پانی پر سیاست موت ہے —– وسیم خٹک 

0
  • 20
    Shares

بچپن سے پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم کی کہانیاں سنتے آرہے ہیں جب بڑے ہوئے تو وہ کہانیاں ذرا تفصیل میں سننے کو ملیں اور پھر جب یونیورسٹی پہنچے تو انٹرنیشنل کمیونی کیشن میں دو بڑی طاقتوں یعنی ہاتھیوں کی جنگ کے بارے میں پڑھا اور جب پڑھانے لگے تو مزید کہانیاں عیاں ہوئیں کہ ہاتھیوں کی جنگ میں چیونٹیاں مسلی جارہی ہیں۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی کہانیوں کے ساتھ بارہا سنا کہ تیسری جنگ عظیم کا خطرہ ہے مگر یہ جنگ پانی پر ہوگی جس کی سمجھ نہیں آّرہی تھی کہ پانی پر جنگ ہوگی کیونکہ کرہ ارض پر 71فی صد پانی اور 29فیصد خشکی ہے تو جنگ پانی پر ہوگی۔ پھر یہ بھی سنا کہ چین پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے ایک پوری تہذیب کا نام ونشان مٹانے میں لگا ہے جس کی وجہ پانی کا ذخیرہ ہے اور اس مقصد کے لئے ڈیم بنا یا جارہا ہے۔ اسی طرح بھارت بھی پانی کے حصول کے لئے بہت سے منصوبے تیار کرنے میں لگا ہوا ہے جبکہ یہاں پر ہم علاقائی تعصب کا شکار ہوکر ایک کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر سیاست میں مصروف ہیں۔ ملک جس طرح اور بحرانوں کا شکار ہے اسی طرح آج وطن عزیز آبی قلت، توانائی کے شدید بحران اور زبردست معاشی بدحالی کی لپیٹ میں ہے۔ یہ بحران اچانک پیدا نہیں ہوئے یہ ایک طویل ترین کولڈ وار کا نتیجہ ہے۔

موجودہ دور میں نفسیاتی اور تکنیکی جنگ، کلاشنکوف اور ایٹمی جنگ سے کہیں زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 1948ء سے ہمسایہ ملک بھارت، پاکستان کو کھنڈرات میں تبدیل کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ یہ اس سازش کا نتیجہ ہے کہ 1950ء میں یہاں فی کس پانی کی مقدار 5600 کیوبک میٹر تھی اب صرف 1020 کیوبک میٹر ہے۔ اس مقدار پر پانی اس قدر کم ہو جاتا ہے کہ انسانی صحت متاثر ہوتی ہے اور یہ مقدار 500 کیوبک میٹر تک پہنچ جائے تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ جس رفتار سے آبادی بڑھ رہی ہے اسی رفتار سے پانی کی قلت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور فی کس مقدار میں کمی ہو رہی ہے۔ اس خوفناک بحران کی سب سے بڑی وجہ بھارتی آبی جارحیت ہے جس کا آغاز تقسیم ہند سے شروع ہوا اور ابھی تک جاری ہے۔ پاکستان کی حکومتوں نے اقتدار بچانے اور جنگ سے بچنے کی خاطر یہ انتہائی اہم اور قومی بقا کا مسئلہ آئندہ حکومتوں پر چھوڑنے کا سلسلہ جاری رکھا جس سے بھارت ایک طویل المدتی پروگرام کے تحت پاکستان کے آبی وسائل اپنی حدود میں کنٹرول کرنے کیلئے یکے بعد دیگرے 91 ڈیمز اور ہائیڈل پاور پروجیکٹس تعمیر کر رہا ہے جن میں 62 ڈیمز مکمل ہو چکے ہیں اور درجنوں پروجیکٹس کیلئے ابتدائی کام بھی شروع ہے۔

خفیہ ہاتھوں نے پاکستان کو دنیا کے نقشہ سے ختم کرنے کیلئے قیام پاکستان کے فوراً بعد اپنی سرگرمیاں شروع کر دی تھیں اور پاکستان کے دریاوں پر قبضہ کرکے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ انڈس واٹر ٹریٹی کے مطابق بھارت دریا ئے چناب، جہلم اور سندھ پر ایک ڈیم بھی تعمیر نہیں کر سکتا۔ بھارت نے پن بجلی گھر بنانے کی آڑ میں پاکستان کے دریاوں پر ڈیموں کا جال بچھا دیا۔ پاکستان کے پالیسی میکر اور واٹر سیکٹر ماہرین کی لاپرواہی اور غفلت اس سے بڑھ کر اورکیا ہوگی کہ متنازع بگلیہار ڈیم پر پاکستان کا اعتراض ڈیم کی تعمیر پر بنتا تھا۔ اب متنازع کشن گنگا منصبوبہ کا فیصلہ آنے تک بھارت اسے آپریشنل کر دےگا جبکہ پاکستان نے فقط اسکے ڈیزائن پر اعتراض کیا۔ دریائے ستلج اور راوی میں پانی نہ آنے کے باعث پانی کے گراونڈ لیول کا ری چارجنگ پراسس ختم ہوگیا۔ جب دریا بہتے تھے تو گرد و نواح میں پانی دس بارہ فٹ نیچے مل جاتا تھا۔ اب اکثر علاقوں میں زیر زمین پانی کی سطح خطر ناک حد تک نیچے چلی گئی ہے، جس کے باعث ٹیوب ویلوں کے ذریعے نظام آبپاشی اور واٹر پمپوں کے ذریعے پینے کے پانی کا نظام بھی خطرے کی لپیٹ میں ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت دنیا میں 1.2 ارب افراد ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں اب کمیاب ہے اور دنیا کے 43 ممالک کے 70 کروڑ افراد پانی کی قلت (Water Scarcity) یعنی 1000 کیوبک میٹر فی کس سالانہ سے کم پانی کی دستیابی کا شکار ہیں۔ Meplecroft نامی بین الاقوامی ادارے کے واٹر سکیورٹی ریسک انڈکس 2010 کے مطابق (Least secure supplies of water) کے حامل دنیا کے پہلے 10ممالک میں صومالیہ پہلے اور شام دسویں نمبر پر ہے۔ پاکستان اس انڈکس میں ساتویں نمبر ہے۔ اقوام متحدہ نے اس امر کی پیشن گوئی کی ہے کہ 2025 تک 1.8 ارب افراد ایسے ممالک یا خطوں میں آباد ہوں گے جہاں پانی کی سنگین قلت (Absolute Water Scarcity) ہوگی جبکہ دنیا کی دوتہائی ابادی پانی کی کمی کے دباو (Under Stress Conditions) کے شکنجے میں جکڑی ہوگی۔ اس صورتحال میں ماہرین نے پانی کو ”نیلے سونے“ کے نام سے موسوم کیا ہے۔ اور اس امر کی پیشن گوئی کی ہے کہ مستقبل قریب میں کاروبار اور جنگوں کی بنیادی وجہ پانی ہوگا۔

پانی کے دانشمندانہ استعمال، اس سے متعلقہ بہتر پالیسیوں، قوانین اور اقدامات کے عمل کو تقویت دینے کی غرض سے ہر سال 22 مارچ کو پانی کا عالمی دن منایا جاتا ہے ماہرین کے مطابق ایک شخص کی یومیہ پینے کے لئے پانی کی ضرورت 2 سے 4 لٹر ہے لیکن ایک فرد کی روزانہ کی خوراک کی پیداوار کے لئے 2000 سے5000 لٹر پانی درکار ہوتا ہے۔ اور 500 گرام پلاسٹک کی تیاری کے لئے 91 لٹر پانی درکار ہوتا ہے۔ اس وقت دنیا میں پانی کا 70 فیصد زراعت، 22 فیصد صنعت اور 8 فیصد گھریلو استعمال میں ارہا ہے اور اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے مطابق دنیا میں قابلِ استعمال تازہ پانی کی کل مقدار 2 لاکھ مربع کلومیٹرز ہے۔ جو تازہ پانی کے وسائل کا ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ جس کا 54 فیصد انسانی استعمال میں ارہا ہے۔ دنیا میں زراعت کے شعبے میں استعمال ہونے والے70 فیصد پانی سے ایف اے او کے مطابق 27 کروڑ 70 لاکھ ہیکٹر رقبے ( Irrigated Land )کو سیراب کیا جا رہا ہے جو دنیا میں زیر کاشت کا 20 فیصد ہے اور دنیا میں خوراک کی پیداوار کا 40 فیصد شراکت دار ہے جبکہ بقایا 80 فیصد زیر کاشت رقبہ بارش کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: