عہد یوسفی میں ’سنگت یوسفی‘ کے چند پل — شفیق زادہ

0
  • 38
    Shares

ابھی کچھ دیر پہلے ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی سے فون پر بات کی، بزم ظرافت کے سرخیل یوسفی صاحب کی تعزیت انہی کے پائے کے کسی ستون سے ہی جاسکتی ہے۔ ہم نے بتایا کہ بس دل اداس ہے، سوچا آپ سے بات کر لیں، فکاہیہ ادب کی تعزیت بھی ہو جائے گی اور یاسیت کا بوجھ بھی کم ہوگا۔ پھر یوسفی صاحب کی باتیں کہ ہر دو ایک دوسرے کی ادبی محافل میں شریک ہوا کرتے تھے۔

یوسفی صاحب سے پہلی ملاقات میں جب ہم نے ان کی خدمت میں اپنی پہلوٹھی کی تصنیف ’ہم تماشا‘ پیش کی تو انہوں نے نہایت ادب سے اسے تھام کر اپنی انکھوں سے لگا کر بوسہ دیا، کتاب اور لفظ کی ایسی تقدیس، جھرجھری دوڑ گئ ہمارے وجود میں۔ ہم ان کے نہ واقف نہ حلقہ یاراں کے مکین، پھر بھی انہوں نے اپنائیت دکھائی، بزرگانہ شفقت فرمائی۔ ورنہ کیا ہم اور کیا ہمارا تماشا۔ اس کے بعد اپنے ہاتھ سے چائے پیش کی اور اصرار کر کے کباب کھلائے۔ ہماری تو حواس میں یہ ملاقات ہی نہیں اتر رہی تھی توکباب و چائے کے ذائقے بھلا کیا جگہ بنا پاتے۔ بس کسی حریص کی طرح یہ کوشش تھی کہ جتنے پل ہو سکیں ان کے ساتھ گزار لوں۔ یہ عید کا ہی دن تھا اور شاید یہی ہماری عیدی بھی تھی۔

ان سے اگلی ملاقات میں لکھنے لکھانے سے متعلق بہت سے مشورے اور نصائح عطا ہوئے جو ہم نے پلے باندھ لیے۔ ایک جگہ کہنے لگے کہ ’جو چاہے لکھیں مگر خیال رکھیں کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو‘۔ فرمانے لگے کہ جو لوگ پروفیشنل فیلڈ میں ہیں اور باقاعدہ لکھنے والے نہیں، ان کو ضرور لکھنا چاہئے کہ حقیقت سے قریب ہوتے ہیں۔

یوسفی صاحب سے جو ملاقاتیں رہیں، ہمیں بہت فخر ہے کہ وہ بالمشافہ اور دو بہ دو ہوئیں، ان سے بہت سے سوال پوچھے، بہت سے جواب لیے۔ بہت کچھ سیکھا، اور یہ سیکھ نہ صرف یہ کہ ادب سے متعلق تھا بلکہ ’آداب‘ سے متعلق بھی ہے۔ ہمیں فخر ہے اور خوشگوار احساس بھی کہ جن قد آور ادیبوں سے ملاقات رہی، ان سب کے رکھ رکھاؤ، شفقت اور محبت نے ہمیشہ حیران ہی کیا۔ پچھلی پیڑھی کے مزاح لکھنے اور لطف کاشت کرنے والوں میں اطہر شاہ خاں، ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی، عطاء الحق قاسمی، بھارت سے ڈاکٹر مصطفی کمال، مجتبی حسین کے ساتھ وقت گذار کر یا گفتگو کر کے کچھ حاصل کر کے ہی اُٹھے، یہ ہماری خوش نصیبی۔

یوسفی صاحب نے ایک جگہ درست ہی لکھا کہ ’وہ سانچے ہی ٹوٹ گئے جن میں یہ لوگ ڈھلا کرتے تھے‘۔ یوسفی صاحب کاش ہم اپ سے کہہ سکتے کہ اب تو نہ صرف وہ وضع دار سانچے نہ رہے بلکہ وہ ماہر فن بھی عنقا ہوئے جو ان سانچوں کو تخلیق کیا کرتے تھے۔

برسوں سے تھما ہوا عہد یوسفی بالاخر تمام ہوا۔ باغ طرافت تو ان کے ساتھ ہی گیا مگر ان کا کشید کردہ عطر ظرافت رہتی دنیا تک دکھیاروں کے ہونٹوں پر مسکان بکھیرے گا۔

یوسفی صاحب کے فن پر تو ہمیشہ ہی لکھا جاتا رہے گا، ہم تو بس ’عہد یوسفی‘ میں گذارے گئے چند ’یوسفی لمحوں‘ کو ہی ایک قیمتی یاد سمجھ کر تا عمر سینت سینت کر رکھیں گے۔

اللہ سبحانہ تعالی یوسفی صاحب کی مغفرت فرمائے اور لواحقین و چاہنے والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: