گہرائی، خفقان یا Depression ——- احمد جاوید

1
  • 472
    Shares

گہرائی میں دکھ بھی بہت جھیلنے پڑتے ہیں، تکلیفیں بھی خاصی اٹھانی پڑتی ہیں۔ گہرائی کا ایک المیہ تو یہ ہے کہ یہ آدمی کو اکیلا کر دیتی ہے۔ گہرائی چاہے اپنے سے باہر ڈھونڈ لی جائے وہ بھی تنہائی کا پروانہ ہے اور چاہے اپنے اندر اختیار کر لی جائے وہ بھی اکیلے پن کا ایک فرمان بن جاتی ہے۔ تو یہ ایک مشکل ہے گہرائی میں کہ آدمی اکیلا ہو جاتا ہے۔

اور اس میں دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ گہرائی میں جا کر پیاس ناقابل حد تک بڑھ جاتی ہے اور مستقل ہو جاتی ہے۔ کبھی دیکھا ہے کہ خواص سے زیادہ پیاسا کوئی نہیں ہوتا۔ ان کے اندر تشنگی کا تجربہ اتنا خالص اور اتنا مکمل ہوجاتا ہے کہ اسے سیرابی کا تصور بھی برا لگنے لگتا ہے۔ یعنی ان کے اندر حرکت کی تمام قوت، حرکت کے تمام مقاصد کا خلاصہ اپنی تشنگی کی تکمیل کے سوا کچھ نہیں رہ جاتا۔ گویا وہ اپنی پیاس کو زیادہ سے زیادہ اصلی، زیادہ سے زیادہ حقیقی، زیادہ سے زیادہ کامل بنانے کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے۔ اور یہ علم اور ذہن، دانش اور شعور کے تعلق کی گویا تقدیر ہے کہ شعور جتنا جتنا علم میں ترقی کرے گا، ذہن جتنا جتنا دانش میں گہرائی اختیار کرے گا اسکی پیاس بڑھتی چلی جائے گی۔ اسے یہ تجربہ یہ realization میسر آنے لگے گی کہ سیرابی تھکے ہوئے لوگوں کا واہمہ ہے، پیاس چلتے رہنے والے لوگوں کاحال ہے۔

انسان اپنی انتہا میں شعور کے لحاظ سے بھی، ہستی کے لحاظ سے بھی ایک tragic substance ہے لہذا اس کے تمام کمالات اسکی تمام بلندیاں اسکی تمام گہرائیاں ایک المیاتی رنگ اور ایک بے حصولی کی کیفیت رکھتی ہیں۔ تو بے حصولی علم کی بھی تقدیر ہے۔

ہمارے ایک ماہر نفسیات دوست جنکی مہارت تھیوری میں بھی ہے اور پریکٹس میں بھی اور اپنی فیلڈ یعنی نفسیات کے ساتھ غیر معمولی غواصی کے نتیجے میں اس علم کی تشنگی میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ یہ صاحب اپنی تحقیق کے نتیجے میں نفسیات سے غیر مطمئن ہوتے جا رہے ہیں۔ انکی بے اطمینانی جو شروع میں پیدا ہوئی تھی مزید تحقیق کے نتیجے میں کم ہونے کی بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔ اور انکی گفتگو سے ایسا لگتا ہے کہ انہیں ایک چیز بہت پریشان کر رہی ہے اور وہ یہ کہ نفسیات انسان کی حیاتیاتی سطح کو، انسان کی جبلی سطح کو اسکی دیگر سطحوں پر حاوی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ نفسیات نارمل آدمی کا جو تصور رکھتی ہے اور جس تصور کو اپنے علاج، دواؤں اور کونسلنگ سے عمل میں لانا چاہتی ہے وہ انسانیت کے بنیادی جوہر کو قتل کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اگر نفسیات کا مطلوبہ آدمی اکثریت میں ہو گیا تو انسانی سماج دور کی بات ہے، انفرادیت کی تشکیل بھی حیوانوں سے بہت زیادہ مختلف اور ممتاز نہیں رہ جائے گی۔ یہ انسانوں کو ایک برتر وجودی سطح اور ایک بالاتر شعوری ڈومین میں رکھنے کے لیئے جو قاعدے قوانین ہیں جییے اخلاقی، روحانی، مذہبی، عقلی وغیرہ اس علم کی یہ اپروچ انسان کو بلندیوں پر لے جانے والے ان تمام قوانین سے محروم کر دے گا۔ ان تمام قوانین کو ان پر بے اثر اور irrelevant بنا دے گا۔

تو بعض لوگ جب یہ منظر دیکھتے ہیں کہ جہاں انسان ایک نیم حیوانی وجود ہے اور جسکے شعور کی متاع بھی اسکا حیوانی perception ہی ہو، وہ ایک حیوانی پرسیپشن سے ذہن تعمیر کرے اور حیوانی instincts سے ہی اپنے وجود کو تشکیل دے اور اس کے علاوہ کسی سطح، کسی پابندی، کسی آئین، کسی ضابطے کو قبول نہ کرے اور ان سب سے خود کو آزاد کروائے۔ یہ تصور اگر عمل میں آ گیا تو بعض آنکھوں کو یہ سارا منظر بہت بھیانک لگتا ہے۔ وہ اسکو انسانیت کا خاتمہ گردانتے ہیں۔ تو ہمارے دوست کا شمار بھی انہی مایوس اور ڈرے ہوئے لوگوں میں ہوتا ہے۔

ان دوست نے ایک ایسا سوال میری طرف بھیجا ہے جس کا انہیں تو دن میں شاید دس مرتبہ سامنا کرنا پڑتا ہو لیکن یہ چاہتے یہ ہیں کہ اس ماہر نفسیات کو روز مرہ کی سطح پر بار بار پیش آنے والے اس مسئلے کا نفسیات سے باہر بھی کہیں کوئی حل ہے یا نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ آج کل بہت ذہین، نہایت حساس اور خوب پڑھے لکھے لوگوں میں خصوصا احساس پھیلتا جا رہا ہے کہ زندگی میں کوئی معنی نہیں رہے دنیا میں کوئی معنویت نہیں بچی یہ دونوں گویا absurdity کی دلدل میں بننے والے بلبلوں سے زیادہ کچھ نہیں رہ گئے تو یہی احساس آگے چل کر ڈیپریشن بن جاتا ہے۔ تو ہمارے یہ دوست جاننا چاہتے ہیں کہ تمہارے علمی اور عملی ڈسپلن میں اس کا علاج کیا ہے۔ خواہ وہ علاج تھیوری کی شکل میں ہی کیوں نہ ہو وہ بقول ان کے انکو قبول ہو گا۔

تو جناب اس سلسلے میں ہماری عرض یہ ہے کہ ہمارے پیشتر مسائل خواہ وہ روحانی ہوں یا نفسیاتی، اخلاقی ہوں یا ذہنی، انفرادی ہوں یا اجتماعی وغیرہ وغیرہ ان سب مصیبتوں کی ایک بڑی اور مستقل وجہ یہ ہے اب اسکو کوئی romanticism نہ سمجھا جائے اس کو ذرا غور سے ملاحظہ فرمایا جائے کہ ہم جس پنجرے میں رہ رہے ہیں، جس میں نمو پا رہے ہیں، اس میں بائیلوجیکلی، انسٹنکٹولی، سائیکولوجیکلی بڑے ہوتے جا رہے ہیں وہ پنجرہ اب تنگ ہو گیا ہے۔ ہماری نمو پانے کے ساتھ ساتھ، ہماری بڑھت کے ساتھ ساتھ وہ پنجرہ اب اتنا تنگ ہوتا جا رہا ہے کہ دم گھٹنے اور دل گھٹنے لگا ہے۔ یہ پنجرہ کیا ہے؟ یہ پنجرہ ہماری ذات کا، ہماری شخصیت کا پنجرہ ہے۔ آدمی “میں ہوں” کے موقف پر قائم بھی رہے اور I-am-ness کے حدود میں رہتے ہوئے گھٹن میں بھی مبتلا رہے تو پھر اسے ڈپریشن سے کوئی نہیں بچا سکتا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: فلسفیانہ اداسی اور وجودی لایعنیت: خالد بلغاری

 

یہ بدترین ڈیپریشن ہے کہ انسان اور اسکی خودی میں کوئی بامعنی نسبت نہ رہ جائے اور آدمی کا شعور اسکی خودی یا ذات کو اپنے لیئے ناکافی سمجھنے لگے اور ذات کے ساتھ ایک تحقیری مغائرت پیدا کر لے۔ مغائرت دو یکساں نظر آنے والی چیزوں میں بھی ہوتی ہے، ایک مثبت امتیاز کے طور پر، ایک کمپلیمنٹری فرق کے طور پر۔ لیکن ایک مغائرت یہ ہوتی ہے جو دوسرے کو دھتکار کر وجود میں لائی جاتی ہے، دوسرے کو خود سے الگ کر کے سامنے لائی جاتی ہے۔ وہ مغائرت شعور اپنے سے نسبت رکھنے والی ذات یا خودی کے ساتھ پیدا کرلے تو اسے ہم کہہ رہے ہیں تحقیری مغائرت۔

نفسیات نارمل آدمی کا جو تصور رکھتی ہے اور جس تصور کو اپنے علاج، دواؤں اور کونسلنگ سے عمل میں لانا چاہتی ہے وہ انسانیت کے بنیادی جوہر کو قتل کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اگر نفسیات کا مطلوبہ آدمی اکثریت میں ہو گیا تو انسانی سماج دور کی بات ہے، انفرادیت کی تشکیل بھی حیوانوں سے بہت زیادہ مختلف اور ممتاز نہیں رہ جائے گی۔

یہاں یہ بات یاد رہنی چاہیئے کہ انسانی شعور اپنی گہری بناوٹ میں، اپنی مستقل ساخت میں یا اپنے مرکزی حال میں جو کبھی زائل نہیں ہوتا، اس بناوٹ میں انفرادی کم اور نوعی زیادہ ہوتا ہے۔ یعنی یہ شخصی سے زیادہ انسانی ہوتا ہے۔۔ جیسے ہر شخص انسان واحد کا ایک جزو ہے۔ تو ہم اپنی جزویت سے اٹھ کو اپنے شعور کی قوت سے اس انسان واحد کے دماغ سے ربط اگر پیدا کرلیں تو گویا ہم نے شعور کو اسکے حقیقی میکانکس کے ساتھ فعال رکھا ہوا ہے۔ شعور کو اس کے اصلی اوریجن کے ساتھ جوڑ کر عمل میں لا رکھا ہے۔ تو اس شعور پر اگر شخصیت کو مسلط رکھا جائے اور اسے معمول کی ڈومین آف آئی ایم نیس میں رہنے پر مجبور کیا جائے تو یہ نہ صرف یہ کہ خودی یا شخصیت سے برگشتہ ہو جاتا ہے، بلکہ باہر کی چیزوں سے، دوسروں سے اور دنیا سے بھی ناراض اور منحرف ہو جاتا ہے۔ ایسا محصور اور محبوس شعور خود اپنا بھی منکر اور باغی ہو جاتا ہے۔ یہاں گویا ڈیپریشن کی تکمیل ہو جاتی ہے۔

تو جناب پہلی بات تو یہ ہے اس تنگ و تاریک پنجرے کو کھول دینا چاہیئے تاکہ شعور باہر سے اور دوسروں سے تازہ ہوا اور روشنی حاصل کر سکے۔ تو دوسرا جب شعور کے لیئے مفید، بامعنی بلکہ اس سے آگے بڑھ کے ناگزیر ہو جاتا ہے یعنی دنیا، چیزیں اور لوگ جب شعور کے لیئے اخلاقی، عقلی۔ عملی اور جمالیاتی زاویوں سے significant اور correspondence ہو جاتے ہیں۔ یعنی شعور مختلف جہتوں سے جو اسکی مخصوص معنویت عکس کرنے کا نظام ہے، جب کسی چیز میں اپنی مختلف جہات کو اپلائی کر کے اپنی اس faculty سے مناسبت رکھنے والے معنی دریافت کر لیتا ہے یا اس میں وہ معنی جنریٹ کر دیتا ہے تو وہ شے اس کے لیئے بامعنی بھی ہو جاتی ہے اور وہ شے اس کے ساتھ گویا زندہ رابطے میں آجاتی ہے۔ اسکو میں کہہ رہا ہوں سگنیفیکنٹ اور کورسپونڈنس۔

تو اس وقت شعور اور اس کے sense of I-am-ness یعنی احساس خودی میں ایک لطیف اور دقیق “دوسرا پن” یعنی self otherness سرایت کر جاتا ہے۔ اس دوسرے پن کی کارفرمائی سے شعور میں دوسرے یعنی the other کی قدر دانی اور ایک wave of realization پیدا ہو جاتی ہے جو معنی کو نہ اس کے اندر سے غائب ہونے دیتی ہے نہ باہر سے۔ یہ سب جو ہے صرف اس لیئے ہوتا ہے کہ شعور میں دوسرے کے لیئے ایک اپنائیت پیدا ہو چکی ہوتی ہے۔ فلسفے کی اصطلاح میں شعور کو سبجیکٹ کہتے ہیں اور جو چیز یا جو خیال شعور کا ہدف ہو اس کو آبجیکٹ کہتے ہیں تو آبجیکٹ شعور کے باہر بھی ہو سکتا ہے اور شعور کے اندر بھی ہو سکتا ہے۔ تو اس پس منظر میں عرض ہے کہ شعور یعنی سبجیکٹ جب خود ہی اپنا آبجیکٹ بننے کے لائق ہو جاتا ہے، جب وہ خود کو فوکس کرنے کے قابل ہو جاتا ہے، خود کو contain کرنے کی صلاحیت پیدا کر لیتا ہے تو پھر اس کے لیئے تمام آبجیکٹس بامعنی اور خوشگوار ہو جاتے ہیں۔ significant /productive بن جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ہمارا مغرب سے اختلاف کہاں پر ہے؟ احمد جاوید

 

ذرا غور کیجئے کہ یہ کیسی گراوٹ ہے کہ میرے سارے جذبات، سارے خیالات، سارے احساسات خود مجھے مرکزی حوالہ بنائے بغیر وجود میں ہی نہ آئیں۔ ایسی شخصیت ایک گھٹا ہوا تاریک پنجرہ نہ ہوگی تو کیا ہو گی۔ تکلیف کا احساس مجھے اسی وقت ہو گا جب تکلیف مجھے پہنچے گی۔ خوشی بھی اسی وقت محسوس ہو گی جب مجھے حاصل ہو گی۔ جن احساسات سے انسان سے بڑے بڑے تصورات پیدا کیئے ہیں ان احساسات کا مرکز یہ بیالوجیکل وجود بن کر رہ جائے تو ظاہر ہے کہ یہ آدمی ایک بہت ہی گھٹن والے مسموم پنجرے کا قیدی ہے۔ اس سے بڑا المیہ، اس سے بڑا گھاٹا اور کیا ہو گا کہ آدمی کی ساری تگ و دو کا حاصل وہ خود بن جائے۔ اس آفت کا، اس عذاب کا ایک علاج ہے۔ بہت ایفکٹیو، بہت نیچرل اور بہت ضروری علاج ۔۔۔ اور وہ ہے impersonalization یعنی اپنے آپ کو ایک غیر ذاتی، غیر شخصی وسعت فراہم کرنا اور فراہمی کے اس عمل کو ہر سانس کے ساتھ جاری رکھنا۔ خود کو اپنا واحد مصداق نہ بننے دینا۔ اپنی ذات کے اکثر تکمیلی مراحل اپنی شخصیت سے باہر نکل کر طے کرنا، اپنی شخصیت سے ماورائی یا detachment کی حالت میں ذات کے تکمیلی مراحل پرڈیوس کرنا۔ تو مختصر یہ کہ دی ادر کو اپنا مادہ تعریف یعنی سبسٹنس آف ڈیفی نیشن بنا کر ہی ہم مستند طریقے سے ڈیفائن ہو سکتے ہیں۔ اس کے بغیر ہم اپنے ذہن میں بھی خود کو مسخ ہونے سے نہیں بچا سکتے۔
تدوین: جناب عامر مغل

جاری ہے—–

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. بہت ہی اہم مسئلے پر احسن انداز سے تحقیق کی ہے اس صنعتی دور میں بیشتر لوگ اس کا شکار ہیں

Leave A Reply

%d bloggers like this: