نسیم طالب: ایک تعارف ۔ عاطف حسین

1

نسیم طالب سے راقم کا  تعارف  کوئی دو برس قبل موٹیویشنل اسپیکرز   کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کیلئے  انٹرنیٹ پر کچھ چیزیں تلاش کرتے  ہوئے انکی ایک کتاب  کے عنوان  میں اپنی دلچسپی کے کئی الفاظ ایک ساتھ دیکھ کر ہوا اور اس  کتاب میں پیش کیے گئے نظریات کے  علاوہ  نسیم طالب کے اندازِ تحریر نے بھی راقم کو چونکنے پر مجبور کیا۔ انکی باقی کتب کے مطالعے  اور انکے خطابات کی سماعت سے ان کے نظریات میں  راقم    کی دلچسپی بڑھی تو کبھی کبھار فیس بک پر ان کے اقوال  اور  ان کی تحریروں سے  چھوٹے موٹے اقتباسات یا ان کے تراجم لگانے کا سلسلہ شروع ہوگیا جس سے کچھ مزید احباب کو ان کے نظریات  میں دلچسپی پیدا  ہوئی۔

چند روز قبل محترم عامر ہاشم خاکوانی نے ایک کالم ‘کیا آپ نسیم طالب کو جانتے ہیں؟’ کے عنوان سے لکھا جس میں انہوں ازراۂ تلطف راقم   کا بھی ذکر کیا اورنسیم طالب کے ایک خطاب کا ایک حصہ بھی شامل کیا جسکا برا بھلا اردو ترجمہ  راقم نے ہی کچھ عرصہ قبل کیا تھا۔ یہ اردو میں نسیم طالب پر لکھا جانے والا غالباً پہلا مضمون ہے۔ خاکوانی صاحب کے کالم کی بدولت مزید لوگوں کو نسیم طالب میں دلچسپی پیدا ہوئی   ہے تو مناسب معلوم  ہوتا ہے ہے ان کا ذرا تفصیلی تعارف لکھا جائے۔

نسیم طالب لبنانی نژاد امریکی ہیں جن کا تعلق لبنان کے ایک بااثر مسیحی گھرانے سے ہے۔ ان کے آباء و اجداد سلطنتِ عثمانیہ اور بعد ازاں موجودہ لبنان میں اہم حکومتی اور عدالتی عہدوں پر فائز رہے۔ اوائل جوانی سے وہ امریکہ میں مقیم ہیں جہاں انہوں نے وہارٹن بزنس سکول سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے بقول وہارٹن میں ہی ان کو نظریۂ احتمالیت (Probability Theory) میں دلچسپی پیدا ہوئی جو اب ان کی علمی دلچسپی کا سب سے بڑا میدان ہے۔ ایم بی اے کے بعد انہوں نے دو عشرے سے زائد  عرصہ مالیاتی منڈی (Financial Market) میں بطور ایک تاجر کام کیا جہاں  انہوں نے خاصی دولت اور شہرت کمائی اور آپشنز کی تجارت کے بارے میں ایک کتاب بھی لکھی۔ 2001 ءمیں انہیں وہارٹن کے پچیس کامیاب ترین فضلاء کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ ۔ درمیان میں انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔

تاہم مالیات کے میدان سے باہر انکی شہرت تب پھیلنی شروع ہوئی جب 2001 ءمیں انکی کتاب ‘فریب خوردۂ حوادث’ شائع ہوئی۔ 2008 ءکے مالیاتی بحران کے بعد انکی شہرت میں مزید اضافہ ہوا کیونکہ وہ ایک عرصے سے ایسے کسی بحران کے متعلق خبردار کرتے چلے آرہے تھے۔ اب نسیم طالب علمی حلقوں اور میڈیا میں جانا پہچانا نام ہیں۔

نسیم طالب کی وجہ شہرت انکے خیالات کی ندرت ہی نہیں بلکہ انکا غیر معمولی طور پر جارحانہ انداز بھی ہے۔ وہ مخالفین کی عمومی تحقیر، تضحیک، تحمیق اور تجہیل کرنے بلکہ نام لے کر انہیں گدھے، احمق، جاہل اور فراڈیے قرار دینے سے بھی نہیں چوکتے۔ معاشیات دانوں کے بارے میں ان کا رویہ خاص طور پر منفی ہے جنہیں وہ بہت سارے مسائل کی جڑ قرار دیتے ہیں۔ پیشہ ور استادوں (خاص طور پر سماجی علوم کے استادوں)، صحافیوں اور نوکرشاہی کے کارکنان کے بارے میں بھی انکی رائے بالعموم منفی ہے جن کیلئے انہوں نے کئی دلچسپ اصطلاحات بھی ایجاد کررکھی ہیں۔

نسیم  طالب کے اقوال اور انکی تحریروں  یا انکے اقتباسات کو ان کے پورے کام کے تناظر میں ہی ٹھیک طرح سے سمجھا جاتا ہے۔ انکی پہلی کتاب (جو آپشنز کی تجارت کے بارے میں ہے) کے علاوہ  ان کی ساری کتابیں اور کام ایک ہی بڑے منصوبے کا حصہ ہیں جسے انہوں نے’انسرٹو’ (INCERTO)  کا نام دے رکھا ہے۔ یہ لاطینی زبان کا لفظ ہے جس  کے مفہوم  میں غیریقنیت، ابہام، اور لاتعین وغیرہ شامل ہیں۔

اس کا جامع تعارف وہ خود یوں کرواتے ہیں:

“یہ ابہام، قسمت،  غیر یقینیت ، احتمال، انسانی خطا، خطرے اور  ناقابل فہم دنیا میں فیصلہ سازی کے متعلق مباحث کا مجموعہ ہے جنہیں آپ بیتیوں، کہانیوں، تمثیلوں اور فلسفیانہ، تاریخی اور سائنسی مباحث پر مشتمل ایک ذاتی مضمون کی شکل میں بیان کیا گیا ہے”۔

اس عنوان کے تحت اب تک انکی مندرجہ ذیل کتب منصہ شہود پر آچکی ہیں:

1۔ فریب خوردۂ حوادث  (Fooled by Randomness)

2۔ سیاہ راج ہنس (The Black Swan)

3۔ پروکرسٹیز کا بستر (The Bed of Procrustes)

4۔ ضد نازک  (Antifragile)

پانچویں کتاب  ‘چمڑی داؤ پر’  (Skin in the Game) کے نام سے آرہی  ہے۔ اس کے علاوہ  خاموش خطرہ ( Silent Risk) کے نام سے ایک ریاضیاتی کتاب اور ان کے  درجنوں دوسرے فنی مضامین بھی ‘انسرٹو’ میں شامل ہیں۔  

پہلی دو کتابوں میں نسیم طالب نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ سماجی دنیا نہایت پیچیدہ، بڑی حد تک ناقابلِ فہم اور خطرناک ہے۔ ‘فریب خوردہ ٔحوادث’ میں انہوں نے نہ صرف یہ دکھایا ہے کہ کیسے زندگی، منڈی اور دنیا میں ہونے والے اکثر واقعات میں بڑا حصہ منصوبہ بندی اور قابل تعین اسباب کی بجائے حادثات کا ہوتا ہے بلکہ اسکی وضاحت بھی کی ہے کہ ہم کیوں اس کے برعکس سمجھتے ہیں۔  یہیں سے معاشیات دانوں اور سماجی علوم کے ‘ماہرین’ کے متعلق ان کی نفرت اور حقارت آمیز رویے کی وجوہات بھی واضح ہونی شروع ہوجاتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ لوگ بے ربط (Random) واقعات میں ایک  سطحی ربط تلاش کرکے اپنے نظریات (Theories)  اور ماڈلز وضع کرتے ہیں  جن پر اگر فیصلوں کی بنیاد رکھی جائے تو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

انکی دوسری کتاب ‘سیاہ راج ہنس’ ہے۔انکی یہی کتاب سب سے زیادہ مشہور ہے اور وہ عام طور پر اسی کے حوالےسے پہچانے جاتے ہیں۔ ‘سیاہ راج ہنس’ دراصل ایک استعارہ ہے۔ یورپ میں چونکہ صرف سفید راج ہنس ہی ہوتے تھے جن کے ہزاروں لاکھوں بار مشاہدے سے لوگوں کو یقین ہوگیا کہ تمام راج ہنس سفید ہی ہوتے ہیں تاوقتیکہ یورپی جب آسٹریلیا پہنچے تو وہاں انہیں سیاہ راج ہنس نظر آیا جو ان کیلئے بالکل غیر متوقع تھا اور اس اکیلے مشاہدے نے لاکھوں مشاہدات کی بنیاد پر کی گئی تعمیم کو باطل کردیا۔ تاہم نسیم طالب سیاہ راج ہنس کی اصطلاح ایسے واقعات کیلئے استعمال کرتے ہیں جو نادر اور غیر متوقع ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت پراثر بھی ہوں۔ ان کے مطابق تاریخ کا رخ بدلنے والے اکثر واقعات سیاہ راج ہنس ہی تھے یعنی جن کی کوئی مثال پہلے موجود نہیں تھی اور پہلے سے موجود معلومات کی بنیاد پر ان کی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی تھی۔

اپنا نقطۂ نظر مزید واضح کرنے کیلئے نسیم طالب نے معمولستان (Mediocristan) اورغیر معمولستان (Extremistan)  کی اصطلاحات بھی متعارف کروائی ہیں۔ معمولستان  دولتِ حیات کا وہ صوبہ ہے  ہ جہاں  سب کچھ معمول کے مطابق رہتا ہے اور کوئی غیر متوقع واقعہ پیش  نہیں آتا اور اگر ایسا کوئی واقعہ پیش آ بھی جائے تو اس کا معمول پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا۔ یہاں آپ ماضی اور حال کی پیمائش سے مستقبل کی پیش گوئی کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر انسانوں کا قد۔ اگر کسی خلائی مخلوق کا کوئی فرد زمین پر آکر سو لوگوں کے قد کی پیمائش کرکے اس کی اوسط نکالے تو وہ بڑی  حد تک درست  پیش گوئی کرسکتا ہے کہ اسے ملنے والے ایک سو پہلے آدمی کا قد کتنا ہوگا۔ فرض کرلیں کہ اسے ملنے والا ایک سو پہلا آدمی زمین پر موجود طویل ترین آدمی ہے۔ ہمارے خلائی مہمان کو کچھ حیرانی تو ہو گی لیکن اس کا قد اوسط سے کتنا زیادہ ہوگا؟ ایک فٹ یا شاید ڈیڑھ فٹ۔ اس کے قد کو پچھلے سو لوگوں کے قد میں جمع کردیا جائے تو اوسط پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا اور ہمارے خلائی مہمان کو     زیادہ صدمہ (Shock) نہیں پہنچے گا۔

اب آپ فرض کریں کہ ہمارا خلائی مہمان جو  قد کی پیمائش والے تجربے کے بعد اپنے حسابی طریقوں کے  بارے   میں بہت پراعتماد ہوچکا ہے اسلام آباد  میں  لوگوں کی دولت  معلوم کرنا شروع کردیتا ہے۔ فرض کرلیں کہ سو راہگیروں اور بابووں کی دولت معلوم کرنے کے بعد وہ اندازہ لگا چکا ہے کہ  لوگوں کے اوسط جمع شدہ دولت 10 لاکھ روپے ہے۔ وہ پارک میں سامنے سے آتے دھوتی میں ملبوس آدمی کے بارے بڑے یقین سے دعویٰ کرتا ہے کہ اس کی دولت 10 لاکھ کے آس پاس ہوگی ۔ زیادہ سے زیادہ 15 یا چلیے بیس لاکھ ۔تاہم اس شخص  کی دولت  پوچھنے پر ہمارے خلائی مہمان کے ہوش اڑجاتے ہیں کیونکہ  وہ شخص ملک ریاض  ہے جو  ایک سو ارب روپے سے زیادہ کا مالک ہے جو   اوسط کے ایک لاکھ گنا سے بھی زیادہ   ہے۔ اسکی دولت کو پچھلے سو لوگوں کی  دولت میں جمع کرنے سے اوسط پر سوگنا سے  بھی زیادہ فرق پڑ جائے گا۔  یہ غیر معمولستان ہے ۔یہاں مستقبل ، ماضی سے مختلف ہے اور  یہاں سیاہ راج ہنس پیدا ہوتے اور راج کرتے ہیں۔  دولت، سیاست اور جنگ وغیرہ سب اسی صوبہ غیر معمولستان کے باشندے ہیں!

نسیم طالب کے مطابق معمولستان کیلئے بنائے گئے ماڈلز کا غیر معمولستان میں استعمال  بے کارہی نہیں خطرناک بھی ہے۔  مثلاً اگر ہمارے خلائی دوست  نے   اپنے حسابی طریقے پر اعتماد کرتے ہوئے ایک سو پہلے آدمی کی دولت پر  کسی سے اپنی خلائی گاڑی کی شرط لگائی ہوتی تو  وہ  ضرور برباد ہوکر رہ جاتا۔  نسیم طالب کے مطابق مالیاتی بحران بھی اسی طرح  معمولستان کے لیے بنائے  گئے ماڈلز کے غیرمعمولستان میں اطلاق سے پیدا ہوتا ہے۔

مسیحیت اور اسلام کے  اچانک پھیلاؤ ، منگولوں  اور ہٹلر کے عروج، سوویت یونین کے انہدام  اورانٹرنیٹ کی ایجاد  سمیت  تاریخ  پر غیر معمولی اثرات چھوڑنے والے بیشتر واقعات نسیم طالب کے مطابق سیاہ راج ہنس ہی تھے۔  یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ کسی واقعے کے رونما ہوچکنے کے بعد اچانک وہ قابلِ وضاحت معلوم ہونا  شروع ہوجاتا ہے۔ مثلاً  تاریخ پڑھتے ہوئے آپ کو یوں لگتا ہے کہ سوویت یونین کا انہدام تو  فلاں فلاں واقعات کی بنیاد پر بالکل طے شدہ بات تھی اور  یوں تو ہو کر رہنا تھا۔ تاہم نسیم طالب ایسی باتوں کو محض بکواس قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق تجزیہ کار نما   لوگ (خصوصاً  معاشیات دان)  واقعات کے  رونما  ہوچکنے کے بعد انکی  بڑی متاثر کن وجوہات  اور وضاحتیں پیش کرتے ہیں لیکن سوال  یہ ہے کہ کیا انہوں نے ان واقعات کے رونما ہونے سے پہلے بھی  ان کی درست پیش گوئی کی؟ ( اس چیز کا تعلق ‘بیانیے کے مغالطے’ یا Narrative Fallacy  سے بھی ہے تاہم اسکی تفصیلات پھر کبھی سہی)۔

زمانی ترتیب کے لحاظ سے ‘انسرٹو’ کی  تیسری کتاب ‘ پروکرسٹیز کا بستر’ ہے۔  یہ  نسیم طالب کے اقوال پر مشتمل  ایک مختصر کتاب ہے ۔ پروکرسٹیز  قدیم یونانی دیو مالا میں ایک ایسا کردار ہے جو  مسافروں کو اغوا کرتا، ان کی ضیافت کرتا اور پھر انہیں ایک بستر پر سونے کی دعوت دیتا۔ تاہم اگر کوئی اس کے بستر سے لمبا ہوتا تو وہ  کلہاڑی سے اسکی ٹانگیں کاٹ کر بستر کے برابر کردیتا اور اگر  چھوٹا ہوتا تو  اسےتو کھینچ کر  بستر کے برابر کردیتا۔ نسیم طالب کے مطابق ہم بھی علم سمیت ہر چیز کو پروکسٹیز کی طرح  اپنے بنائے ہوئے خانوں میں فٹ کرنے کے عادی ہوگئے ہیں۔ ۔ نسیم طالب  اس کے تعارف میں لکھتے  ہیں:

“ان میں سے ہر قول ایسے ہی بستروں کے بارے میں ہے۔ ہم انسانوں کا واسطہ جب اپنے علم  کی کمی، ان دیکھے، ناقابل مشاہدہ اور نامعلوم سے پڑتا ہے تو ہم اپنی پریشانی دور کرنے کیلئے دنیا  اور زندگی کو بھی اشیائے تجارت سے  مشابہ (یعنی ایک اسٹینڈرڈ سائز کے) تصورات،  تقلیلی زمروں، مخصوص ذخیرہ ہائے الفاظ   اور   بنے بنائے بیانیوں میں  قید کرنا شروع کردیتے ہیں  جس کے کبھی کبھار نہایت ناخوشگوار نتائج برآمد ہوتے ہیں”۔

ان تین  کتابوں میں نسیم طالب نے یہ تو دکھا دیا کہ دنیا ہمارے اندازے سے زیادہ پیچیدہ  اور ہمارا اس کے بارے میں علم محدود ہے مگر سوال یہ ہے کہ پھر کیا کیا جائے؟   اس ناقابلِ فہم دنیا میں  کیسے  رہا جائے؟ ان سوالوں کے جوابات کیلئے نسیم طالب نے اگلی کتاب ‘ضد نازک’ لکھی۔

‘ضد نازک’  (Antifragile) ایک بھدی سی ترکیب ہے۔ اسے ایجاد کرنے کی وجہ نسیم طالب یہ بیان کرتے ہیں کہ اس کتاب میں جو تصور وہ  پیش کرنا چاہ رہے تھے اس کیلئے  کوئی لفظ ہی موجود نہیں ہے۔  جس چیز کو حادثات، صدمات اور  ماحول میں تغیر و تبدل سے نقصان پہنچے وہ نازک ہے۔  مثلاً شیشے کا کوئی برتن۔ اور جس چیز کو نقصان نہ پہنچے وہ مضبوط مثلاًا سٹیل کا کوئی برتن۔ مگر ایسی چیز کو کیا کہیں گے جسے حادثات، صدمات اور ماحول میں تغیز و تبدل سے بجائے نقصان کے فائدہ پہنچے  ؟ مثلاً یونانی دیومالا کا مارِ آبی   (Hydra) جس کا ایک سر کا کاٹا جائے تو دو نئے سر نکل آتے تھے۔ بدقسمتی سے اس کیلئے کوئی مناسب لفظ موجود نہیں ہے اس لیے ہم اسے ‘ضد نازک’ کہنے پر مجبور ہیں۔

غیر معمولستان میں  پیش گوئیوں پر انحصار کرنا ہمیں نازک بناتا ہے کہ کیونکہ کسی بھی وقت کوئی سیاہ راج ہنس ہماری ساری منصوبہ بندی کو چوپٹ کرسکتا بلکہ ہمارے وجود کو ہی مٹا سکتا ہے۔ لہذا  ضد نازک بننے کیلئے ضروری ہے کہ پہلے ہم خود کو ایسے سیاہ راج ہنسوں سے آمنا سامنا ہوجانے کی صورت میں تباہی سے بچانے کی فکر کریں۔ ہم ایسا کیسے کریں اس میں فطرت ہماری راہنمائی کرتی ہے۔ فطرت  جدید معاشی تھیوری کے ‘ایفیشنسی’  کے اصول یعنی کم سے کم وسائل پر زیادہ سے زیادہ انحصار کی بجائے زائد از ضرورت وسائل ( Redundancy) کے اصول پر چلتی ہے۔ نسیم  طالب اسے یوں واضح کرتے ہیں کہ اگر کوئی معاشیات دان انسان کو ڈیزائن کرتا تو وہ دو دو اعضاء کو وسائل کا ضیاع قرار دے کر اسے ایک گردے، ایک پھیپھڑے، ایک کان ، ایک آنکھ  کے ساتھ ڈیزائن کرتا۔ تاہم فطرت نے انسان کو دو دو اعضاء دے کر اسے منفی سیاہ راج ہنسوں سے سامنا ہوجانے کی صورت  میں بھی  زندہ رہنے کے قابل بنایا ہے۔  معاشیات کے میدان میں ‘ایفیشنسی’ کے نام پر قرض  کے چلن نے سارے نظام کو نازک بنا دیا ہے لہذا اسے نکال باہر کرنا چاہیے۔

منفی سیاہ راج ہنسوں  کے مقابلے کیلئے دوسری اہم چیز جسامت ہے۔  اس نکتے کو نسیم طالب  ہاتھی اور بلی کی مثال سے واضح کرتے ہیں۔  ہاتھی اپنی جسامت کے باعث ‘نازک’ ہے کیونکہ غیر متوقع حادثات  سے اسے ناقابلِ تلافی  نقصان پہنچتا ہے۔ لیکن بلی کو اگر آپ دو منزلوں سے بھی گرا دیں تو اپنی چھوٹی جسامت  کی وجہ سے بچ جائے گی۔ نسیم طالب کے مطابق  بڑے حادثات سے بچنے کیلئے تنظمیوں کو چھوٹا اور الگ تھلگ رکھنا چاہیے۔  کیونکہ چھوٹی اور الگ تھلگ تنظیموں میں حادثات  محدود رہتے ہیں تاہم بڑی اور باہم دیگر مربوط تنظیموں میں چھوٹے حادثات بھی  بڑے حادثات  کا باعث بن سکتے ہیں۔ 

نازک، مضبوط اور ضدنازک کو  تین مختلف صنعتوں کی مثال سے  بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ مالیاتی صنعت نازک ہے کیونکہ  ایک بینک یا مالیاتی تنظیم کے دیوالیہ ہونے کی صورت میں اور ایک اور بینک یا تنظیم کے دیوالیہ  ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ 2008ء کا مالیاتی بحران ایسے ہی پیدا ہوا۔ اس کے برعکس ریستورانوں کی صنعت مضبوط ہے کیونکہ ایک ریستوران میں کی گئی غلطیوں کے نیتجے میں صرف وہی ریستوران تباہ ہوگاپوری صنعت پر اس کا کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ان دونوں کے برعکس  فضائی سفر کی صنعت ضدنازک ہے  ۔ ایک ہوائی جہاز   کو پیش آنے والے حادثے کی وجہ سے تحقیقات ہوں گی ، حفاظتی قوانین سخت تر ہوجائیں گے اور مزید فضائی حادثوں کا امکان پہلے کے مقابلے میں کم ہوجائے گا۔

ضد نزاکت کے حصول کیلئے ‘غیر پیش گوئیانہ ‘   (Non-predictive)   اور  ‘ نامداخلت کارانہ’ (Non-interventionist)  رویہ ضروری ہے۔  نسیم طالب کے نزدیک ابہام  اور غیر یقینیت کے نامکمل ادراک، مستقبل کے متعلق پیش گوئی اور مداخلت کاری کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔  جب آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دنیا  سادہ اور لگے بندھے اصولوں پر چلنے والی کوئی چیز ہے تو پھر آپ ماضی کی بنیاد پر مستقبل کی پیش گوئی کرنا اور اسے اپنی مرضی کی شکل دینے کیلئے مداخلت  کرنا شروع کردیتے ہیں  جو فائدے کے بجائے  چیزوں کو نازک بنا کر انہیں خطرناک بناتی ہے۔  نسیم طالب  اسے ‘درماں زاد بیماریوں’ (Iatrogenics)  سے تعبیر کرتے ہیں یعنی  وہ نئی بیماریاں جو  کسی چیز کا علاج کرتے کرتے لاحق ہوجاتی ہیں۔ 

پیچیدہ نظاموں میں ہماری مداخلت معمول کے تغیر و تبدل ،اتار چڑھاؤ  اور چھوٹے موٹے صدمات کو ختم کرکے ان کو نازک بنادیتی ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے آپ  کسی انسان  کو روزانہ لگنے والے  چھوٹے  موٹے جھٹکوں سے محفوظ کرنے کیلئے چھ ماہ کیلئے بستر پر لٹا دیں۔ چھ ماہ بعد وہ آپکو بہت موٹا تازہ نظر آئے گا لیکن  درحقیقت اس کا جسم بہت نازک ہوچکا ہوگا اور اس میں صدمات سہنے کی صلاحیت بہت کم ہوگئی ہوگی۔  اس کے برعکس ہمیں منصوبہ بندی   اور پیش گوئی پر کم از کم انحصار کرتے ہوئے ماحول میں ہونے والے تغیر و تبدل سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔  یہاں نسیم طالب ہماری یہ راہنمائی بھی کرتے ہیں کہ ہمیں  وہ کام کرنے چاہیے جن کے ممکنہ نقصانات  محدود اور ہمارے لیے قابل برداشت ہوں جبکہ اس کے فوائد  بہت زیادہ ہوں۔

نسیم طالب کی پانچویں کتاب  ‘چمڑی داؤ پر’ ہے جو ابھی شائع نہیں ہوئی لیکن  اس کے کچھ حصے انہوں نے انٹرنیٹ پر عام کیے ہیں  ۔ اس کا  بنیادی تصور یہ ہے کہ ہم نے ایک ایسی دنیا تخلیق کردی ہے جس میں فیصلہ سازی اور رائے سازی ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے جن کی اپنی چمڑی داؤ پر نہیں لگی ہوتی  اور ان کے غلط نظریات کی  قیمت دوسرے چکاتے ہیں  جبکہ انہیں کوئی نقصان نہیں اٹھانا پڑتا ۔ مثلاً صحافی اور معاشیات دان۔ ایسے ہی ایک صحافی کے بارے میں وہ لکھتے ہیں:

“ڈیوس میں نے ٹامس فرائڈمین  سے نظریں ملاتے ہوئے مجھے گھن آرہی تھی۔ یہ وہ شخص ہے جس نے اپنے کالموں کے زور  پر عراق جنگ کی راہ ہموار کی مگر اسے اپنی غلطی کی کوئی قیمت نہیں چکانی پڑی۔”

اسی  طرح ان کے نزدیک معاشیات دان جن کے غلط مشوروں اور پیشگوئیوں  سے باربار  بحران پیدا ہوتے ہیں اور لوگوں کا پیسہ ضائع ہوتا ہے انہیں بھی اپنی غلطیوں کی کوئی قیمت نہیں چکانی پڑتی اور انہیں ایک کے بعد دوسری ملازمت  ملتی جاتی ہے۔ ان کے خیال میں اس صورتِ حال کا بدلنا نہایت ضروری ہے تاکہ ایسے لوگ عام لوگوں کا نقصان  نہ کرسکیں۔

نسیم طالب کا سب کام جیسا کہ بالکل آغاز میں ذکر ہوا عملی دنیا  میں فیصلہ سازی کے متعلق ہے  جس کیلئے وہ ‘عقلیت پسندی’ (Rationalism) کی بجائے ‘تجربیت پسندی ‘ (Empiricism)   کے قائل ہیں۔مثلاً ‘پروکسٹیز کا بستر’ میں وہ لکھتے ہیں۔

“تحریک کے تنویر کے آغاز سے ہی عقلیت پسندی  اور تجربیت پسندی کے درمیان ایک کشمکش جاری ہے۔ عقلیت پسندی  دنیا  کو ویسا دیکھنے کی کوشش ہے جو ہماری سمجھ آتی ہو    جبکہ  تجربیت پسندی دنیا کو ویسے ہی دیکھنا ہے جیسی کہ وہ ہے۔ اس کشمکش میں ہم دنیا کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں کہ وہ ہماری  ‘منطقی’  تمثیلوں  کے بستروں  میں کیوں ٹھیک ٹھیک نہیں سماتی۔ “

نسیم طالب کے مطابق  عملی زندگی میں یہ رویہ احمقانہ ہے کہ ہم دنیا کو اپنے تصورات  کے  خانوں میں فٹ کرنے کی کوشش کریں۔ ایک چیز ہماری سمجھ میں نہیں آرہی لیکن  وہ ہورہی ہے تو  وہ ہے اور ہمیں اپنے فیصلے اسی کے مطابق بنانے چاہیے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے وہ  ‘ضد نازک’ میں ایک جگہ لکھتے ہیں:

“ارسطو کی کتاب ‘اخلاقِ عظیم’ (Magna Moralia) میں سقراط کے ایک پیشرو فلسفی ایمپیڈوکلیز کے بارے میں ممکنہ طور پر ایک جھوٹا قصہ بیان ہوا ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے اس سے پوچھا کہ آخر کتا ایک ہی جگہ پر کیوں سوتا ہے تو اس نے جواب دیا کہ اس جگہ اور کتے کے درمیان ایک مطابقت پائی جاتی ہے۔ دراصل یہ  قصہ بالکل ہی غیر مستند ہے کیوں کہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ  ‘اخلاق عظیم’ ارسطو ہی کی تصنیف ہے۔

تاہم کتے اور اسکے سونے کی جگہہ کے درمیان مطابقت پرغور کیجئے۔ ناقابل وضاحت ہی سہی مگر ایک فطری و حیاتیاتی مطابقت… کتے کے عمل کی تکرار جس پر گواہ ہے۔ اسکی منطق کے بجائے اس کی تاریخ پر غور کیجئے!

اور اس کے ساتھ ہی ہم اب پیشگوئی کے متعلق اپنی بحث کو سمیٹتے ہیں۔ میرا گمان ہے کہ جن چیزوں کو وقت نابود نہیں کرسکا جیسے کہ لکھنا اور پڑھنا ان کا اور ہمارا تعلق بھی کتے اور اسکے سونے کی جگہہ کے تعلق جیسا ہے۔ فطری حلیفوں جیسا تعلق۔۔ جسکی بنیاد کسی گہرے (غیر مرئی و ناقابل فہم) فطری ربط پر ہے۔

میں کئی دفعہ لوگوں کو کتاب اور کسی ای-ریڈر یا کسی دوسری پرانی شے اور نئی ٹیکنالوجی کا تقابل کرتے اور بھانت بھانت کی آراء دیتے دیکھتا ہوں۔ مگر حقیقت کہاں ہماری آراء کا لحاظ کرتی ہے۔ دنیا میں کچھ ایسے اسرار ہیں جو صرف عمل سے کھلتے ہیں اور ان کا مکمل احاطہ کوئی رائے یا تجزیہ کر ہی نہیں سکتا۔ عمل کی تاریخ ہی ان بھیدوں کا پتا دیتی ہے اور مقام صد شکر ہے کہ صرف تاریخ ہی انکا پتا دیتی ہے۔

آئیے اب ذرا اس کو پھیلا کر دیکھتے ہیں۔ اگر کوئی چیز آپ کو بالکل ہی غیر منطقی اور بے کار لگ رہی ہے ( جیسے کہ اگر آپ ملحد ہیں تو آپ کو مذہب غیر منطقی اور بیکار لگتا ہے یا کوئی اور غیر منطقی رسم) اور وہ چیز بہت لمبے عرصے سے موجود ہے تو توقع یہی ہے کہ وہ ‘غیر منطقی’ چیز اپنی مرگ کے خواہشمندوں کے گزر جانے کے بعد بھی یہیں موجود ہوگی!”

اسی ضمن میں وہ ‘اینٹی سیپٹک   میتھڈ’ کے بانیوں میں سے ایک اگناز ساملوائز (Ignaz Semmelweis)  کی مثال بھی دیتے ہیں جو انیسویں صدی  کا ایک طبیب تھا جس نے سب سے پہلے یہ مشاہدہ کیا کہ طبیب کے ہاتھ دھونے  سے شرحِ اموات میں کمی واقع ہوتی ہے۔  تاہم تمام یورپی طبیبوں نے اسے احمق قرار دیا کیونکہ اس کے پاس کوئی ‘تھیوری’ نہیں تھی کہ ایسا کیوں ہوتا ہے جبکہ اس وقت ایسی  کئی ‘تھیوریز’ موجود تھیں کہ ایسا کیوں نہیں ہوسکتا۔ اسے پاگل قرار دے کر  پاگل خانے میں قید کردیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اسکی موت بھی پاگل خانے میں واقع ہوئی۔  تاہم وقت نے اسے درست ثابت کیا ۔

اسی چیز کی وضاحت کیلئے نسیم طالب نے   ‘سیاہ راج ہنس’ اور ‘ضدنازک’ میں ایک کردار ‘ٹونی موٹا’ (Fat Tony) بھی شامل کیا ہے۔ ٹونی موٹا ایک ان پڑھ سا اور بہت  رنگین   کردار ہے۔ وہ کسی قسم کی تھیوری پر یقین نہیں رکھتا بلکہ اپنے تجربے اور مشاہدے سے اخد کردہ سادہ اصولوں پر چلتا ہے اور باربار عملی زندگی کے معاملات میں ایسے پڑھے لکھے لوگوں کو مات دیتا ہے  جو بزعم خویش دنیا کو خوب سمجھتے ہیں۔

یہ نسیم طالب  اور ان کے کام کا ابتدائی نوعیت کا تعارف ہے۔ راقم کی گزارش ہے کہ اسے بس یہی سمجھا جائے کیونکہ کسی کتاب پر کوئی تبصرہ اس    کتاب کا قائم مقام یا متبادل  نہیں ہوسکتا۔  تبصرے  اور خلاصے میں جہاں بہت ساری  باتیں رہ جاتی ہیں وہیں تبصرہ نگار کے فہم کے سقم بھی اس میں  در آتے ہیں ۔ ویسے بھی نسیم طالب کا ہی قول ہے کہ “جس کتاب کا خلاصہ کیا جاسکتا ہو  وہ کتاب کے طور پر لکھی ہی نہیں جانی چاہیے”۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

About Author

عاطف حسین 'کامیابی کا مغالطہ' کے مصنف ہیں۔ روزی روٹی کمانے کے علاوہ ان کے مشاغل میں وقت ضائع کرنا، لوگوں کو تنگ کرنا، سوچنا اور کبھی کبھار کچھ پڑھ لینا تقریباً اسی ترتیب سے شامل ہیں۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. اچھا ہے انداز اگرچہ ۔۔۔۔ پر مجھ کو سوچنے کی جو عادت نہیں ۔۔۔ سو میرے لیے کوئی فائد ہ نہیں۔۔۔۔ کیوںکہ فائدے کا سفر ویسے ہی بے فائدہ ہے۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: