یوسفی کا مزاح: درد میں ڈوبی ایک چیخ —– محمود فیاض

0
  • 69
    Shares

کمال کا مزاح نگار؟

یوسفی عہد مزاح نگاری تمام ہوا۔ مگر وہ تو یوسفی صاحب نے کب کا تمام کردیا جب اپنی حیات ہی میں انہوں نے قلم رکھ دیا۔ انکے کے اندر کے نقاد نے جس قدر کتربیونت انکے کام پر کی کاش نہ کی ہوتی تو آج یوسفی کی کتابوں کی تعداد کہیں زیادہ ہوتی۔

میں نے یوسفی کو تب پڑھا جب شفیق الرحمن، اور ابن انشا کا مزاح اچھا لگتا تھا۔ یوسفی کو پڑھ کر عجیب حالت ہوئی۔ لگتا تھا کچھ اچھا ہے، مگر کیا اچھا ہے سمجھ نہیں آتا تھا۔ شفیق الرحمن اور انشا کی کتاب قہقہہ لگواتی تھیں، جبکہ یوسفی کا مزاح عجیب رنگ لیے ہوئے تھا۔ قہقہے کا اختتام حلق میں گرتے آنسوؤں پر ہوتا، یا پھر ایک گہری سوچ پر۔

رفتہ رفتہ سمجھ میں آیا (اور یوسفی ایک دم سمجھ بھی نہیں آتا) کہ یوسفی جو لکھتے ہیں وہ مزاح کے رنگ میں ضرور لکھتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ انکے موضوعات زندگی کی تلخیوں اور احساس کی ان پرتوں پر مشتمل تھے کہ سنجیدہ ادب اس کو مشکل سے سہار پاتا۔ المیہ ادب انسان کو پاگل کردیتا ہے، مگر یوسفی کا مزاح اس سے اگلے درجے میں پاگل کو اپنی حالت پر ہنسنے پر مجبور کردینے والا ہے۔
؎ لکڑی جل کوئلہ بھئی، کوئلہ جل بھیو راکھ
میں پاپن ایسی جلی کوئلہ بھئی نہ راکھ

یہ شعر پہلی بار یوسفی صاحب ہی کی کتاب پر پڑھا اور آج بھی اسکی معنویت میرے لیے مسحورکن ہے۔ یوسفی صاحب کے بقول ایک مزاح نگار بھی زندگی کی المیہ چیخ کو اپنے اندر سموتے سموتے ایسے مقام پر آن پہنچتا ہے کہ اسکے اندر کی حدت بالاخر باہر کی تلخیوں سے بڑھ جاتی ہے، تب ہی وہ کوئلے سے راکھ بننے کی بجائے ہیرا بن جاتا ہے۔ یوسفی صاحب نے اپنی تحریروں سے اسکو سمجھا بھی دیا کہ تلخ سے تلخ حقیقت کو ایک ہنسی کے ساتھ بھی بیان کیا جا سکتا ہے، یہ الگ بات کہ وہ ہنسی حساس دلوں کو اپنی چیخ سنا ہی دیتی ہے۔

یوسفی اپنی کتاب زرگذشت کے باب، “کوئی قلزم، کوئی دریا، کوئی قطرہ، مدد دے” میں لکھتے ہیں،

“کافی عرصے تک کھڑے ہوکر اونچے اسٹول پر خود کام کیا یا اوروں کا چیک کیا۔ رفتہ رفتہ صحت گری تو شام تک پیروں پر اتنا ورم آ جاتا کہ سات بجے جوتے اتارنے پڑتے۔ چند مہینوں سے سینے میں بھی دائیں طرف درد رہنے لگا تھا جس کا نوٹس لینا ہم نے کسر شان سمجھا، اس لیے کہ دل تو بائیں طرف ہوتا ہے۔ تکلیف نے جب اتنی شدت اختیار کی کہ محسوس ہونے لگا چوبیس گھنٹے کوئی برمے سے سینہ چھید رہا ہے کہ پیٹھ کے آر پار ہوا جاتا ہے، تو ایک ڈاکٹر کو دکھایا۔ اس نے نرمی سے کہا کہ دایاں پھیپھڑا متاثر معلوم ہوتا ہے۔ پوچھا، کاہے سے؟ رکھائی سے بولا ” آف کورس، ٹی بی”۔ فوراً ایکس رے، خون، تھوک ٹیسٹ کروانے اور تین مہینے کی رخصت پر کوئٹہ یا مری جانے کی ہدائت کی۔ ڈیڑھ سال بعد جب ہماری مالی تکالیف میں افاقہ ہوا تو ایکس رے کروایا۔ اس سے تصدیق ہوئی کہ دائیں پھیپھڑے پر ایک زخم تھا جو کبھی کا خودبخود مندمل ہوچکا ہے۔ اس سے ہمیں اپنی قوت ارادی کی مضبوطی کی داد مطلوب نہیں، بلکہ ٹی بی کے جراثیم کی نقاہت اور بودا پن دکھانا مقصود ہے۔”

تحریر کی شگفتگی، نثر کی خوبصورتی اور کہنے والے کے لہجے کی چہک کے پیچھے جھانکئے تو آپ کو درد کا بہتا دریا دکھائی دے گا۔ غربت اور تکلیف پر رونا یا ہنسنا تو ہر کوئی کرلیتا ہے، مگر دوسروں کو ہنسا دینا، یوسفی کی ہمت ہے۔

اسی باب میں آگے بیان کرتے ہیں،

“چند روز سے ہم دیکھ رہے تھے کہ ایک سفید بلی شاہجہانی روزن کے نیچے فٹ پاتھ پر اپنے بچوں سمیت آ کر بیٹھ جاتی ہے۔ ایک دن سے نے بہت میاؤں میاؤں کی تو ہم نے فٹ باتھ پر بیٹھے ہوئے ملباری چائے والے کو اکنی پھینک کر اسے دودھ پلوا دیا۔ اس کے بعد یہ روزمرہ کا معمول گیا کہ وہ شام پڑتے ہی وہاں آ جاتی اور ہم اس کا حق ادا کردیتے۔ اس کے بچوں کی بڑھوار دیکھ کر جی خوش ہوتا۔ کبھی ہم وہاں نہ ہوتے یا اس کی فریاد پر دھیان نہ دیتے تو وہ جنگلے پر چڑھ کر روزن میں سے جھانکتی۔ اسکی نیلی آنکھوں میں بڑی بےبسی جھلکتی تھی۔ دودھ پی پلا کر کچھ دیر اپنے بچوں سے ہمارا جی بہلاتی۔ پھر اٹھ کر چلی جاتی اور دوسرے دن چھ بجے سے پہلے نظر نہ آتی۔ گھر پر بچے روز پوچھتے کہ آج وہ بچے کتنے بڑے ہوئے۔ اگر ہمیں اتوار کو بینک نہ آنا ہوتا تو سینچر کی شام کو اس کے دودھ کی اکنی چائے والے کو پیشگی ادا کر دیتے۔ کچھ دن سہ پہر سے ہمیں اس کا انتظار رہنے لگا۔ پالتو جانور کی چپ دسراتھ اور اس کا پیار کتنا بھرپور ہوتا ہے اس کا اندازہ اسی وقت ہوتا ہے جب آدمی دکھی ہو یا تنہا۔ اس کے بھی چار بچے تھے۔”

آگے چل کر اسی کہانی کا اختتام کس ٹریجڈی پر کرتے ہیں، اور کن الفاظ میں،

“ہم نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو کلہم تین آنے، اب اسے اور اسکے ٹبر کو ایک آنے کا دودھ پلوا دیتے تو بس کے ٹکٹ میں دو پیسے کم پڑ جاتے۔ وہ کھڑکی کے نیچے بھیگتی رہی۔ روتی رہی۔ ہم نے پروا نہ کی۔ پھر اس نے پنجوں سے کھر کھر کی اور بار بار روزن سے جھانکنے لگی تو ہم نے اسے جھاڑن سے ڈھک دیا تاکہ یکسوئی سے کام سمیٹ سکیں۔ کچھ دیر بعد وہ رزق کی تلاش میں کہیں اور نکل گئی۔ بارش زرا تھمی۔ ہم اٹھنے کی تیاری کررہے تھے کہ چائے والا، جس نے اپنی دکان ایک دروازے کی محراب میں منتقل کر لی تھی، کھڑکی کو کھٹکھٹانے لگا۔ ہم نے پوچھا کیا بات ہے؟ کہنے لگا بابوجی! تمہاری بلی ریلی برادرز کے ٹرک کے نیچے آ کر مر گئی۔ یہ لو اس کے بچے بلک رہے ہیں۔ یہ خون تمہاری گردن پر۔
یہ خون ہماری گردن پر تھا۔ اگر ہم آج بھی پیدل چلے جاتے تو کون سی قیامت آجاتی۔ چاروں بچے بارش میں شرابور تھر تھر کانپ رہے تھے۔ ہم نے سب سے چھوٹے کو میز پر بٹھا کر ڈسٹر سے خشک کیا تو اسکی آنکھوں کی طرف نہ دیکھا گیا۔ ہوبہو ماں جیسی تھیں۔ بارش پھر تیز ہوگئی اور ہم نے کھڑی کھول کر تین آنے بہتے نالے میں پھینک دیے۔ انہی کی وجہ سے وہ اپنی جان سے گئی۔ ہفتوں اس کی اداس نیلی نیلی آنکھیں اس روزن سے جھانکتی ہوئی دکھائی دیں۔ آخر ہم نے تنگ آ کر اس روزن پر براؤن کاغذ چپکا دیا۔”

صاحبو! ایمان کی کہنا ، کہاں پر ہنسی آئی اور کہاں پر دل خون کے آنسو رو دیا۔ میں تو جب بھی “ہو بہو ماں جیسی تھیں” پڑھتا ہوں تو دل سارے آنسو آنکھوں کی طرف اچھال دیتا ہے۔

یہ تو طے ہے کہ یوسفی کو سمجھنے اور پڑھنے سے پہلے اردو ادب کو ایک خاص گہرائی تک پڑھ لینا ضروری ہے۔ مگر میرا خیال ہے یوسفی کی حساسیت کو سمجھنے کے لیے بھی ایک خاص سطح کی حساسیت کی شناوری بھی ازبس ضروری ہے ورنہ جملے نظر سے گذر تو جاتے ہیں دل پر نہیں اترتے۔

اسی بات سے اگلا عنوان “آج ہم نے اپنا چہرہ دیکھا” میں یوسفی خود کو کس طرح زخمی کرتے ہیں اسکی مثال دیکھیے۔

“بیگم بہت خوش خوش نظر آرہی تھیں۔ کچھ دیر بعد ہمیں کچے صحن میں لے گئیں اور کہا، “دیکھوآج میں نے دو ٹنکیاں پانی سے بھر لی ہیں! بالکل موتی کی طرح! ڈھیروں کپڑے دھل جائیں گے”۔ تین دن سے پانی بالکل بند تھا اور لوگ بوند بوند کو ترس گئے تھے۔ یہ دو ٹنکیاں انھوں نے برآمدے کے پرنالے کے نیچے رکھ کر پانی سے بھری تھیں۔ انھیں دیکھ دیکھ کر یہ بی بی اس قدر خوش ہورہی تھی گویا کوئی خزانہ مل گیا۔ یہ دکھانے کے لیے کہ دونوں لبالب بھری ہیں۔ انھوں نے لالٹین اپنے چہرے تک اٹھائی تو مانگ میں ایک سفید بال نظر آیا جو اس سے پہلے ہم نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ پانی اولے کی طرح ٹھنڈا ٹھار اور موتی کی مانند جھلمل جھلمل کر رہا تھا۔ ہمیں اس میں اپنا چہرہ نظر آیا۔

بیوی کے سفید بال سے پانی میں اپنا چہرہ دیکھنے تک کے بیان میں یوسفی نے ایک حساس دل کو جو تازیانے مارے ہیں وہ یوسفی کے مزاح کے نیچے دبی چیخ کو سننے والے ہی جان پاتے ہیں۔ ورنہ جملے نظر سے گذر جاتے ہیں۔
اس اقتباس کا آخری حصہ بیویوں اور شوہروں کے لیے ہے۔ جان سکیں تو ایک دوسرے سے لپٹ کر روئیں۔ اس “مزاح” کو پڑھ کر نہیں اس محبت کو سمجھ کر۔
لکھتے ہیں۔

” صبح پونے سات بجے آنکھ کھلی۔ اس وقت تک بیوی ہمارے کپڑوں پر استری کرکے اپنے اسکول پڑھانے جا چکی تھیں۔ کپڑوں پر ایک پرچہ ملا جس پر لکھا تھا رات میں تمہیں بتا نہ سکی۔ ڈاکٹر نے مجھے یرقان بتایا ہے۔ خواہ مخواہ ڈھیر ساری دوائیں اور انجکشن لکھ مارے ہیں۔ میں واپسی میں پاکستان چوک کے ہومیوپیتھ ڈاکٹر سے دوا لیتی آؤں گی۔ زردرنگ تمہارا فیورٹ رنگ بھی تو ہے۔”

مجھے اپنے عہد کے ادیبوں سے یہی شکائت ہے کہ وہ زندگی کے سچے رنگوں میں محبت تلاش کرنے کی بجائے اپنے پڑھنے والوں کو خوابوں کے دیس میں پریوں کی لانبی پلکوں اور غزال آنکھوں کی کہانیاں سناتے ہیں۔ یوسفی میری زندگی کے وہ لکھنے والے ہیں جنہوں نے بتایا کہ محبت کی ایک معراج یہ بھی جب آپ زندگی کی زرد آنکھوں سے محبت کشید کرلیں۔

اللہ تعالیٰ یوسفی صاحب کو جنت میں سدا ہنستا مسکراتا رکھیں۔ آمین۔

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: