حافظ نعیم: جماعت اسلامی کراچی کا نیا چہرہ —– عابد آفریدی

0
  • 146
    Shares

پچھلے الیکشن ہمارے علاقہ میں رولنگ پارٹیز کے امیدوار آئے اور کہا “دوسری پارٹیز (جماعت اسلامی، پی ٹی ائی، جے یو ائی) کو ووٹ دیکر اپنے ووٹ کو ضائع نہ کریں۔ کیونکہ نہ تو ان پارٹیز نے پاور میں آنا ہے، نہ ہی ان کے ہاتھ اختیارات لگنے ہیں، لہذا ہمیں ووٹ دیکر اپنے مسائل حل کروائیں”

ہمارا انتخابی حلقہ کراچی کے جس حصہ میں آتا ہے وہاں مسائل کی منڈیاں ہے، بات میں وزن تھا، تمام اہل علاقہ نے ان خدشات کو سامنے رکھتے ہوئے سر تسلیم خم کردیا، بدلے میں ہمیشہ کی طرح وعدوں کا سلسہ بندھا، لوگ راضی ہوئے اور رولنگ پارٹیز (ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی) کے حق میں مہم چلاکر انھیں کامیاب کیا۔

عوام نے منتخب ارکان کو دعوتیں دیں۔ ڈھول بجائے۔ پھول نچھاور کئے، امید کا اظہار ہوا کہ اب ہماری قسمت سنور جائے گی جواب میں نو منتخب ارکان نے بھی تسلیاں دیں، سکون کے عارضی انجکشن لگائے، دعوتیں اڑائی اور چلتے بنے۔ جلد ہی ان ارکان کے موبائل نمبرز سے لیکر گھر کے پتے اور گاڑیوں کے نمبر تک بدل گئے، فون کریں تو کوئی اور اٹھائے،گھر پر جائے تو کرائے دار ملے۔

مسائل جن کا سامنا عوام کو الیکشن سے قبل تھا۔ وہ سب اپنی جگہ موجود رہے۔ کم تو نہ ہوئے البتہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ان میں شدت ضرور آتی گئی۔” کے الیکٹرک کی اوور بلنگ جو عرصے سے جاری تھی۔ ان ناجائز بلوں کی وصولی کے لئے کمپنی نے غنڈا فورس تیار کرلی، شہریوں سے جبری وصولی شروع ہوئی۔

پانی کی بوسیدہ لائنوں میں جو تھوڑا بہت پانی آتا تھا اس کا سودا واٹر بورڈ نے ٹینکر مافیا سے گانٹھ لیا۔ پانی غیرقانونی لائنز کے زریعے غیرقانونی واٹر ہیڈنگز کو سپلائی ہونے لگا۔

نادرا کے اہلکاروں نے ایسی اندھی مچائی کہ پاکستانی مشکوک ہوئے اور غیر پاکستانی رشوت کے بدلے حب الوطن کہلانے لگے۔ شناختی کارڈ کا حصول امریکی گرین پاسپورٹ کے حصول جتنا مشکل ہوگیا تھا۔ ضعیف و معذور لوگوں کو گھنٹوں لاینوں میں کھڑا ہونا پڑتا تھا۔ صرف اس لئے کہ جن کو پیسے لیکر ان کی اولادوں میں شامل کیا گیا انھیں ان کے خاندان سے خارج کردیا جائے۔

ہمارے منتخب ممبران اسمبلی، ان مسائل پر محکمہ جات سے باز پرس کرتے، عوام کا مقدمہ لڑتے، الٹا ان محکموں کو غنڈا گردی کے سرٹیفکٹ جاری کئے، ان کے حصہ دار ہوگئے، خاموش تماشائی بن گئے۔

کہتے ہیں جب مایوسی اور اندھیرا اپنی انتہا کو پہنچ جائے تو اس کے بعد روشنی کا ظہور ہوتا ہے۔ جسے لوگ عجوبے سے تعبیر کرتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی ہمارے اندھیر نگری کے مایوس لوگوں کے ساتھ ہوا۔

کراچی کا بیٹا حافظ نعیم الرحمن جو برسوں سے اپنے شہر کی کسمپرسی پر بے چین، بے آرام، بے سکون و بے قرار تھا۔ وہ اگے بڑھا، ان مصیبت زدگان کی راہنمائی کا علم بلند کیا، گھر گھر، گلی گلی، جاکر لوگوں کو ان ناانصافیوں کے خلاف نکالا، ایسی گرج دار آواز میں اداروں کو للکارا کہ سب ہل کر رہ گئے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: جماعت اسلامی کے بچے —- ڈاکٹر ذکیہ اورنگزیب

 

کے الیکٹرک کی غنڈا گردی کے خلاف کمیٹیاں بنائی گئی۔ ان کے غیر قانونی اقدمات کے خلاف عدالتوں میں مقدمات درج کئے گئے، دفاتر کے سامنے دھرنے دئے، یہاں تک جو آرام سے لوٹ مار میں مصروف تھے انھیں بے آرام کردیا گیا، عدالتوں کے چکر لگوائیں۔

جوان تازہ دم حافظ نعیم الرحمن کا چوڑا سینہ اس غنڈہ گردی کے سامنے توانا دیوار ثابت ہوا۔ وہ پامال و پسماندہ لوگ جو اس غنڈہ گردی کے اگے نڈھال بکھرے پڑے تھے ان کی جان میں جان آئی۔ انھیں ایسا پلیٹ فارم ملا جہاں ان کی شنوائی ہونے لگی۔

نادرا حکام جو فرعون کے لہجے میں بات کرتے تھے، ان سے کراچی کے اس بیٹے حافظ نعیم نے ان کے ہی لہجے میں بات کی۔ نتیجہ یہ کہ سچی بات کے سامنے جھوٹ دب گیا۔ بذات خود نادرا ڈئریکٹر میدان عمل میں آیا۔ اس بات کا اعتراف کیا کہ عوام کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے۔ لہذا اس زیادتی کا ازالہ کیا جائے گا۔ الحمد اللہ اس کے بعد کافی حد تک بہتری اگئی، جس کے گواہ مجھ سمیت ہزاروں لوگ ہیں۔

وہ ایم این اے وہ ایم پی اے جنہوں نے اختیارات کو جواز بنا کر ہم سے ووٹ لیےتھے، ان سب کو ہم نے حافظ نعیم الرحمن کے سامنے ہاتھ جوڑے دیکھا۔ ان سب کو حافظ صاحب کے سامنے منت کرتے ان کو مناتے دیکھا۔ کیونکہ یہ حضرات ان کے جرائم میں شریک تھے۔ ان اداروں کو لوٹ مار و غنڈا گردی کے سرٹیفکٹ جاری کرنے والوں میں شامل تھے۔

آخر کیوں ؟۔۔۔آخر کیوں یہ با اختیار لوگ ایک بے اختیار کے سامنے بے بس ہوگئے ؟؟
آخر کیوں وہ محکمے جو وزیروں مشیروں کی نہیں سنتے تھے حافظ نعیم کے اگے ڈھیر ہوگئے؟

اس سوال کا جواب، حافظ نعیم کی لگن ہے۔ اس سوال کا جواب اس کے عجز و انکساری میں لپٹی بے نیازی ہے۔۔ اس سوال کا جواب ان کا بے ایمانی و لالچ سے پاک طمطراق ہے۔ اس سوال کا جواب شہر کی وارثت کا سچا دعوی اور شہریوں سے حقیقی محبت ہے۔ اس سوال کا جواب عبدالستار افغانی و نعمت اللہ خان کی تربیت ہے۔ ان کی سیاسی وارثت ہے۔

حافظ نعیم الرحمن کے جن اقدمات کے گواہ شہر کراچی کے لوگ ہیں ان کو قلمبند کرنے کے لئے اوراق اور وقت دونوں کی وافر ضرورت ہے۔ مختصرا یہ کہ سنگدلی کی انتہا ہوگی، اگر آج میں وہ قرض ووٹ کی صورت حافظ نعیم کو ادا نہ کروں۔
آج پھرسے لوگ اختیارات کو جواز بنا کر ہمیں گھیرنے کی بات کرے گے۔ پھر ہم سے کہہ گے “جو بھی ہو حکومت تو ہماری ہی آئے گی”۔۔
مگر ہم تو جان گئے ہیں ان کی حکومت کی حقیقت!! ہمیں معلوم ہوگئی ہے ان کے اختیارات کی حقیقت، ہم جان گئے ہیں ان کے وعدوں کی سچائی۔

اب ہمیں جھوٹے مختاروں، بے وقعت عیاروں، دولت کی حرص میں لتھڑے کاروباریوں، غریب سے ہزاروں میل دور محلوں میں رہنے والے بے احساس جابر بادشاہوں کے درباریوں کو ووٹ نہیں دینا!!! اب اگر ووٹ دینا ہے، تو انھیں دینا جو دولت کے حریص نہیں، جن کے سامنے نوٹوں کی گڈیاں محض کوڑا ہوتی ہوں،

جن کا دماغ علم کی روشنی سے روشن ہوں، جن کا تعلق محلوں سے نہیں کتابوں سے ہوں، جو دولت سے خریدنے کا نہیں دلیل سے قائل کرنے کا ہنر جانتے ہوں۔

حافظ نعیم الرحمن ہمارے حلقے سے کھڑے تمام امیدواروں میں سب سے زیادہ تعلیم یافتہ ہے۔ سب سے زیادہ اس شہر کے مسائل سے واقف ہے۔۔

یہ مجھ سے میرے شعور کا تقاضا ہے، یہ مجھ سے میری تعلیم کا تقاضا ہے، یہ مجھ میری تربیت کا تقاضا ہے کہ میرا ووٹ حافظ نعیم الرحمن کو جائے، میرا ووٹ تعلیم کو جائے، میرا ووٹ کراچی کو جائے میرا ووٹ دیانت کو جائے۔

انشاءاللہ اس بار ووٹ حافظ نعیم الرحمن کا۔۔


یہ بھی پڑھئے:
جماعت اسلامی انتخابی سیاست میں ناکام کیوں؟ تنویر اعوان

فکر مودودی اور جماعت اسلامی: تجزیہ ۔ مجاہد حسین(حصہ اول)

جماعت اسلامی کا مسقبل، جے یو آئی سے زیادہ روشن ۔۔۔ حمزہ صیاد

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: