تیری آزادیٔ اظہار پہ لعنت —— لالہ صحرائی

0
  • 383
    Shares

سقراط کا گزر ایک ظروف ساز کے پاس سے ہوا تو اس نے اپنے ساتھی سے کہا، دیکھو زرا، اس بندے نے چاک پر مٹی کا ایک تھوبہ رکھا تھا پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ کیسے ایک مرتبان میں بدل گیا۔

پھر خود ہی اس کا فلسفہ بھی بیان کر دیا کہ یہ مرتبان مٹی میں نہیں تھا بلکہ ظروف ساز کے ذہن میں تھا، اپنے خیال کو مجسم کرنے کیلئے اس نے مٹی پر اپنے ہاتھوں کا ہنر استعمال کیا تو ایک تخلیق کا ظہور ہوا ہے، گویا کوئی بھی چیز خیال، ہنر اور مادے سے تشکیل پاتی ہے لہذا یہ کائینات بھی اسی طرح سے تخلیق ہوئی لگتی ہے۔

علامہ صاحبؒ سقراط کے مشاہدے کی بجائے اپنے اوپر ایک نظر ڈال کے اس سے بھی بہتر انکشاف کرتے ہیں:

بامن آہِ صبحگاہے دادہ اند
سطوت کوہے بکاہے دادہ اند

مجھے یوں آہِ سحرگاہی عطا ہوئی ہے جیسے کسی کاہ کو کوہ کی سطوَت دے دی جائے۔

دارم اندر سینہ نور لا الہٰ
در شرابِ من سرور لا الہٰ

میں اپنے سینے میں لا الہٰ کا نور رکھتا ہوں اسلئے میری شاعری کی شراب میں بھی لا الہٰ کا سرور ہے۔

مثنوی پس چہ باید کرد۔

پھر ڈاکٹر ایمنیری شمل صاحبہؒ ترکی، فارسی، ہندی، سندھی اور اردو کا سارا ذخیرۂ علم چھان کے دینِ اسلام میں کوئی عیب نکالنے کی بجائے اس کے تخلیقی جوہر تک جا پہنچتی ہیں اور غیرمسلم ہونے کے باوجود ہاورڈ، بون اور انقرہ میں دہائیوں تک نہ صرف اسلامیات پڑھاتی ہیں بلکہ سیرت نبوی ﷺ جیسے مبارک موضوع پر “اینڈ محمد از ہِز میسنجر” کے نام سے ایک نہایت عالیشان کتاب بھی لکھ دیتی ہیں۔

“And Muhammad is His Messenger”

پھر اپنی وصیت کے مطابق وہ ٹھٹھہ کے تاریخی گورستان چوکھنڈی میں مدفون ہونا اور اپنی قبر کے کتبے پر حضرت علیؓ کا یہ قول لکھوانا بھی پسند کرتی ہیں۔

النَّاسِ نِیَامٌ فَإِذَا مَاتُوا انْتَبَهُوا۔
دنیادار نیند میں ہیں، جب یہ مر جائیں گے تو ان کی آنکھیں کھل جائیں گی۔

میرے حساب سے یہ تینوں باتیں کائنات کے مذہب پر اظہارِ رائے کے پرائم ورژن ہیں، آپ کی سوچ مختلف بھی ہو سکتی ہے مگر اس اختلاف کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا کہ:

دینِ مسیحؑ اور دینِ اسلام سے قبل کا فلسفی ایک ظروف ساز کے ہنر سے وجود کائنات کے پیچھے ایک تخلیق کار کو ہی کیوں تلاش کرتا ہے؟

علامہ اقبال جیسا قابل فلسفی کسی بہانے دانتے جیسی خودمختاری اختیار کرنے کی بجائے خود کو خدا کے آگے کیوں سبمٹ کر دیتا ہے اور باقیوں کو بھی یہی سبق کیوں دیتا ہے؟

پھر یہی منہج آپ ڈاکٹر اینمیری شمل کی شخصیت میں بھی پائیں گے جس نے اپنی فیورٹ ٹیچر کے کہنے پر حضرت رومیؒ کا دیوان شمس پڑھا تو ان پر ایک ایسا فسوں طاری ہوگیا جس کے نتائج سے اہل علم بخوبی واقف ہیں۔

حضرت رومیؒ کی یہ ایک رباعی ہی اس قدر علمی گہرائی رکھتی ہے کہ اس کی حسب حال تشریح تک پہنچنے میں مجھے ایک سال کا عرصہ لگا ہے۔

تا در طلبِ گوہر کانی کانی
تا در ہوس لقمۂ نانی نانی
این نکتۂ رمز اگر بدانی دانی
ہر چیز کہ در جُستن آنی آنی

اب دوسرا رخ یہ ہے کہ وہ لوگ جنہیں اس رویے سے اتفاق نہیں وہ ایتھنز کے دیوی دیوتا پرست اشرافیہ ہوں تو سقراط ان کے ہاتھوں اپنی توحید پرستی کی خاطر زہر پینا تو گوارہ کرلیتا ہے مگر اپنے عقیدے سے پسپائی اختیار نہیں کرتا۔

جب ہندوستان کی اشرافیہ راجپال اور نتھو رام کو پروٹیکشن دے رہی تھی تو انہیں ٹھکانے لگانے والے غازی علم الدین شہیدؒ اور غازی عبدالقیوم شہیدؒ کو علامہ اقبالؒ باالفاظ بلند داد دیئے بغیر نہیں رہ پاتے۔

اور جب یورپی سماج رشدی اور تسلیمہ کا پشت پناہ ہو تو مسلمانوں کے غم و غصے کی وکالت میں پورے یورپ کے اندر جو آواز گونجتی ہے وہ ڈاکٹر اینمیری شمل صاحبہؒ کے علاوہ کسی اور کی نہیں تھی۔

یہاں تک کہ جب انہیں گوئٹے ایوارڈ کیلئے منتخب کیا گیا تو کئی ادبی و سماجی حلقے اس پر سیخ پا ہو گئے کہ ڈاکٹر صاحبہؒ کو یہ ایوارڈ نہیں ملنا چاہئے کیونکہ وہ ان “خبائث المصنفین” کے مقابلے میں مسلمانوں کی حمائیتی ہیں۔

اس پر ڈاکٹر صاحبہؒ کا یہ جواب تاریخ کا حصہ ہے کہ مجھے گوئٹے ایوارڈ سے محرومی کا کوئی غم نہیں بلکہ خوشی اس بات کی ہے کہ میں اس معاملے میں آج بھی مسلمانوں کے موقف اور غم و غصے کو بالکل جائز سمجھتی ہوں۔

کنوِکش کیلئے مسلمانوں کی اس ڈیٹرمینیشن اور اوفینڈرز کی ذہنیت کو سمجھنے کیلئے اب انسانی نفسیات پر کچھ تھوڑی سی بات ہو جائے۔

انسانی شعور اپنا سارا علم اور مشاہدہ لاشعور میں اسٹور کرتا ہے، پھر جب اسے کسی معاملے پر کام کرنا ہوتا ہے تو لاشعور کسی مستعد خدمتگار کی طرح اپنے ذخیرے کو پروسس کرکے درپیش معاملے سے متعلق اپنی تمام تر معلومات شعور کے سامنے رکھ دیتا ہے تاکہ ان میں سے جس چیز کی ضرورت ہو وہ آپ اپنے کام میں لا سکیں۔

مثال کے طور پہ جب کسی بُھولے بسرے دوست سے اچانک ملاقات ہو جائے تو لاشعور اس کیساتھ گزرے ہوئے وقت کی ایک ایک بات اٹھا کے شعور کے حوالے کر دیتا ہے تاکہ آپ ایکدوسرے کیساتھ ماضی کو ڈسکس کرکے اینجوائے کرسکیں۔

لیکن یہ کام اگر والی ٹریگر کنڈیشن کے ماتحت ہوتا ہے یعنی “اگر” وہ یادیں طمانیت بخش ہوں تو ہی آپ اس ملاقات کیلئے تیار ہوں گے ورنہ گریز کریں گے۔

اسی مضمون کو علامہ صاحبؒ نے مومن کیلئے یوں بیان کیا تھا ؎ چوں مرگ آید تبسم برلبِ اوست

جس کے پیسے دینے ہوں، وہ پسندیدہ ہو تو بھی لوگ اس کا فون نہیں سنتے اور جس سے رقم وصولنی ہو وہ ناپسندیدہ بھی ہو تو اسے خود فون کرلیں گے، گویا مختلف کنڈیشنز میں انسان مختلف طرح سے بیحیوو کرتا ہے۔

دینی اور لادینی رجحانات بھی اسی طرح کی ٹریگر کنڈیشنز پر ہی قائم ہوتے ہیں، یعنی اگر تم جنت میں جانا چاہتے ہو تو ان عقائد پر چلنا ہوگا، مسلک پرست بھی ایسی ہی کچھ شرائط کے اسیر ہوتے ہیں اور عالمِ انکار بھی اسی اِف کنڈیشن پر قائم ہے کہ جب آخرت کا وجود ہی نہیں تو مذہب کے مکلف کیوں بنیں اور مقدس شخصیات و عقائد کا لحاظ کیوں کریں۔

کوئی منکرِ مذہب یا بدمذہب بھی اسی وقت ہدایت لیتا ہے جب اس کے ٹریگرز کو توڑ کر نئے ٹریگرز انسٹال کر دئے جائیں ورنہ یہ مرحلہ سر نہیں ہوا کرتا۔

پھر کچھ شرائط کے تحت انسانی سوچ میں اوبسیشن یا غلبے کا عنصر بھی موجود ہوتا ہے، دیر تک ہاتھ دھونے، سونے سے قبل دو تین بار کنڈی چیک کرنے، دانتوں سے ناخن کاٹنے، ہونٹ چبانے اور مختلف چیزوں کو گننے کی عادات رکھنے والے کسی نہ کسی اوبسیشن کا ہی شکار ہوتے ہیں۔

دنیا کی کل ساٹھ فیصد آبادی اس نفسیاتی عارضے میں مبتلا ہوتی ہے جن میں سے چالیس فیصد دنیاوی اور بیس فیصد مذہبی نقصانات کے خوف تلے جیتے ہیں، یہ صرف مسلمانوں کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ تمام مذاہب کے ماننے والے اپنے ایمان کے بارے میں بہت سے خوف و خدشات کا شکار رہتے ہیں۔

مثال کے طور پہ جب یہ شرط عائد کر دی جائے کہ اپنے ایمان کی سلامتی کیلئے انسان کو مقدس ہستیوں کا مؤدب ہونا چاہئے تو حساس لوگ اپنے ایسے خیالات کو لازمی طور پر رد کریں گے جو خلاف ادب ہوں، بیشتر لوگ محض اسلئے نماز پڑھنا بھی چھوڑ دیتے ہیں کہ خدا کے سامنے کھڑے ہوکے جب فاسد خیالات آتے ہیں تو سخت شرمندگی ہوتی ہے۔

علم نفسیات کی زبان میں اس مسئلے کو ریلیجئیس اوبسیشن کمپلسیوو ڈس آرڈر یا ریلیجئیس او۔سی۔ڈی کہا جاتا ہے جس کا عمومی مطلب ہے بلاسفیمی کا خوف، مقدس معاملات اور شخصیات کے خلاف پیدا ہونے والے خیالات سے ایمان ضائع ہو جانے کا خطرہ۔

اس خوف کو شیطانی وساوس مزید گہرا کر دیتے ہیں تاکہ بندہ خوف کے مارے عبادات کی طرف رخ ہی نہ کرے، اس سے جماعت صحابہ بھی متاثر ہوئی تھی۔

ایک حدیث شریف میں یہ بیان ہوا کہ ہمیں ایسے خیالات آتے ہیں جو ناقابل بیان ہیں، اس پر ارشاد پاک ہوا کہ یہ تو تمہارے ایمان کی نشانی ہے، مطلب یہ کہ چور وہیں آتا ہے جہاں کوئی خزانہ ہو، لہذا اہل ایمان کو شیطانی خیالات سے گھبرانا نہیں چاہئے۔

اور دوسری جگہ یوں بیان ہوا کہ ان خیالات کو زبان پہ لانے کی بجائے ہم آگ میں جلنا زیادہ پسند کریں گے، اس پر ارشاد پاک ہوا کہ میرے ماننے والوں کو ان خیالات پر کوئی پکڑ نہیں جب تک کہ یہ خود انہیں قبول نہ کریں یا ان پر عمل نہ کریں۔
صحیح مسلم، جلد اول، نمبر 239۔
صحیح بخاری، نمبر 6664۔

اسلام میں شیطانی وساوس کی یورش کا یہی سادہ سا علاج ہے کہ انہیں خود نہ سوچو البتہ یہ اپنے آپ آئیں تو ان سے فکرمند ہونے کی بجائے ان پر لاحول پڑھ لو، نظرانداز کرنے سے یہ خودبخود تحت الشعور یعنی ڈسٹ بن میں چلے جائیں گے لیکن جب ان کے ساتھ ہم دھکم پیل کرتے رہیں گے تو یہ بھی شعور اور لاشعور کے درمیان ہی گردش کرتے رہیں گے اور ہر ہر موقع پر موضوع کے مطابق فوراً پراسس ہو کے سامنے بھی آتے رہیں گے۔

اس کے برعکس جو طبقہ مذہب کا مکلف ہو نہ کسی کے مذہب کو اہمیت دینے کا قائل ہو وہ اپنے تخیل میں پوری طرح سے آزاد رہتا ہے اور اپنے ہر خیال کی مبادیات کو نہ صرف ڈسکس کرنا چاہتا ہے بلکہ ان کی توجیحات بھی اپنی مرضی کے مطابق کرنا چاہتا ہے۔

لیکن یہ آزادی پیکج بھی اس کیلئے او۔سی۔ڈی کا ہی باعث بنتا ہے کیونکہ جب تک یہ اپنے مذہب مخالف خیالات سے لاتعلق نہیں ہوگا تب تک اس کے ایسے خیالات بھی شعور اور لاشعور کے درمیان ہی گردش کرتے رہیں گے لہذا اس کا اوبسیشن بھی قائم و دائم رہے گا۔

یہ لوگ بہادر نہیں ہوتے بلکہ سہولت پسند ہونے کی بنا پر او۔سی۔ڈی کی جنگ میں شکست کھا کے اپنے ایگریسیو خیالات کے آگے پوری طرح سے لیٹ چکے ہوتے ہیں، ردتشکیل یا نظریاتی تخریب پسندی چونکہ انسان کو کئیرنگ کے جوکھم سے فری رکھتی ہے لہذا انہیں سکون ہی اس وقت ملتا ہے جب یہ ہر آنے والے تخریب کار خیال کی ہمنوائی اختیار کرلیں۔

انہیں لاحول کا ورد فائدہ نہیں دیتا بلکہ ان کا صرف ایک ہی علاج ہے اور وہ ہے ریورس سائیکالوجی، مطلب یہ کہ جس پر سیدھی نصیحت کارگر نہ ہو تو اسے الٹی نصیحت کیا کرتے ہیں، یعنی جو ہر روز شیر آگیا شیر آگیا کہہ کے بستی والوں کی دوڑیں لگواتا رہے اس کی شیر آنے پر مدد نہ کرو، جسے ہر وقت دست درازی کا شوق لاحق ہو اسے ایک بار کہیں سے اچھی طرح سے پٹ جانے دو، جو ہِیٹ کو نظر انداز کرکے ضد کرے کہ توا ٹھنڈا ہے اسے ہاتھ لگا کے دیکھ لینے دو تاکہ آئیندہ ایسی حماقتیں نہ کرے۔

یہودیوں کے عالم فنحاس نے جب اللہ تعالیٰ کا مذاق اڑایا تھا تو سیدنا صدیق اکبرؓ نے اس کے منہ پر ایک سنسناتا ہوا طمانچہ دے مارا تھا، یہ شدت پسندی نہیں تھی بلکہ ریورس سائیکالوجی کا مظاہرہ تھا تاکہ آئیندہ جب اسے گستاخی کا خیال آئے تو ٹریگر کنڈیشن اسے وہ تھپڑ بھی ساتھ ہی یاد دلا دے کہ اس کام کا یہی انجام ہوتا ہے۔

پھر جب بارگاہِ نبوی ﷺ میں فنحاس کے دوست اس کی بیگناہی کی گواہی دے رہے تھے تو حضرت صدیق اکبرؓ کی بات کا گواہ کوئی نہیں تھا کہ فنحاس نے پہلے گستاخی کی تھی، اس موقع پر خود خدائے پاک نے آیت بھیج دی کہ ہم نے ان لوگوں کی بات سن لی تھی جو خدا کو فقیر کہتے ہیں، یہ معاملہ انسانیت کا ہوتا تو آیت بھی مختلف ہوتی مگر رب تعالیٰ جلَ جلالہٗ نے شان الوہئیت کی حفاظت میں اٹھائے گئے اس اقدام پر مہر توثیق ثبت کر دی کہ گستاخوں کی کنوِکشن اسی طرح سے ہوگی اور یہ دہشت گردی ہرگز نہیں۔

رچرڈ نے کہا تھا کہاں ہیں تمہارے اللہ رسول ﷺ، ان سے کہو تمہیں چھڑوا لیں تو اسی بات پہ غیرت کھا کے صلاح الدین ایوبیؒ اپنے 2700 مقتولین کا بدلہ لے آیا تھا، فرانس اور انگلینڈ نے جب اسلام کیخلاف اسٹیج شو بنانا چاہے تو سلطان عبدالحمیدؒ کی تلوار بے نیام ہوتے ہی ان دونوں کو سانپ سونگھ گیا تھا۔

یہ تینوں حوالے اسلئے دئے کہ ماضی میں اس مسئلے کا اصلی حل ریورس سائیکالوجی ہی رہا ہے لیکن اب چونکہ زمانہ بدل گیا ہے اور نئے دور کے تقاضوں کے عین مطابق مسلم امہ کے ستاون ممالک نے او۔آئی۔سی کے پلیٹ فارم سے یو۔این۔او میں ایک مشترکہ قرارداد بھی پیش کر رکھی ہے کہ چلو اس مسئلے کو اب انسانی طریقے سے ہی حل کر لیں تو اسے دبا کے کیوں رکھا ہوا ہے، اس پر شنوائی ہو گئی ہوتی تو آج ڈچ پارلیمنٹ کو انسانی طریقے سے سمجھایا جا سکتا تھا کہ اپنی شقاوت قلبی سے باز رہو مگر افسوس کہ مغربی دنیا دوہرے معیار کی شکار ہے۔

پھر حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا کہ اب ایک طرف تھیولوجی کی ردتشکیل ہے تو دوسری طرف آزادیٔ اظہار اور تیسری طرف اقلیم سخن کے وہ خود ساختہ دیانتدار ہیں جنہیں مسلمانوں کا سخت مؤقف سن کے ہوشمندی کا سبق دینے کی خارش تو شروع ہو جاتی ہے لیکن اس بات سے کبھی الجھن نہیں ہوتی کہ اقوام عالم اس معاملے میں بے حسی کا رویہ کیوں دکھا رہی ہیں۔

یو۔این۔او میں قرارداد ڈالنے کے باوجود آج بھی وہی ڈیڈ لاک درپیش ہے جس کا تذکرہ غازی عبدالقیوم شہیدؒ نے سندھ ہائی کورٹ کے خالقدینا ہال میں ایڈیشنل سیشن جج کے سامنے جارج پنجم کی تصویر کی طرف اشارہ کرکے کیا تھا کہ:

اس دنیاوی بادشاہ کی توہین پر سزا کا قانون موجود ہے تو مسلمانوں کے سلطانِ دوعالم ﷺ کی بے ادبی پر سزا کا قانون کیوں نہیں، آپ نے جانتے بوجھتے ہوئے جب نتھو رام کو چھوڑ دیا تو پھر مجھ میں اتنی غیرت کیوں نہ پیدا ہوتی کہ اپنے سردار کا بدلہ لینے کیلئے آپ کے سامنے ہی مجرم کو ذبح کر دوں جبکہ آپ اس بات کے قائل بھی ہیں کہ عزتداروں کی بے ادبی آپ کے قانون میں بھی واجب التعزیر ہے۔

لہذا جو تقدیس کے حقداروں کی تکذیب کرکے ہم سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ ان کیلئے کوئی نرم گوشہ روا رکھا جائے گا وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں اور بیشک بعد از مرگ بھی وہیں چلے جائیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔

آزادیٔ اظہار والے اگر کسی اوبسیشن کا شکار ہیں تو یقین رکھیں کہ اس مضمون کا نام بھی امت مسلمہ کے اوبسیشن کا ہی عکاس ہے، اور یہ کسی اجڈ قوم کا اوبسیشن نہیں بلکہ اسے ڈاکٹر محمد اقبال اور ڈاکٹر اینمیری شمل جیسے اہل علم کی مکمل اخلاقی حمایت بھی حاصل ہے۔

ہیومن چارٹر تم ماننے کو تیار نہیں اور یوم اکملت لکم دینکم کے بعد اب نئی آیتیں تو اترنی کوئی نہیں اسلئے ناموس الوہیت و رسالت کے متوالے وہ تھپڑ والی آیتِ صدیقیؓ اگر دھرا بیٹھے تو تمہارے مزاج نازک پہ بڑا گراں گزرے گا۔ اسلئے ہوش کے ناخن لے لو تو بہتر ہے ورنہ تیری آزادیٔ اظہار پہ لعنت ہے۔

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: