تم عورت ہو یا بکریاں؟ — سائرہ فاروق

0
  • 173
    Shares

چترال پر بنی ویڈیو جس میں ایک مرد چترالی خواتین کی ویڈیو بھی بنا رہا ہے اور چھیڑ بھی رھا ھے اس پوسٹ پر کئی کمنٹس دیکھے جو اس غلط حرکت پر قابل مذمت کی گردان الاپتے رہے مگر معذرت کے ساتھ میں مرد کی اس حرکت کو قابل مذمت نہیں گردانتی، کیونکہ مجھے پدرسری سماج کے مرد کی اس حرکت پر کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ نہ ہی یہ کوئی نئی بات ہے ہمارے سماج میں! چھیڑنے والا جراثیم کچھ مردوں میں بہت ایکٹو ہوتا ہے لہذا ابد سے ازل تک یہ سلسلہ چھیڑ خانی یونہی چلتی رہے گی، اس لیے مجھے مرد کی اس حرکت کو قابلِ مذمت اور ظالم کا ٹیگ نہیں دینا!

بلکہ مجھے سب سے زیادہ افسوس خواتین کے اس گروہی رویے پر ہے جو گروہ میں ھونے کے باوجود گروہی طاقت کو نہ سمجھ سکیں۔ انھیں دیکھ کر لگتا ہے، جیسے یہ انسان نہیں بھیڑ بکریاں ہیں جو بدکتی ہوئی بس۔۔۔ بکھری جارہی ہیں، ڈری جا رہی ہیں، چلی جا رہی ہیں۔

سوال ان بھیڑ بکری نما عورتوں سے کرنے دیجئے کہ فقط ایک مرد کے مقابلے میں یہ پانچ خواتین اپنا دفاع آخر کیوں نہ کر کرسکیں؟

مجھے تو وہ وقت بھی یاد آیا جب یونیورسٹی روڈ پر دو لڑکے اپنی بائیک میرے ساتھ چلاتے چلاتے “ہیلو مس ہیلو مس” کرتے رہے اور میری کوشش تھی کہ میں انہیں اگنور کرتی چلی جاؤں مگر آخر کب تک؟

پس میں رک گئی، ڈٹ گئی، مگر نہ ڈری، نہ جھجکی! کیونکہ اللہ کی مدد یقیناً شاملِ حال تھی کہ مجھے ایک پل کا بھی خوف نہ آیا کہ میں دو مردوں کے مقابلے میں ایک ہوں۔ اس سے پہلے کہ بدمزگی مزید بڑھتی وہ میرے بے خوف لب و لہجے سے پہلے حیران ہوئے اور پھر رفو چکر ہوگئے۔

یہ اپنی نوعیت کی عجیب فتح تھی۔ یہ بھی عجب مقابلہ تھا۔ شاید خود اعتمادی اور بے خوفی دو ایسے ہتھیار ہیں جو میدان جنگ میں بھی عورت جیسی کمزور ذات کو فتح یاب کر سکتے ہیں اور یہ زندگی میدان جنگ ہی تو ہے یہاں وہی کامیاب جو پہلے وار کرتا ہے۔

مگر میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب یہ پانچ چترالی عورتیں اس مرد کے چھیڑنے پر منمناتی سی آواز نکال کر منت بھرے لب و لہجے کے ساتھ بس روکتی رہیں، آخر کیوں؟ انہوں نے اسے پکڑ کر مارا کیوں نہیں؟ اس کا موبائل کیوں نہیں چھینا؟ اس کی باتوں کا جواب لجا شرما کر، گھبرا کر دینے کا مطلب اسے مزید شہ دینا، آخر کیوں ٹھہرا؟

اس ویڈیو میں پتھریلا راستہ بھی دکھائی دیتا ہے جس پر جا بجا بکھرے پتھر بطور ہتھیار استعمال کر کے ٹھیک ٹھاک تواضع کی جاسکتی تھی مگر ان میں سے کسی ایک عورت نے بھی ہمت نہیں دکھائی، جانا چاہتی ہوں کیوں؟

ایک مرد کتنی آسانی سے آپ کی ویڈیو بنا کر آپ کو چھیڑ رہا ہے اور حیرت ہے کہ آپ سرزنش تک نہیں کرتیں۔
یہ علاقہ ہمارے علاقوں جیسا سخت روایات میں جکڑا ہوا نہیں ہے ـ آزاد مخلوط ایریا ہے جہاں سیاح مقامی مرد یا عورت سے بآسانی بات کر سکتے ہیں، ان کی ویڈیو یا تصاویر بآسانی اتار سکتے ہیں اور میل جول میں بھی کوئی ممانعت نہیں ہے۔ گویا ہمارے علاقوں کی نسبت یہاں ماحول قدرے آزاد خیال ہے اور اس آزادانہ سماجی روایات سے تو آپ کو اس بات کا زیادہ شعور ہوناچاہیے کہ ناپسندیدہ بات کو کیسے رد کرناچاہیے؟ کس کو کتنی سپیس دینی چاہیے! کتنا لحاظ کرنا چاہیے! حتی کہ اگر ایک مقامی سیاح نما چھچھورے کا ڈومیسٹک سیاحت میں غیرمہذب رویے کی آڑ میں بدتمیزی عروج پر ہو تو اس سے کیسے نبٹنا چاہیے، سیاحتی علاقوں کے مرد، اور خاص طور پہ خواتین کو اس کا علم ہونا چاہیے۔

عظیم سیاحتی مقام پر غربت کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ اگلے کو اس بات کا بھی سرٹیفکیٹ دے دیں کہ وہ آپ کی عزت پر اپنی مرضی سے ہاتھ ڈالے اور آپ کا رویہ کسی منمناتی بکری جیسا ہو جائے کہ “آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے مزید چھیڑو، گویا میں البیلی دوشیزہ ہوں جسے بس دفاع میں نہ نہ کی گردان آتی ہے۔

یاد رکھیے مرد اتنا طاقت ور نہ ہوتا اگر ہم عورتیں اتنی کمزور خود کو شو نہ کرتیں۔ اگر اپنا دفاع نہیں کر سکتی ہو تو مردوں کے بغیر گھر سے باہر کیوں نکلتی ہو؟

یہ بھی پڑھئے: جنسی ہراسانی میں لڑکیوں کا کردار — محمودفیاض

 

خدا کی بندیو نہ کوئی شور نا شرابا بڑا نہ سہی چھوٹا روڑا اٹھا کر پھینک دیتیں یا اپنی ٹھیٹھ زبان میں کوئی آدھی، پوری گالی ہی نکال دیتیں کہ سن کر دل ٹھنڈا ہو جاتا۔۔۔۔

کچھ تو کہو، کچھ تو بولو، اپنے دفاع میں اپنے حق کے لیے زرا سا ہی، لڑو تو سہی، بس چپ چاپ کھڑی ہو، چلتی جا رہی ہو، پانچ عورتیں ویڈیو والے مرد کے مقابلے میں کمزور کیسے ہو سکتی ہیں؟ کچھ میرے پلے بھی تو ڈالو، کچھ مجھے بھی تو سمجھاؤ ناں۔ اگر میں اکیلی کمزور سی لڑکی ذرا سے چھیڑنے پر ڈٹ کر کھڑی ہو گئی تو تمہارے ساتھ کیا سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ بولنے سے ٹوٹ کر گر جائیں گے؟

بی بی بات فقط اتنی سی ہے کہ مرد چھیڑے گا بھی، اسی سماج میں ریپسٹ بھی آزادانہ ڈنکے کی چوٹ پر سینہ چوڑا کرتے نظر آئیں گے، تمھاری آنکھیں بند کرنے سے منظر نہیں بدلے گا۔۔۔ اتنا جان لو بس۔۔

یہ تمھیں نوچے گا بھی، مارے گا بھی، جب تک تم اسے تھالی میں اپنا آپ ڈرتے ڈرتے پیش کرتی رہو گی۔۔۔۔ تم عورت ہو یا بکریاں، پہلے اس کا تعین کر لو!


کیا مرد بھی ’می ٹو‘ Me Too کہہ سکتے ہیں؟ — سمیع کالیا

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: