مجھے اردو سے کوئی محبت نہیں —– احمد اقبال

0
  • 172
    Shares

اس موضوع پر محمد سلیم صاحب اور اردو تحریک کے چند ہمنوا افراد نے فیس بک پہ اظہار خیال کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے اس میں میرے ضمنی سے اختلافی کمنٹ نے مستقبل میں یقینی طور پر درپیش صورت حال کی وضاحت نہیں کی اور آرزو پر مبنی ایک جذباتی رد عمل کو جنم دیا۔ ظفر عمران کی ایک پوسٹ یقینا” حوصلہ افزا تھی میں صرف “ریکارڈکی درستگی” کیلئے حقایق کو قدرے ترتیب اور تفصیل سے پیش کر دیتا ہوں۔ ۔ غیر عملیت پسند اپنی خواب آرائی کا سلسلہ جاری رکھیں-

1- پہلی بات یہ سمجھ لیجئے کہ زبان کسی کی دشمن نہیں ہوتی۔ ۔ امریکن قانون کا اصول ہے کہ Guns don’t kill people. People kill people تاریخ میں متعدد نامور شخصیات کا حوالہ “ہفت زبان” کے طور پر آتا ہے متعدد زبانوں پر عبور ایک قابل فخر صفت تھی اورآج بھی ہے۔ میرے دادا کے گھر میں تو فارسی ہی بولی جاتی تھی جو غالبا” 1923 تک سرکاری و عدالتی زبان رہی عربی ہم سب پڑھ اور کچھ ترجمے سے سمجھ لیتے ہیں اور انگریزی ہماری دوسری مادری زبان بن چکی ہے۔ ۔ میں پنجاب میں پلا بڑھا ہوں توبے تکلف گفتگو پنجابی میں کرتا ہوں۔ ۔ پشاور سے بی اے کیا تھا تو آدھی پشتو بھی سمجھ لیتا ہوں۔ ۔ پھر صرف اردو سے جزباتی وابستگی اور انگریزی کے خلاف اتش فشانی چہ معنی دارد؟مجھے تو افسوس ہے کہ سندھی اور بلوچی نہیں جانتا۔ میں اردواسپیکنگ کا سیاسی لیبل بہت پہلےاتار چکا ہوں۔

2۔ مسلک میرا آبائی اور سیاست ذاتی معاملہ ہے میں خود کسی زبان۔ ۔ قومیت۔ ۔ قومی پھول۔ جانور ترانے یا جھنڈے سے محبت کولا حاصل جذباتیت کے مظاہرے سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا۔ تمام قانونی اور غیر قانونی طریقے اختیار کر کے امریکا برطانیہ کناڈا آسٹریلیا کی شہریت حاصل کر نے والےپاکستانی ساری جذباتی وفاداریاں بڑی سختی اورپھر ذلت اٹھا کے تبدیل کرتے ہیں اورحلف اٹھاکے وہاں کے آئین قانون جھنڈے اور قومی دن کو اپنا بنالیتے ہیں۔ ان کا ضمیر ذرا شرمندہ نہیں کرتا اوراس کی مذمت بھی نہیں کی جاسکتی۔ ضرورت کے تحت ہجرت کے سنت ہونے میں کوئی شک نہیں علامہ اقبال کی ایک نظم میں طارق بن زیاد اپنی کشتیاں جلانے کے بعد اندلس کے ساحل پر سپاہیوں سے کہتا ہے “ہر ملک ملک ماست کہ ملک خدائے ماست”۔ ۔ اسلام میں وطنیت کا کوئی تصور نہیں۔ ۔ الارض فی اللہ۔ ۔ ساری زمین اللہ کی ہے۔

3۔ میں نےکئی سال سے کراچی میں منعقد ہونے والی “عالمی اردو کانفرنس” میں شرکت کی ہے اس میں بھارت سمیت دنیا کے ہر ملک سے اردو کے دانشور اردو زبان و ادب کی صورت حال پیش کرتے رہے ہیں۔ دو سال قبل “اردو کے مستقبل” پر جو سیشن ہوا اس میں تمام امکانات و خدشات کا جائزہ لیا گیا۔ جائزہ لینے والے ہر شعبے کے ماہرین اور اہل دانش تھے، اس میں بھارت کے بہت عظیم ادیب نقاد پروفیسر داکٹر انیس اشفاق بھی تھے (جو اس سال ازراہ بندہ پروری مجھے اپنا تازہ شایع ہونے والا ناول “سراب گرداب” دے گئے)۔ ڈاکٹر اشفاق کا استدلال مکمل اور سائنٹفک تھا لیکن میں اس تمام سیشن کی تقاریرکا خلاصہ پیش کردیتا ہوں۔

یہ کہا گیا کہ اس وقت دنیا میں 600 زبانیں ہیں۔ بولی کو زبان سے الگ رکھیں۔ عالمی ترتیب کے مطابق پنجابی بولنے والوں کا بلحاظ تعداد ساتو نمبر اور اردو کا دسواں ہے۔ سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجیکل پیش رفت کو اختیار کرنے کی لچک اور صلاحیت میں برتری کے باعث انگلش کی حاکمیت تمام دوسری چھوٹی زبانوں کے وجود کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے اور اندازہ ہے کہ انگلش کا مقابلہ اس صدی کے اختتام تک صرف 50 زبانیں کر پائیں گی۔ باقی کی حیثیت محض ایک بولی کی رہ جائے گی۔ ۔ جیسےدنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری والے ملک بھارت میں اردو فلموں کی بولی ہے جس کو وہ سنسر سرٹیفیکیٹ میں ہندی لکھتے ہیں۔

4۔ زبان کیلئے ضروری ہے کہ اس کا اپنا رسم ا ٰلخط بھی ہو جو بد قسمتی سے اردو نے فارسی کا اختیار کیا ہے اور ادبی تاریخ اور روایات سے بھی فارسی ہی “اردو کی مادری زبان” ہےـ اقبال اور فیض تک جام و ساقی۔ ۔ محتسب و مے خانہ کا حوالہ خالص ایرانی کلچر ہے جس پرآج بھی ہماری شاعری کی تہذیبی روایت قایم ہے۔

بہت پہلے اس کا ادراک کرشن چندر نے کیا تھا اور رومن انگلش کو مشترکہ رسم الخط کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا لیکن اردوتلفظ کے شین قاف زبر پیش گروپ نے وہ ہنگامہ بپا کیا کہ اس کی دور اندیشی کا جنازہ نکال دیا لیکن بالاخر یہی ہوا۔ پہلے موبایل فون مسیج میں اور اب فیس بک پرسرحد کے دونو طرف اردو کی بورڈ استعمال نہ کرنے والےہر قسم کے ابلاغ کیلئے رومن ہی استعمال کر رہے ہیں۔ ۔ بھارت جانے والے اپنے آبائی قبرستان کے ہندی مین لکھےاسلامی نا م والے کتبے نہیں پڑھ سکتے۔ فیس بک پر اردو کے شاعر و ادیب ہندی اسکرپٹ میں اردو لکھتے ہیں، نہ وہ مجھے پڑھ پاتے ہیں نہ میں انہیں تو تعلق ختم ہو جاتا ہے۔ وہاں اب بھی اردو مشاعروں کا روایتی ماحول ہے جس میں فرش پر بیٹھے حضرات وخواتین اچھے اشعار پر واہ واہ کے ساتھ ان کو ہندی میں لکھ بھی رہے ہوتے ہیں۔ ۔ اس وقت تلاش مشکل ہے ورنہ میں نراین مودی کا “کلام شاعر بزبان شاعر” کی وڈیو پیش کرتا۔ اس نے بڑی اچھی اردو غزل سنائی ہے۔

5۔ غلامی تو ہندو نے ہم سے زیادہ کی۔ ۔ پہلے ہماری جو ترکی ایران اور افغانستان سے تعلق رکھتے تھے پھر انگریز کی اور ڈچ کی مگر اس کوآزاد بھارت نے کوئی کمپلکس یا سیاسی ایشو نہیں بنایا۔ انگریزی بھی ہندی کے ساتھ سرکاری زبان ہے اور30 صوبوں کی اپنی اپنی زبان بھی کوئی وجہ فساد نہیں۔ لہجے اور تلفظ کے فرق کی مضحکہ خیزی ملاحظہ کیجے جو ایک مدراسی یا بنگالی کی انگلش میں ہے۔ وہ خود فلموں میں اس کا مذاق اڑاتے ہیں لیکن یہی دو صوبے تعلیم کا سو فیصد تناسب رکھتے ہیں۔ اس کے بر عکس کراچی کے “اردو اسپیکنگ” کا رجسٹرڈ ٹریڈ مارک رکھنے والوں کی سرائیکی کی سندھی یا پٹھان کی اردو پرمخاصمت کی انتہا دیکھئے کہ وہ ایک سیاسی ہنگامہ آرائی اور خونریزی میں الجھ گئے۔ یہ بھی دیکھئے کہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان نفرت کی پہلی علامت اردو کے معاملے پر1951 میں بننے والا “شہید مینار ” ہے۔ ۔ ۔ کتنے “اردو اسپیکنگ” آج یہ بتا سکتے ہیں کہ کراچی میں 1974 کے شہدائے اردو کون تھے اور کہاں دفن ہیں؟ سوچئے کیا اردو اتنی خوں آشام ہے؟ ہرگز نہیں۔ جو بولنے والے بنتے ہیں وہ بھی خوں آشام نہیں۔ (یاد کیجئے اسلحہ پر امریکی قانون کی منطق)۔ ۔ ۔ خوں آشام معاشی اور معاشرتی مسایل ہیں۔

نصف صدی قبل بابائے اردو نے کہا تھا کہ پٹھان بتاتا ہے کہ “ام روٹی کھا لیا” تو اسے گرامر اور لہجے پہ مت ٹوکو۔ وہ اردو بول تو رہا ہے۔ تذکیر و تانیث پر تو دہلی اور لکھنو والے ہی ہمیشہ دست و گریباں رہے۔ “مجھے بات کرنا تھی”۔ ۔ اور “مجھے بات کرنی تھی” کا تنازعہ رہا حالانکہ اردو میں تذکیر و تانیث کا اصول کوئی ہے ہی نہیں۔ ۔ کرسی میزمونث ہیں صوفہ اسٹول مذکر۔ ۔ آئی نہ مذکر مگر سنگھار میز مونث۔ ۔ بجلی مونث پنکھا ٹی وی مزکر۔ ۔ ۔ ۔ دن مذکر رات مونث۔ ۔ زمین مونث آسمان مزکر۔ ۔ ہا ہاہا

6۔ مسقبل میں اردو کے اختتام کے دو واضح اسباب ہماری 70 سالہ تاریخ کا حصہ ہیں جوایک عالمی اردو کانفرنس میں بھی زیر بحث آئے

(الف) اس کو کبھی سرکاری مراسلت اور ابلاغ کی زبان نہیں بنایا گیا۔

(ب)۔ اس کو ابتدائی لازمی تعلیم کےسوا (جس کا نصاب صوبائی ٹیکسٹ بک بورڈ بناتے ہیں)۔ کبھی اعلیٰ تعلیم و تدریس کے لئے استعمال نہیں کیا گیا کیونکہ تدریسی مواد انگلش میں تھا اور آج بھی ہے۔ 1952 میں جب راقم پڑھتا تھا تو فزکس جی ایل دت اور کیمسٹری نرنجن سنگھ جگندر سنگھ کی تھی 60 سال کی بعد کی صورت حال کا جایز لینے کیلے میں نےاپنی ہی تیسری نسل کے نوجوانوں سے رابطہ کیا، نتایج یہ سامنے آئے۔

(الف) این ای ڈی یونیورسٹی کراچی سے سول انجینر بننے والے نواسے اور یونی ورسٹی اف انجینییرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں اس شعبے میں چوتھے سمسٹر کی طالبہ نواسی نے بتایا کہ تمام درسی مواد انگریزی میں ہے جو برٹش امریکن اور انڈین یا سری لنکن رائٹرز کا ہے۔ اب چینی کتب کے انگریزی ترجمے بھی رائج کر دئیے گئے ہیں اور چینی زبان کے ایک سمسٹرکا اضافہ ہوا ہے۔ خال خال پاکستنی نے آسانی کیلئے زیادہ ضخیم کتب کا خلاصہ بنایا ہے۔ اصل انگریزی درسی کتب کے 18 ویں ایڈیشن تک پڑھائے جاتے ہیں تو نظر ثانی شدہ ہوتے ہیں اور اپ ڈیٹ کر دئے جاتے ہیں۔

(ب) میری سب سے چھوٹی بہو نے جو آغا خان کراچی میں معالج تھی تصدیق کی کہ طب کے شعبے میں بھی یہی صورت حال ہے۔ البتہ ہسپتالوں میں کام کرنے والے جونیرز کی راہنمائی کیلئے پاکستانی ڈاکٹرز نے مقامی حالات کے مطابق کچھ کتابیں۔ “میڈ ایزی” ٹایپ لکھی ہیں وہ بھی انگلش میں ہیں۔

(ج) میری بڑی بہو نے 18سال قبل فزیکل کیمسڑی میں کراچی یونیورسٹی سے گولڈ میڈل لیا تھا اس نے بالکل یہی بتایا کہ ایک بھی کتاب کسی پاکستانی کی نہیں تھی لیکن ایک دو انڈین آتھر تھے مزید پیچھے۔ سب سے بڑی بہو۔ کراچی کی انجینیر نے بھی 1995 کی صورت حال یہی بتائی۔

(د) میرے این ای ڈی کراچی کے سند یافتہ پٹرولیم انجینئر نواسے نے عراق سے بتایا کہ اس شعبے اور میکانیکل اننجینئرنگ میں جرمنی اور اٹلی کو عالمی برتری حاصل ہے تو انہی کی درسی کتب کے انگلش ایڈیشن پڑھائے جاتے ہیں۔

میں نے تو الحمدللہ گھر میں بیٹھے بیٹھے 60 سال کا سروے کرلیا۔ آپ اپنے طور پر تفصیلی سروے میں تمام یونیورسٹیز کے دیگر شعبوں کی رپورٹ لے سکتے ہیں لیکن میں شرط لگا سکتا ہوں کہ وہ مختلف نہیں ہوں گے۔ جو کام 70 سال میں آپ کے قابل فخر سائنسدان۔ ڈاکٹر انجینئرز نہ کر پائے وہ آ ب کیسے شروع ہوگا؟ کب مکمل ہوگا؟ سلیبس کے مطابق کتنی کتابیں درکار ہوں گی ؟ اس کام کی تکمیل سے پہلے قیامت کا آنا ممکن ہے یہ میں مان سکتا ہوں۔ ۔ ابھی دنیا ایسے ہی چلتی رہے گی جیسے چل رہی ہے۔ ۔ شغلا” میں خواب پرستوں کو ایک سال دیتا ہوں۔ یہ مجھے اعلیٰ تعلیم کے کسی شعبے کی ایک درسی کتاب اردو میں لکھوا کے دکھا دیں جو عالمی معیار پر ہو۔

(س) آپ کے اردو کالج۔ اردو یونیورسٹی اور انجمن ترقی اردو نے ایوب خاں کے دور یعنی1958 سے اب تک کتنے ارب کا بجٹ لیا اورملک کو کیا دیا؟ہمت ہے کسی میں جاننے کی؟ صدر انجمن ترقی اردو مرحوم جمیل الدین عالی مرتے وقت اپنی جگہ کس کو بٹھا گئے؟ اپنے ایکٹر سپوت راجو جمیل کو جو اردو جانتا ہی نہیں، ، رکھیں احباب مجھے تلخ نوائی پہ معاف۔ ۔ اردو لغت کی ایک من وزن کی جلدیں کس کام کی؟ اردو مترادفات ملاحظہ ہوں۔ ۔ لاوڈ اسپیکر۔ ۔ آلہ مکبراصوت۔ ۔ ۔ ۔ ایرپورٹ۔ ۔ مطائرہ۔ ۔ ٹکٹ آفس۔ ۔ ادارہ تحفظ نشست۔ ۔ لاحول ولا۔ ۔ کیا یہ ان کی ذمے داری نہیں تھی کہ 60 سال میں اعلیٰ تعلیم کیلئے درسی کتب مرتب کراتے جو اب اردو پرستوں کا خواب ہے۔

(ر)۔ ۔ آپ نے میرا حوالہ دیا ہے کہ کیا انگریزی میں مجھے وہ شہرت اور عزت ملتی جو اردو کی وجہ سے ملی؟ حضرت کس دنیا میں رہتے ہیں آپ؟ مجھے سوگنا پڑھا جاتا اور عزت دایمی ہوتی۔ ۔ شایر 1980 میں THE NAKED FACE by SYDNEY SHELDON آیا تھا تو میں نے اسکی تلخیص کے2000 روپے وصول کئے تھے اور اس نے نیویارک میں معاوضے سے اپنا ولا یعنی محل بنا لیا تھا۔ ۔ اس کے بعد سے اب تک وہ دو درجن ناول لکھ چکا ہے اور ارب پتی ہے۔ وہاں فی لفظ معاوضہ ملتا ہے۔ صرف 10 سال قبل مجھے افسوس ہوا کہ میں انگریزی لکھ سکتا تھا تو میں نے اردو میں کیوں لکھا۔ ۔ اس وقت میری فیملی میں ایک نواسی اور ایک پوتی فکشن لکھ رہی ہیں مگر انگریزی میں۔ ۔ خود میں نے ان کی اردو ادب میں دلچسپی کی حوصلہ شکنی کی۔ ۔ ۔ ۔ کیا آپ جانتےہیں کہ ہمارے تمام نوجوانوں کیلئے اب کوئی اشتیاق احمد بھی نہیں بچوں کا کوئی رسالہ نہیں۔ ۔ شہروں میں نوجوان نسل کے مقبول ترین ناول نویس۔ جو ساری دنیا میں دستیاب ہیں ان میں دو میں نے پڑھے ہیں …. ENYD BLAYTON and CHAYTON BHAGAT اور بھی بہت ہیں لیکن چیتن بھگت انڈین ہے۔ اس کی وجہ شہرت یہ تھی کہ وہ نئی نسل کوپرانی اقدار سے بغاوت پر اکساتا ہے اور اپنی زندگی کی کماں کسی اور کے ہاتھ میں نہ دینے کی تبلیغ کرتا ہے جو قدرتی طور پر ٹین ایجرز کو اپیل کرتی ہے۔

آپ کا یہ خیال ایک سو ایک فیصد غلط ہے کہ پاکستانی مصنف محمد حنیف کو اس وقت شہرت ملی جب اس کا اردو ترجمہ آیا۔ ۔ نہ میں نے یہ دیکھا نہ اس کا نام سنا۔ ۔ لیکن جو ناول مشہور ہوا میں نے پڑھا تھا THE CASE OF THE EXPLODING MANGOES یہ ضیاالحق کے ایر کریش میں مارے جانے کی سیاسی واردات پر لکھا گیا تھا اور اس کی عالمی وجہ شہرت بنا تھا ورنہ ان کے کئی ناول ہیں وہ ہر سال لٹریری کانفرنس میں ملتے ہیں۔ ۔ اس سال ایک اور پاکستانی خاتون کاملہ شمسی کے ناول کو اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ اندازہ ہے کہ کم سے کم دو درجن انڈین پاکستانی فکشن رائٹراس وقت موجود ہیں وہ کسی ادبی معیار کو نہیں کمرشل اینگل کو سامنے رکھتے ہیں۔ شاید یہ ٹی وی سیریل بنے یا کسی فلم کے اسکرپٹ کی بنیاد تو وارے نیارے ہو جائیں۔ ۔ پھرمجھے ان رایٹرز میں نہ ہونے کاا فسوس کیوں نہ ہو۔

چونکہ ادیب یا فنکار پیدایشی ہوتا ہے اس لئے رسالے مشاعرے سب ختم ہوجانے کے باوجود نئی غزل / نظم گو شعرا مسلسل لکھ رہے ہیں اور کمال کر رہے ہیں۔ شاید فکشن میں صورت حال کم حوصلہ افزا ہے۔

آپ اردو کی خدمت جاری رکھئے لیکن عملی حقایق سے روگردانی نہ کیجئے سراب اور خواب کی تعبیر کے پیچھے بھاگنا آپ کو راس اتا ہے تو انجوائے کیجئے ہے لیکن دنیاوی حقایق جو ہیں رہیں گے۔

اس مضمون کے جواب میں یہ تحریر بھی ملاحظہ کیجئے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: