پاکستان کی خلائی مخلوق —– سید مظفر الحق

0
  • 35
    Shares

یہ آج کل زیر بحث اور زباں زدِ عام خلائی مخلوق کیا ہے اور اس کا مسکن کہاں ہے ابھی تک خلا میں ٹامک ٹوئیاں مار رہی ہے یا کسی “پاور ہاؤس” میں براجمان ہے لیکن جو کچھ زمینی حقائق مجھ جیسے کوتاہ بیں کو نظر آرہے ہیں وہ یہ ہیں کہ نوکر شاہی اور اقتدار کے دلالوں کے لاڈلوں کو نیب کے عمومی طریقہ کار کے برخلاف جو رعایتیں دی گئی ہیں وہ غیر معمولی ہیں موازنے کے لئے ڈاکٹر عاصم اور شرجیل میمن کی مثالیں سامنے ہیں۔

موجودہ صورت حال یہ ہے کہ پنجاب میں گزشتہ تیس سالوں کے دوران بیوروکریسی اور اداروں کے سربراہ شریف خاندان کے متعین کردہ اور پروردہ ہیں، پنجاب،سندھ اور کے پی کے گورنر نواز لیگ کے مقرر کردہ ہی نہیں بلکہ سیاست داں اور مسلم لیگ نون کے سرکردہ رہنما اور نمک خوار ہیں جبکہ بلوچستان کا گورنر نواز شریف کا سیاسی گرو اور تازہ ترین نظریات شریک بھائی محمود خان اچکزئی کا سگا بھائی ہے۔

اب کوئی مجھے یہ سمجھانے کی کوشش نہ کرے کہ گورنر تو غیر جانبدار اور مرکز یا ریاست کا نمائندہ ہوتا ہے۔ نمونے کے لئے صرف گورنر سندھ کی گزشتہ چند ماہ کی سرگرمیاں اور بیانات ہی سامنے رکھ لیں تو اندازہ ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ میں ایک واقعہ اور بیان کرتا چلوں۔ پیپلز پارٹی کے ایک نظریاتی کارکن اور رہنما جن کی پیپلز پارٹی اے وفاداری غیر متزلزل رہی ہے وہ میرے سابقہ رفیق کار اور پیپلز پارٹی کی جانب سے قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں اور اس بار بھی کراچی کے ایک حلقے سے پی پی پی کے ٹکٹ پہ قومی اسمبلی کی رکنیت کے امیدوار ہیں۔

۲۰۱۳ کے انتخابات میں وہ بوجوہ خود الیکشن میں حصّہ نہ لے سکے اور اپنے بڑے بھائی کو اپنی جگہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پہ الیکشن کھڑا کردیا، اب ہماری سیاسی جماعتوں میں موروثیت اور اقربا پروری کوئی معیوب بات تو ہے نہیں اس لئے ان کی جگہ بھائی کی امیدواری کوئی تعجب یا اعتراض کا کوئی جواز نہیں۔

بہرحال الیکشن کی رات میں نے انہیں دبئی سے فون کیا تو انہوں نے بتایا کہ ان کا بھائی دس ہزار ووٹوں سے جیت گیا ہے۔جس پہ میں نے مبارکباد دی، لیکن دوسرے دن ذرائع ابلاغ میں ان کے حریف ایم کیو ایم کے امیدوار کی کامیابی کی خبر دیکھ کر سخت حیرت ہوئی اور میں نے انہیں فون کر کے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ ان کے پاس پریزائڈنگ افسران کے دستخط شدہ نتائج موجود ہیں جن کے مطابق ان کا بھائی جیت چکا تھا لیکن رات کو دو بجے پولیس والے پریزائڈنگ افسران اور آر او کو اٹھا کر گورنر ہاؤس لے گئے جہاں گورنت نے ان سے نتائج تبدیل کراکے ایم کیو ایم کے امیدوار کی جیت کا اعلان کرادیا۔

کے پی کے میں عمران خان کی متوقع کامیابی کا راستہ روکنے کے لئے ہر دور حکومت کے کفش بردار کو نکیل بنا کر مذہبی جماعتوں کی ناک میں ڈال کر تحریک انصاف کے خلاف متحرک کردیا گیا ہے اگر کسی کو اس میں شک ہے تو جماعت اسلامی کے سیاسی ونگ کا انٹرنیٹ پہ موجود صفحہ اور فضل الرحمٰن کے بیانات دیکھ لے دونوں کا ہدف عمران خان ہے

یہ ہے ہمارے ہاں گورنرز کا غیر جانبدارانہ اور غیر سیاسی کردار اور اس واقعے کی روشنی میں موجودہ گورنرز کے بارے میں کیا رائے قایم کی جاسکتی ہے جو مسلم لیگ نون کے پختہ کار قدیمی کارکن اور رہنما ہی نہیں بلکہ نواز شریف کے وفادار، احسانمند ہی نہیں بلکہ انکی ہر جایز ناجایز میں برابر کے شریک کہلائے جاسکتے ہیں اور ان کے انتظامی اختیارات اور اثر و رسوخ سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ وہ خلائی مخلوق ہو یا زمینی عفریت جو سیاست کے لبادے میں اپنی خون آشامی کو چھپائے رکھتے ہیں انہیں عوامی خون اور سرکاری خزانے کی چاٹ لگ چکی ہے۔ یہ پاکستان کی انتظامی رگوں میں خون کے سرطان کی شکل اختیار کر چکے ہیں اس لئے آسانی سے جان نہیں چھوڑیں گے۔ یہ آکاش بیلیں قوم کی توانائیوں اور شادابی کو چوس کر اپنا وجود برقرار رکھنے کی عادی ہیں۔

اس لئے تبدیلی اور اداروں کی بحالی کے خواب زادوں یا خواب زدوں کو ہمہ وقت بیدار اور چوکنّا رہنا ہوگا، کرپشن کا خاتمہ اور عوام کی فلاح بذریعہ جمہوریت نہ خلائی مخلوق کے لئے پسندیدہ ہوگی اور نہ ہی برسرِ زمین سیاہ کاروں کے لئے قابل قبول۔ سیاسی بساط پہ مہرے سجائے جا چکے ہیں سندھ میں ایم کیو ایم کو باہمی جوتم پیزار میں مبتلا کیا جا چکا ہے۔ کے پی کے میں عمران خان کی متوقع کامیابی کا راستہ روکنے کے لئے ہر دور حکومت کے کفش بردار کو نکیل بنا کر مذہبی جماعتوں کی ناک میں ڈال کر تحریک انصاف کے خلاف متحرک کردیا گیا ہے اگر کسی کو اس میں شک ہے تو جماعت اسلامی کے سیاسی ونگ کا انٹرنیٹ پہ موجود صفحہ اور فضل الرحمٰن کے بیانات دیکھ لے دونوں کا ہدف عمران خان ہے جبکہ نواز شریف اور اس کی جماعت کے خلاف کچھ نہیں مل سکے گا حالانکہ دنیا بھر میں سیاست اور خاص طور پہ حزب اختلاف کی سیاست کا یہ اصول ہے کہ سابقہ بر سرِاقتدار جماعت کی خامیوں اور کوتاہیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔

دوسری جانب تحریک انصاف کی منڈیر پہ آ بیٹھنے والے فصلی بٹیرے یا موسمی مرغابیوں کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ آزاد پنچھیوں کے ساتھ مل کر کب کیا گل کھلا ئیں گے۔

اب جبکہ انتخابات کا جنون سروں پہ سوار ہے نعرے بازی سے زیادہ انتظامی تربیت اور فریب کاری کے سد باب پہ زور دیا جائے کیونکہ الیکشن کے نتائج کا دارومدار صرف بیلٹ بکس میں پڑنے والے ووٹوں پہ نہیں ہوتا بلکہ ان ووٹوں کے تھیلوں کی حفاظت بھی ضروری ہے ورنہ گزشتہ انتخابات کی طرح اس بار بھی ان تھیلوں سے بھوسی ٹکڑے اور ردی کاغذ بر آمد ہوسکتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ میں موجود ہمدرد اور ذرائع ابلاغ میں اقتدار مافیا کے پروردہ راتب خور پہلے ہی اپنے آقایان ولی نعمت کی ہدایت پہ کردار کشی اور کذب و افترا پہ مبنی ہر ہتھکنڈہ استعمال کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: