اردو کا مستقبل: احمد اقبال کے جواب میں —– سراج الدین امجد

2
  • 81
    Shares

اردو زبان کے مستقبل کے بارے میں گذشتہ دنوں دانش پہ شایع ہونے والے کہنہ مشق قلمکار اور دانش کے سینئر بورڈ ممبر احمد اقبال صاحب کے مضمون نے جو بحث اٹھائی ہے، سراج الدین امجد صاحب نے اسے آگے بڑہاتے ہوئے عمدہ نکات بیان کئے ہیں۔ اقبال صاحب کا مضمون اس لنک پہ ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔


مصنف

احمد اقبال صاحب کا مضمون بحیثیتِ مجموعی بصیرت افروز اور فکر انگیز ہے جسمیں تلخ حقائق، اعداد و شمار کے پیمانے سے نہ سہی، خیال آفریں منطقی اسلوب میں ضرور پیش کیے گئے ہیں۔ تاہم کچھ دعاوی محل نظر ہیں۔ ان پر گفتگو کے ساتھ ساتھ اردو زبان کی ترویج کے حوالے سے چند معروضات پیش خدمت ہیں۔

1- نہ معلوم عالمی اردو کانفرنس اور ایسے دیگر فورمز پر ارباب دانش اردو کے نفاذ کی بات کس برتے پر کرتے ہیں؟ اگر جدید دنیا الہامی مذاہب کو نفاذ کی بجائے دعوت و تذکیر کی گنجائش تک محدود رکھتی ہے تو زبان ایسی کم تر چیز کاہے کو بزور بازو نافذ کی جاسکے گی۔ لہذا بنیادی مقدمہ درست کیجیے اور نفاذ اردو کی بجائے ترویج کی طرف بڑھیے۔ بایں معنی کہ اردو بول چال سماجی حیثیت کی کسی حد تک نمائندہ بن جائے۔ یعنی ملک کی آبادی کا معتدبہ حصہ اس زبان میں گفتگو کو پسند کرے اور برتے۔

2- اردو کو قومی زبان بنانا ہے تو اسے مہاجر کمیونٹی اور اردو سپیکنگ کے سیاسی گٹھ جوڑ سے علیحدہ کیجیے۔ مجھ ایسے سینکڑوں ہزاروں پنجابی بخوشی اردو گھروں میں بولتے لکھتے ہیں اسی طرح ہمارے بچے بھی اردو بولتے ہیں تاہم سرکاری کاغذات میں ان کی مادری زبان جو فی الواقعہ اردو بن چکی ہے، کو لکھواتے تامل رہتا ہے کہ کل یہ کسی خاص سیاسی عصبیت کی بھینٹ نہ چڑ جائے۔ پھر، ساتھ ساتھ انگریزی آج کل کی نسل کی مادری زبان بن رہی ہے (آج کل پڑھی لکھی ماؤں کا اصرار ہے کہ جب تک آکسفورڈ لہجے میں بچے انگریزی نہ بولیں تو گنوارو لگتے ہیں) تاہم انگریزی کو جذبہ رقابت سے مت دیکھیے جدید علوم اور اعلی سماجی تشخص کی زبان اسے ہی مان لیجیے۔ اگر روبہ زوال آپ ہیں تو احیائے زبان کی تگ و تاز بھی آپ کے ذمہ ہے قربانی بھی آپ کو ہی دینی ہے انگریزی کو نہیں۔

3- اردو زبان کے ساتھ سب سے سنگین مذاق اردو لغت مرتب کرنیوالوں نے کیا۔ اردو زبان جس طرح مستعمل الفاظ و محاورات کو دامن میں جگہ دیتی ہے کاش اس سے فائدہ اٹھایا جاتا۔ لاؤڈ سپیکر، ائر پورٹ اور چیف سیکرٹری کو آلہ مکبر الصوت، مطار اور میر منشی کہنے والے خود اس زبان کا فروغ نہیں چاہتے۔ عام لوگ سلیس زبان بولیں سمجھیں یہی غنیمت ہے۔ آلہ مکبر الصوت تو حلقہ واعظین و خطباء میں اجنبی ہے آپ ایک عام شہری سے ایسے متروک الفاظ تقاضا کیوں کرتے ہیں۔ خدارا ایسے الفاظ بھلے ہزاروں میں ہوں کو جوں کا توں رہنے دیں جب زبان کا چلن عام ہو گا تو لوگ تحریر و تقریر کو معنی خیز بنانے کے لیے مترادفات کا استعمال کریں گے اس وقت آلہ مکبر الصوت اور مطار بھی کہیں نہ کہیں استعمال ہوجائے گا۔

4- تذکیر و تانیث کے حوالے سے کچھ مثالیں دیکر یہ تاثر دیا گیا ہے کہ اردو زبان میں اس حوالے سے قواعد و ضوابط نہیں۔ ایسی صورتحال نہیں۔ تذکیر و تانیث کا تعین سماعی بھی ہوسکتا ہے عربی جیسی فصیح زبان میں تلفظ سے لیکر تذکیر و تانیث میں سماعی پہلو سے مفر نہیں تو اردو کے لیے یہ باعث ندامت کیونکر ہو۔

5- اردو زبان کی ترویج میں رسم الخط کا بہت اہم کردار ہے۔ پچھلے چند سالوں میں اردو رسم الخط کے ساتھ وابستگی اور لگاؤ بڑھا ہے۔ بلکہ سچ پوچھیے تو رومن خط کے مؤیدین کے لیے یہ معاملہ اچنبھے کا باعث ہے کہ دوبارہ لوگ اردو رسم الخط کو ہی اپنانے لگے ہیں۔ اس میں سوشل میڈیا پر موجود مدارس دینیہ کے فارغ التحصیل طلبہ کا بڑا کردار ہے۔ سماجی طور پر اب رومن خط میں اردو لکھنا کم خواندگی یا کم سوادی کے مترادف سمجھا جانے لگا ہے۔ لہذا اب جبکہ اردو کی بورڈ اور کی پیڈ کی سہولت میسر ہے رسم الخط کے حوالے سے کامل استقامت کا مظاہرہ کیجیے اور رومن خط کے لیے ناگواری برقرار رکھیے تاکہ یہ فتنہ اپنی موت آپ مرجائے۔

6- اردو زبان کے فروغ میں اسلامی، دینی لٹریچر کا بڑا ہاتھ ہے۔ تفسیر و حدیث، سیرت و آثار، منطق و فلسفہ، تصوف و کلام، معقولات و منقولات غرضکہ الہیات و دینیات کا کونسا شعبہ ہے جس میں ہر سال اردو زبان میں دھڑا دھڑ کتابیں شائع نہ ہورہی ہوں۔ بلکہ عربی زبان کے بعد اسلامی لٹریچر جس وسیع تعداد میں اردو میں ہے دنیا کی شاید ہی کسی زبان میں ہو۔ نیز عربی کتب کے تراجم کی اشاعت بھی کم نہیں۔ ہر مکتب فکر کا اپنا اشاعتی ادارہ ہے اور طبعزاد کے ساتھ ساتھ تراجم بھی سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں شائع ہورہے ہیں۔ یہ ساری صورتحال بڑی حوصلہ افزاء اور ایقان افروز ہے۔ یہ سب لوگ کسی نہ کسی طرح اردو زبان کی ہی خدمت کررہے ہیں۔

7- اردو زبان کے فروغ میں علماء کرام کی مساعی جمیلہ کو کم ہی نگاہِ تحسین سے دیکھا گیا۔ شبلی نعمانی، سید سلیمان ندوی، ابوالکلام آزاد، عبد الماجد دریابادی، سید ابوالاعلی مودودی، سید ابوالحسن علی ندوی اور غلام احمد پرویز تو بڑے نام ہیں لیکن کیا پیر کرم شاہ الازہری، جاوید احمد غامدی، طالب الہاشمی، نعیم صدیقی، صلاح الدین یوسف، سید فاروق القادری، قاضی عبد الدائم دائم اور مولانا زاہد الراشدی کسی صاحب طرز نثر نگار سے کم تر لکھنے والے ہیں؟ اگر نہیں اور یقیناََ نہیں تو پھر اس طبقہ زہاد کی پذیرائی میں کیا امر مانع ہے؟ ان لوگوں کی قدر کیجیے آپ ان کو اردو زبان کی ترویج کے ہراول دستہ میں کھڑا پائینگے۔

8- اردو کلاسیکی ادب بالخصوص شاعری اور ناول وغیرہ کی حسنِ صوت میں ریکارڈنگ کا پراجیکٹ شروع کیجیے۔ یہ کتب بینی سے بوجوہ بے اعتنائی برتنے والوں کے لیے زبان و بیان کی کشش کا اچھا پہلو ہے جس میں درست تلفظ اور موزوں ادائیگی کے ساتھ لوگ سماعت کی حد تک اردو ادب سے محظوظ ضرور ہونگے۔

9- سائنسی و جدید علوم کے مصطلحات اگر اردو زبان میں جوں کی توں رہنے دی جائیں تو کونسی قیامت آجائیگی۔ Least Common Multiple کو “ذو اضعاف اقل” اور Marginal Utility کو “افادہ مختتم” کہہ کر کس زبان کا فروغ ہو رہا ہے۔اور اگر ایسی مضحکہ خیز روایات کی امانت کی ہم نے قسم کھائی ہے تو پھر ساتھ ساتھ انگریزی مترادفات لکھ دیجیے تاکہ اعلی تعلیم کے حصول میں اردو اصطلا حیں سد راہ نہ بن سکیں نیز انگریزی مصطلحات سے آشنائی فائدہ مند ثابت ہو۔

10- سچی بات ہے مذہب و الہیات کا فروغ ہو یا کسی ثقافتی پہلو کی ترویج ذوق و شوق کی ولولہ انگیز یوں کا ہی رہینِ منت ہوا کرتا ہے۔ اردو زبان کا فروغ بھی عقل عیار کی پخت و پز کا میدان نہیں جذبہ سرفروشانہ کی جولانگاہ ہے۔ انگریزی زبان لکھنے کے دام بھلے زیادہ موصول ہوں اردو کا فروغ تاریخ اسلامی، تمدن شرق، ثقافت ہندی اور جمال فارس کی ترویج ہے۔ جلد یا بدیر یہ طبقہ حکمران کی زبان بھی بن جائیگی ۔بس ہمت جواں رکھیے اور خاطر جمع پھر دیکھیے پردہ غیب سے کیا نمودار ہوتا ہے۔

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. احمد العباد on

    مزے کی بات اس سارے مضمون میں اردو نہیں بلکہ غلام احمد پرویز صاحب کا طبقہ علماکرام میں اور غامدی صاحب کا طبقہ زہاد میں شمار ہے
    😊😊😊

Leave A Reply

%d bloggers like this: