سندھی زبان میں شائع ہونے والے ماہانہ رسائل پر ایک نظر

0

Author: Agha Noor Mohammad Pathan

ماضی میں ہمارے ادیب اور شاعر بادشاھوں اور حاکموں کی خوشنودی کے لیے قصے کہانیاں اور سلاطین کے کارنامے لکھتے رہے ہیں ، شعراء کی طرف سے شاہنامے لکھنے کی روایت بہت پُرانی ہے۔ سندھ میں بھی مغلوں اور  ٹالپروں کے دور تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ اس وقت مزاحمتی شاعری یا نثر لکھنے کا رواج موجود نہ تھا،

شاھ عبداللطیف بھٹائی پہلے  شاعرہیں جنہوں نے شاہی محل اورقلعے چھوڑ کر ریت کے ٹیلے (بھٹ) پر سکونت اختیار کی،عوام جیسا طرزِ زندگی اختیارکیا، فقیری کو اوڑھنا بچھونا بنایا، نیز درباری زبان چھوڑ کر عام لوگوں کی زبان میں لوک داستانیں منظوم کیں۔

شاہ عبداللطیف بھٹائی نے منظوم داستانوں کے لیے  مواد لوک داستانوں سے لیا اورانہیں شاعری کی خاص اصناف میں منظوم کیا، اُن کے مجموعہ کا نام “شاھ جو رسالو” ہے۔ اورنگزیب عالمگیر کے زمانے تک کتابیں ہاتھ سے لکھی اور نقل کی جاتی تھیں۔ کتابوں کی طباعت کا سلسلہ بھی شروع نہیں ہوا تھا، اس زمانے میں مغلوں نے قلعے اور تاج محل تو بنائے لیکن کوئی پریس قائم نہیں کیا، جبکہ اس وقت انگلینڈ میں (1476ء) میں کیکسٹوں سیٹپ کی نام سے پریس قائم ہو چکے تھے ، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس 1478ء میں پہلی کتاب چھاپ چکی تھی بعدازاں یہ پریس جس نے یورپ میں جنم لیاانگریزی دورمیں ممبئی، کولکتہ اور کراچی تک آ پہنچا ، کراچی میں سندھ گورنمنٹ نے سرکاری پریس بھی قائم کیا۔

پریس کے اشاعتی سلسلے کا آغاز بھی شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام کی چھپائی سے ہوا۔ 1866ء میں جرمنی کے ایک اسکالر ڈاکٹر ارنیسٹ ٹرمپ نے “شاھ جو رسالو”  کو سندھی رسم الخط میں جرمنی سے لیٹر پریس پر شائع کروایا، بعد میں سندھ کے اضلاع کے گزیٹیئر بھی کراچی سے سندھ گورنمنٹ پرنٹنگ پریس سے شایع ہوئے اور 1843ء میں انگریزوں کی حکمرانی میں کراچی، حیدرآباد اور شکارپور میں لیٹر اور لیتھو چھاپہ خانوں نے کام کرنا شروع کیا جن کی بدولت  سندھی کتب اور ادبی رسائل دھڑا دھڑ شائع ہونے لگے۔اس  کے بعد  اشاعتی دنیا میں انقلاب آگیا اور روزنامے اور ہفت روزے بھی شایع ہونے لگے۔

حیدرآباد سے سادھو ہیرانند نے  “سندھ سدھار” نامی اخبارسندھی زبان میں اور”سندھ ٹائمز”انگریزی میں کراچی سے جاری کیا، انہوں نے”سرسوتی” اور” سدھار پتریکا” کے نام سے اشاعت گھر بھی قائم کیے، ان چھاپہ خانوں نے کثیر تعداد میں ادبی کتب شایع کی گئیں۔ انہوں نے پہلی بار 1890ء میں “ماہوار سرسوتی “مئگزین شایع کیا اور 1898ء میں ان کےانتقال کے بعد  خانچند پرتاب رائے نے تیس سال تک اس  رسالہ کی اشاعت کو جاری رکھا۔ اس پرچے میں طلباء، اساتذہ اورادیبوں نے زبان، ثقافت اور سماجی حالات پر بہترین مضامین لکھے۔ اسی ادارے نے سندھی زبان میں پہلی بار یورپ کے دانشوروں کی تاریخ کا ترجمہ شائع کیا یہ تاریخ انگریزی میں Dr Draper’s History of Intellectual Development of Europeکے نام سے  مطبوعہ تھی، اس کتاب کی اشاعت سے سندھی ادیبوں کا یورپ کے ادیبوں سے تعارف ہوا۔

تاریخی مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے  کہ کتاب کی نسبت اخبارورسائل کے قاری زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ رسائل میں مختلف و متفرق سماجی حالات پر تازہ ترین مواد شائع ہوتا رہتا ہے۔

 اس وقت ہمارے سامنے سندھی زبان میں شائع ہونے والا ماہوار مئگزین “ھمسری “ہے جو حیدرآبادسے ایک خاتون ایڈیٹر محترمہ زاھدہ ابڑہ اور ڈاکٹر شمس صدیقی کی ادارت میں تسلسل سے شائع ہو رہا ہے۔ “ھمسری ” رسالے میں ادارتی نوٹ کے علاوہ حالات حاضرہ، بین الاقوامی صورتحال، معیشت، سماجی صورتحال، سفرنامے، اضلاع کی رپورٹس، لیڈرشپ، لوک ورثہ، اسلام آباد کی ڈائری، باہر سے آنے والے اہل قلم کے خطوط ، مضامین،اہل قلم اور سیاسی سماجی رہنمائوں کے پروفائل، افسانے،لوک ادب، شاعری، تبصرہ کتب، پینٹنگس، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ جیسے موضوعات پرپرلکھا جاتا ہے۔اس رسالے کی سب سے بڑی خوبی خوبصورت کتابت کے ساتھ خوبصورت کاغذپر وقت کی پابندی کے ساتھ شائع ہونا ہے۔

2016ء میں انڈس کاٹج لائبریریز نیٹ ورک اسلام آباد کی مرکزی لائبرری میں موجود ماہانہ “ھمسری “کے ادارتی نوٹس کا جائزہ لیا گیا ہے۔جو مندرجہ ذیل ہے۔

جنوری کے پرچے میں ان امیدوں سے آغاز ہوتا ہے کہ خدا کرے کہ اس سال ہمارے وطن کے حالات بہتر ہوں، سندھ کے بچوں کو اچھی تعلیم اور تحفظ حاصل ہو اور غربت کے مارے ہوئے مزدورں اور کسانوں کو خوشحالی نصیب ہو اور ان کی ضروریات پوری ہوں۔

فروری کے شمارہ میں نوجوانوں کو محبت کی خوشبوپھیلانے کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار کے حصول اور ان کے تحفظ کا پیغام بھی دیا گیا ہے۔ ادارتی نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ اخلاقی اقدار ختم ہونے سے  قوموں کا وجود ختم ہوجاتا ہے اور شناخت گم ہوجاتی ہے۔

مارچ کے ادارتی نوٹ میں لکھا گیا ہے کے 23 مارچ 1940ء کی قرارداد میں برصغیر کے مسلمانوں کے لیے آزاد اور خود مختار ریاستوں کی آزادی کا مطالبہ کیا گیا تھا جو شیر بنگال چودھری اے کے فضل الحق نے پیش کی تھی لیکن بعد میں 11 اگست 1947ء کی آئین ساز اسمبلی کراچی میں قائد اعظم نے اپنی تقریر میں فرمایا تھا کہ پاکستان کے تمام شہری اپنے مذہبی عقائد کے مطابق مساجد، مندروں اور کلیسائوں میں جانے اور عبادت کرنےکے لیے آزاد ہیں اور وہ سب پاکستانی کی حیثیت سے برابر ہیں۔ لیکن بعد میں قائد اعظم کی اس پالیسی تقریر کے خلاف بنگال، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخواہ اور پنجاب کی صوبائی حیثیت ختم کر کے ون یونٹ کے نام پر مغربی اور مشرقی  پاکستان بنایا گیا جس سے بنگال سمیت سندھ،بلوچستان ور خیبرپختونخواہ میں محرومی کا احساس ہوا جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کے صورت میں ہم سے علیحدہ ہوگیا۔ بعد ازیں بقیہ پاکستان آئین ساز اسمبلی نے 1973ء کا متفقہ آئین منظور کیا ۔

اپریل کے ادارتی نوٹ میں ٹنڈو محمد خان لوئر سندھ میں نوجوان مرد اور عورتوں میں کچی شراب پینے پر کئی انسانی جانوں کے ضائع ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ صحت، محکمہ داخلہ اور ضلعی انتظامیہ سے سوال کیا گیا کہ اس طرح کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کو سزائیں کیوں نہیں دی جا رہیں ۔محلوں اور گاؤں میں منشیات کے مراکز بند کیوں نہیں کیے جارہے؟ اس مسئلہ پر اسمبلی کے ممبران اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نوٹس لینا چاہیے تاکہ نوجوانوں کو سماج کی تباہی سے روکا جا سکے۔

مئی کے ادارتی نوٹ میں مزدوروں کے عالمی دن کا ذکر کیا گیا ہے۔جس میں مزدوروں کی سندھ میں ابتر حالت کی نشاندھی کی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ ان کے بچوں کو تعلیم اور صحت کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ زچہ وبچہ دورانِ تولیدگی زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں۔ سندھ میں کارخانے بند ہیں، پاکستان اسٹیل مل جو سندھ کے مزدوروں کا بڑا سہارا تھی وہ بھی بند ہوچکی ہے۔ جہاں تک شوگر ملوں کا تعلق ہے تووہاں مزدوروں کے بچوں کے لیے تعلیم، صحت یا تربیتی مراکز کا کوئی تصور نہیں ہے۔ ضرورت اس چیز کی ہے کہ سندھ میں  مزدوروں اور کسانوں کے بچوں کے لیے ٹریننگ سینٹرز بحال کر کے روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ شہیدوں کے نام پہ بھیک مانگ کر وظائف پر پلنے کے بجائے عزت والی زندگی گزار سکیں۔

جون کے ادارتی نوٹ میں پاکستان کے قومی نشریاتی چینلز کی تعصب پر مبنی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے لکھا گیاکہ نام نہاد قومی چینل کہلانے والے نشریاتی ادارے چھوٹے صوبوں خاص طور پر سندھ کی نمائندگی نہیں کرتے اور سندھ کا موقف اپنے ٹاک شوز میں پیش نہیں کرتے۔

جولائی کے ادارتی نوٹ میں پاکستان کے مشہور نعت خوان اور قوال امجد صابری کے قتل کو سندھ کے صوفیانہ کلچر پر حملہ قرار دیا ہے۔

آگست کے ادارتی نوٹ میں خود مختار سندھی ڈکشنری بورڈ قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ ایک جامع سندھی لغت تیار کی جاسکے اور ہماری نئی نسل اوردیگر پاکستانی زبانیں بولنے والے بھی اس سے مستقل فائدہ اُٹھاسکیں۔

ستمبر کے ادارتی نوٹ میں یونیورسٹی آف صوفی ازم اینڈ ماڈرن سائنسز کو عملی طور پر فعال کرنے کے لیے حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے  کے ایک سال گزرنے کے باوجود  وائس چانسلر کے تقرر کے علاوہ اساتذہ، اسٹاف اور دیگر عملے کے تقرر متعلق کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے اور نصاب کی تیاری اور تعلیم میں صوفی ازم کو اہمیت نہیں دی جاسکتی ہے۔

اکتومبر کے ادارتی نوٹ میں سندھ کے شہروں کو گندگی کا ڈھیر اور نئی بیماریوں کی فیکٹری ہوجانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا گیا ہے  کہ بلدیاتی اداروں کو فعال بنایا جائے اور ہزاروں کی تعداد میں مقرر ملازمیں کو کام کرنے کے لیے آمادہ کیا جائے۔

نومبر کےادارتی نوٹ میں سندھی لینگویج اتھارٹی کے تحت عبدالماجد بھرگڑی سندھی لینگویج انسٹیٹوٹ کے قیام کو قابل تعریف قرار دیتے ہوئے  کہا گیا کہ پہلے سے قائم ادارے سندھی ادبی بورڈ اور دیگر اداروں کی حالت کو بھی بہتر بنایا جائے اور سندھی ڈکشنری بورڈ کے پروجیکٹ جو 70 سال سے فقط سندھی زبان کے 52 حروف میں سے فقط تین حروف پر مشتمل 2 جلد شائع کیےجا  سکے ہیں۔ اس کام کو مکمل کرنے کے لیے موجودہ وزیر ثقافت کو خصوسی دلچسپی لینے کی اپیل کی گئی ہے۔

دسمبر کے ادارتی نوٹ میں ثقافت کے دن کو قومی سطح پر منانے کے ساتھ ساتھ اسے برداشت، امن اور روشن خیالی کے ساتھ منانے پر زور دیا ہے تاکہ ہم محبت کے ساتھ دورِ نوکے تحدیات  کے لیے اپنے نوجوانوں کو زندہ قوموں کے صفوں میں کھڑا کرنے کے لیے تیار کر سکیں۔

جاری ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: