تسطیر اور قصہ پہاڑی مرغ —– جیا شاھ

0
  • 1
    Share

آج کسی حد تک مطالعہ کرچکنے کے بعد “تسطیر” پر اپنی رائے تحریر کرنے بیٹھی ہوں تو ایک واقعہ بار بار ذہن میں ایسے عود عود آرہا ہے جیسے ابھی کی بات ہے۔
اس حادثہ نما واقعہ کا تعلق تسطیر سے کیونکر جوڑ رہی ہوں؟
اس کا اندازہ پڑھ چکنے کے بعد بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
کئی برس پہلے کی بات ہے ملک سریلنکا کے دارالخلافہ کولمبو میں دوران قیام وہاں کی روایتی پھیکی دال اور پاپڑ نما کوئی شے(جس پر روٹی ہونے کا سنگین الزام تھا) سے قدرے تنگ ہوکر معدہ کی طبیعت اور منہ کا ذائقہ غیر معینہ مدت کے لئے ہڑتال پر جاچکے تھے،سو اس پریشان کن صورتحال سے نپٹنے کے لئے ہم دیسی کھانے کی تلاش میں بلآخر ایسے ریسٹورنٹ پہنچے جس کے بارے بتایا گیا تھا کہ وہاں مختف ممالک کے پکوان بآسانی دستیاب ہیں۔
مینو کارڈ ہاتھ میں لیتے ہی نظر سپائسی ماؤنٹین چکن پر پڑی۔”ہم دیسی لوگ مرغ کا نام پڑھ لیں تو اس کے بعد آگے پیچھے کچھ اور سوچنے اور جاننے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے اور نا ہی ایسی نوبت آنے دیتے ہیں”۔
قصہ مختصر چٹ پٹا پہاڑی مرغ پیش کیا گیا اور اور خوب سیر ہوکر کھایا گیا۔
ذائقے میں اس قدر لذیذ تھا کہ اگلے کئی دن پہاڑی مرغ ہی کھاتے رہے۔
جو لوگ سریلنکا کا سفر کرچکے ہیں ضرور جانتے ہونگے کہ سریلکن لوگ دل و جان سے پاکستان قوم کی عزت کرتے ہیں۔
وجہ تامل باغیوں سے خانہ جنگی کے دوران وہ مدد اور ساتھ ہے جو مملکت پاکستان خاص کر افواج پاکستان کی طرف سے دیا گیا۔
بازار سے لے کر پبلک ٹرانسپورٹ اور قیام و طعام تک ہر جگہ اس محبت اور تکریم احسان مندی کا اظہار جابجا نظر آتا ہے۔
سو ایک دن پہاڑی مرغ کھانے واسطے جاتے ہوئے ٹیکسی ڈرائیور کے ساتھ دوران گفت و شنید ایک حقیقت ہم پر ظالمانہ طور ایسے آشکار ہوئی جیسے ایٹم بم سیدھا سر پر آن گرا ہو۔
وہ اندوہناک حقیقت یہ تھی کہ “مائونٹین چکن سالا مینڈک (ڈڈو) کے گوشت سے بنتا ہے”
‘ہائے او ربا اے کی کیتا جے” کہتے ہوئے ابکائیاں کرتے، مرتے واپسی کا راستہ لیا۔طبیعت میں موجود ازلی بیماری کھوج اور تحقیق کے مارے یہ بھی پتا چلا کہ یہ مائونٹین مرغ درحقیقت ملک ویسٹ انڈیز کے روایتی پکوانوں میں سے ایک ہے۔
اگلے کئی سال کس اذیت میں گذرے اس پر تفصیل سے پھر کبھی بات ہوگی،
بس مختصرا یہی کافی ہے کہ آج تک سارے مرغ(زندہ،زبح شدہ ہمیں مینڈک مینڈک نظر آتے ہیں اور تمام مینڈک مرغ۔
قسمت کی مہربانیاں دیکھئے کہ جس جگہ میں رہائش پذیر ہوں وہاں انسانوں سے کئی گنا زیادہ تعداد میں مینڈک پائے جاتے ہیں۔
کاش کہ مینیو کارڈ میں دیئے گئے اجزاء پڑھ لئے ہوتے تو یہ خوفناک تاریخ رقم نا ہوئی ہوتی۔
اس واقعے سے جو سبق ملا وہ یہ کہ بنا پڑھے، بنا جانے رائے دینا یا کچھ بھی آزمانا کسی طور بھی صحتمند رویہ نہیں ہے۔
اور جب بات ہو کسی بڑے نام سے جڑی بڑی ادبی کاوش کی تو ایسے میں بنا مطالعہ کیے رائے لکھ دینے سے حق کاوش ادا کیسے ہوسکتا ہے بھلا۔

اب ہم پہنچے اصل مدے پر۔
تسطیر شمارہ 4،2018اپنی اشاعت کے تیسرے ہی دن موصول ہوا۔ایک خوبصورت سرورق اور بہت سے عمدہ پرانے اور نئے قلمکاروں کی تحاریر پر مشتمل خوبصورتی سے سجا سجایا “تسطیر”ہاتھوں میں آیا تو خوشی اپنی تمام تر حدوں کو پھلانگتے ہوئے کسی الہڑ مٹیار کی طرح یہاں سے وہاں لہکتی ہوئی محسوس ہوئی۔ رمضان کریم کی مصروفیات کے باعث مطالعہ کرنے کا موقع نا مل سکا مگر عید کے دن سے آج تلک کافی حد تک پڑھ چکنے کے بعد آج لگا اب اپنی رائے لکھ کر حق توقیر اور حق تخلیق ادا کیا جاسکتا ہے۔
نصیر احمد ناصر کی بے لوث ادبی کاوش” تسطیر” نا تو میرے تعارفی الفاظ کی محتاج اور ناہی میرے تعریفی الفاظ اس قابل کہ حق کاوش ادا ہوسکے۔
“تسطیر” ایک بہترین اردو جریدہ جس میں دنیاء ادب کے نامور ادیبوں کے ساتھ ساتھ ادبی طالب علموں کی کوشش کو شامل کرکے حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ میںمشکور کہ اشاعت کے آخری مراحل پر میری کوشش کو شامل کرکے مجھ ناچیز کو عزت بخشی۔

(حادثہ پہاڑی مرغ کس کے ساتھ پیش آیا یہ ایک تاریخی راز ہے۔قارئین سے التماس ہے اس واقعے کو کسی بھی نام اور شخصیت سے نا جوڑا جائے)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: