو وجود بخشنے کی خاطر البرہان کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ جہاں پر نوجوانوں کی صلاحیتوں کو ضائع ہونے کی بجائے ایک مخصوص سمت کے اندر کارگر کیا جاتا ہے۔ تا کہ ہر نوجوان خاندان، معاشرے، ملک و ملت اور امت کے لئے ایک کارآمد حصہ ثابت ہو سکے۔ اور امت  مسلمہ کے موجودہ مسائل کو جدیدخطوط پر حل کرنے کے اندر اپنا حصہ ڈال سکیں۔

البرہان روح کو نفس کے اوپر کنٹرول اور غلبہ پانے کی مشق کا ایک عملی نمونہ ہے۔ جہاں صحبتِ صالح میسر آنے سے روحانی ترقی کے منازل طے ہوتے ہیں۔ وجودِ ذات سے باہر وجودِ کائنات کے پوشیدہ رازوں کو فاش کرنے کے لئے تشنگی اور طلب کو وجود بخشنے کے ساتھ ساتھ اس کو شخصیت کو حصہ بنایا جاتا ہے۔

کسی شکوہ و شکایت، طعن و تشنیع، الزام تراشی اور حکومتِ وقت سے کوئی مدد یا معاونت طلب کئے بغیر تحریک رواں دواں ہے۔ ربِ کریم سے دعا ہے کہ اس تحریک کو نوجوانانِ امت کے لئے ایک معانی خیز، پُر مغز اور انقلابی تحریک ثابت کرے اور امت کی کھوئی ہوئی شناخت واپس لوٹانے کا ذریعہ بنائے۔ آمین


محمد نعمان کاکا خیل کینگ پوک نیشنل یونیورسٹی جنوبی کوریا میں پی ایچ ڈی ریسرچ سکالر جب کہ یونیورسٹی آف واہ میں تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. محمد عثمان on

    بہتر ہوتا کہ صاحب تحریر ممدوح کے نظریات اور عملی جدوجہد کے طریقہ کار پر بھی روشنی ڈالتے. ورنہ ان کی عقیدت ایک عام قاری کوکیا فائدہ دے سکتی ہے؟

Leave A Reply

%d bloggers like this: