جدید علمِ عمرانیات : عمرانیات کیا ہے؟ حصہ دوم — اسامہ ثالث

0
  • 48
    Shares

اس مضمون کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے۔


اس سوال کا جواب اردو میں لکھی عمرانیات کی کتب سے بالعموم اور نصابی کتب سے بالخصوص بہت مایوس کُن ملے گا۔ ہمیں سب سے پہلے یہ بتایا جائے گا کہ سوشیالوجی دو الفاظ ‘Socious & Logus کا مرکب ہے اس کو ایک فرانسیسی دانشور آگسٹ کومٹے نے 1843 میں وضع کیا۔ ان میں سے پہلا لفظ لاطینی جبکہ دوسرا یونانی ہے جو مل کرــــ ’لوگوں کی گروہی زندگی کا باضابطہ مطالعہ‘ کا مفہوم پیدا کرتے ہیں۔ اس کے بعد مختلف دانشوروں کی ڈیفینیشنز لکھی ہوتی ہیں اور پھر انہی ڈیفینیشنز کی تفصیل، تاویل و شرح پہ پورا باب صرف ہوتا ہے۔ نہایت مناسب ہو گا کہ ہم پہلے ان چند مفکرین کا تعارف کروا دیں جن کی ڈیفینیشنز آپ کو ان کتب میں ملتی ہیں، پھر جیسا کہ ہم نے گزشتہ قسط میں کہا تھا کہ ہم انہی مفکرین کے مطالعہ کی روشنی میں اپنی وضع کردہ ڈیفینیشن کے دلائل مہیا کریں گے تاکہ آغاز ہی سے مطالعہ کی درست سمت اختیار کی جائے۔ Auguste Comte (1798-1857)

آگسٹ کامٹے فرانسیسی مفکر تھا، کامٹے عموما ً بابائے عمرانیات کے لقب سے جانا جاتا ہے۔ کومٹے وہ پہلا مفکر تھا جس نے عمرانیات کو سائنس کے ساتھ ملانے کی شعوری کوشش کی۔ اس نے عمرانیات میں بہت سا کام کیا اور کئی ضخیم کتب چھوڑیں۔ وہ عمرانیات کو ’معاشرے کی سائنس‘ کہتا تھا۔ شروع شروع میں اس نے اپنی کاوش کو سوشل فزکس یا سماجی طبیعیات کا عنوان دیا بعد میں سوشیالوجی کی اصطلاح وضع کی۔ کامٹے نے اس نئے علم کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور اس کے پہلے حصے کو سوشل سٹیٹکس جبکہ دوسرے کو سوشل ڈائنامکس کہا۔ کومٹے کے مطابق سوشل سٹیٹکس ان معاشرتی عناصر و عوامل سے بحث کرتا ہے جو معاشرے کو باہم مربوط رہنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جبکہ سوشل ڈائنامکس ان عوامل و عناصر کے مطالعہ سے عبارت ہے جو معاشرتی حرکیات یعنی سماجی تبدیلی وغیرہ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ گویا بالترتیب معاشرے کے سکونی اور حرکی پہلوئوں کے مطالعے کی شاخیں تھیں۔ کومٹے کو Positivism کا بانی بھی کہا جاتا ہے اس نے Positive Philosophy (1830-42) کے نام سے کتاب لکھی جس میں اس نے اس بات پہ زور دیا کہ یقینی و حتمی علم صرف وہی ہے جو حواس خمسہ کے تجربہ میں آسکے اور خالص سائنسی طریقہ کار یعنی سائنٹیفک میتھڈ کے ذریعے حاصل کیا گیا ہو۔ جارج رٹزر کہتا ہے کہ

To Jonathan Turner, Comte’s positivism emphasized that “the social universe is amenable to the development of abstract laws that can be tested through the careful collection of data,” and “these abstract laws will denote the basic and generic properties of the social universe and they will specify their ‘natural relations’ ” (1985:24).

کومٹے سائنس کا بہت مداح تھا اس نے اس بات پہ زور دیا کہ انسانی معاشرے کا مطالعہ بھی بالکل سائنسی اصولوں کی روشنی میں ہونا چاہیے یعنی جیسے فزکس کام کرتی ہے اور تجربہ سے اسے سمجھا جاسکتا ہے ایسے ہی معاشرہ بھی ایک سماجی فزکس ہی ہے اسے بھی سائنس کے اصولوں سے سمجھا جاسکتا ہے۔ کومٹے کی سائنس سے والہانہ محبت و عقیدت کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے اپنے وقت کے نامساعد حالات سے تنگ آکر ایک سائنسی مذہب کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی، حتیٰ کہ اس نے اپنے اس نئے مذہب میں سال کے بارہ مہینوں کے نام بھی عظیم سائنسدانوں کے ناموں پہ رکھے۔ The Law of Three Stages کومٹے کی اہم تھیوری تصور کی جاتی ہے۔ ہمارے خیال میں یہ ایک لغو تھیوری ہے۔ اس قانون کی رو سے انسانی معاشرے کا ارتقا بنیادی طور پر تین ادروار میں ہوا ہے۔ پہلا دو ر جسے کومٹے Theological or fictitious stage کہتا ہے، تیرہ سو قبل مسیح ؑکا ہے، کومٹے کے مطابق اس زمانہ میں انسانیت جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ انسان ہر اس قوت کو دیومالائی تصور کرتا جس پہ اس کا اختیار نہیں تھا، پس انسان ان گنت خدائوں کو پوجتا تھا۔اس کے بعد دوسرا دور آتا ہے جسے کومٹے Metaphysical or Abstract Stage کہتا ہے۔ یہ دور تیرہ سو قبل مسیح ؑسے لے کر اٹھارہ سو بعد مسیح ؑپر مشتمل ہے۔ اس دور میں انسان نے زیادہ سمجھ بوجھ سے کام لینا اور تصوراتی دنیا سے باہر نکلنا شروع کیا۔ اس کے بعد آتا ہے Positive or Scientific Stage دور، کومٹے کے مطابق اس زمانہ میں انسان کی عقل پختہ ہوئی۔

انسان نے سب خداوں کا انکار کر دیا اور اپنی عقل سلیم کا استعمال شروع کر دیا۔یہ دور اٹھارہ سو کے بعد کا ہے۔ اور ہم اسی دور میں جی رہے ہیں۔ اس طرح گویا حضرتِ کومٹے ایک محدود خطے کے نتائج کو (رنگا رنگ معاشروں میں بسنے والے) سار ی دنیا کے انسانوں تک تعمیم دیتے ہوئے، سب کو ایک ہی ارتقائی لاٹھی سے ہانکتے نظر آتے ہیں۔ اور اس سے یہ نتیجہ نکالنا بھی کوئی دشوار کام نہیں کہ کومٹے جب لفظ معاشرہ بولتا ہے تو اس سے اس کی مراد صرف ماڈرن یا جدید معاشرہ ہوتی ہے۔ یہ صاحب جب کسی غیر سائنسی ــ معاشرہ کو ماننے پر ہی راضی نہیں تو پھر عمرانیات ہر قسم کے معاشرہ کا مطالعہ کا نام کیسے ہوا؟ کومٹے کے ذریعے ہم نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ عمرانیات فقط ’جدید‘ معاشرے کے مطالعہ تک محدود ہے، اب ہم ڈکہائیم کی طرف چلتے ہیں۔ Émile Durkheim (1858-1917)

آگسٹ کومٹے نان اکیڈمک مفکر تھا جبکہ ایمائیل ڈرکہائیم فرانس کے پہلے پروفیسر آف سوشیالوجی کے طور پہ معروف ہے۔ ڈرکہائیم وہ پہلا شخص تھا جس نے فرانس میں جامعہ کی سطح پر عمرانیات کا پہلا باقائدہ کورس پڑھایا۔ اس نے عمرانیات کی تبلیغ کے لئے ایک اکیڈمک جرنل کا ابھی اجرا کیا تھا۔ ڈکہائیم کا زیادہ تر کام اس بات کو سمجھنے اور بیان کرنے میں صرف ہوا کہ ماڈرن سوسائٹی میں مذہب کی غیر موجودگی میں کیسے معاشرتی استحکام و ربط پیدا ہوسکتا ہے۔ ڈرکہائیم عمرانیات میں Functionalist Tradition کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔ ڈرکہائیم کی بابت The Sociology Book میں یہ الفاظ پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔

Sociology was only gradually accepted as a distinct discipline, a social science separate from philosophy, in the latter half of the 19th century. The intellectual atmosphere of the time meant that for sociology to be recognized as a field of study, it had to establish scientific credentials. Among those who had studied philosophy but been drawn to the new branch of knowledge was Émile Durkheim, who believed that sociology should be less of a grand theory and more of a method that could be applied in diverse ways to understanding the development of modern society. (The Sociology Book by DK Publishers)

ڈرکہائیم کے خیال میں تمام انسانی تہذیبیں سادگی سے پیچیدگی میں رفتہ رفتہ منتقل ہوتی رہی ہیں (نوٹ: سماجی تبدیلی یا سوشل چینج کی بابت اس طرح کے خیالات بلا امتیاز ہر ماہر عمرانیات کے ہاں پائے ہیں، گویا یہ عمرانیات کا بنیادی وظیفہ و عقیدہ ہے)۔ روایتی معاشروں میں چونکہ روایات پرسختی سے عمل کیا جاتا تھا اور رشتوں کا تقدس، ہمسائیوں سے حسن سلوک کے ساتھ ساتھ حفظ مراتب کی بنیاد پر ہی تمام قسم کی معاشرتوں کا انحصار تھا، لہذا معاشرے آپس میں اجتماعی شعور کے ز یرسایہ نظم اجتماعی میں بندھے ہوئے تھے جو معاشرے کو استحکام بخشتا تھا اور معاشروں کی بنیاد اجتماعیت پر تھی نہ کہ انفرادیت پر۔ جبکہ جدید معاشرہ Division of Labor کے گوند سے جڑا ہوا ہے، اس معاشرے کو قائم رکھنے والی واحد قوت یہی Division of Labor ہے۔ جدید معاشرہ میں تخصص (specialization) کی وجہ سے اجتماعیت کی جگہ انفرادیت نے لے رکھی ہے، یہی وجہ ہے کہ جدید معاشرہ میں استحکام کا تعلق صرف اور صرف ان متخصصین کے آپس میں تعاون کے نتیجے ہی میں پیدا ہوتا ہے۔ یعنی جونہی ان متخصصین کا تعلق کٹتا ہے جدید معاشرے کا پہیہ جام ہو جاتا ہے (جدید ریاست اسی تعلق کو خوش اسلوبی سے جوڑے رکھنے کے لئے وجود میں لائی گئی)۔ڈرکہائیم جدید معاشرے کو سمجھنے اور پھر اس میں پیدا ہونے والے نئے مسائل کے حل میں کوشاں رہا۔ ڈرکہائیم جدید معاشرہ کو روایتی معاشرے سے بالکل علیحدہ شے سمجھتا تھا، اور جدید معاشرے میں پیدا ہونے والے مسائل کو ’سماجی بیماریوں‘ کے لقب سے یاد کرتا تھا، جن کو سوچ و بچارکے بعد پُرامن طریقے سے حل کیا جاسکتا ہے۔

What differentiates modern society from traditional ones, according to Durkheim, is a fundamental change in the form of social cohesion; the advent of industrialization has evolved a new form of solidarity. (The Sociology Book: Big Ideas Simply Explained DK Publishers London 2015)

ڈرکہائیم نے مذہب کا مطالعہ بھی کیا۔اس کی کتاب مذہبی عمرانیات کی سرخیل تصورکی جاتی ہے۔ مذہب کے بارے میں ڈرکہائیم کے خیالات معروف ماہر عمرانیات جارج رٹزر کی زبان میں پڑھیے۔

Durkheim examined primitive society in order to find the roots of religion. He believed that he would be better able to find those roots in the comparative simplicity of primitive society than in the complexity of the modern world. What he found, he felt, was that the source of religion was society itself. Society comes to define certain things as religious and others as profane. Specifically, in the case he studied, the clan was the source of a primitive kind of religion……In the end, Durkheim came to argue that society and religion (or, more generally, the collective conscience) were one and the same. Religion was the way society expressed itself in the form of a nonmaterial social fact. (Sociological Theory 8th Edition By George Ritzer)

ڈرکہائیم ان لوگوں میں شامل ہے جنھوں نے پہلے پہل مغربی معاشروں میں خود کشی کے رحجان اور اسکی وجوہات پر باضابطہ(بقول ان کے سائنسی) مطالعے کیے۔ڈرکہائیم کی کتاب Suicide: A Study in Sociology 1897 کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ خودکشی کو خالص سرمایہ دارانہ معاشرے کی برکت سمجھتا تھا۔ اپنی کتاب میں اس نے مغربی معاشروں میں خود کشی کا مطالعہ اعداد و شمار کی روشنی میں کیا اور جدید سرمایہ دارانہ معاشرت کو اس کا واحد ذمہ دار ٹھہرایا۔ ذیل کے اقتباس میں سرمایہ دارانہ معاشرہ کی بابت ڈرکہائیم کے خیالات نہایت واضح ہو کر سامنے آتے ہیں۔

Durkheim concluded that poverty protects individuals against suicide. The reason for this is that poverty plays a role in restricting the needs of a person. Nothing will stimulate greed if no one has luxury. Religion has taken on the benefit of poverty because the fact what is achieves on building an individual through self-deprivation and discipline. Wealth makes a person greedy and produces corruption. Religion is necessary in a society. However, religion has become less powerful against the government over the years. (https://heuristicmind.wordpress.com/2012/07/02/durkheim-on-suicide-and-modernity/)

مذکورہ بالا بحث سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ عمرانیات فقط جدید سرمایہ دارانہ معاشرے ہی کے مطالعے کا نام ہے۔ لہذا اس کے اخذ کردہ نتائج سے قائم ہونے والے اصول، غیر سرمایہ دارانہ اور روائتی معاشروں کی تفہیم کے لیے کوالیفائی نہیں کرتے یا کم از کم کفایت نہیں کرتے۔ پس علمائے عمرانیات کا یہ دعویٰ کہ ’’عمرانیات ’کسی بھی‘ معاشرے کے باضابطہ مطالعہ کا نام ہے‘‘ ایک التباس کے سوا کچھ نہیں۔


یہ بھی ملاحظہ کیجئے: جدید ریاست افلاطون کی ریپبلک سے بہت آگے جا چکی ہے: نعمان علی خان

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: