اپنے مرکز سے دور نکلتی ہوئی جماعت : ڈاکٹر صغیر افضل

0
  • 45
    Shares

مولانا سید ابو الاعلی مودودی علیہ رحمہ بانی جماعت اسلامی کے نظریاتی وارث اور ان کے جانشین آج کل کی انتخابی سیاست میں جو بچپنے اور تجربات کر رہے ہیں، اس میں مجھے کوئی حیرت نہیں۔
پریشانی اور حیرت کی بات ان لوگوں اور کارکنان کے لئے ہے جنھوں نے اب تک اتنی قریب سے شاید پچھلے انتخابی عمل اور اس دوران ہونے والی آپس کی جماعتی اندرونی سیاست کو نہیں دیکھا تھا۔

آج میڈیا نے بہت سی سرگرمیوں کو عوام کے سامنے بریکنگ نیوز کی صورت میں پہنچا دیا ہے۔ جو راز کارکنان کو سالوں بعد سینہ بسینہ پہنچتے تھے، آج پلک جھپکتے ٹی وی اسکرین پر ہوتے ہیں۔

تقوے کی آڑ میں کارکن کو بہت زیادہ عرصے تک بے وقوف بنایا بھی نہیں جا سکتا۔

آج سے پہلے کے عام انتخابات میں جماعت اسلامی کی اندرونی طور پر نشستوں کے لئے رسہ کشی اور باہمی سرد جنگ کی جو کیفیت ہوتی تھی اسے، جنرل سکریٹری جماعت اسلامی سید منور حسن، جو ایک طویل عرصے تک قاضی حسین احمد کے جنرل سکریٹری رہے۔ اور پھر بعد میں صرف ایک ٹرم کے لئے امیر منتخب ہوئے، اپنی حکمت اور تدبر سے دبا لیتے یا چھپا لیتے تھے کہ منصورہ سے با ھر یہ کہانی مشکل سے ہی نکل پاتی۔(جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ منور حسن جیسے درویش صفت کی چھٹی کروا دی گئی)

یہ بات تو مولانا مودودی کے انتقال کے بعد سے ہی سب کی زبانوں پر تھی کہ، جماعت اب مولانا مودودی والی جماعت نہیں رہی ہے۔ مگر مخلص کارکن جو صرف رضائے الہی کے حصول کے لئے جماعت اسلامی میں شامل ہوا تھا اس نے ان خرافات پر دھیان دینا گناہ عظیم جانا۔ اور اس مخلص کارکن کی اسی کمزوری یا “با ئی ڈی۔ فالٹ مجبوری” کا فائدہ جماعت پر قابض ایک مخصوص ٹولہ اب تک اٹھاتا آرہا ہے۔

یوں تو ہر سیاسی جماعت میں انتخابات کے ٹکٹ کے حوالے سے گرما گرم خبریں ہر الیکشن کا لازمی حصہ ہوتی ہیں باالخصوص غیر مذہبی سیاسی جماعتوں میں۔ جے یو آئی میں ہمیشہ سے ہی الیکٹبل مولوی اور مہتمم مدارس اس بات پر باہم دست و گریبان دکھائی دیے کہ میرے اتنے مدارس ہیں لہذا یہ سیٹ میری۔ کم و بیش یہی معاملہ ڈوبتی ہوئی نورانی مرحوم کی جماعت کا تھا۔ اب ان کا عالم یہ ہے کہ “ہیں بھی اور نہیں بھی ہیں کے درمیان کوئی وجود ہے’۔

پاکستان میں ضیا الحق نے جتنا بڑا ظلم اس جماعت کے ساتھ کیا شا ید ہی کسی اور کے ساتھ ہوا ہو۔ سات قومی نشستیں جیتنے والی جماعت جمیعت علمائے پاکستان کے اتنے حصے کرد ئیے گئے کہ اس جماعت کا نام اب ’جمیعت المیہ پاکستان’ پڑ چکا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ تحریک انصاف ان جماعتوں میں صرف روپیہ پیسہ اور سیٹ نکا لنے کی گارنٹی پر ٹکٹ ملتا ہے۔

جب تک مولانا مودودی اور بعد میں میں طفیل مرحوم رہے اس وقت تک جو تین انتخابات ہوئے ان میں کم از کم جماعت کے اندر سیٹوں کی تقسیم میں اتنی زیا دہ خبریں نہیں تھیں۔ بلکہ نہ ہونے کے برابر تھیں۔ بھلا ہو بھاری مینڈنٹ اور جاگ پنجابی جاگ کے نعرے کا کہ جماعت اسلامی کے مرکز “منصورہ” تک میں مسلم لیگ کے جھنڈے اور بینرز آویزاں ہوگئے۔ اور ان حالات میں انتخابی نتیجہ وہی نکلا جس کا ڈر تھا۔ منصورہ کے پولنگ بوتھ سے نواز شریف جیت چکا تھا اور جماعت اسلامی کے امیدوار کو اپنی ضمانت ضبط کروانی پڑ گئی تھی۔ یعنی منصورہ کا پنجابی جماعتی جاگ چکا تھا، اس کے بعد عمران خان کا ’ارولا’ اور منصورہ پر قابض اکابرین جماعت کا ’سیاپا’ دیکھنے میں آیا۔ اور آدھی جماعت اسلامی پنجاب میاں صاحب کے ساتھ جا ملی اور آدھی سے زیادہ پختون خواہ جماعت عمران کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر کھڑی ہوگئی۔

رہی سہی کسر جماعت اسلامی کراچی نےعین انتخابات والے دن ڈیڑھ بجے سے پہلے پہلے ہی انتخابات کا بائیکاٹ کرکے پوری کردی۔

جماعت اسلامی کے امیر منور حسن جو اس دن کراچی میں تھے، ان کا کندھا استعمال کرتے ہوئے انتخابا ت سے باھر آنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ جماعت کا جتماعی فیصلہ نہیں تھا۔ صرف ایک امیدوار جن کو قومی اسمبلی کی سیٹ سے دستبردار کروایا گیا تھا۔ ان کی ضد، سیاسی ادرا ک اور ان کے اس وقت کے امیر منور حسن کے ساتھ اچھے مراسم نے جماعت کو بدترین نقصان پہنچایا۔

ماضی کی صورتحال کراچی، منصورہ اور کے پی میں اسی طرح کی تھی، مگر ایک عام کارکن کو اس کا اندازہ نہیں تھا، مگر آج کیا صورت ہے؟ سوچ سوچ کر کلیجہ منہ کو آ جاتا ہے۔

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں: حافظ نعیم: جماعت اسلامی کراچی کا نیا چہرہ —– عابد آفریدی

 

امیر جماعت اسلامی کے خلاف دیر کی جماعت اسلامی نے بغاوت کرتے ہوئے پریس کانفرنس کردی ہے اور اپنا آزاد امیدوار امیرجماعت اسلامی کے خلاف میدان میں اتا رنے کا فیصلہ کیا ہے (جو بعد میں ملاقات کے بعد واپس لیا مگر دیر کی دیگر نشستوں پر اور مظفر علی سید کے خلاف امیدوار موجود ہیں اور ڈیڑھ سو سے زاید مقامی ارکان احتجاجا مستعفی ہوچکے ہیں)۔

پنجاب میں میاں مقصود کی ہٹ دھرمی کے آگے سارے لوگ عاجز ہیں۔ اسلام آباد کیں جماعت اسلامی کے میاں اسلم کی ’اے ٹی ایم‘ مشین کو کوئی بھی ناراض دیکھنا نہیں چاہتا۔ چاہے زبیر فاروق جیسا محنتی اور عوامی آدمی ہم سے دور ہی کیوں نہ چلا جائے۔ (زبیر فاروق بھی اب مقابلہ پہ آزاد کھڑے ہیں)۔

سندھ میں کچھ امید تو پہلے بھی نہیں تھی، امیر صوبہ معراج ال ہدی صدیقی صاحب کی بے جا مداخلت اور کراچی نظم سے دیرینہ عداوت کے سبب آ لایشوں سے پاک جماعت اسلامی بھی اسی اندرونی سیاست کا شکار ہو گئی۔

اب عالم یہ ہے کہ کراچی میں ایک جماعت اسلامی معراج الہدی چلا ر ہے ہیں اور اپنے بندے اپنی مرضی سے سیٹوں پر ایڈجسٹ کروانے میں لگے ہوئے ہیں۔ سندھ سے اراکین و ذمہ داران کو کراچی کی نشستوں پر کھڑا کروایا جارہا ہے۔ اپنے رشتہ داروں مثلا نسیم صدیقی، سید محمد اقبال اور دیگر کو کراچی نظم کی مشاورت اور منظوری کے بغیر ہی اپنے طور پر انتخابات میں فارم جمع کروانے کا حکم صادر کیا جا چکا۔ اور کراچی کی منظوری کے بغیر ہی امیدوار نامزد کردیا۔

اسی طرح مرکز سے را شدنسیم صا حب کو کراچی بلا کر انتخاب لڑوانے کی سنت پوری کروائی اور جگ ہنسائی کا سامان کیا جاتا ہے۔
‘ حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پِیٹوں جِگر کو میں’
افسوس ہوتا ہے کہ سید مودودی کے جانشین اور نظریاتی وارث اس قدر جلد اپنی اصل سے ہٹ کر وہی ہتھکنڈے اختیار کرلیں گے جو دیگر جماعتیں کرتی ہیں۔

اب اگر ان حالات میں جماعت اسلامی کے دفاتر میں تحریک انصاف جیسی توڑ پھوڑ اور مظاہرے نہیں ہو رہے تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہ لیا جائے کہ سب ٹھیک ہے!

پنجاب جماعت اسلامی ہو، یا کے پی کے، اور اب کراچی۔ سب جگہوں پر دھڑا دھڑ شمولیتی جلسوں اور نمائشی وقتی ہاہوکار کے نتیجے میں بھیڑ جمع کرنے والے ڈراموں کے بعد سیٹوں پر اس طرح کی کشمکش تو برپا ہونی ہی تھی۔

منظور نظر افراد ہر جماعت میں آنکھ کا تارہ ہوتے ہیں، مگر برس ہا برس سے اپنی شاندار روایت رکھنے والی مولانا مودودی کی عظیم تحریک میں بھی تنظیمی اور بڑے عہدے رکھنے والے اپنے مخلص کارکن کو جوتے کی نوک پر رکھنے لگے ہیں۔ مجھے خدشہ ہے کہ انتخابات کے عمل سے پہلے ہی کارکن اپنا فیصلہ نہ سنادے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: