آخر عمران خان ہی کنگ اسکینڈل کیوں؟ —- ثناء خان

1
  • 93
    Shares

پاکستان میں الیکشن کی آمد کے ساتھ ہی بلاشبہ عمران خان ایک کنگ اسکینڈل بن چکا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ تیس سالوں سے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نون باری باری حکومت کرتی رہی ہیں اور ان کی دور سیاست کی داستانیں عوام سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ ابھی عمران خان نے ملکی وزارت کا عہدہ بھی نہیں سنبھالا کہ عمران خان کی ذاتی زندگی کی بنیاد پر کردار کشی کی جارہی ہیں۔ جیسےعمران خان کو وزیر اعظم بننے کے لئے ایک فرشتہ صفت انسان بننا ہوگا چونکہ پاکستان میں وزارت کا عہدہ ہمیشہ نیک، پرہیز گار اور متقی حکمرانوں کے پاس رہا ہے۔

مخالف سیاسی جماعتوں نے عمران خان کی کردار کشی کے لئے متحرک ٹیمیں سوشل میڈیا پر اتاردیں ہیں اور اپنے خزانے کے منہ کھول دئیے ہیں۔ میڈیا میں جو اینکرز ہمیشہ سے عمران خان کی حمایت کرتے تھے آج ان اینکرز نے بھی اپنا رخ تبدیل کرلیا ہے۔ میں ایک صحافی ہوں مجھے معلوم ہے کہ صحافی ہمیشہ غیر جانب دار ہوتا ہے لیکن صحافی بھی اسی معاشرے کا حصہ ہوتا ہے وہ بھی اپنے بچوں کے لئے ایک بہتر پاکستان چاہتا یے، وہ چاہتا ہے ملک میں تعلیمی نظام بہتر ہو اور بے روزگاری کا خاتمہ ہو۔ صحافی اداراتی پالیسی کے آگے اظہار خیال کرنے پر مجبور ہوسکتا یے لیکن سوشل میڈیا پر نہیں۔ میں سوشل میڈیا پر عمران خان کی حمایت کرتی ہوں تو سوشل میڈیا صارفین سے کافی تنقید کا سامنا رہتا یے لیکن میں اظہار آزازی کو اپنا حق سمجھتی ہوں۔ میں پاکستان مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کو سیاسی میدان میں آزما چکی ہوں اور وزیر اعظم بننے کا ایک موقع عمران خان کو ملنے کی خواہش مند ہوں۔ اگر عمران خان بھی اچھا وزیر اعظم ثابت نہ ہوا میں کھل کر اس کی بھی مخالفت کرونگی۔

عمران خان دور سیاست میں دنیا کا وہ واحد مقبول ترین لیڈر تھا اور ناقدین کے ہوش و حواس پر اس قدر سوار ہوچکا تھا کہ عمران خان کا کتا، عمران خان کی شادی، عمران خان کی بیوی، عمران خان کا کھانا،عمران خان کی گھڑی، عمران خان کا جوتا، عمران خان کی جرابیں، عمران خان کے پاوں تک تنقید کی زد میں رہتے تھے اس کی ہر ادائے ذوق کو اسکینڈل بنالیتے تھے چونکہ عمران خان کا سیاسی کردار بے داغ ہے۔

بلاشبہ عمران خان کی سیاسی میدان میں 22 سالہ مسلسل جدوجہد رنگ لے آئی۔ اس وقت پاکستان تحریک انصاف سب سے بڑی سیاسی جماعت بن چکی ہیں۔ ہوا کا رخ جہاں جہاں ہوتا ہے پتوں کا رخ بھی وہیں ہوتا ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی اور سابق صدر آصف علی زرداری کی ناقص پالیسیوں کے سبب ان جماعتوں و دیگر جماعتوں کے رہنما و اراکین دھڑا دھڑ پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ بلاشبہ اس وقت پاکستان تحریک انصاف کی پوزیشن کافی مستحکم نظر آرہی ہیں اور عمران خان کے ناقدین کے اذہان میں حریف سیاسی جماعتوں کے قائدین یہ سوچ منتقل کرچکے ہیں کہ عمران خان کو خلائی مخلوق کی سپورٹ حاصل ہے۔ اسی وجہ سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عمران خان کے خلاف منفی پراپیگنڈا شدت سے جاری ہے۔ مورخ لکھے گا کہ عمران خان دور سیاست میں دنیا کا وہ واحد مقبول ترین لیڈر تھا اور ناقدین کے ہوش و حواس پر اس قدر سوار ہوچکا تھا کہ عمران خان کا کتا، عمران خان کی شادی، عمران خان کی بیوی، عمران خان کا کھانا،عمران خان کی گھڑی، عمران خان کا جوتا، عمران خان کی جرابیں، عمران خان کے پاوں تک تنقید کی زد میں رہتے تھے اس کی ہر ادائے ذوق کو اسکینڈل بنالیتے تھے چونکہ عمران خان کا سیاسی کردار بے داغ تھا۔

مارکیٹ میں برانڈ کی ماکیٹنگ کے لئے جس طرح ایک عورت کو استعمال کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کی سیاست میں بھی حریف جماعتوں کے خلاف خواتین کو ہی میدان میں اتارا گیا اور اقتدار کی بھوک میں اخلاقیات کو بھی بھول گئے۔ معاشرے میں تضحیق باالا خر ایک عورت کی ہی ہوئی۔ کیا ملکی سیاست میں خواتین کا کام صرف ایک آلہ کار بننا ہی رہ گیا ہے؟ عمران خان کے خلاف استعمال کی جانے والی خواتین چاہے وہ عائشہ گلالئی ہو یا سابق زوجہ ریحام خان ہو ان کے خلاف عمران خان نے لب کشائی سے ہمیشہ گریز کیا۔

پاکستان میں کونسا سیاست دان ہے جس کے اسکینڈل نہیں ہیں۔ تعجب اس بات پر ہے کہ عمران خان کی ہی کردار کشی آخر کیوں؟ اسی طرح حمزہ شہباز، شہباز شریف، سابق صدر آصف علی زرداری، خواجہ آصف، اسحق ڈار و دیگر سیاست دانوں کی مبینہ طور پر بے شمار نان ڈیکلئیر آف شور کمپنیاں (مبینہ بیگمات) ہیں۔ اس میں سے ڈاکٹر خواجہ سعد رفیق نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن میں کاغذات نامزدگی میں ایک آف شور کمپنی (زوجہ) تو ڈیکلئیر کردی۔

عمران خان کی بدولت ہی عوام میں سیاسی شعور اجاگر ہوا ہے اور نوجوان طبقہ بھی سیاسی بحث میں سرگرم رہتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ جس طرح عمران خان کے نجی جہاز میں سفر کرنے و دیگر امور پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں اگر یہ ہی سوالات سابق حکمرانوں سے کئے جاتے تو آج ملک میں حکمران بے حس نہ ہوتے۔ پاکستان تحریک انصاف میں دوسری سیاسی جماعتوں کے اراکین کی شمولیت کو عمران خان کا یوٹرن قرار دیا جارہا ہےاور سوشل میڈیا میں روایتی سیاست دانوں سے نیا پاکستان بنانے پر سوال کئے جارہے ہیں۔ عوام کو سوچنا چاہیئے کہ سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی۔ عوام خود نئے چہروں کو ووٹ نہیں دیتی جس کی وجہ سےروایتی سیاست دانوں کی پارٹی میں شمولیت ناگزیر ہے۔عمران خان غلطی پر اس وقت ہوگا جب ان کے نظریات کی روشنی میں فیصلے کرے گا۔ اس ضمن میں عمران خان کے لیئے ایک بڑا چیلینج یے کہ ملک میں تبدیلی اپنے نظریاتی شعور کی روشنی میں لائیں ناکہ ان وڈیرروں، زمینداروں اور جاگیردارانہ سوچ کے حامل لوگوں کے مشورے پر گامزن ہو۔ دوسری بات عمران خان پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانے کے دعوے جلسے جلوسوں اور دھرنے میں کرتے ہیں کہ ملک میں حضرت عمر فاروق کے دور خلافت کو نافذ کیا جائے گا تو عمران خان صاحب صرف زبانی کلامی سے کام نہیں چلے گا۔ آپ کو اپنے عمل سے خود ایک رول ماڈل بننا ہوگا تا کہ ناقدین کو تنقید کا موقع نہ مل سکے اور آپ کا سپورٹر بھی مایوس نہ ہو۔

کاش عمران خان کو اس بات کا ادراک ہوجائے کہ اس ملک میں عوام کی ایک بڑی تعداد شاید اکثریتی تعداد کو اس بات کا یقین کامل ہے عمران خان ہی اس ملک کو مسائل سے نجات دلا سکتا ہے ،عمران خان نے اپنا پاگل پن ختم نہ کیا اس کے چاہنے والوں کی اس ملک سے امید کی آخری کرن بھی ختم ہو جائے گی کاش عمران خان ہوش کے ناخن لے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: